نمازِ جمعہ: کورونا وائرس کی وجہ سے مساجد میں بڑے اجتماعات پر پابندی کے بعد سوشل میڈیا پر لوگوں کا ردِعمل

نمازِ جمعہ، کورونا وائرس کی وجہ سے بڑے اجتماعات پر پابندی، سوشل میڈیا پر لوگوں کا ردعمل
وقت اشاعت

پاکستان میں نمازِ جمعہ اور باجماعت نمازوں کے اجتماعات محدود رکھنے کی حکومتی ہدایات کے ردعمل میں لوگ اپنی رائے کا اظہار کر رہے ہیں کہ آیا کورونا وائرس سے بچاؤ کے لیے کیے جانے والے یہ حفاظتی اقدامات درست ہیں یا نہیں۔

اس حوالے سے سوشل میڈیا پر جمعہ مبارک (#JummahMubarak)، مساجد (Mosques) اور جمعہ ( Juma) جیسے الفاظ ٹرینڈ کر رہے ہیں۔ ’مساجد پر پابندی نامنظور‘ کے نام سے ایک ٹرینڈ ایسا بھی ہے جس میں لوگ اس ہدایت کی مخالفت کر رہے ہیں۔

دوسری طرف ’پرے فرام ہوم‘ (#Prayfromhome) یعنی گھر میں نماز پڑھیں بھی ٹرینڈ کر رہا ہے جس میں لوگوں سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ وہ اپنی رہائش گاہوں میں قیام کرتے ہوئے نماز ادا کریں اور مساجد میں جانے سے گریز کریں کیونکہ اس سے کووڈ 19 کے پھیلاؤ کا خدشہ ہے۔

بعض لوگوں کا کہنا تھا کہ حکومتی ہدایات کے باوجود مساجد میں بڑی تعداد میں لوگ نمازِ جمعہ کی ادائیگی کے لیے موجود تھے۔

مساجد، نماز جمعہ

،تصویر کا ذریعہTwitter/@AsadAToor

،تصویر کا کیپشنکراچی میں کھارادر کے ایس ایچ او مسجد میں آنے والے افراد کو نماز جمعہ کے حوالے سے حکومتی ہدایات کے بارے میں آگاہ کر رہے ہیں

پاکستان میں اب تک اس عالمی وبا سے 1246 متاثرین کی تصدیق ہو چکی ہے۔

نماز جمعہ کے بڑے اجتماعات پر پابندی

وفاقی وزیر مذہبی امور نور الحق قادری نے کہا ہے کہ ملک بھر میں مساجد کھلی رہیں گی لیکن نمازِ جمعہ اوردیگر نمازوں کو محدود رکھا جائے گا اور مساجد میں صرف وہ لوگ آئیں گے جو صحت مند ہیں اور جو باقاعدگی سے نماز ادا کرنے آتے ہیں۔

korona
korona

ان کا کہنا ہے کہ باقی لوگ اپنے گھروں میں اپنے اہلخانہ کے ساتھ باجماعت یا انفرادی طور پر نماز ادا کر سکتے ہیں۔

نمازِ جمعہ

اس کے علاوہ سندھ، بلوچستان اور پنجاب میں یہ ہدایت جاری کی گئی ہے کہ نمازِ جمعہ میں عام شرکت محدود رکھی جائے گی۔ صوبہ پنجاب کی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ کورونا وائرس کے پیشِ نظر صوبے بھر کی تمام مساجد میں صرف تین سے پانچ افراد ہی پانچ وقت کی نماز اور نمازِ جمعہ ادا کریں گے۔

سندھ کابینہ کے رکن ناصر حسین شاہ نے ایک ویڈیو پیغام میں بتایا کہ پانچ اپریل 2020 تک تمام مساجد میں صرف وہاں متعین تین سے پانچ افراد ہی نماز ادا کر سکیں گے۔ اسی طرح محکمہ داخلہ بلوچستان نے عوام سے کہا ہے کہ وہ گھروں میں نماز ادا کریں۔

'زبردستی روک نہیں سکتا لیکن گزارش کر سکتا ہوں'

صدر عارف علوی نے ٹویٹ کیا ہے کہ وہ ’پچھلے جمعہ کی طرح، آج بھی گھر میں ظہر‘ پڑھیں گے۔

صدر عارف علوی

،تصویر کا ذریعہTwitter/@arifalvi

وفاقی وزیر فواد چوہدری نے ایک پیغام میں اپنے سیاسی حریف مولانا فضل الرحمان کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ اُن کا ’عوام کو گھروں میں نماز ادا کرنے کا مشورہ انتہائی صائب ہے اور ’مذہبی قیادت سے اسی سنجیدہ رویے کی توقع کی جانی چاہیے۔‘

متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان کے رہنما فیصل سبزواری نے ٹوئٹر پر ایک ویڈیو پوسٹ کی ہے جس میں وہ کہتے ہیں کہ سندھ پولیس کی آگاہی پھیلانے کی کوشش ’ناکام‘ ہوئی۔

کراچی کی یہ ویڈیو کئی صارفین نے شیئر کی۔ اس میں کھارادار علاقے کے ایس ایچ او ایک مسجد میں آنے والے افراد کو نماز جمعہ کے حوالے سے حکومتی ہدایات کے بارے میں آگاہ کر رہے ہیں۔ بند دروازے کے دوسری طرف سے وہ انھیں کہتے ہیں کہ ’میں آپ کو زبردستی نہیں روک سکتا لیکن گزارش کر سکتا ہوں۔‘ تاہم لوگ اس کے باوجود مسجد کے دروازے پر موجود ہیں۔

اس ویڈیو پر بعض صارفین اپنی رائے دیتے ہوئے کہہ رہے ہیں کہ حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے ان ہدایات پر عمل کرانا انتہائی مشکل ہے۔

سماجی کارکن ندا کرمانی نے لکھا کہ ’صحیح معنوں میں جمعہ مبارک تب ہو گا جب آپ ایک جان لیوا وائرس اپنے پیاروں میں نہیں پھیلائیں گے۔‘

ندا کرمانی

،تصویر کا ذریعہTwitter/@nidkirm

حسین ندیم کہتے ہیں کہ ’جمعے کے ایمان کا مقصد ہے کہ آپ گھر پر رہیں اور انسانیت کو بچائیں۔ کیونکہ انسانیت کے بغیر ایمان نہیں۔‘

حسین ندیم

،تصویر کا ذریعہTwitter/@hnadim87

سینیٹر مصطفی نواز کھوکھر نے ٹوئٹر پر پیغام شیئر کیا کہ ’اسلام دینِ فطرت ہے اور علما اکرام کی ضد فطرت کے تقاضوں کے عین منافی ہے۔ خدارا لوگوں کی زندگیوں کو بے جا خطرے میں مت ڈالیں۔ یار باقی، صحبت باقی!‘

اقدام کی مخالفت کرنے والے کیا کہتے ہیں؟

حکومت کی طرف سے کیے جانے والے حفاظتی اقدامات پر بعض لوگوں نے اپنے اختلاف ظاہر کیے ہیں۔ عدن خان لکھتے ہیں کہ یہ اقدام اسلامی تعلیمات کے خلاف ہے۔ ان کے مطابق بحران میں ایسا نہیں کرنا چاہیے کیونکہ لوگ خدا سے اجتماعی دعا مانگنا چاہتے ہیں۔

اسی طرح عرفان گوندل کہتے ہیں کہ وائرس سے بچاؤ کے لیے ’ذاتی حوصلہ افزائی ضروری ہے۔‘

سوشل میڈیا پر کئی لوگوں نے اسلامی تعلیمات کا حوالہ دیتے ہوئے ان اقدامات کی حمایت اور مخالفت میں تبصرہ کیا ہے۔

نماز جمعہ

،تصویر کا ذریعہTwitter/@qaumba96

شیخ نامی ایک صارف نے لکھا کہ لاہور میں ان کی رہائش گاہ کے قریب مسجد میں یہ اعلان ہوا کہ تمام لوگ اپنے گھروں میں نماز ادا کریں۔

کچھ صارفین نے اس طرف بھی اشارہ کیا کہ ملک کے کئی علاقوں میں حکومتی ہدایات کی خلاف ورزی ہوئی اور مساجد میں بڑے اجتماعات کے ساتھ نمازِ جمعہ پڑھی گئی۔