اسرائیل کی غزہ کے پناہ گزین کیمپ ’جبالیہ‘ پر فضائی حملے کی تصدیق، دھماکے میں درجنوں فلسطینی ہلاک
اسرائیلی فوج کے ترجمان ڈینیئل ہگاری نے غزہ پناہ گزین کیمپ پر حملے کی تصدیق کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ اس حملے میں حماس کا ایک سینئر کمانڈر ہلاک ہو گیا ہے دوسری جانب فلسطینی وزارت صحت کا کہنا ہے کہ پناہ گزین کیمپ پر حملے میں کم از کم 50 افراد ہلاک ہوئے ہیں
لائیو کوریج
حماس کی جانب سے جاری ویڈیو میں یرغمالیوں کا اسرائیلی وزیر اعظم پر تنقید کے ساتھ جلد رہائی کا مطالبہ
،تصویر کا ذریعہAl Qassam
حماس نے ایک ویڈیو جاری کی ہے جس
میں غزہ میں یرغمال بنائے گئے تین افراد کو دکھایا گیا ہے۔
ابھی تہ یہ تو معلوم نہیں ہو سکا
ہے کہ یہ ویڈیو کب اور کہاں بنائی گئی ہے، لیکن اس ویڈیو میں نظر آنے والی تینوں
خواتین مناسب صحت میں دکھائی دے رہی ہیں۔
ویڈیو میں تینوں خواتین کو کیمرے
کے سامنے تین کُرسیوں پر بیٹھے دیکھا جا سکتا ہے، لیکن اس دوران ان تینوں خواتین میں
سے صرف ایک خاتون نے اس پوری ویڈیو میں کیمرے کی جانب دیکھتے ہوئے بات کی ہے اور
اسرائیلی انتظامیہ خصوصاً اسرائیلی وزیر اعظم کو پیغام دیا ہے۔
ویڈیو میں بات کرنے والی خاتون نے
اسرائیلی وزیر اعظم بینیامن نیتن یاہو کی پالیسیوں کو تنقید کا نشانہ بنایا اور یرغمالیوں
کی رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔
بی بی سی حماس کی جانب سے جاری
ہونے والی اس ویڈیو کو شائع نہیں کر رہا۔ جنگی قیدیوں اور یرغمالیوں کو بین
الاقوامی انسانی قانون کے تحت تحفظ حاصل ہے اور بی بی سی وہ مواد نشر نہیں کرتا جو
ممکنہ طور پر کسی بھی قسم کے دباؤ کے تحت فلمایا گیا ہو۔
اب تک کی شہ سُرخیاں
غزہ شہر کے قریب
اسرائیلی بکتر بند گاڑیوں کو ایک مرکزی سڑک پر دیکھا گیا ہے جو پٹی کے جنوب اور
شمال کو ملاتی ہے، یہ وہی سڑک ہے جسے لوگ نقل مکانی کے لئے استعمال کر رہے تھے۔
تصدیق شدہ ویڈیو میں ایک ٹینک کو ایک کار پر فائرنگ کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ نامہ
نگاروں کا کہنا ہے کہ اسرائیلی افواج واضح طور پر غزہ شہر کو اپنی زمینی
کارروائیوں کا مرکز بنا رہی ہیں۔
غزہ میں اسرائیلی
فضائی حملے جاری ہیں، اسرائیلی دفاعی افواج
کے مطابق انھوں نے گزشتہ 24 گھنٹوں میں غزہ میں حماس کے 600 اہداف کو نشانہ بنایا
ہے۔
اقوام متحدہ کا کہنا
ہے کہ شمالی غزہ کے ہسپتالوں میں سینکڑوں مریض
پھنسے ہوئے ہیں اور محفوظ علاقوں میں منتقل ہونا اُن کے لیے مُمکن نہیں ہے۔ فلسطینی
امدادی ادارے ریڈ کریسنٹ نے کہا ہے کہ غزہ شہر میں القدس ہسپتال کے قریب فضائی
حملے جاری ہیں۔ امدادی کارکنوں کا کہنا ہے کہ وہاں صورتحال انتہائی نازک ہے۔
مقبوضہ مغربی کنارے
میں تشدد کے نتیجے میں مسلح ’اسلامی جہاد‘ کے چار ارکان اسرائیلی فوج کے ہاتھوں
ہلاک ہوگئے۔ جینن پناہ گزین کیمپ پر چھاپہ مارا گیا تھا۔
’شانی لوک‘ کی موت کی تصدیق
ہو چکی ہے۔ 7 اکتوبر کو حماس کی جانب سے ایک میوزک فیسٹیول پر حملے کے بعد لاپتہ
ہونے والی 22 سالہ اسرائیلی جرمن خاتون کے اہل خانہ کا کہنا ہے کہ اس کی لاش کی
باقیات مل گئی ہیں۔
یروشلم میں ایک پولیس
افسر کو چاقو مار کر ہلاک کر دیا گیا تاہم مبینہ
حملہ آور اسرائیلی پولیس کی گولی لگنے سے ہلاک ہوگیا۔
غزہ اسرائیل جنگ میں بچی کو جنم دینے والی جمانہ عماد
حماس اور القسام بریگیڈ کی نئی حکمت عملی، جس سے سوشل میڈیا پر اس کے سبسکرائبرز کی تعداد میں لاکھوں کا اضافہ ہوا
اسرائیلی فوج غزہ شہر اور شمال کی جانب سے ٹینکوں کی مدد سے حملے کی تیاری میں ہے، رشدی ابوالوف بی بی سی
بی بی سی کے غزہ سے نامہ نگار رشدی
ابوالوف کے مطابق غزہ کے جنوب میں پہلے کے مقابلے میں اب اسرائیلی افواج کی جانب
سے کیے جانے والے فضائی حملوں میں کمی دیکھنے میں آئی ہے۔
انھوں نے کہا کہ ’ہم نے کل سے
دیکھا ہے کہ اس علاقے میں فضائی حملے کم ہو رہے ہیں اور مصر کی جانب سے غزہ میں
داخل ہونے والی امداد کی رفتار اور مقدار دونوں میں خاصی تیزی آئی ہے۔‘
رشدی کے مطابق ’ایسا لگتا ہے کہ
اسرائیل شمالی اور غزہ شہر میں آپریشن پر توجہ مرکوز کرنا چاہتا ہے جہاں اب ان کے
پاس چار مختلف سمتوں سے ٹینکوں کی بڑی تعداد نا صرف موجود ہے بلکہ وہ غزہ کی جانب
پیش قدمی بھی کر رہے ہیں۔
دوسری جانب غزہ کی پٹی سے موصول ہونے والی
اطلاعات کے مطابق غزہ کے شمال سے جنوب کی طرف ایک اہم سڑک پر ایک اسرائیلی ٹینک
دیکھا گیا ہے۔ تصدیق شدہ ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ غزہ شہر کے جنوب میں صلاح الدین
روڈ پر شمال کی جانب جانے والی ایک کار پر ٹینک سے فائرنگ کی گئی۔
تاہم اس معاملے سے متعلق اسرائیلی
فوج نے اپنی پوزیشن ظاہر کرنے سے انکار کر دیا ہے۔
عینی شاہدین نے اس سے قبل خبر
رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا تھا کہ ٹینک غزہ شہر کے جنوبی کناروں پر واقع ضلع
زیتون میں داخل ہوئے تھے۔
ایک رہائشی نے اپنا نام ظاہر نہ
کرنے کی شرط پر بتایا کہ انھوں نے صلاح الدین کو کاٹ دیا ہے یعنی سڑک کو شدید
نقصان پہنچایا گیا ہے، نا صرف یہ بلکہ جو بھی گاڑی اس راستے کو استعمال کرنے کی
کوشش کرتی ہیں اُس پر فائرنگ کی جاتی ہے اور اُسے نقصان پہنچایا جاتا ہے۔
اسرائیلی فورسز نے غزہ کے شمال سے جنوبی جانے والی اہم سڑک آمد و رفت کے لیے بند کردی ہے، فلسطینی عینی شاہدین
فلسطینی عینی شاہدین کے مطابق ایک
اسرائیلی ٹینک اور بکتر بند گاڑی نے غزہ کی پٹی کے شمال سے جنوب کی طرف جانے والی
ایک اہم سڑک سے شہر کا رابطہ منقطع کر دیا ہے اور وہ غزہ شہر میں داخل ہو گئے ہیں۔
بتایا جا رہا ہے کہ یہ ٹینک کرنی نیتزاریم
جنکشن کے قریب صلاح الدین روڈ پر تھے، جس کے بعد سے یہ بات کی جا رہی ہیں کہ یہ وہ
علاقے ہے کہ جہاں سے غزہ شہر کے ایک اہم علاقے کی جانب پیش قدمی کی جا سکتی ہے۔
اسرائیلی افواج نے گزشتہ 24
گھنٹوں کے دوران غزہ میں اپنی زمینی فوجیوں کی تعداد میں بڑے پیمانے پر اضافیہ کیا
ہے۔ اسرائیلی فوج کہ مطابق انھوں نے ’درجنوں دہشت گردوں کو کامیابی کے ساتھ نشانہ
بنایا ہے۔‘
آئی ڈی ایف کے چیف ترجمان ڈینیئل
ہاگری سے صبح کی بریفنگ میں ٹینکوں کے بارے میں خصوصی طور پر پوچھا گیا تو انھوں
نے مزید معلومات دینے سے انکار کر دیا۔
صلاح الدین روڈ ان دو راستوں میں
سے ایک ہے جنھیں اسرائیل نے غزہ کی پٹی کے شمالی حصے میں فلسطینیوں کو اپنی حفاظت
کے لیے جنوب سے نکلنے کے لیے استعمال کرنے کے لیے کہا تھا۔
غزہ کے ہسپتالوں میں سینکڑوں مریض پھنسے ہیں اور انھیں منتقل نہیں کیا جا سکتا: اقوام متحدہ
،تصویر کا ذریعہغزہ
فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے اقوام متحدہ کی ایجنسی کے
سربراہ نے کہا ہے کہ سینکڑوں مریض شمالی غزہ میں ہسپتالوں میں پھنسے ہوئے ہیں اور انھیں
منتقل نہیں کیا جا سکتا۔
اقوام متحدہ کی پناہ گزین ایجنسی سے تعلق رکھنے والے ٹام
وائٹ نے ڈاکٹروں اور دیگر خیراتی اداروں کے حوالے سے بتایا کہ شمالی غزہ میں القدس
جیسے ہسپتالوں سے مریضوں کو منتقل کرنا ناممکن ہے۔ فلسطینی ہلال احمر کا کہنا ہے
کہ اسرائیل نے اتوار کے روز ہسپتال خالی کرنے کا کہا تھا جبکہ اس کے اطراف میں حملے
جاری ہیں۔
وائٹ نے کہا کہ ’شمال میں بہت سے لوگ سکولوں میں پناہ کی
تلاش میں ہیں، وہ ہسپتالوں میں پناہ کی تلاش میں ہیں۔ میں اس ہفتے ایک ہسپتال میں
تھا اور وہاں سینکڑوں مریض ہیں جنھیں منتقل نہیں کیا جا سکتا۔‘
بریکنگ, مغربی کنارے میں جھڑپوں میں چار فلسطینی ہلاک
فلسطینی حکام کا کہنا ہے کہ مغربی کنارے میں بھی اسرائیلی
فورسز کے ساتھ پرتشدد جھڑپیں ہوئی ہیں اور جنین میں ہونے والی ان جھڑپوں میں چار فلسطینی
ہلاک ہو گئے ہیں۔
فلسطین کی سرکاری خبر رساں ایجنسی وفا کے مطابق فوجی گاڑیوں
اور دو بلڈوزروں نے جنین میں چھاپہ مار کر ابن سینا ہسپتال کی بیرونی دیوار کے کچھ
حصے کو تباہ کردیا۔ وفا نے رپورٹ کیا کہ ایک گھر اور جینن پناہ گزین کیمپ پر بھی میزائل
داغے گئے ہیں۔
آج صبح اپنے تازہ بیان میں اسرائیلی فوج کے ترجمان ڈینیئل
ہیگری نے کہا کہ اسرائیل نے جنین میں ایک فضائی حملہ کیا: ’ہم نے متعدد مسلح دہشت
گردوں کو نشانہ بنایا اور انھیں ختم کر دیا ہے۔‘
اس سے پہلے اسرائیلی فوج نے مغربی کنارے میں باقاعدگی سے
چھاپے مارے۔ لیکن یہ وہاں شاذ و نادر ہی فضائی حملے کیے ہیں۔ جیسا کہ حماس کے زیر
کنٹرول غزہ میں ہوتا ہے۔
مغربی کنارہ، غزہ کی پٹی سے الگ ہے اور یہ حماس کے زیر انتظام
علاقہ ہےجبکہ فلسطینی اتھارٹی مغربی
کنارے کے ان حصوں پر حکومت کرتی ہے جو مکمل اسرائیلی کنٹرول میں نہیں ہیں۔
غزہ پر حملے اور جنگ کے خاتمے کے بعد اسرائیل کی مستقبل کی حکمت عملی کیا ہو گی؟
’الشفا ہسپتال میں 55 ہزار سے زیادہ بے گھر افراد موجود ہیں‘
،تصویر کا ذریعہReuters
غزہ شہر کے القدس ہسپتال کے ارد گرد جہاں شدید گولہ باری کی اطلاعات ہیں وہیں غزہ شہر کے ایک اور ہسپتال الشفا کے مریضوں اور عملے کو بھی شدید مشلکات کا سامنا ہے۔
الشفا ہسپتال کے شعبہ سرجری کے سربراہ نے اس صورتحال کو ’تباہ کن‘ قراردیا ہے اور کہا ہے کہ تقریباً 55 ہزار بے گھر افراد اب الشفا ہسپتال کے ہر مربع میٹر پر پناہ لیے ہوئے ہیں۔
واضح رہے کہ اسرائیلی فوج نے اتوار کو القدس ہسپتال سے انخلاء کا حکم جاری کیا تھا لیکن طبی عملے کا کہنا ہے کہ وہاں زیر علاج سینکڑوں مریضوں کو اس حالت میں منتقل کرنا ناممکن ہے۔
الشفا ہسپتال کے ڈاکٹر مروان ابوسدا نے اتوار کی سہ پہر کو آڈیو نوٹ میں بی بی سی کوبتایا کہ ہفتے کے آخر میں کوریڈور ور میں جگہ نہ ہونے کے باعث تقریباً 100 مریضوں کو دوسرے ہسپتالوں میں منتقل کیا گیا۔ پھر بھی ہمیں بہت سے، بہت سے، بہت سے کیسز موصول ہو رہے ہیں۔
’ہرآدھے گھنٹے میں، ہمیں بڑی تعداد میں زخمی لوگ موصول ہوتے ہیں۔ اور اب ہوشی کی ادویات سے لے کر درد کش ادویات اور اینٹی بائیوٹک تک ہر چیز کی کمی صورتحال کو بہت مشکل بنا رہی ہے۔
غزہ میں بچے نمکین پانی پینے پر مجبور ہیں: اقوام متحدہ
،تصویر کا ذریعہEPA
اسرائیل کے حملوں کے نتیجے میں غزہ میں بچے ایک تباہ کن صورتحال میں رہ رہے ہیں۔
اقوام متحدہ کے مطابق غزہ میں جنگ کے باعث تباہ کن صورتحال ہے اور ایسے میں بچوں کو فراہم کرنے کے لیے نمکین پانی ہی دستیاب ہے۔
یونیسیف نے کہا کہ غزہ کی پٹی پر پانی کی کمی غیر معمولی حد تک پہنچ گئی ہے۔
تنظیم کا کہنا ہے کہ غمہ کا رہائشی ان کا ایک سٹاف ممبر بھی اپنے بچوں کو زندہ رکھنے کے لیے جدوجہد کرنے والوں میں شامل ہے جس نے بتایا ہے کہ وہ خود اور اس کے بچے نمکین پانی پینے پر مجبور ہیں،
یونیسیف کے مطابق’ سٹاف ممبر کا بچہ مسلسل پوچھ رہا ہے کہ وہ پ پہلے کی طرح "نارمل" پانی کیوں نہیں پیتے!
یونیسیف کے ترجمان ٹوبی فریکر نے کہا کہ ’امداد غمہ کی پٹی میں داخل تو ہو رہی ہے، لیکن یہ سب سے نچلی سطح پر ہے، اور جب ہم زمینی صورتحال کو دیکھتے ہیں، تو ہمیں بخوبی معلوم ہوتا ہے کہ ہمیں اس سے کہیں زیادہ امداد کی ضرورت ہے۔‘
انھوں نے مزید کہا، ’ہمیں فوری جنگ بندی کی ضرورت ہے۔ ہر روز بچے مر رہے ہیں۔ ہمیں قتل کو روکنا چاہیے اور بچوں کے زندگی کے حق کا تحفظ کرنا چاہیے۔‘
اسرائیل کا چوبیس گھنٹوں کے دوران حماس کے 600 اہداف کو نشانہ بنانے کا دعویٰ
اسرائیل کا کہنا ہے کہ اس نے اتوار کے روز حماس کے 600 اہداف کو نشانہ بنایا ہے۔
اپنے ایک بیان میں اسرائیلی دفاعی افواج نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے اتوار کو حماس کے 600 اہداف کو نشانہ بنایا ہے جبکہ اس سے ایک روز قبل حماس کے 450 اہداف کو نشانہ بنایا گیا تھا۔
حزب اللہ کا اسرائیلی ڈرون مار گرانے کا دعوی
،تصویر کا ذریعہGetty Images
،تصویر کا کیپشنعسکریت پسند گروہ حزب اللہ کے جنگجو اس ماہ کے آغاز میں اسرائیل کے ہاتھوں ہلاک ہونے والے ایک ساتھی کے جنازے میں موجود ہیں
ایران کے حمایت یافتہ جنوبی لبنان میں موجود عسکریت پسند گروہ حزب اللہ نے ایک اسرائیلی ڈرون کو مار گرا نے کا دعویٰ کیا ہے۔
غزہ اور اسرائیل کے درمیان جنگ کے دوران پہلی بار حزب اللہ نے ایسا دعویٰ کیا ہے۔
حزب اللہ کے مطابق اتوار کو اسرائیل کی سرحد سے تقریباً پانچ کلومیٹر دور خیام کے اوپر یہ ڈرون گرایا گیا اور اسے اسرائیلی علاقے میں گرتے ہوئے دیکھا گیا ہے۔
تنظیم کے مطابق سات اکتوبر کو حماس کے حملے کے بعد سے اسرائیل کے ساتھ لڑائی میں اس کے 46 جنگجو مارے جا چکے ہیں اور 43 زخمی ہو چکے ہیں۔
حزب اللہ نے اسرائیلی فوجیوں کے ساتھ جھڑپوں میں سرحد کے ساتھ 42 مختلف مقامات پر مجموعی طور پر 84 حملے کیرنے کا دعویٰ بھی کیا ہے۔
دوسری جانب اسرائیل کا کہنا ہے کہ اب تک اس کے کم از کم سات فوجی ہلاک ہو چکے ہیں۔
اتوار کے روز 30 سے زیادہ امدادی ٹرک غزہ میں داخل ہوئے : اقوام متحدہ
،تصویر کا ذریعہGetty Images
اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ اتوار کے روز 30 سے زیادہ امدادی ٹرک غزہ میں داخل ہوئے ہیں جو اس علاقے میں اجازت ملنے کے بعد سے انسانی امداد کی سب سے بڑی کھیپ ہے۔
اقوام متحدہ کے دفتر برائے رابطہ برائے انسانی امور (OCHA) نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ پانی، خوراک اور طبی سامان لے جانے والے 33 ٹرک مصر کے ساتھ رفح بارڈر کراسنگ سے گزرے ہیں۔
واضح رہے کہ 21 اکتوبر کو امداد کی بحالی کے بعد سے کل 117 ٹرک رفح کے راستے غزہ میں داخل ہو چکے ہیں۔ تاہم او سی ایچ اے نے خبردار کیا ہے کہ بدامنی سمیت انسانی صورتحال کو مزید بگڑنے سے روکنے کے لیے مستقل بنیادوں پر بہت زیادہ امداد کی ضرورت ہے
بیان میں مزید کہا گیا کہ طبی آلات اور صفائی ستھرائی سے متعلق سہولیات کو چلانے کے لیے ایندھن اور پانی کی فوری اور شدید ضرورت تھی۔
سات اکتوبر کو اسرائیل پر حماس کے حملے کے جواب میں، اسرائیل نے غزہ کا مکمل محاصرہ قائم کر دیا تھا جبکہ اسرائیلی وزیر دفاع نے اعلان کیا تھا کہ ’وہاں نہ بجلی ہو گی، نہ خوراک، نہ ایندھن۔‘
اس سے قبل روزانہ تقریباً 500 ٹرک امداد اور دیگر سامان لے کر اس علاقے میں داخل ہوتے تھے۔
جنگی جرائم کا تعین کیسے کیا جاتا ہے اور عدالت کن بنیادوں پر سزا دیتی ہے؟, منزہ انوار,بی بی سی اردو، اسلام آباد
،تصویر کا ذریعہGetty Images
حماس کے اسرائیل پر حملے اور اسرائیلی فوج کی غزہ میں جوابی کارروائیوں کے بعد پیدا ہونے والی جنگی صورتحال وقت کے ساتھ گھمبیر تر ہوتی جا رہی ہے اور اسی دوران حماس کی جانب سے اسرائیلی حکام پر مسلسل جنگی جرائم کے الزام عائد کیے جا رہے ہیں۔
کسی بھی مسلح جنگ کے دوران عام شہریوں کے تحفظ کے لیے بنائے گئے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی جنگی جرم کہلاتی ہے۔
اس بات سے قطع نظر کے ان قوانین پر عمل کس حد تک ہو رہا ہے، یہ جاننا ضروری ہے کہ جنگی جرائم کیا ہوتے ہیں، اس حوالے سے عالمی قوانین کیا ہیں، یہ کس صورت میں لاگو ہوتے ہیں اور مجرم کو سزا دلوانے کا عمل کیا ہے؟
عالمی ادارہ صحت اور دیگر امدادی اداروں کی جانب سے القدس ہسپتال کو خالی کروانے کے اسرائیلی اعلان پر تشویش کا اظہار
،تصویر کا ذریعہGetty Images
شمالی غزہ کے القدس ہسپتال میں کام کرنے والے ڈاکٹروں اور فلسطینی ہلال احمر نے کہا ہے کہ اسرائیلی فوج نے انھیں فوری طور پر وہاں سے نکل جانے کے لیے کہا ہے۔
عالمی ادارہ صحت کے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروس ایڈہانوم گیبریسس کا کہنا ہے کہ ’یہ خبریں انتہائی تشویش ناک ہیں۔‘
انھوں نے ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا کہ ’اس موقع پر ہسپتال خالی کروانا مریضوں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈالنے کے مترادف ہے۔‘
سوشل میڈیا پیغام میں کہا گیا ہے کہ ’انسانی حقوق کے عالمی قوانین کے تحت صحت عامہ کے اداروں کا ہمیشہ تحفظ کیا جانا چاہیے۔‘
دوسری جانب خیال کیا جاتا ہے کہ اس ہسپتال میں 14 ہزار سے زائد شہریوں کے ساتھ ساتھ سیکڑوں مریضوں کو پناہ فراہم کی جا رہی ہے۔
انٹرنیشنل فیڈریشن آف ریڈ کراس اور ریڈ کریسنٹ سوسائٹیز کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ’ہسپتال مدد اور پناہ گاہیں دونوں فراہم کر رہے ہیں۔ ان کا ہر قیمت پر تحفظ کیا جانا چاہیے۔ غزہ شہر میں پی آر سی ایس کا القدس ہسپتال سیکڑوں زخمیوں اور بستروں پر پڑے طویل مدتی مریضوں کی دیکھ بھال کر رہا ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’موجودہ صورتحال میں انتہائی نگہداشت کے مریضوں، لائف سپورٹ پر اور بچوں کو انکیوبیٹرز میں موجود مریضوں کو نکالنا ناممکن ہے۔‘
بی بی سی کو غزہ میں موجود اپنے نامہ نگاروں سے موصول ہونے والی اطلاعات سے پتہ چلا ہے کہ ہسپتال کے بہت قریب گولہ باری بھی کی گئی ہے، جس سے لوگوں کو مزید خطرات لاحق ہیں۔ القدس ہسپتال بین الاقوامی ریڈ کراس اور ہلال احمر تحریک کے زیر انتظام پی آر سی ایس کے ذریعہ چلایا جاتا ہے۔
،تصویر کا ذریعہGetty Images
غزہ شہر میں القدس ہسپتال کے ڈائریکٹر بسام موراد نے خبر رساں ادارے روئٹرز سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’انھیں عمارت خالی کرنے کے لیے متعدد وارننگز موصول ہوئی ہیں۔‘
اُن کا کہنا تھا کہ ’پہلے فلسطینی ہلال احمر کی طرف سے ایک فون کال کے ذریعے یہ پیغام ملا جس میں اسرائیلی فوج نے تمام مریضوں اور کارکنوں کے ساتھ ساتھ ہسپتال میں رہنے والے افراد کو غزہ کے جنوب میں منتقل کرنے کا مطالبہ کیا۔‘
انھوں نے کہا کہ ’موصول ہونے والے پیغام میں کہا گیا ہے کہ یہ علاقہ ایک فوجی زون بننے جا رہا ہے، جھڑپیں ہوں گی اور یہ علاقہ خطرناک ہوگا اور ہمیں فوری طور پر خالی کرنا ہوگا۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’ہسپتال میں رہنے والے بے گھر افراد کی تعداد 12،000 سے 14،000 کے درمیان ہے۔‘
’ہسپتال کے دیگر شعبوں اور انتہائی نگہداشت کے یونٹ میں زیر علاج لوگوں کے علاوہ یہ اعداد و شمار ہر روز بدلتے رہتے ہیں۔‘
’اسرائیل یا غزہ میں فوج بھیجنے کا کوئی ارادہ نہیں: کملا ہیرس
،تصویر کا ذریعہEPA/EFE
امریکی نائب صدر کملا ہیرس نے کہا ہے کہ امریکہ کا اسرائیل یا غزہ میں لڑاکا افواج بھیجنے کا کوئی ارادہ یا منصوبہ نہیں ہے۔
انھوں نے امریکی نشریاتی ادارے سی بی ایس کے پروگرام ’ 60 منٹس‘ میں دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ امریکہ اسرائیل کو مشاورت کے ساتھ ساز و سامان اورسفارتی مدد فراہم کرتا ہے۔
انھوں نے مزید کہا کہ فلسطین کے شہری جنگ کے اصولوں اور انسانی امداد کے مساوی اقدامات کے مستحق ہیں۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ امریکہ تنازع کو بڑھنے سے روکنا چاہتا ہے اور ایران کو مداخلت کرنے سے خبردار بھی کیا ہے۔
عالمی ادارہ صحت اور دیگر امدادی اداروں کی جانب سے القدس ہسپتال کو خالی کروانے کے اسرائیلی اعلان پر تشویش کا اظہار
،تصویر کا ذریعہGetty Images
شمالی غزہ کے القدس ہسپتال میں کام کرنے والے ڈاکٹروں اور فلسطینی ہلال احمر نے کہا ہے کہ اسرائیلی فوج نے انھیں فوری طور پر وہاں سے نکل جانے کے لیے کہا ہے۔
عالمی ادارہ صحت کے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروس ایڈہانوم گیبریسس کا کہنا ہے کہ ’یہ خبریں انتہائی تشویش ناک ہیں۔‘
انھوں نے ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا کہ ’مریضوں سے بھرے ہسپتالوں کو ان کی زندگیوں کو خطرے میں ڈالے بغیر خالی کرنا ناممکن ہے۔‘
سوشل میڈیا پیغام میں کہا گیا ہے کہ ’انسانی حقوق کے عالمی قوانین کے تحت صحت عامہ کے اداروں کا ہمیشہ تحفظ کیا جانا چاہیے۔‘
دوسری جانب خیال کیا جاتا ہے کہ اس ہسپتال میں 14 ہزار سے زائد شہریوں کے ساتھ ساتھ سیکڑوں مریضوں کو پناہ فراہم کی جا رہی ہے۔
انٹرنیشنل فیڈریشن آف ریڈ کراس اور ریڈ کریسنٹ سوسائٹیز کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ’ہسپتال مدد اور پناہ گاہیں دونوں فراہم کر رہے ہیں۔ ان کا ہر قیمت پر تحفظ کیا جانا چاہیے۔ غزہ شہر میں پی آر سی ایس کا القدس ہسپتال سیکڑوں زخمیوں اور بستروں پر پڑے طویل مدتی مریضوں کی دیکھ بھال کر رہا ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’موجودہ صورتحال میں انتہائی نگہداشت کے مریضوں، لائف سپورٹ پر اور بچوں کو انکیوبیٹرز میں موجود مریضوں کو نکالنا ناممکن ہے۔‘
بی بی سی کو غزہ میں موجود اپنے نامہ نگاروں سے موصول ہونے والی اطلاعات سے پتہ چلا ہے کہ ہسپتال کے بہت قریب گولہ باری بھی کی گئی ہے، جس سے لوگوں کو مزید خطرات لاحق ہیں۔ القدس ہسپتال بین الاقوامی ریڈ کراس اور ہلال احمر تحریک کے زیر انتظام پی آر سی ایس کے ذریعہ چلایا جاتا ہے۔
،تصویر کا ذریعہGetty Images
غزہ شہر میں القدس ہسپتال کے ڈائریکٹر بسام موراد نے خبر رساں ادارے روئٹرز سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’انھیں عمارت خالی کرنے کے لیے متعدد وارننگز موصول ہوئی ہیں۔‘
اُن کا کہنا تھا کہ ’پہلے فلسطینی ہلال احمر کی طرف سے ایک فون کال کے ذریعے یہ پیغام ملا جس میں اسرائیلی فوج نے تمام مریضوں اور کارکنوں کے ساتھ ساتھ ہسپتال میں رہنے والے افراد کو غزہ کے جنوب میں منتقل کرنے کا مطالبہ کیا۔‘
انھوں نے کہا کہ ’موصول ہونے والے پیغام میں کہا گیا ہے کہ یہ علاقہ ایک فوجی زون بننے جا رہا ہے، جھڑپیں ہوں گی اور یہ علاقہ خطرناک ہوگا اور ہمیں فوری طور پر خالی کرنا ہوگا۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’ہسپتال میں رہنے والے بے گھر افراد کی تعداد 12،000 سے 14،000 کے درمیان ہے۔‘
’ہسپتال کے دیگر شعبوں اور انتہائی نگہداشت کے یونٹ میں زیر علاج لوگوں کے علاوہ یہ اعداد و شمار ہر روز بدلتے رہتے ہیں
بریکنگ, غزہ کے القدس ہسپتال کے اطراف میں اسرائیلی بمباری کی اطلاعات
غزہ کے القدس ہسپتال کے اطراف میں اسرائیلی بمباری کی اطلاعات ہیں اور اس سے ہسپتال میں موجود ڈاکٹروں اور مریضوں اور ان کے لواحقین میں خوف ہراس پھیل گیا ہے۔
ویڈیو جسے مبینہ طور پر ہسپتال کے اندر سے فلمایا گیا ہے اور جس میں ہسپتال کے اطراف میں اسرائیلی حملے کے بعد ہسپتال میں اٹھتی ہوئی گردو غبار اور ٹوٹی ہوئی کھڑکیوں کو دیکھا جا سکتا ہے۔
واضح رہے کہ اسرائیل نے غزہ کے القدس ہسپتال کو فوری خالی کرنے کی دھمکی دی ہے جبکہ القدس میں موجود ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ انتہائی نگہداشت کے وارڈ میں داخل مریضوں اور نوزئیدہ بچوں کے باعث ہسپتال کو خالی کرنا ناممکن ہے۔
كيبوتز میں حماس کے حملے میں ہلاک ہونے والے جوڑے کی آخری رسومات کے مناظر
،تصویر کا ذریعہGetty Images
اسرائیل
کے سرحدی علاقے كيبوتزمیں سات اکتوبر کو حماس کے حملے میں ہلاک ہونے والے
جوڑے کی آخری رسومات ادا کر دی گئیں جس میں سوگواروں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔
63 سالہ
لیلی اتماری اور 56 سالہ ریم اتماری اسرائیل کے سرحدی
علاقے كيبوتزکے رہائشی تھے ۔ یہ
جوڑا اس وقت مارا گیا جب حماس نے 7 اکتوبر کو غزہ کی سرحد کے قریب اس علاقے پر
حملہ کیا۔
،تصویر کا ذریعہGetty Images
،تصویر کا ذریعہGetty Images
اس جوڑے کی آخری رسومات نے دوستوں اور رشتہ داروں کے ساتھ كيبوتزکے ان لوگوں نے
بھی شرکت کی جو حماس کے حملے میں بچ گئے تھے۔
،تصویر کا ذریعہGetty Images
اس دوران مسلح محافظ چوکس رہ کر سوگواروں پر نظر رکھے ہوئے تھے۔