اسرائیل کی غزہ کے پناہ گزین کیمپ ’جبالیہ‘ پر فضائی حملے کی تصدیق، دھماکے میں درجنوں فلسطینی ہلاک

اسرائیلی فوج کے ترجمان ڈینیئل ہگاری نے غزہ پناہ گزین کیمپ پر حملے کی تصدیق کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ اس حملے میں حماس کا ایک سینئر کمانڈر ہلاک ہو گیا ہے دوسری جانب فلسطینی وزارت صحت کا کہنا ہے کہ پناہ گزین کیمپ پر حملے میں کم از کم 50 افراد ہلاک ہوئے ہیں

لائیو کوریج

  1. یہ صفحہ اب مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے

    غزہ اور اسرائیل کے درمیان جاری تنازع پر تازہ ترین جاننے کے لیے بی بی سی اردو کے لائیو پیج کوریج کے لیے اس لنک پر کلک کریں۔

  2. بریکنگ, اسرائیل کی غزہ کے پناہ گزینوں کے کیمپ جبالیہ پر فضائی حملے کی تصدیق

    اسرائیل نے شمالی غزہ میں پناہ گزینوں کے سب سے بڑے کیمپ جبالیہ پر حملے کی تصدیق کر دی ہے۔

    اسرائیلی فوج کے ترجمان ڈینیئل ہگاری نے تصدیق کی ہے کہ اسرائیلی لڑاکا طیاروں نے غزہ میں جبالیہ پناہ گزین کیمپ پر حملہ کیا ہے۔

    ڈینیئل ہگاری نے دعویٰ کیا ہے کہ اس حملے میں حماس کا ایک سینئر کمانڈر ہلاک ہوا ہے جبکہ حماس کا زیر زمین انفراسٹرکچر بھی تباہ ہوا ہے۔

  3. غزہ کے جبالیہ کیمپ میں دھماکہ: ’ایسا محسوس ہوا جیسے ’زلزلے‘ نے علاقے کو ہلا کر رکھ دیا ہو‘

    جبالیہ کیمپ

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    غزہ کے شمال میں واقع پناہ گزین کیمپ جبالیہ میں ملبہ تلے سے لاشیں اور زخمی افراد کو نکالنے کا کام جاری ہے۔

    فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کا کہنا ہے کہ اب تک ملبے سے درجنوں لاشیں نکال لی گئی ہیں۔

    اے ایف پی جبالیہ میں پناہ گزینوں سے بھرے کیمپ میں ہونے والے دھماکے کے بعد جائے وقوع پر موجود ہے۔

    وہاں کے ایک رہائشی، راغب عقال نے کہا کہ ’ایسا محسوس ہوا جیسے ’زلزلے‘ نے علاقے کو ہلا کر رکھ دیا ہو۔‘

  4. جولائی کے ڈیٹا کے مطابق جبالیہ کیمپ میں ایک لاکھ 60 ہزار پناہ گزین رجسٹرڈ تھے

    جبالیہ کیمپ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنجبالیہ کیمپ کا دسمبر 2022 میں لیا گیا ایک فوٹو

    غزہ شہر کے شمال میں واقع جبالیہ کیمپ غزہ کے آٹھ پناہ گزین کیمپوں میں سب سے بڑا کیمپ ہے۔ جولائی اقوام متحدہ نے جولائی 2023 میں یہاں کا جو ڈیٹا اکھٹا کیا اس کے مطابق یہاں ایک لاکھ 16 ہزار فلسطینی پناہ گزین رجسٹر تھے۔

    1948 کی جنگ کے بعد جبالیہ کیمپ میں آباد کاری شروع ہوئی تھی۔

    یہ ایک چھوٹا لیکن گنجان آباد علاقہ ہے، جو صرف 1.4 مربع کلومیٹر پر محیط ہے، اور زیادہ تر رہائشی عمارتوں پر مشتمل ہے۔

    جبالیہ میں 16 اسکولوں کی عمارتوں میں 26 اسکول قائم ہیں اور یہاں پناہ گزینوں کے ملیے ایک خوراک کی تقسیم کا مرکز، دو صحت مراکز، ایک لائبریری اور سات پانی کے کنویں ہیں۔

  5. بریکنگ, جبالیہ کیمپ کے ملبے سے لاشیں اور زحمیوں کو نکالنے کا کام جاری

    جبالیہ کیمپ میں دھماکہ

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    غزہ کے شمال میں واقع جبالیہ پناہ گزین کیمپ میں فضائی حملوں کے نتیجے میں فلسطینی وزارت صحت کے مطابق 50 ہلاکتیں ہو گئی ہیں۔

    خبر رساں ادارے روئٹرز کے ایک فوٹوگرافر کی جانب سے جائے وقوعہ کی تصاویر شیئر کی گئی ہیں جس میں جبالیہ پناہ گزین کیمپ کے ایک اہم علاقے کو تباہ حال دیکھا جا سکتا ہے۔

    جبالیہ کیمپ میں دھماکہ

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    تصاویر کے مطابق درجنوں افراد ملبے میں زندہ بچ جانے والوں کی تلاش کر رہے ہیں۔ اسرائیل کی جانب سے اب تک اس حملے کا رد عمل سامنے نہیں آیا

  6. بریکنگ, غزہ کے پناہ گزین کیمپ ’جبالیہ‘ میں دھماکہ، متعدد ہلاکتوں کا خدشہ

    غزہ میں حملہ

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    شمالی غزہ کے جبالیہ پناہ گزین کیمپ میں اسرائیلی حملوں اور اس کے نتیجے میں متعدد ہلاکتوں کی اطلاعات ہیں۔

    فلسطینی وزارت صحت اور انڈونیشین ہسپتال کے ڈائریکٹر کا کہنا ہے کہ پناہ گزین کیمپ پر حملے میں کم از کم 50 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

    فلسطینی وزارت صحت کے مطابق دھماکے اسرائیل کی فوج کے فضائی حملوں کے باعث ہوئے ہیں۔ اسرائیل کی جانب سے تا حال اس دھماکے پر کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا ہے۔

    غزہ حملہ

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    دھماکے کی ابتدائی تصاویر خبر رساں ادارے روئٹرز نے جاری کر دی ہیں۔ واضح رہے کہ بی بی سی اس واقعے کی تفصیلات کی تصدیق کے لیے کام کر رہا ہے۔

  7. غزہ میں اسرائیلی بمباری کے دوران بچی کی پیدائش: ’بیٹی کے رونے کا مطلب تھا کہ ہم سب ابھی زندہ ہیں‘

  8. بریکنگ, غزہ میں کی جانے والی زمینی کارروائی میں ’درجنوں عسکریت پسند‘ مارے گئے: اسرائیل

    اسرائیل غزہ جنگ

    ،تصویر کا ذریعہIDF

    اسرائیلی فوج نے شمالی غزہ کی پٹی میں حماس کی چوکی کو نشانہ بنانے اور اس کارروائی میں درجنوں ’عسکریت پسند‘ مارنے کا دعویٰ کیا ہے۔

    اسرائیلی ڈیفینس فورس نے سوشل میڈیا پر غزہ میں زمینی کارروائی کی ویڈیو بھی پوسٹ کی ہے اور کہا ہے کہ اس کے فوجیوں نے حماس کے ٹینک شکن میزائل سیل کو تباہ کر دیا اور متعدد ہتھیار بھی ضبط کر لیے۔

    اسرائیلی فوج نے اپنے پیغام میں کہجا کہ غزہ کی پٹی کے اندر شدید لڑائی ہوئی ہے۔ واضح رہے کہ بی بی سی میدان جنگ کے بیشتر دعووں کی فوری طور پر تصدیق نہیں کر سکتا

  9. بریکنگ, غزہ میں مزید 200 سے ذیادہ افراد ہلاک : وزارت صحت

    غزہ ہلاکتیں

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    غزہ کی وزارت صحت کا کہنا ہے کہ اسرائیلی حملوں میں غزہ میں مزید 200 افراد ہلاک ہو گئے ہیں جس کے بعد سات اکتوبر سے اب تک مجموعی طور پر کم از کم آٹھ ہزار 525 فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں۔

    وزارت صحت کے ڈیٹا کے مطابق ہلاک ہونے والے فلسطینیوں میں 3,542 بچے اور 2,187 خواتین ہیں جبکہ اس جنگ میں صحت کے شعبے سے وابستہ 130 ورکرز بھی جان کی بازی ہار بیٹھے۔

  10. جنوبی اسرائیل پر ڈرون حملے کی ذمہ داری یمنی حوثی باغیوں نے قبول کر لی

    gaza

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    خبر رساں ادارے اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے یمن کے حوثی باغیوں نے آج اسرائیل پر ڈرون حملوں کی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔

    جنوبی اسرائیل میں بحیرہ احمر پر ایلات بندرگاہ پر آج ایک نامعلوم ’فضا میں موجود ہدف‘ کے باعث سائرن بجنے کی اطلاع دی گئی تھی۔ اس دوران کسی قسم کے جانی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔

    غزہ میں وزارتِ صحت کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق سات اکتوبر کے بعد سے کم سے کم 8525 افراد ہلاک ہو چکے ہیں جن میں 3542 بچے اور 2187 خواتین شامل ہیں جبکہ 130 طبی کارکنان بھی ہلاک ہو چکے ہیں۔

  11. بریکنگ, حماس کا اسرائیلی فوج کی تین گاڑیوں کو ٹینک شکن میزائلوں سے نشانہ بنانے کا دعویٰ

    Israel Defense Forces

    ،تصویر کا ذریعہIsrael Defense Forces

    حماس کا کہنا ہے کہ اس نے اسرائیلی فوج کی تین گاڑیوں پر ٹینک شکن میزائلوں سے حملہ کیا۔

    جیسا کہ ہم آپ کو غزہ میں اسرائیلی فوج کے زمینی آپریشن کے حوالے سے رپورٹ کر رہے ہیں۔ حماس کا کہنا ہے کہ اس نے اسرائیلی فوج پر ٹینک شکن میزائلوں اور مشین گن سے حملہ کیا ہے۔

    ایک ٹیلیگرام اکاؤنٹ جو حماس کے مسلح ونگ القسام بریگیڈز کے ذریعے چلایا جاتا ہے کا کہنا ہے کہ اس نے شمالی غزہ میں تین اسرائیلی گاڑیوں پر حملہ کیا۔

    پوسٹ میں کہا گیا ہے کہ گاڑیوں پر ٹینک شکن میزائل سے حملہ کیا گیا جب وہ التوام کے علاقے میں غزہ میں داخل ہونے کی کوشش کر رہے تھے۔

    اس سے قبل کی ایک تازہ بیان میں حماس کا کہنا ہے کہ اس نے جنوبی غزہ میں کریم کراسنگ کے قریب اسرائیلی فوج کے زمینی دستوں پر مارٹر گولوں سے حملہ کیا۔

  12. بریکنگ, زمینی آپریشن میں اسرائیلی فوج اور حماس کے درمیان شدید جھڑپیں

    Israel

    ،تصویر کا ذریعہIDF

    اسرائیلی فوج کے ترجمان پیٹر لرنر نے بی بی سی بریک فاسٹ پر بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ غزہ میں اسرائیلی افواج اور حماس کے درمیان گذشتہ رات سے ’بڑے پیمانے پر جھڑپیں‘ ہوئی ہیں۔

    لرنر کا کہنا ہے کہ ’اسرائیلی فوج حماس کو قدم بہ قدم ہر حملے میں تباہ کر رہی ہے۔‘

    ان کا کہنا ہے کہ اس آپریشن کا مقصد حماس کے بنیادی ڈھانچے کو تباہ کرنا ہے۔

    لرنر نے حماس پر مساجد اور شہری عمارتوں سے چھپ کر کارروائیاں کرنے کا الزام بھی لگایا۔

  13. اسرائیل اور حماس کے تنازع میں تازہ ترین صورت حال کیا ہے؟

    اقوام متحدہ کی جانب سے جنگ بندی کے مطالبات کے باوجود اسرائیل نے غزہ کی پٹی پر بمباری جاری رکھی ہوئی ہے اور وزیر اعظم نتن یاہو نے فوری جنگ بندی کے امکان کو مسترد کر دیا ہے۔

    اسرائیلی وزیر اعظم نے اعلان کیا ہے کہ حماس کے خاتمے کا منصوبہ جاری رہے گا جبکہ اقوام متحدہ نے غزہ میں صورت حال مخدوش ہونے کے خدشے کا اظہار کیا ہے۔

    اس سے قبل فلسطینی ہلال احمر سوسائٹی نے بتایا کہ القدس ہسپتال کا قریبی علاقہ اسرائیلی بمباری کا نشانہ بن رہا ہے۔

    وزارت صحت کے مطابق غزہ کی پٹی میں 80306 افراد ہلاک ہو چکے ہیں جن میں 3457 بچے شامل ہیں۔

    اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ غزہ میں موجود افراد کے پاس پانی کی کمی ہے اور امریکہ نے اس توقع کا اظہار کیا ہے کہ آنے والے دنوں میں غزہ میں انسانی امداد پہنچنے کی رفتار تیز ہو گی۔

    سوموار کے دن اسرائیلی فوج نے کہا کہ حماس کی جانب سے یرغمال بنائے جانے والے ایک فوجی کو رہا کروا لیا گیا۔

  14. غزہ کی پٹی کے تمام حصوں پر حملے جاری ہیں، اسرائیلی فوج

    اسرائیلی فوج کے ترجمان نے کہا ہے کہ غزہ کی پٹی کے تمام علاقوں پر حملے جاری ہیں تاہم غزہ کا شمالی حصہ حماس کا مرکز ہے۔

    منگل کے دن اسرائیلی فوج کے ترجمان نے بتایا کہ اسرائیل کی جانب سے حماس کے کمانڈرز کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

    واضح رہے کہ دو ہفتے قبل اسرائیل نے غزہ کی پٹی کے شہریوں کو جنوب کی جانب منتقل ہونے کو کہا تھا جس کے بعد سوموار کے دن اسرائیلی فوج نے شمالی غزہ میں پیش قدمی کی جہاں اب تک چھ لاکھ فلسطینی موجود ہیں۔

    اسرائیلی فوج کی پیش قدمی کے دوران ٹینکوں نے کچھ وقت کے لیے جنوبی غزہ تک جانے والے راستے کو بھی بند کر دیا۔

  15. اسرائیل کی توپوں میں کیڑے پڑیں! عاصمہ شیرازی کا کالم

  16. اسرائیل حماس تنازع میں 31 صحافی ہلاک ہو چکے ہیں، سی پی جے

    کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹ نامی تنظیم کے مطابق اسرائیل اور حماس کے درمیان تنازع کے دوران اب تک 31 صحافی ہلاک ہو چکے ہیں جن میں 26 فلسطینی اور چار اسرائیلی صحافی ہیں۔

    ان کے علاوہ ایک لبنانی صحافی بھی ہلاک ہوا ہے جبکہ آٹھ صحافی زخمی ہوئے ہیں۔ کمیٹی کے مطابق نو صحافی لاپتہ یا حراست میں ہیں۔

    سوموار کو جاری ہونے والے ایک بیان میں کمیٹی نے کہا کہ غزہ میں صحافیوں کو اسرائیلی بمباری اور زمینی حملے کے پیش نظر شدید خطرات کا سامنا ہے۔

    ہلاک ہونے والے صحافیوں میں رشدی سراج نامی فلسطینی فلم ساز اور عالمی خبر رساں ادارے روئٹرز کے ویڈیو گرافر اعصام عبداللہ بھی شامل ہیں۔

    کمیٹی کے مطابق اعصام لبنان کی سرحد کے قریب اسرائیل کی جانب سے ہونے والی بمباری کے نتیجے میں ہلاک ہوئے۔

    اسرائیلی فوج نے کہا ہے کہ وہ اس معاملے پر تفتیش کر رہی ہے۔ اسرائیلی فوج نے روئٹرز اور اے ایف پی کو بتایا ہے کہ وہ غزہ میں ان خبر رساں اداروں سے منسلک صحافیوں کی حفاظت کی ضمانت نہیں دے سکتی۔

  17. غزہ میں رات بھر اسرائیلی حملے جاری رہے

    GAZA

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    غزہ میں اس وقت صبح کے ابتدائی اوقات ہیں۔ مگر رات بھر یہاں اسرائیلی حملے جاری رہے ہیں۔

    غزہ کی صورتحال سے متعلق ویڈیوز میں دھماکوں، طیاروں اور جنگی ڈرونز کی آوازیں سنی جا سکتی ہیں۔

    ہم لڑائی کے بارے میں جو جانتے ہیں وہ یہ ہے کہ اسرائیل نے حالیہ دنوں میں سینکڑوں فضائی حملے کیے ہیں اور اس کے ٹینک غزہ کے اندر دیکھے گئے ہیں۔

    دریں اثنا، لاکھوں فلسطینی شہری غزہ میں ایک اور بے چین رات گزار رہے ہیں، ان میں سے بہت سے اسرائیلی دھمکیوں کے بعد غزہکے شمالی حصے سے نکلنے کے بعد پناہ گزین کیمپوں میں پناہ لیے ہوئے ہیں۔

  18. بریکنگ, اسرائیلی فوج کا لبنان میں حزب اللہ کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ

    اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے لبنان میں ’حزب اللہ کے بنیادی ڈھانچے‘ کو نشانہ بنایا ہے

    اسرائیل ڈیفنس فورسز (آئی ڈی ایف) نے ایک فوٹیج جاری کی ہے جس میں دکھایا گیا ہے کہ اس نے لبنان میں حزب اللہ کے ٹھکانوں کو نشانہ بناتے ہوئے اس کے بنیادی ڈھانچے پر ایک فضائی حملہ کیا ہے۔

    اسرائیلی فوج نے منگل کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا کہ ’اسرائیلی فضائیہ کے لڑاکا طیاروں نے لبنان میں حزب اللہ کے دہشت گردوں کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا جس میں ہتھیار، چوکیاں اور ٹھکانے شامل ہیں۔‘

    حزب اللہ، ایران کی حمایت یافتہ ایک طاقتور لبنانی ملیشیا اور حماس کی اتحادی ہے اور وہ سات اکتوبر سے اسرائیلی فوج کے ساتھ سرحد پار سے فائرنگ کا تبادلہ کر رہی ہے۔

  19. بریکنگ, نتن یاہو نے جنگ بندی کے امکان کو مسترد کر دیا: ’یہ جنگ کا وقت ہے‘

    اسرائیلی وزیر اعظم بنیامن نتن یاہو نے کہا ہے کہ وہ جنگ بندی کے معاملے پر اسرائیل کا واضح موقف پیش کرنا چاہتے ہیں۔ ’پرل ہاربر کے دھماکوں یا نائن الیون کے دہشتگرد حملوں کے بعد امریکہ کبھی جنگ بندی پر راضی نہ ہوتا۔ اسی طرح اسرائیل سات اکتوبر کے خوفناک حملوں کے بعد حماس کے ساتھ دشمنی ختم کرنے پر اتفاق نہیں کرے گا۔‘

    تل ابیب میں میڈیا بریفنگ کے دوران انھوں نے کہا کہ ’سیز فائر کا مطلب یہ ہے کہ اسرائیل حماس کے سامنے ہتھیار ڈال دے، دہشتگردی کے آگے ہتھیار ڈال دے۔‘

    ’بائبل میں ہے کہ ایک وقت امن کا اور ایک وقت جنگ کا ہوتا ہے۔ یہ جنگ کا وقت ہے۔ یہ جنگ ہمارے مشترکہ مستقبل کے لیے ہے۔ آج ہمیں تہذیب اور بربریت کی قوتوں کے بیچ لکیر بنانی ہے۔‘

    نتن یاہو نے کہا کہ اسرائیل نے یہ جنگ شروع نہیں کی اور حماس اس برائی کے ٹولے کا حصہ ہے جسے ایران تشکیل دے رہا ہے۔

  20. یرغمال بنائی گئی فوجی اہلکار کو غزہ سے رہا کرا لیا گیا: اسرائیلی فوج اور انٹیلیجنس کا مشترکہ بیان

    اسرائیلی فوجی

    ،تصویر کا ذریعہISA

    اسرائیلی فوج (آئی ڈی ایف) اور سکیورٹی ایجنسی (آئی ایس اے) نے مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ حماس کی تحویل میں ایک خاتون اسرائیلی فوج کو رہا کرا لیا گیا ہے۔

    انھوں نے کہا کہ پرائیویٹ اوری کو گذشتہ شب فوج کے زمینی آپریشن کے دوران رہا کرایا گیا۔ انھیں سات اکتوبر کو حماس کے حملے کے بعد غزہ میں قید کیا گیا تھا۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ ’فوجی اہلکار کا طبی معائنہ کیا گیا اور وہ اب ٹھیک ہیں۔ انھوں نے اپنے خاندان سے ملاقات کی ہے۔ آئی ڈی ایف اور آئی ایس اے مزید یرغمالیوں کی رہائی کے لیے ہر ممکن کوشش جاری رکھیں گے۔‘

    اسرائیلی وزیر اعظم بنیامن نتن یاہو نے اس رہائی پر فوج اور انٹیلیجنس سروس کو سراہا ہے۔ انھوں نے حماس کو پیغام دیا ہے کہ اس کے اہداف پر حملے جاری رہیں گے۔

    اسرائیلی وزیر دفاع نے کہا ہے کہ وہ یہ نہیں بتائیں گے کہ فوجی اہلکار کو کن حالات میں رکھا گیا تھا اور اس معلومات کو راز رکھا جائے گا کیونکہ حماس کی تحویل میں دیگر قیدی بھی ہیں۔