اسلام آباد میں جمعیت علمائے اسلام (ف) کا آزادی مارچ ختم: مولانا فضل الرحمان کا ’پلان بی‘ کیا ہے؟

آزادی مارچ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

    • مصنف, عزیزاللہ خان
    • عہدہ, بی بی سی اردو، پشاور
  • وقت اشاعت

جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ اسلام آباد میں جاری آزادی مارچ ختم کیا جا رہا ہے اور ’پلان بی‘ کے تحت کارکن اب ملک کے دیگر شہروں میں ہونے والے احتجاج کا حصہ بنیں گے۔

بدھ کی شام مولانا فضل الرحمان نے آزادی مارچ کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ شہر کے اندر احتجاج سے لوگوں کو مشکلات کا سامنا ہو گا اس لیے ہم شہروں سے باہر نکل کر شاہراہوں پر احتجاج کریں گے۔

واضح رہے کہ مولانا فضل الرحمٰان نے بدھ سے آزادی مارچ کے پلان بی پر عملدرآمد شروع کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ اسلام آباد میں پلان اے میں شامل مظاہرین یہیں موجود رہیں گے۔

تاہم صوبائی قیادت اور کارکنوں کی بڑی تعداد اسلام آباد میں موجود تھی جس کی وجہ سے پلان بی پر مؤثر عمل درآمد نہیں ہو سکا اور قیادت کو مجبوراً پلان اے کے تحت اسلام آباد میں موجود کارکنوں سے کہنا پڑا کہ وہ اب اپنے اپنے علاقوں میں جا کر احتجاج کریں۔

یہ بھی پڑھیے

اس منصوبے کے تحت چاروں صوبوں میں شاہراہوں کو ٹریفک کے لیے بند کیا جائے گا۔ پلان اے میں جس شدت کا اظہار کیا گیا تھا اس کے برعکس پلان بی میں کسی سخت اقدامات کا ذکر نہیں ہوا بلکہ کارکنوں کو منظم رہنے اور لوگوں کو رعائتیں دینے کی بات کی گئی ہے۔

جمعیت علمائے اسلام (ف) کے رہنما حافظ حسین احمد نے بی بی سی کو بتایا کہ ’آزادی مارچ‘ کے اگلے مرحلے میں صوبوں کو ذمہ داریاں دی جا رہی ہیں جہاں وہ اپنے مطابق احتجاج کی منصوبہ بندی کریں گے۔

آزادی مارچ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

انھوں نے کہا کہ یہ احتجاج بتدریج پھیلایا جائے گا اور مختلف علاقوں میں اپنے اپنے طریقہ کار کے مطابق مظاہرے کیے جائیں گے۔

پارٹی کے مرکزی ڈپٹی سیکرٹری جنرل محمد اسلم غوری نے صحافی محمد زبیر خان کو بتایا کہ پورے ملک میں بند کی جانے والی شاہراؤں، ہائی ویز اور موٹرویز کی نشان دہی کرلی گئی ہے۔ ان مقامات پر جمعیت علمائے اسلام کے کارکناں جمعرات کے روز دن دو بجے سے دھرنا دینا شروع کر دیں گے۔

خیبر پختونخوا میں پلان بی

خیبر پختونخوا میں جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا عطاء الرحمان نے کہا ہے کہ جمعرات کے روز پشاور راولپنڈی جی ٹی روڈ بلاک کر دی جائے گی جبکہ شاہراہ ریشم کو بند کرنے کا اعلان بھی کیا گیا ہے۔

انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ہر صوبے میں چار سے پانچ ایسی شاہراہوں کا انتخاب کیا گیا ہے جنھیں بلاک کیا جائے گا۔ خیبر پختونخوا میں انڈس ہائی وے، پشاور راولپنڈی جی ٹی روڈ اور شاہراہ ریشم کا ذکر انھوں نے خاص طور پر کیا تاہم پشاور اسلام آباد موٹروے کے بارے میں انھوں نے کچھ نہیں کہا۔

مولانا عطاء الرحمان نے بتایا کہ اب ان کا احتجاج صرف اسلام آباد نہیں بلکہ پورے ملک میں پھیل جائے گا، جس سے وہ حکومت کو مجبور کریں گے کہ ان کے مطالبات تسلیم کیے جائیں۔

پلان بی کے تحت وہ اس وقت تک احتجاج جاری رکھیں گے جب تک ان کی صوبائی قیادت اور کارکن چاہیں گے۔ پھر مرکزی قیادت سے مشاورت کے بعد پلان سی پر عمل درآمد کیا جا سکتا ہے۔

مولانا فضل الرحمان

،تصویر کا ذریعہGetty Images

پلان بی بلوچستان میں

جمعیت علمائے اسلام (ف) بلوچستان کے صدر رکن قومی اسمبلی مولانا عبد الواسع نے ٹیلیفون پر بی بی سی کو بتایا کہ پلان بی پر عملدرآمد کے لیے سرحدی شہر چمن سے کوئٹہ آنے والی شاہراہ پر احتجاج شروع کر دیا گیا ہے اور اس احتجاج کو بتدریج وسعت دی جائے گی اور مزید شاہراہوں پر احتجاج کیے جائیں گے۔

کوئٹہ چمن شاہراہ قلعہ عبداللہ میں حمید کراس پر بلاک کر دی گئی ہے جہاں دونوں جانب سے بڑی تعداد میں گاڑیاں روکی گئی ہیں۔ اس احتجاج میں جمعیت کے کارکنوں کے ساتھ پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے کارکن بھی شامل ہیں۔

ایسی اطلاعات ہیں کہ لیویز اہلکار ٹریفک کے لیے شاہراہ کھولنے کے لیے مظاہرین سے مذاکرات کر رہے ہیں۔ اس احتجاج میں مظاہرین کی تعداد کوئی بہت زیادہ نہیں تاہم سڑک پر گاڑیاں کھڑی کر کے روڈ بلاک کیے گئے ہیں۔

آزادی مارچ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

صوبہ سندھ کا پلان بی

اسی منصوبے کے تحت صوبہ سندھ میں جماعت کے صدر راشد سومرو نے کہا ہے کہ جمعرات کے روز سندھ کو پنجاب سے ملانے والی شاہراہ نیشنل ہائی وے اور سکھر ملتان موٹروے کو ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند کر دیا جائے گا۔

جمعیت علمائے اسلام کے رہنماؤں کے مطابق صوبہ سندھ میں کراچی سے پنجاب اور خیبر پختونخوا کی جانب آنے والی شاہراہ پر جیکب آباد کے مقام پر احتجاج کیا جائے گا جبکہ کوئٹہ سے کراچی جانے والی شاہراہ پر خضدار کے مقام پر بھی احتجاج کیا جائے گا۔

بلوچستان اور سندھ میں کارکنوں سے اپیل کی گئی ہے کہ احتجاج میں شرکت کے لیے وہ اپنے قریبی علاقوں میں پہنچ جائیں۔

یاد رہے کہ کراچی پولیس کی جانب سے جاری ایک خط میں کہا گیا ہے کہ جمعیت علمائے اسلام کے احتجاج کے پلان بی کے تحت تیرہ مقامات پر احتجاجی مظاہرے کیے جا سکتے ہیں۔

پولیس حکام کے اس خط کے مطابق احتجاجی مظاہروں کے لیے پولیس کی نفری تعینات کی جائے گی۔