ڈاکٹر یاسمین راشد: کینسر سے جنگ کے دوران فرائض سرانجام دینے پر وزیرِ صحت کے حوصلے کی تعریف، صحتیابی کی دعائیں

،تصویر کا ذریعہFacebook\DrYasmeenRashidOfficial
پاکستان کے صوبہ پنجاب کی وزیرِ صحت ڈاکٹر یاسمین راشد چند ماہ قبل بریسٹ کینسر میں مبتلا ہو گئی تھیں جس کے ساتھ ان کی جنگ تاحال جاری ہے۔
آج کل وہ سرجری کروانے کے بعد اب کیموتھیراپی سے گزر رہی ہیں اور ساتھ ساتھ اپنی پیشہ وارانہ ذمہ داراییاں بھی نبھا رہی ہیں۔ حال ہی میں یاسمین راشد محکمہ صحت کے دیگر حکام کے ہمراہ لاہور میں کورونا وائرس کی تیسری لہر کے حوالے سے حکومتی انتظامات پر پریس کانفرنس کر رہی تھیں۔
بی بی سی کے نامہ نگار عمر دراز ننگیانہ کے مطابق اس موقعے پر ان کی آواز میں وہی رعب اور دبدبہ قائم تھا اور ان کے چہرے پر کسی قسم کی تھکن کے آثار نظر نہیں آ رہے تھے۔ انھوں نے سر پر کالے رنگ کا سکارف پہن رکھا تھا جو دوپٹے کے نیچے سے جھلک رہا تھا۔ دو ہی روز قبل وہ گیارہویں مرتبہ کیمو تھیراپی کے عمل سے گزریں تھیں۔
کیمو تھیراپی کے طریقہ علاج میں مریض کے سر کے بال مکمل طور پر جھڑ جاتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ڈاکٹر یاسمین راشد نے بتایا کہ گذشتہ برس دسمبر میں ان کا بریسٹ کینسر کا آپریشن ہوا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’میری بارہ کیمو تھیراپیز ہونا تھیں جن میں سے گیارہ مکمل ہو چکی ہیں۔‘
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’بہت جلد یہ عمل مکمل ہو جائے گا اور میں نارمل ہو جاؤں گی۔‘
ڈاکٹر یاسمین راشد نے بتایا کہ ان میں بیماری کی تشخیص بہت جلد ہو گئی تھی جس کی وجہ سے ان کا کامیاب آپریشن بھی ہو گیا اور اب ان کی صحت تیزی سے بحال ہو رہی ہے۔

،تصویر کا ذریعہFacebook\DrYasmeenRashidOfficial
تاہم کیمو تھیرپی کے عمل کے بارے میں تاثر یہی ہے کہ یہ بیماری سے بھی زیادہ تکلیف دہ ہوتا ہے۔ تاہم ڈاکٹر یاسمین راشد کا کہنا تھا کہ وہ اپنے فرائض جاری رکھے ہوئے ہیں اور انھیں کسی دقت کا سامنا نہیں ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ یوں تو ان کی بیماری کا معاملہ ذاتی نوعیت کا ہے تاہم انھوں نے ان تمام افراد کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے دعاؤں میں انھیں یاد رکھا اور نیک خواہشات کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اب ہم سب نے مل کر کورونا جیسی وبا کو بھی شکست دینا ہے۔
’ڈاکٹر یاسمین راشد صحیح معنوں میں خاتونِ آہن ہیں‘
سوشل میڈیا پر وزیر صحت پنجاب ڈاکٹر یاسمین راشد کے حوصلے کو داد دی جا رہی ہے اور بے شمار صارفین انھیں خراج تحسین پیش کر رہے ہیں۔
پاکستان تحریکِ انصاف کے علاوہ ملک کی دوسری سیاسی جماعتوں کی جانب سے بھی ان کی صحت یابی کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

،تصویر کا ذریعہ@MaryamNSharif
پاکستان مسلم لیگ نواز کی نائب صدر مریم نواز نے بھی ڈاکٹر یاسمین راشد کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کرتے ہوئے ٹویٹ کیا ’ڈاکٹر یاسمین راشد کی صحت کے لیے دعا گو ہوں۔ میری والدہ نے اس موذی مرض کا سامنا کیا ہے اور میں جانتی ہوں یہ کتنی تکلیف دے بیماری ہے۔ ڈاکٹر صاحبہ بھی ماں ہیں۔ اللّہ ماؤں کو سلامت رکھے۔ آمین۔‘
مسلم لیگ نواز کی مائزہ حمید نے بھی اپنے والد کی بیماری کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ’میرے والد کو بھی کینسر تھا مجھے اندازہ ہے کہ کتنی تکلیف ہوتی ہے۔ یاسمین راشد صاحبہ جو کہ کینسر کے موذی مرض میں مبتلا ہیں دعا ہے خدا ان کو رمضان کے بابرکت مہینے کے صدقے شفائے کاملہ اور صحت کے ساتھ لمبی عمر عطا فرمائے۔‘

،تصویر کا ذریعہ@MianIftikharHus
عوامی نیشنل پارٹی کے میاں افتخار حسین نے ان کی صحت کے لیے دعا کرتے ہوئے لکھا کہ ڈاکٹر یاسمین راشد کی پانچ مہینے قبل کینسر سرجری ہوئی تھی اور وہ کیموتراپی کے تکلیف دہ مراحل سے گزر رہی ہیں لیکن پھر بھی کورونا وبا کی روک تھام اور متاثرین کی دیوانہ وار خدمت کررہی ہے۔ یقیناً وہ اپنا کرب محسوس کرتے ہوئے دوسروں کی تکلیف کو اتنی شدت سے محسوس کرتی ہیں۔‘
زاہد علی صادق نے لکھا ’ہم آپ کی خدمات کا بدل تو نہیں دے سکتے لیکن دعا دے سکتے ہیں کہ خدا ڈاکٹر یاسمین راشد صاحبہ کو کینسر جیسی بیماری سے جلد از جلد صحت کاملہ عطا فرمائے۔‘

،تصویر کا ذریعہ@G4_gul
گل نامی صارف نے انھیں خاتونِ آہن قرار دیتے ہوئے لکھا ’ڈاکٹر یاسمین راشد صحیح معنوں میں خاتون آہن ہیں۔‘
اس کے ساتھ انھوں نے لکھا ’جن کے پیارے کینسر کی ٹریٹمنٹ سے گزر رہے ہوں ان کو پتہ ہے کہ یہ ٹریٹمنٹ کتنی تکلیف دہ اور سفاک ہے، لیکن یہ خاتون ایک شفیق ماں کی طرح اپنی تکلیف پیچھے کر کے دن رات کورونا کے متاثرین کے لیے کام کر رہی ہیں۔‘
کئی صارفین یہ بھی کہتے نظر آئے کہ آئرن مین کی کسے ضرورت ہے جب خدا نے ہمیں آئرن لیڈی سے نوازا ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہ@AmanHarris
کئی افراد وزیرِ صحت کو آرام دینے کی تجویز دے رہے ہیں۔
آمنہ امن نامی صارف نے وزیِر اعظم عمران خان کو ٹیگ کرکے لکھا ’ہمیں علم ہے کہ یاسمین راشد محنتی اور دیانتدار خاتون ہیں مگر بہرحال انسان ہیں اور آج کل صوبے کے حالات کورونا کی وجہ سے شدید خراب ہیں اور ڈاکٹر صاحبہ کینسر کے موذی مرض سے لڑ رہی ہیں، کیمو تھراپی کی شدت سے ان کے بال جھڑ چکے ہیں لہذا ایسے میں انھیں آرام دیا جائے۔‘
























