ایم کیو ایم کارکن کی مبینہ جبری گمشدگی کے بعد لاش برآمد: ’اپنے شوہر کو پانچ برس بعد دیکھا تھا اور وہ بھی مردہ حالت میں‘

وقت اشاعت

’لاش ایسے جلی ہوئی تھی جیسے جسم کو کرنٹ کے جھٹکے دیے گئے ہوں۔ سارے جسم پر تشدد کے نشان موجود تھے جبکہ سر پر بھی چوٹ لگی ہوئی تھی۔ میں مردہ خانے کے اندر جاتی اور پھر باہر آتی۔ ایسے میں نے پانچ چکر لگائے کیونکہ انھیں پانچ سال کے بعد دیکھا تھا، وہ بھی مردہ حالت میں۔‘

یہ کہنا ہے عالیہ شاہد کا جن کے شوہر شاہد عرف کلیم کی پیر کے روز صوبائی دارالحکومت کراچی میں تدفین ہوئی ہے۔ مقامی پولیس کو شاہد کی لاش گذشتہ دنوں ناردرن بائی پاس کے قریب سے ملی تھی۔

وہ متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کے کارکن تھے اور ان کی گمشدگی کی باقاعدہ ایف آئی آر تھانہ سپر میں 13 اپریل 2019 کو دائر کی گئی تھی جبکہ ان کی گمشدگی کے حوالے سے سندھ ہائی کورٹ میں ایک درخواست بھی زیر سماعت ہے۔

کیا یہ لاش شاہد کی ہی ہے؟

شاہد کی اہلیہ عالیہ نے بی بی سی کو بتایا کہ گذشتہ روز تھانہ سپر کے چند اہلکار اُن کے پاس آئے اور موبائل فون میں انھیں ایک لاش کی تصویر دکھائی اور پوچھا کہ ’کیا یہ شاہد ہیں؟‘ انھوں نے کہا فون پر دستیاب تصویر سے وہ اپنے شوہر کو شناخت نہیں کر سکیں، لہذا انھیں ہسپتال لے جایا گیا۔

یہ بھی پڑھیے

’میں عباسی شہید ہسپتال کے سرد خانے پہنچی اور لاش دیکھی تو یہ اُن (شاہد) کی ہی تھی۔ جسم جلا ہوا تھا، تشدد کے نشانات بھی تھے۔ میں پریشانی میں باہر نکل جاتی اور پھر اندر آتی تھی۔‘

یاد رہے کہ سرجانی تھانے کی حدود سے نادرن بائی پاس کے قریب ایک نامعلوم لاش ملی تھی، جس کو پولیس نے عباسی شہید ہسپتال منتقل کیا تھا۔ اس سے قبل بھی اسی علاقے سے تشدد شدہ لاشیں مل چکی ہیں جن میں سے بعض کے لواحقین کا دعویٰ رہا ہے کہ وہ لاپتہ افراد میں شامل تھے۔

وہ موبائل ریپئر کرنے گئے تھے

شاہد کراچی کے علاقے لیاقت آباد کے رہائشی تھے۔ ان کی اہلیہ عالیہ شاہد نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کے شوہر گھر میں ہی موبائل ریپئرنگ کا کام کرتے تھے۔

’9 دسمبر 2016 کی دوپہر لگ بھگ ڈھائی بجے انھیں کسی نے نیچے بلایا، وہ یہ کہہ کر نیچے چلے گئے کہ شاید کوئی موبائل ریپئر کروانے آیا ہے۔

’ایک، ڈیڑھ گھنٹے کے بعد بھی وہ نہیں لوٹے تو میں نے ان کے موبائل پر کال کی لیکن نمبر بند تھا‘۔

وہ مسلسل کوشش کرتی رہیں اس طرح رات ہو گئی مگر وہ واپس نہیں لوٹے۔

انھوں نے دعویٰ کیا کہ ’میں لوگوں سے پوچھتی رہی اور پھر چند لوگوں نے دعویٰ کیا کہ سول کپڑوں میں کچھ لوگ تھے، لمبے سے۔ وہ شاہد سے باتیں کرتے ہوئے آگے گئے اس کے بعد انھیں گاڑی میں بٹھا کر اپنے ساتھ لے گئے۔‘

عالیہ کے مطابق انھوں نے بہت کوشش کی مگر یہ پتا نہیں چل سکا کہ وہ لوگ کون تھے اور کہاں سے آئے تھے اور شاہد سے ان کا کیا تعلق تھا۔

عالیہ تھانے میں بھی گئیں لیکن وہاں سے بھی انھیں کوئی معلومات نہیں مل سکیں۔ انھوں نے واقعے کی ایف آئی آر تین سال کے بعد جا کر درج کرائی۔

عالیہ کا کہنا ہے کہ وہ گھروں میں کام کاج کرتی ہیں۔ ان کی 13 سال کی بیٹی ہے، کورونا کے باعث حالیہ دنوں بیروزگاری کا سامنا کر رہی تھیں اور لوگوں سے ادھار لے گر گزارہ ہوتا تھا۔

’میرے شوہر کا تعلق ایم کیو ایم سے تھا۔ ان کی واپسی میں مدد حاصل کرنے کے لیے میں پی آئی بی کالونی میں فاروق ستار بھائی کے دفتر گئی۔ لیکن انھوں نے ملاقات ہی نہیں کی۔‘

’میں جاتی رہی، ان کے ساتھیوں نے کہا کہ فاروق بھائی کچھ نہیں کر سکتے، اس کے بعد پاک سرزمین پارٹی کے دفتر میں مصطفیٰ کمال سے ملنے گئی۔ انھوں نے ملاقات نہیں کی اور کوئی ریسپانس نہیں دیا، بلکہ وقت ضائع کیا۔‘

عالیہ کے مطابق بالآخر وہ ایم کیو ایم پاکستان کے دفتر گئیں جنھوں نے ان سے درخواست لی اور عدالت میں دائر بھی کی اور قانونی معاونت بھی فراہم کی۔

سو سے زیادہ کارکن ابھی تک لاپتہ ہیں

ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما فیصل سبزواری کا کہنا ہے کہ ان کی پارٹی کے سو سے زیادہ کارکن ابھی تک لاپتہ ہیں۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے بتایا کہ ’یہ سلسلہ سنہ 2013 میں شروع ہوا تھا جب کراچی آپریشن شروع ہوا۔ موجودہ حکومت میں کارکنوں کی واپسی کا سلسلہ شروع ہوا اور پچاس کے قریب کارکن واپس بھی آئے لیکن بعد میں بوجوہ یہ سلسلہ رُک گیا۔‘

ان کے مطابق وہ ان گمشدگیوں کا ذمہ دار حکومتوں کو سمجھتے ہیں کیونکہ قانون نافذ کرنے والے ادارے بھی ان کے ہی ماتحت ہیں۔

فیصل سبزواری کے مطابق ’ان گمشدگیوں کے حوالے سے وزیر اعظم، وزیر اعلیٰ اور وزرا سے بات چیت ہوئی ہے، ہو سکتا ہے کہ ایم کیو ایم کا کارکن ہو اور کرمنل ہو لیکن یہاں قانون اور انسداد دہشت گردی کی عدالت میں پیش کیا جائے اور مقدمہ چلایا جائے۔‘

فیصل سبزواری کا کہنا تھا کہ کراچی سے جب بھی کوئی گمشدگی ہوتی ہے یا لاش ملتی ہے تو ’کراچی میں ریاست مخالف بیانیے کو تقویت ملتی ہے۔‘

یاد رہے کہ ایک وقت میں پاکستان کے پارلیمان میں تیسری سب سے بڑی سیاسی جماعت ایم کیو ایم اب چار دھڑوں میں تقسیم ہو چکی ہے۔ پہلے کراچی کے سابق میئر مصطفیٰ کمال نے اس پارٹی سے اپنی راہیں جدا کیں اس کے بعد ایم کیو ایم پی آئی بی (فاروق ستار) اور بہادر آباد ( ایم کیو ایم پاکستان) میں تقسیم ہو گئی، جبکہ ایم کیو ایم کے بانی الطاف حسین کو ایم کیو ایم لندن کا سربراہ مانا جاتا ہے۔

سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کے دورِ حکومت میں کراچی میں آپریشن کا آغاز ہوا تھا جس میں ایم کیو ایم کے مرکز نائن زیرو کو سیل کیا گیا، متعدد رہنماؤں اور کارکنان کو گرفتار کیا گیا، پولیس اور رینجرز نے متعدد کارکنوں کی گرفتاری ظاہر کر کے ان پر ٹارگٹ کلنگ اور بھتہ خوری کے الزامات عائد کیے اور اب ان ملزمان کا تعلق ایم کیو ایم لندن سے بتایا جاتا ہے۔

حکومت سندھ کا اظہارِ لاتعلقی

سندھ حکومت کا دعویٰ ہے کہ صوبائی قانون نافذ کرنے والے اداروں کی تحویل میں ایم کیو ایم کے کارکنوں سمیت کوئی بھی غیر قانونی حراست میں نہیں ہے۔

مشیر قانون اور حکومت سندھ کے ترجمان مرتضیٰ وہاب نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ سندھ حکومت سمجھتی ہے کہ اگر کسی پر کوئی الزام ہے یا کوئی کسی مقدمے میں ملوث ہے تو اس کو گرفتاری کے بعد چوبیس گھنٹوں کے اندر عدالت میں پیش کرنا چاہیے۔

’اگر ایم کیو ایم کا کوئی کارکن غیر قانونی حراست میں ہے تو ایم کیو ایم کو وفاق سے رابطہ کرنا چاہیے، شاہد خاقان عباسی کو بھی رپورٹ پیش کی گئی تھی اور ووٹ دیا گیا تھا۔