بلاول بھٹو زرداری: پاکستان پیپلز پارٹی کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی نے استعفوں سے متعلق پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے فیصلوں کی توثیق کر دی

بلاول

،تصویر کا ذریعہ@Hakimalirahimo5

وقت اشاعت

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ پارٹی کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی نے پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کی جانب سے 31 دسمبر کو ارکان سے استعفے لینے اور وزیراعظم کو 31 جنوری تک استعفیٰ دینے کی مہلت کے فیصلوں کی توثیق کی ہے۔

پیپلز پارٹی کی مرکزی کمیٹی کے اجلاس کے بعد پریس کانفرنس میں بلاول بھٹو نے کہا کہ پیپلز پارٹی کی مرکزی مجلس عاملہ نے پی ڈی ایم کے فیصلوں کی توثیق کر دی ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ ’وزیراعظم خود گھر چلے جائیں ورنہ ہم انھیں گھر بھیج دیں گے۔‘

بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ پی پی پی کی رائے میں پی ڈی ایم کو حکومت کے خلاف ہر پلیٹ فارم پر لڑنا چاہیے۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے کہا کہ پیپلز پارٹی کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کی یہ رائے ہے کہ ’حکومت کو عدالتوں، پارلیمان میں چیلنج کرنا چاہیے، عدم اعتماد کی صورت میں چیلنج کرنا چاہیے، سینیٹ کے انتخابات میں چیلنج کرنا چاہیے، ڈٹ کر مقابلہ کرنا چاہیے کیونکہ اگر مل کر مقابلہ کریں تو کامیاب ہو سکتے ہیں اور وہ اس رائے سے پی ڈی ایم کی قیادت کو آگاہ کریں گے۔‘

بلاول بھٹو نے یہ بھی کہا کہ ’یہ مصنوعی حکومت ہے، اس کو زبردستی کھڑا کیا گیا ہے اور اگر ایک روز بھی اسٹیبلشمنٹ اس حکومت کی مدد نہ کرے تو یہ گر جائے گی۔‘

انھوں نے کہا کہ ’وزیراعظم استعفیٰ دیں، اب وقت چلا گیا ہے، اب کوئی ڈائیلاگ نہیں ہو گا اور وزیر اعظم کو جانا ہو گا۔‘

یہ بھی پڑھیے

پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زردای کی زیر صدارت پارٹی کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کا اجلاس بلاول ہاؤس کراچی میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں صدر آصف علی زرداری، فریال تالپور، نثار کھوڑو، فرحت اللہ بابر، نیئر بخاری، وقار مہدی سمیت دیگر ممبران بھی شریک ہوئے۔

پیپلز

،تصویر کا ذریعہ@Abida_KK_PPP

بلاول بھٹو نے 2018 کے انتخابات سے متعلق الزمات کو دہراتے ہوئے کہا کہ ’جس طرح سنہ 2018 کا الیکشن اسٹیبلشمنٹ کے دباؤ میں ہوا اور دھاندلی کی گئی اس کو نہیں دہرایا جانا چاہیے۔‘

بلاول بھٹو نے یہ بھی کہا کہ پیپلز پارٹی مردم شماری کے نتائج کو بھی مسترد کرتی ہے۔

انھوں نے کہا ’اس پر خاص طور سندھ اور فاٹا میں اعتراضات موجود ہیں، یہ پورے پاکستان کا مسئلہ ہے اگر درست انداز میں نہ ہو تو لوگوں کو حق نہیں ملتا کیونکہ مردم شماری کی بنیاد پر مالی کی تقسیم ہوتی ہے۔‘

’ہم شفاف مردم شماری اس لیے بھی کہہ رہے ہیں کہ اسی مردم شماری کی بنیاد پر یہ انتخابات ہوئے اور یہ حکومت آئی۔‘

بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے اجلاس میں سندھ اور بلوچستان کے جزائر پر ’وفاق کے قبضے‘ کی مذمت کی گئی ہے کیونکہ یہ جزائر سندھ اور بلوچستان کے ماہی گیروں کی ملکیت ہیں۔

انھوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی ان جماعتوں سے رابطہ کرے گی جو اس فیصلے کے خلاف ہیں۔