سبطین خان کا احتساب عدالت نے دس روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کر لیا

وقت اشاعت

لاہور کی احتساب عدالت نے نیب کی جانب سے کرپشن الزامات پر گرفتار پنجاب کے وزیر جنگلات سبطین خان کے ریمانڈ کی استدعا منظور کرتے ہوئے ملزم کو 10 روز کے جسمانی ریمانڈ پر نیب کے حوالے کردیا۔

عدالت نے سبطین خان کو 25 جون کو پیش کرنے کا حکم بھی دیا ہے۔

واضح رہے کہ جمعے کو نیب لاہور نے ایک کارروائی کے دوران سابق دور میں صوبائی وزیر برائے مائنز اینڈ منرلز ڈیپارٹمنٹ پنجاب رہنے والے ملزم محمد سبطین خان کو کرپشن کے الزام میں گرفتار کیا تھا۔ نیب حکام کے مطابق سبطین خان سنہ 2007 میں مسلم لیگ (ق) کی حکومت میں صوبائی وزیر معدنیات تھے اور انھیں چنیوٹ میں مائنز ٹھیکہ کیس میں گرفتار کیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے!

دوسری جانب مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق سبطین خان نے وزارت سے مستعفی ہونے کے لیے استعفے پر دستخط کر دیے ہیں جسے وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار اور پارٹی قیادت کو ارسال کردیا گیا ہے تاہم پنجاب حکومت کے حکام نے اب تک اس کی تصدیق نہیں کی۔

نیب کا کہنا ہے کہ ملزم کی جانب سے جولائی 2007 میں میسرز ارتھ ریسورس پرائیویٹ لمیٹڈ نامی کمپنی کو ٹھیکہ فراہم کرنے کے غیرقانونی احکامات جاری کیے، ان پر چنیوٹ میں اربوں روپے کے ٹھیکے میں من پسند کمپنی کو نوازنے کا الزام ہے۔

نیب نے بتایا کہ ملزم نے شریک ملزمان سے ملی بھگت کرکے ٹھیکہ خلاف قانون فراہم کیا، ملزم محمد سبطین نے چنیوٹ کے اربوں مالیت کے معدنی وسائل 25 لاکھ مالیت کی کمپنی کو فراہم کئے تھے۔ پنجاب حکومت نے سنہ 2018 میں نیب کو آگاہ کیا جس پر دوبارہ کارروائی کی گئی۔

نیب حکام کے مطابق نجی کمپنی ماضی میں کان کنی کے تجربے کی حامل نہیں تھی، تجربہ نہ ہونے کے باوجود سابق وزیر نے ملی بھگت سے کمپنی کو ٹھیکہ فراہم کیا، پنجاب مائنز ڈیپارٹمنٹ نے بڈنگ میں دوسری کمپنی کو شامل ہی نہیں کیا اور نہ ہی ملزمان نے ایس ای سی پی کو منصوبے کی تفصیلات فراہم کیں۔

نیب حکام کا کہنا ہے کہ لاہور ہائیکورٹ سے کیس ریفر ہونے پر نیب نےکارروائی کا آغاز کیا۔

واضح رہے سردار سبطین خان پنجاب اسمبلی کے حقلہ پی پی 88 میانوالی 4 سے تحریک انصاف کے ٹکٹ پر منتخب ہوئے ہیں اور موجودہ کابینہ میں وزیر جنگلات ہیں۔