الیکشن کمیشن آف پاکستان: ریٹائرڈ جسٹس الطاف ابراہیم قریشی قائم مقام چیف الیکشن کمشنر تعینات

الیکشن کمیشن، الطاف ابراہیم قریشی،

،تصویر کا ذریعہElection Commission of Pakistan

،تصویر کا کیپشنریٹائرڈ جسٹس الطاف ابراہیم قریشی قائم مقام الیکشن کمشنر کے عہدے کا حلف اٹھا رہے ہیں
    • مصنف, شہزاد ملک
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
  • وقت اشاعت

پنجاب سے الیکشن کمیشن کے رکن ریٹائرڈ جسٹس الطاف ابراہیم قریشی نے جمعے کو قائم مقام چیف الیکشن کمشنر کے عہدے کا حلف اٹھا لیا ہے۔

صوبہ خیبر پختونخوا کی رکن ارشاد قیصر نے ان سے حلف لیا۔

قائم مقام چیف الیکشن کمشنر کی تعیناتی کے باوجود الیکشن کمیشن تاحال غیر فعال ہی ہے کیونکہ پانچ رکنی کمیشن میں فی الوقت صرف دو ارکان ہی موجود ہیں۔

جسٹس (ر) قریشی کی بطور قائم مقام الیکشن کمشنر تعیناتی اس وقت عمل میں آئی ہے جب حکومت اور اپوزیشن کے درمیان نئے الیکشن کمشنر کی تعیناتی پر ڈیڈلاک موجود ہے۔

سابق چیف الیکشن کمشنر ریٹائرڈ جسٹس سردار محمد رضا خان کی پانچ دسمبر کو ریٹائرمنٹ کے بعد چونکہ الیکشن کمیشن غیر فعال ہو چکا ہے اس لیے سیاسی جماعتوں کے خلاف غیر ملکی فنڈنگ کے مقدمات کی کارروائیاں بھی رک گئی ہیں جبکہ بلدیاتی انتخابات کے لیے انتخابی فہرستوں کی تیاری اور کنٹونمنٹ بورڈز کی حلقہ بندیوں کا معاملہ بھی معطل ہو گیا ہے۔

دوسری جانب صوبہ سندھ اور بلوچستان کے لیے الیکشن کمیشن کے ارکان کی تعیناتی سے متعلق پارلیمانی کمیٹی کا اجلاس نو دسمبر کو اسلام آباد میں ہوگا۔

یہ بھی پڑھیے

ناموں پر اختلاف برقرار

حکومت اور حزب مخالف کی جماعتوں کے درمیان سندھ اور بلوچستان کے لیے ارکان کے ناموں پر اتفاق نہیں ہوسکا ہے۔

جمعرات کو پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے چیف الیکشن کمشنر کے عہدے پر تعیناتی کے لیے تین نام تجویز کیے جن میں سیکرٹری الیکشن کمیشن بابر یعقوب، سابق سیکرٹری فضل عباس میکن اور عارف احمد خان شامل ہیں جو رواں سال مارچ میں سیکرٹری خزانہ کے عہدے سے ریٹائر ہوئے تھے۔

اس سے پہلے قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف میاں شہباز شریف نے وزیر اعظم کو لکھے گئے خط میں چیف الیکشن کمشنر کے لیے تین نام تجویز کیے تھے جن میں ناصر محمود کھوسہ، جلیل عباس جیلانی اور اخلاق احمد تارڑ شامل ہیں۔

عمران خان

،تصویر کا ذریعہGetty Images

’تاریخ میں پہلی بار الیکشن کمیشن غیر فعال‘

اس سے پہلے سابق سیکرٹری الیکشن کمشن کنور دلشاد نے کہا تھا کہ 6 دسمبر سے الیکشن کمیشن غیر فعال ہو جائے گا۔ اُنھوں نے کہا کہ پہلے ہی صوبہ بلوچستان اور صوبہ سندھ کے ارکان کا تعین نہیں ہو سکا ہے۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کنور دلشاد کا کہنا تھا کہ پاکستان کی تاریخ میں یہ پہلی مرتبہ ہو گا کہ الیکشن کمیشن کو غیر فعال کیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ پاکستان کے الیکشن کمیشن کا قیام سنہ 1956 میں عمل میں لایا گیا تھا۔

کنور دلشاد کا کہنا تھا کہ اگرچہ الیکشن کمیشن کے دو ارکان میں سے پنجاب کے رکن جسٹس ریٹائرڈ الطاف ابراہیم کو بطور قائم قام چیف الیکشن کمشنر کی ذمہ داریاں دی جا سکتی ہیں لیکن وہ قانونی طور پر انتخابات سے متعلق امور نہیں نمٹا سکیں گے۔

وفاقی وزیر فواہ چوہدری نے میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ چیف الیکشن کمشنر کے نام پر حکومت اور حزب مخالف کی جماعتوں میں کوئی اختلاف نہیں ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ اُنھوں نے یہ بھی کہا کہ اگر اس آئینی عہدے پر تعیناتی کے لیے سیاسی جماعتوں میں اتفاق رائے نہ ہو سکا تو یہ بڑی بدقسمتی کی بات ہو گی۔

فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ آئین میں گنجائش ہے کہ اگر چیف الیکشن کمشنر اپنے عہدے سے ریٹائر ہو جائیں تو 45 روز میں نیا چیف الیکشن کمشنر تعینات کرنے کی گنجائش موجود ہے۔

وفاقی وزیر کے اس دعوے کے برعکس سابق سیکرٹری الیکشن کمیشن کا کہنا تھا کہ یہ معاملہ صرف اس وقت سامنے آتا ہے جب الیکشن کمیشن کے ارکان کی تعداد پوری ہو۔

اُنھوں نے کہا کہ موجودہ صورت حال میں تو صرف صوبہ خیبر پختونخوا اور صوبہ پنجاب کے دو ارکان الیکشن کمیشن میں کام کر رہے ہیں جبکہ صوبہ بلوچستان اور صوبہ سندھ کے ارکان کی تعیناتی کا نوٹیفکیشن اسلام اباد ہائی کورٹ نے معطل کر رکھا ہے۔

ادھر اسلام آباد ہائی کورٹ نے صوبہ بلوچستان اور صوبہ سندھ کے ارکان کی تعیناتی کا معاملہ حل کرنے کے لیے دس روز کی مہلت دی ہے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے صوبہ بلوچستان اور سندھ کے ارکان کی تعیناتی سے متعلق درخواستوں کی سماعت کے دوران ریمارکس دیے کہ پارلیمنٹ خود مختار ہے تو اس کے ارکان ایسے معاملات جو پارلیمنٹ میں حل ہو سکتے ہیں اُنھیں عدالتوں میں کیوں لیکر آتے ہیں۔

اُنھوں نے پاکستان مسلم لیگ نون کے رکن قومی اسمبلی شاہنواز رانجھا کو مخِاطب کرتے ہوئے استفسار کیا کہ کیا وہ چیف الیکشن کمشنر کی تعیناتی کا معاملہ سپریم کورٹ میں لے کر گئے ہیں جس کا شاہنواز رانجھا نے ہاں میں جواب دیا۔

الیکشن کمیشن

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ چیف الیکشن کمشنر ایک اہم عہدہ ہے اور حکومت اور اپوزیشن کو ملکر اس معاملے کو افہام و تفہیم سے حل کرنا چاہیے۔

ایڈشنل اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ مذکورہ صوبوں کے ارکان کی تعیناتی کے لیے پارلیمانی کمیٹی کے7 اجلاس ہو چکے ہیں لہذا اس معاملے کے حل کے لیے مزید وقت درکار ہو گا۔

بینچ کے سربراہ نے ریمارکس دیے کہ قومی اسمبلی کے سپیکر اور چیئرمین سینیٹ غیر جانبدار ہیں اور وہ اس معاملے کو حل کروا سکتے ہیں۔

واضح رہے کہ 18ویں آئینی ترمیم سے پہلے صدر مملکت کے پاس یہ اختیار تھا کہ وہ چیف الیکشن کمشنر کی مدت پوری ہونے کے بعد فوری طور پر کسی بھی شخص کو جس کا تعلق عدلیہ سے رہا ہو، اس کو چیف الیکشن کمشنر تعینات کرسکتے تھے۔

اس آئینی ترمیم کے بعد وزیراعظم اور قومی اسمبلی میں قائد خزب اختلاف کے درمیان کسی بھی آئینی عہدے پر تعینانی کے لیے بامقصد مشاورت کو لازمی قرار دیا گیا ہے۔

وفاقی حکومت کی طرف سے صوبہ بلوچستان اور صوبہ سندھ کے لیے الیکشن کمیشن کے ارکان کی تعیناتی پر وزیراعظم عمران خان اور قائد حزب اختلاف میاں شہباز شریف کے درمیان کوئی مشاورت نہیں ہوئی تھی اور اس کے علاوہ پارلیمانی کمیٹی میں بھی ان ناموں پر اتفاق نہیں ہوا تھا۔

حزب مخالف کی جماعتوں کی طرف سے چیف الیکشن کمشنر کے معاملے کو سپریم کورٹ میں لے جایا گیا ہے تاہم ابھی تک عدالت عظمیٰ نے اس درخواست کو سماعت کے لیے مقرر نہیں کیا۔