جج ارشد ملک کیس: 'فیصلے کے لیے ویب سائٹ پر جائیں'

،تصویر کا ذریعہAFP
- مصنف, شہزاد ملک
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
- وقت اشاعت
پاکستان کی عدالت عظمیٰ کا کورٹ روم نمبر ون، جمعے کے روز، اور ایک بار پھر سابق وزیر اعظم نواز شریف کی قسمت کا فیصلہ۔
لیکن اس بار سماعت کی وجہ نواز شریف کے خلاف یا ان کی طرف سے دائر کردہ کوئی درخواست نہیں تھی بلکہ احتساب عدالت کے سابق جج ارشد ملک کی مبینہ ویڈیو سے متعلق دائر درخواستوں پر فیصلہ سنایا جانا تھا۔
ارشد ملک وہی جج ہیں جنھوں نے دسمبر 2018 میں سابق وزیر اعظم کو العزیزیہ سٹیل مل کے مقدمے میں سات سال قید کی سزا سنائی تھی جبکہ فلیگ شپ ریفرنس میں بری کردیا تھا۔
ماضی کے مقابلے میں اس بار سپریم کورٹ کے کمرہ عدالت نمبر ایک میں لوگوں کی تعداد بہت کم تھی۔ کمرہ عدالت میں وکلا سے زیادہ صحافیوں کی تعداد تھی جو چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ کا انتظار کرہے تھے۔
احتساب عدالت کے سابق جج کی مبینہ ویڈیو سے متعلق دائر درخواستوں کا فیصلہ کرنے والے تین رکنی بینچ میں دو وہ جج صاحبان بھی شامل ہیں جنھوں نے سابق وزیر اعظم کو نااہل قرار دیا تھا۔ اس میں چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ اور جسٹس شیخ عظمت سعید شامل ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
یہ تین رکنی بینچ ٹھیک ساڑھے نو بجے کمرہ عدالت میں داخل ہوا اور بینچ کے سربراہ نے اس مبینہ ویڈیو سے متعلق کچھ نکات کا ذکر کیا جو اس مبینہ ویڈیو کے مستند ہونے، اس ویڈیو کے سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کے مقدمے پر اثرانداز ہونے اورسابق جج ارشد ملک کے مستقبل کے بارے میں تھے۔

،تصویر کا ذریعہRehan Dashti
کمرہ عدالت میں موجود صحافیوں نے چیف جسٹس صاحب کے ریمارکس کو تیزی سے لکھنا شروع کردیا لیکن اچانک سب کے قلم رک گئے جب چیف جسٹس صاحب نے کہا کہ اس مبینہ ویڈیو سے متعلق فیصلہ سپریم کورٹ کی ویب سائٹ پر جاری کردیا گیا ہے اور اس فیصلے کو پڑھنے کے لیے 'ویب سائٹ پر جائیں'۔
یہ ریمارکس دینے کے بعد عدالت عظمیٰ نے دیگر مقدمات کی سماعت شروع کردی۔
یہ سنتے ہی صحافیوں اور فریقین کمرہ عدالت سے باہر نکلے اور اپنے اپنے موبائل فون پر سپریم کورٹ کی ویب سائٹ کو تلاش کرنا شروع کردیا لیکن وہاں پر اس وقت تک اُس فیصلے کے بارے میں کچھ بھی نہیں تھا۔
جب سپریم کورٹ کے شعبہ تعلقات عامہ سے پوچھا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ جب تک چیف جسٹس صاحب عدالت سے اٹھ کر اپنے چیمبر میں نہیں جائیں گے، اس وقت تک فیصلے کو ویب سائٹ پر اپ لوڈ نہیں کیا جائے گا۔
کمرہ عدالت میں موجود صحافیوں کا کہنا تھا کہ وہ کافی عرصے سے سپریم کورٹ میں ہونے والی عدالتی کارروائی کو کور کر رہے ہیں لیکن ایسا کبھی بھی نہیں ہوا کہ سپریم کورٹ کے رجسٹرار آفس کے طرف سے فیصلہ سنانے کی تاریخ کا اعلان بھی کردیا جائے لیکن فیصلہ سنانے کی بجائے اسے سپریم کورٹ کی ویب سائٹ پر جاری کردیا جائے۔
انھوں نے کہا کہ عمومی طور پر یہ ہوتا ہے کہ عدالت کسی بھی مقدمے کا آپریٹیو پارٹ یعنی مختصر فیصلہ سناتی ہے اور پورا فیصلہ بعد میں جاری کیا جاتا ہے۔
خود درخواست گزار بھی فیصلے کے بارے میں لاعلم تھے اور اُنھوں نے میڈیا کے نمائندوں کو بتایا تھا کہ وہ فیصلہ پڑھنے کے بعد ہی کوئی ردعمل دیں گے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
کمرہ عدالت میں موجود وکلا کا کہنا تھا کہ احتساب عدالت کے سابق جج کی مبینہ ویڈیو سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے سے سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کو فوری طور پر کوئی عبوری ریلیف نہیں ملا اور عدالت عظمیٰ نے اس کی تمام تر ذمہ داری اسلام آباد ہائی کورٹ پر ڈال دی ہے۔
یاد رہے کہ ارشد ملک بطور احتساب عدالت کے جج کے جب سابق وزیر اعظم کے خلاف دائر ریفرنس کی سماعت کر رہے تھے تو اُس وقت کے چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے احتساب عدالت کی کارروائی کی نگرانی کے لیے اسلام آباد ہائی کورٹ کے بجائے سپریم کورٹ کے جج جسٹس اعجاز الاحسن کو نگراں جج مقرر کیا تھا۔
ارشد ملک کو ان کے عہدے سے ہٹائے جانے کے باوجود وفاقی حکومت نے اُنھیں اپنے پاس ہی رکھا اور جب سپریم کورٹ کو اس کا علم ہوا تو اُنھوں نے اس پر برہمی کا اظہار کیااور کہا کہ حکومت اس جج کو تحفظ فراہم کر رہی ہے۔























