پاکستانی بچی لیلیٰ کی بنائی ہوئی تصویر پر جے کے رولنگ کی تعریف، اور لیلیٰ کا انھیں مشورہ

وقت اشاعت
مطالعے کا وقت: 3 منٹ

اگر آپ ہیری پوٹر کے فین ہیں تو ہماری طرح ان کتابوں کی مصنفہ جے کے رولنگ کو سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ضرور فالو کرتے ہوں گے۔ اور اگر آپ ان کو ٹوئٹر پر فالو کرتے ہیں تو آپ یہ بھی جانتے ہوں گے کہ آج کل وہ اپنی نئی کتاب ’دی اکابوگ‘ کا ایک ایک باب (چیپٹر) ریلیز کر رہی ہیں۔

ساتھ ہی انھوں نے بچوں کو اس کہانی پر مبنی تصاویر بنا کر انھیں ٹویٹ کرنے کی دعوت بھی دی ہے۔ یہ ایک طرح کا مقابلہ ہے جس میں کئی ممالک سے بچے حصہ لے سکتے ہیں، تاہم ان ممالک میں پاکستان اب تک شامل نہیں۔

یہ سب تو آپ کو پتا ہوگا۔

لیکن کیا آپ کو یہ پتا ہہ کہ ایک نو برس کی پاکستانی بچی کی ’دی اکابوگ‘ پر مبنی تصویر جب ٹوئٹر پر شیئر ہوئی تو کس نے جواب دیا؟ جی جی بالکل، تھوڑا ناممکن لگتا ہے مگر ہوا بالکل یہی! جے کے رولنگ نے نہ صرف اس تصویر کو ری ٹویٹ کیا بلکہ اس کی بہت تعریف بھی کی۔

بی بی سی اردو کی عالیہ نازکی نے یہ معلوم کرنے کی کوشش کی کہ یہ سب ہوا کیسے۔

یہ بھی پڑھیے

بات شروع سے شروع کریں؟

تو ہوا یہ کہ جب کراچی میں رہنے والی گرافک ڈیزائنر سارا جمیل نے ’دی اکابوگ‘ کے بارے میں سنا تو انھوں نے اپنے بچوں کو اُن دنوں کے بارے میں بتایا جب ہیری پوٹر کی ہر نئی کتاب کا وہ بےصبری سے انتظار کیا کرتی تھیں۔ ان کے بچوں کو ویسے بھی کتابیں پڑھنے اور تصویریں بنانے کا شوق ہے۔

ان کی چھوٹی بیٹی لیلیٰ نے ’دی اکابوگ‘ کے چیپٹرز پڑھنا شروع کیے اور ہنسی مذاق میں ایک تصویر بھی بنا دی حالانکہ وہ جانتی تھیں کہ وہ مقابلے میں حصہ نہیں لے سکتیں۔ سارہ خود ٹوئٹر پر ذرا کم ہی آتی ہیں چنانچہ انھوں نے اپنی ایک دوست خضرا سے لیلیٰ کی بنائی ہوئی تصویر ٹویٹ کرنے کو کہا۔

اس ٹویٹ کے بعد دونوں کو لگا کہ بات ختم ہو گئی۔

لیکن ہوا کیا؟ پندرہ منٹ کے اندر اندر جے کے رولنگ کا جواب آ گیا!

سارا کہتی ہیں کہ ’لیلیٰ تو تب تک سو چکی تھی لیکن ہم اتنے خوش ہوئے! میرے بچے جے کے رولنگ کے فین ہیں لیکن میں خود بھی ان کی فین ہوں۔ اس طرح اپنے مداحوں کو جواب دینا ان کی رحم دلی ظاہر کرتا ہے۔ ایک ایسے وقت میں جب ہر طرف پریشانی اور اندھیرا سا لگتا ہے، جو ہوا وہ جادو سے کم نہیں!‘

اور جب لیلیٰ نیند سے جاگیں اور سارا معاملہ پتا چلا تو انھیں کیسا لگا؟

’میں بہت خوش ہوں۔ مجھے بہت اچھا لگا، اپنے سارے دوستوں کو بھی بتا دیا ہے!‘

لیلیٰ کہتی ہیں کہ ویسے وہ ہیری پوٹر کی اتنی بڑی فین نہیں لیکن انھیں ’دی اکابوگ‘ بہت پسند ہے کیونکہ یہ ایک فیری ٹیل ہے اور حقیقت پر مبنی نہیں۔ ’مجھے اس کہانی کے سارے کردار بھی بہت پسند ہیں خاص طور پر کنگ فریڈ دی فیئرلیس!‘

اس تصویر کے بارے میں لیلیٰ کہتی ہیں کہ ’چوتھے چیپٹر کے ایک سین نے مجھے بہت متاثر کیا اور میرے ذہن میں اس کی صاف تصویر بن گئی تو میں نے سوچا اسے ہی بنا دوں۔‘

اور تصویر ایسی بنی کہ جے کے رولنگ نے اپنی ٹویٹ میں لکھا ’لیلیٰ مجھے ڈووٹیلز کے گھر کی یہ تصویر بہت پسند آئی! آپ نے اس تصویر میں کہانی کے کتنے پہلو شامل کر دیے ہیں۔ یہ واضح طور پر ایک کارپینٹر کا گھر ہے، باغ اور سارے پھول بھی مجھے بہت اچھے لگے (لیکن ساتھ میں قبرستان سے ایک اداسی شامل ہو جاتی ہے۔)‘

لیلیٰ کہتی ہیں کہ جب انھیں پتا چلا کہ جے کے رولنگ نے واقعی انھیں جواب دیا ہے تو وہ حیران رہ گئیں۔ لیکن وہ مقبول مصنفہ کو ایک پیغام بھی دینا چاہتی ہیں ’مجھے لگتا ہے کہ جے کے رولنگ کو اس کہانی میں ایک عورت کو مرکزی کردار کی حیثیت سے متعارف کرانا چاہیے۔ ان کی کہانیوں میں لڑکیاں کم ہی مرکزی کردار نبھاتی ہیں۔‘

اب اس مشورے پر جے کے رولنگ کان دھرتی ہیں یا نہیں یہ تو نہیں پتا، لیکن ہم اس سے متفق ضرور ہیں!