آزادی مارچ: جے کے ایل ایف کا جسکول میں ہی غیرمعینہ مدت کے لیے دھرنے کا اعلان

کشمیر

،تصویر کا ذریعہMA Jarral

    • مصنف, ایم اے جرال
    • عہدہ, صحافی، جسکول
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 4 منٹ

کشمیر کو تقسیم کرنے والی لائن آف کنٹرول عبور کرنے کے لیے زیر انتظام کشمیر میں منعقد ہونے والے جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ کے آزادی مارچ کو جسکول کے مقام پر روکے جانے کے بعد مظاہرین کا دھرنا پیر کو بھی جاری ہے۔

آزادی مارچ کے شرکا نے بارش اور سردی میں اتوار کی شب لائن آف کنٹرول سے چھ کلومیٹر دور اس مرکزی شاہراہ پر گزاری جو مظفرآباد کو سرینگر سے چکوٹھی کراسنگ پوائنٹ کے ذریعے ملاتی ہے۔

اس دھرنے میں پانچ ہزار کے لگ بھگ افراد شریک ہیں اور جے کے ایل ایف کے رہنماؤں نے مقامی انتظامیہ کی جانب سے رکاوٹیں نہ ہٹائے جانے کے بعد جسکول میں ہی غیرمعینہ مدت کے لیے دھرنا دینے کا اعلان کیا ہے.

جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ کے رہنماؤں عبدالحمید بٹ، توقیر گیلانی اور رفیق ڈار نے ایک پریس کانفرنس میں کہا ہے کہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی حکومت مارچ کے شرکا کی راہ میں حائل رکاوٹیں ہٹا ہیں اور انھیں آگے جانے دے اور اگر وہ ایسا نہیں کر سکتی تو پھر دھرنا ختم کروانے کے لیے دو مطالبات پر عمل کرے۔

مزید پڑھیے

YouTube پوسٹ نظرانداز کریں
Google YouTube کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو Google YouTube کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے Google YouTube ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

YouTube پوسٹ کا اختتام

ان مطالبات میں اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے نمائندے اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے پانچ مستقل ارکان کے نمائندگان کو دھرنے کے مقام پر بلا کر مظاہرین سے ان کی ملاقات شامل ہیں۔

رہنماؤں کا کہنا ہے کہ بصورت دیگر کسی صورت دھرنا ختم نہیں کیا جائے گا۔

پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کی حکومت کی جانب سے مارچ کے منتظمین سے مذاکرات کے لیے وزرا مشتاق منہاس اور سردار طاہر فاروق پر مشتمل دو رکنی کمیٹی نے اتوار کی شب مظاہرین کے رہنماؤں سے ملاقات کی جس کے بعد وزیر اطلاعات مشتاق منہاس نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ انھوں نے منتظمین سے مارچ ختم کرنے کی اپیل کی ہے اور اس سلسلے میں پیر کو دوبارہ مذاکرات ہوں گے۔

جے کے ایل ایف دھرنا

لبریشن فرنٹ کے رہنما رفیق ڈار کا بھی کہنا ہے کہ ’ہم نے حکومت سے کہا ہے کہ وہ ہمیں آگے بڑھنے کی اجازت دیں تاکہ ایل او سی عبور کر سکیں۔‘

خیال رہے کہ اس ’آزادی مارچ‘ کے آغاز سے قبل پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے کہا تھا کہ وہ انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر کی صورت حال کے حوالے سے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں پایا جانے والا کرب سمجھ سکتے ہیں مگر لائن آف کنٹرول (ایل او سی) پار کرنا انڈین بیانیے کو مضبوط کرنے کے مترادف ہو گا۔

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں متحرک خودمختار کشمیر کی حامی تنظیم جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ (جے کے ایل ایف) کے کارکنان نے انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کے عام لوگوں کے ساتھ یکجہتی کے اظہار اور وہاں دو ماہ سے زیادہ عرصے سے جاری لاک ڈاؤن کے خلاف ایل او سی کی جانب پیدل مارچ شروع کیا تھا اور اعلان کیا تھا کہ وہ ایل او سی عبور کریں گے۔

حکام نے آزادی مارچ کے شرکا کو ایسا کرنے کی اجازت نہ دینے کا فیصلہ کیا ہے اور ضلعی انتظامیہ نے لائن آف کنٹرول جانے والی مرکزی شاہراہِ سرینگر کو جسکول کے مقام سے چھ کلومیٹر قبل پر کنٹینر اور خاردار تاریں لگا کر بند کیا ہے۔

چکوٹھی کی جانب جاتے ہوئے جسکول کے اس مقام پر ایک جانب دریائے جہلم بہتا ہے اور دوسری جانب پہاڑ ہیں۔ مظاہرین کے پاس واپسی کے لیے ایک ہی راستہ ہے کہ وہ واپس چناری کی جانب جائیں۔

KASHMIR

،تصویر کا ذریعہShazeb Afzal

،تصویر کا کیپشنمارچ میں لگ بھگ پانچ ہزار افراد موجود ہیں جن کو روکنے کے لیے پندرہ سو اہلکار تعینات ہیں

اس مارچ کا آغاز جمعے کو پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے ضلع بھمبر سے ہوا تھا جو کوٹلی، راولاکوٹ اور دھیرکوٹ سے ہوتا ہوا مظفرآباد پہنچا، جہاں سے مارچ کے شرکا ایل او سی کے چکوٹھی چیک پوائنٹ کی جانب بڑھے۔

جسکول میں جس مقام پر اس مارچ کو روکا گیا ہے یہ وہی جگہ ہے جہاں 27 برس قبل یعنی سنہ 1992 میں جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ کے ہی مارچ کو روکا گیا تھا جب اس وقت تنظیم نے ایل او سی عبور کرنے کی کال دی تھی اور اسی مقام پر پولیس کے ساتھ ان کا تصادم ہوا تھا۔

اس سے قبل سنہ 1991 میں نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن نے بھی ایل او سی عبور کرنے کی کال دی تھی اور 11 افراد نے ایل او سی عبور بھی کی تھی جن میں سے تین انڈین فوج کی فائرنگ سے ہلاک ہوئے تھے۔

اس مارچ میں پانچ ہزار کے لگ بھگ افراد موجود ہیں جن کو روکنے کے لیے پندرہ سو اہلکار تعینات ہیں۔

آزادی مارچ میں موجود سلمیٰ طارق جن کا تعلق ڈسٹکرکٹ کوٹلی سے ہے اور وہ ایڈوکیٹ ہائی کورٹ ہیں۔

کشمیر

،تصویر کا ذریعہM A JARRAL

بی بی سی سے گفتگو میں انھوں نے کہا کہ 11 قراردادیں اقوام متحدہ میں موجود ہیں اور کوئی بھی قرارداد اور قانون کشمیریوں کو لائن اف کنٹرول عبور کرنے سے نہیں روکتا۔

انھوں نے کہا کہ یہ کشمیری عوام کی آواز ہے کہ جسے ایل او سی کا نام دیا گیا ہے وہ دراصل ایک خونی لکیر ہے۔ ایک جانب انڈیا نے فوجیں کھڑی کی ہوئی ہیں اور دوسری جانب پاکستان نے ہم۔ ہمارا یہ مطالبہ ہے کہ ہماری مزاحمت کے راستے میں نہ آئیں۔ ہم عوام ہیں۔ ہم اس جانب جانا چاہ رہے ہیں ہم کسی قانون کی خلاف ورزی نہیں کر رہے۔ کم ازکم کشمیریوں کے لیے لائن آف کنٹرول کو کھولا جائے۔

مارچ کی سربراہی کرنے والے جے کے ایل ایف رہنما ڈاکٹر توقیر گیلانی کا کہنا ہے کہ یہ مارچ ایل او سی کی دوسری جانب رہنے والے ان کشمیریوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے ہے جو 'ایک ماہ سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود انڈین فوج کے محاصرے میں ہیں۔'

دھرنے سے قبل گذشتہ ماہ ہونے والے مارچ میں شریک افراد نے جب میرپور سے تیتری نوٹ کی جانب مارچ کیا تو شرکا کو کوٹلی سرساوہ اور ہجیرہ کے بعد داورندری کے مقام پر پولیس نے روکا جس سے دونوں کے درمیان شدید تصادم ہوا اور متعدد افراد زخمی ہو گئے تھے۔