غزہ کے القدس ہسپتال کو خالی کرانے کے اسرائیلی حکم پر عالمی ادارۂ صحت سمیت دیگر امدادی تنظیموں کو تشویش

شمالی غزہ کے القدس ہسپتال کے ڈاکٹروں اور فلسطینی ہلال احمر کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فوج نے یہ علاقہ فوراً خالی کرنے کا حکم دیا ہے۔ عالمی ادارہ صحت کے سربراہ نے اسے ’انتہائی تشویشناک‘ قرار دیا ہے جبکہ انٹرنیشنل ریڈ کراس کا کہنا ہے کہ ’موجودہ صورتحال میں انتہائی نگہداشت کے مریضوں اور انکیوبیٹرز میں رکھے گئے بچوں کو نکالنا ناممکن ہے۔‘

لائیو کوریج

  1. یہ صفحہ اب مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا

    یہ صفحہ اب مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا۔ غزہ اور اسرائیل تنازعے کی تازہ صورتحال سے متعلق جاننے کے لیے کے لیے اس لنک پر کلک کریں

  2. اسرائیل کی غزہ کے پناہ گزین کیمپ ’جبالیہ‘ پر فضائی حملے کی تصدیق، دھماکے میں درجنوں فلسطینی ہلاک

  3. عالمی ادارہ صحت اور دیگر امدادی اداروں کی جانب سے القدس ہسپتال کو خالی کروانے کے اسرائیلی اعلان پر تشویش کا اظہار

    Gaza

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    شمالی غزہ کے القدس ہسپتال میں کام کرنے والے ڈاکٹروں اور فلسطینی ہلال احمر نے کہا ہے کہ اسرائیلی فوج نے انھیں فوری طور پر وہاں سے نکل جانے کے لیے کہا ہے۔

    عالمی ادارہ صحت کے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروس ایڈہانوم گیبریسس کا کہنا ہے کہ ’یہ خبریں انتہائی تشویش ناک ہیں۔‘

    انھوں نے ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا کہ ’مریضوں سے بھرے ہسپتالوں کو ان کی زندگیوں کو خطرے میں ڈالے بغیر خالی کرنا ناممکن ہے۔‘

    سوشل میڈیا پیغام میں کہا گیا ہے کہ ’انسانی حقوق کے عالمی قوانین کے تحت صحت عامہ کے اداروں کا ہمیشہ تحفظ کیا جانا چاہیے۔‘

    دوسری جانب خیال کیا جاتا ہے کہ اس ہسپتال میں 14 ہزار سے زائد شہریوں کے ساتھ ساتھ سیکڑوں مریضوں کو پناہ فراہم کی جا رہی ہے۔

    انٹرنیشنل فیڈریشن آف ریڈ کراس اور ریڈ کریسنٹ سوسائٹیز کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ’ہسپتال مدد اور پناہ گاہیں دونوں فراہم کر رہے ہیں۔ ان کا ہر قیمت پر تحفظ کیا جانا چاہیے۔ غزہ شہر میں پی آر سی ایس کا القدس ہسپتال سیکڑوں زخمیوں اور بستروں پر پڑے طویل مدتی مریضوں کی دیکھ بھال کر رہا ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’موجودہ صورتحال میں انتہائی نگہداشت کے مریضوں، لائف سپورٹ پر اور بچوں کو انکیوبیٹرز میں موجود مریضوں کو نکالنا ناممکن ہے۔‘

    بی بی سی کو غزہ میں موجود اپنے نامہ نگاروں سے موصول ہونے والی اطلاعات سے پتہ چلا ہے کہ ہسپتال کے بہت قریب گولہ باری بھی کی گئی ہے، جس سے لوگوں کو مزید خطرات لاحق ہیں۔ القدس ہسپتال بین الاقوامی ریڈ کراس اور ہلال احمر تحریک کے زیر انتظام پی آر سی ایس کے ذریعہ چلایا جاتا ہے۔

    غزہ

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    غزہ شہر میں القدس ہسپتال کے ڈائریکٹر بسام موراد نے خبر رساں ادارے روئٹرز سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’انھیں عمارت خالی کرنے کے لیے متعدد وارننگز موصول ہوئی ہیں۔‘

    اُن کا کہنا تھا کہ ’پہلے فلسطینی ہلال احمر کی طرف سے ایک فون کال کے ذریعے یہ پیغام ملا جس میں اسرائیلی فوج نے تمام مریضوں اور کارکنوں کے ساتھ ساتھ ہسپتال میں رہنے والے افراد کو غزہ کے جنوب میں منتقل کرنے کا مطالبہ کیا۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’موصول ہونے والے پیغام میں کہا گیا ہے کہ یہ علاقہ ایک فوجی زون بننے جا رہا ہے، جھڑپیں ہوں گی اور یہ علاقہ خطرناک ہوگا اور ہمیں فوری طور پر خالی کرنا ہوگا۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ ’ہسپتال میں رہنے والے بے گھر افراد کی تعداد 12،000 سے 14،000 کے درمیان ہے۔‘

    ’ہسپتال کے دیگر شعبوں اور انتہائی نگہداشت کے یونٹ میں زیر علاج لوگوں کے علاوہ یہ اعداد و شمار ہر روز بدلتے رہتے ہیں۔‘

    Gaza

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    القدس ہسپتال کہاں ہے؟

    اسرائیلی افواج غزہ کی پٹی کے شمالی نصف حصے پر بمباری جاری رکھے ہوئے ہے، اور القدس ہسپتال غزہ شہر میں ہے، جو انخلاء کے علاقے کے عین وسط میں ہے۔

    نیچے دیئے گئے نقشے القدس ہسپتال کہاں واقع ہے یہ دیکھا جا سکتا ہے۔

    GAZA
  4. غزہ: ’ہم اپنا گھر، اپنا ملک نہیں چھوڑیں گے‘

  5. ’کوئی بھی جگہ محفوظ نہیں ہے۔۔۔ اے خدا ہماری مدد کر‘

    کچھ دیر قبل بی بی سی کی غزہ سے ایک ایسی خاتون کی جانب سے وائس میسج ملا ہے جو وسطی غزہ میں اپنے گھر بار کو چھوڑ کر جنوب میں اہم شہر خان یونس منتقل ہوئیں۔

    انھوں نے اپنے وائس میسج میں کہا ’غزہ میں ہر جگہ صورت حال بہت خراب ہے، کوئی محفوظ جگہ نہیں ہے۔‘

    خاتون نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ غزہ میں بمباری مسلسل جاری ہے۔

    وہ کہتی ہیں کہ ’گھر کسی بھی وقت، کسی بھی وقت، رہائشیوں کے سروں پر گر سکتے ہیں۔ ہم بالکل بھی آرام نہیں کر پا رہے، ہم سو نہیں پا رہے۔‘

    اُن حاتون کے آڈیو میسج میں آخری الفاظ تھے ’اے خدا ہماری مدد کر۔‘

  6. ’اگر ہمیں ضرورت نہ ہوتی تو ہم ایسا نہ کرتے‘

    اقوام متحدہ کے گوداموں پر دھاوا بولنے اور وہاں سے گندم، آٹا اور دیگر اشیائے ضروریہ ساتھ لے جانے والے غزہ کے لوگوں نے صحافیوں سے بات کی۔

    عبدالرحمٰن الکلانی نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ ’ہمارے پاس آٹا نہیں ہے، کوئی امداد نہیں ہے، پانی نہیں ہے اور یہاں تک کہ بیت الخلا بھی نہیں ہیں۔‘

    وہ کہتے ہیں کہ ’ہمارے گھر تباہ ہو گئے۔ کسی کو ہماری پرواہ نہیں۔ ہم دنیا کے لوگوں سے اپیل کرتے ہیں۔ تمام بین الاقوامی طاقتیں ہمارے خلاف ہیں۔ ہمیں امداد کی ضرورت تھی، اور اگر ہمیں ضرورت نہ ہوتی تو ہم ایسا نہ کرتے۔‘

    غزہ

    ،تصویر کا ذریعہAFP

    غزہ کی پٹی کے وسط میں دیر البلاح ڈسٹری بیوشن ڈپو کے باہر بھی ام سمیر العطار نے علاقے کے لوگوں کو درپیش حالات کو بیان کیا۔

    وہ کہتی ہیں کہ ’ہمیں تازہ پانی کی ضرورت ہے، ہمیں خوراک کی ضرورت ہے، ہم بھوکے ہیں۔‘

    اُن کا مزید کہنا تھا کہ ’یہ مکمل طور پر غیر منصفانہ ہے۔ ہمارے بچے (بھوک اور پیاس سے) سو نہیں سکتے۔ ہمیں ان کے لیے پانی اور کھانا کا بندوبست کرنا ہے۔

    غزہ

    ،تصویر کا ذریعہAFP

  7. اب تک کی صورتحال

    اسرائیل کی جانب سے زمینی کارروائی میں اضافہ:

    • اسرائیلی فوج کے ترجمان ریئر ایڈمرل ڈینیئل ہاگری کے مطابق ’مزید اسرائیلی فوجی رات گئے غزہ میں داخل ہوئے ہیں۔‘
    • اسرائیلی دفاعی افواج کا کہنا ہے کہ ’جنگی طیاروں نے گزشتہ روز حماس کے 450 ٹھکانوں پر حملے کیے۔‘

    غزہ میں امدادی مراکز میں افراتفری:

    • فلسطینی پناہ گزینوں سے متعلق اقوام متحدہ کے ادارے (یو این ڈبلیو آر اے) کا کہنا ہے کہ ہزاروں افراد آٹے اور حفظان صحت کی کٹس جیسی بنیادی اشیاء چھیننے کے لیے امدادی گوداموں میں گھس گئے ہیں۔‘
    • یو این ڈبلیو آر اے کا کہنا ہے کہ ’ایسے اشارے مل رہے ہیں کہ علاقے میں شہری نظم و نسق ختم ہو رہا ہے۔‘
    • ایک دن تک فون لائنز اور انٹرنیٹ بند رہنے کے بعد اب ان کی جزوی بحالی کا عمل شروع ہو چُکا ہے۔
    • فلسطینی ہلال احمر کا کہنا ہے کہ ’اسرائیلی حکام کی جانب سے اُنھیں کہا گیا ہے کہ وہ شمالی غزہ میں واقع القدس ہسپتال کو خالی کر دیں کیونکہ یہ جنگی علاقے میں ہے۔‘

    اسرائیلی یرغمالی

    • رئیر ایڈمرل ڈینیئل ہاگری کا کہنا ہے کہ یرغمالیوں کو اسرائیل واپس لانا اولین ترجیح ہے تاہم ان یرغمالیوں کے پیاروں کی جانب سے اسرائیل کی غزہ میں زمینی کارروائی پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
    • غزہ میں یرغمال بنائے گئے افراد کے اہل خانہ کی اسرائیلی صدر سے ملاقات بھی متوقع ہے۔
  8. ’لوگ مایوسی اور بھوک کے عالم میں امدادی مراکز پر دھاوا بول رہے ہیں‘ ڈبلیو ایف پی

    غزہ

    عالمی ادارے برائے (ڈبلیو ایف پی) خورک کی ایک سینئر ترجمان عبیر عتیفہ نے کہا ہے کہ ’ہفتے کے روز غزہ میں امدادی تقسیم کے متعدد مراکز پر متاثرین نے دھاوا بول دیا اور یہ ’متوقع‘ تھا کیونکہ ’لوگوں کو درپیش مشکل حالات‘، خوراک اور دیگر اشیا ضروریہ کی کمی کی وجہ سے ایسا ہونے ہی تھا۔‘

    اس سے قبل بی بی سی سے بات کرتے ہوئے عبیر عتیفہ کا کہنا تھا کہ ’اصل بات یہ ہے کہ لوگ مایوس ہیں، وہ بھوکے ہیں۔‘

    عتیفہ نے مشورہ دیا کہ ہفتے کے روز فون اور انٹرنیٹ کی بندش نے گوداموں اور تقسیمی مراکز میں ہونے والے واقعات میں کردار ادا کیا ہوگا۔ انھوں نے کہا کہ ڈبلیو ایف پی کو خوراک کی تقسیم روکنی پڑی کیونکہ وہ وہاں موجود ٹیموں کے ساتھ رابطہ کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکے تھے۔

    اُن کا مزید کہنا تھا کہ ’ہم امداد کی تقسیم آج یعنی اتوار سے دوبارہ شروع کر رہے ہیں رابطے میں اب آہستہ آہستہ بہتری آرہی ہے۔

  9. ’غزہ کے لفظ ’محفوظ‘ ایک مذاق ہے، وہاں کہیں کچھ بھی محفوظ نہیں ہے‘

    احمد نجار لندن میں مقیم ہیں لیکن ان کے والدین اور بہن بھائیوں سمیت ان کا پورا خاندان اس وقت غزہ میں ہے۔

    احمد نے بی بی سی فائیو لائیو کو بتایا کہ کس طرح ان کے اہل خانہ نے غزہ پر اسرائیلی افواج کی بمباری کے ذریعے اپنا راستہ تلاش کرنے کی کوشش کی ہے۔

    ’میں کیسے یقین کر سکتا ہوں کہ اسرائیل کیا حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے جب وہ اپنے پڑوس میں لوگوں سے بھرے ایک علاقے میں تباہی مچانے اور لوگوں کو مارنے میں مصروف ہے۔‘

    غزہ بھر میں جاری انٹرنیٹ اور فون لائنز بند ہونے اور رابطے میں مُشکلات کے باوجود احمد اپنے بھتیجے سے بات کرنے میں کامیاب رہے۔

    انھوں نے صورتحال کو خوفناک قرار دیا اور بتایا کے غزہ کے شمال میں شدید بمباری کی جا رہی ہے۔

    ’وہ (غزہ میں اُن کے خاندان کے لوگ) اپنے آپ کو بہت خوش قسمت محسوس کررہے ہیں کہ وہ گزشتہ دو راتوں سے غزہ میں ہونے والی اسرائیلی بمباری میں بچ گئے ہیں۔‘

  10. اقوام متحدہ نے غزہ میں امدادی مراکز کی سیکیورٹی سخت کرنے کا مطالبہ کر دیا

    ایک اندازے کے مطابق دیر البلاح کے دوسرے سب سے بڑے مرکز میں ’ہزاروں‘ کی تعداد میں لوگ داخل ہوئے، جہاں اقوام متحدہ کی جانب سے انسانی امداد کا سامان ذخیرہ اور تقسیم کیا جاتا ہے۔

    امدادی مراکز سے جو سامان ان میں داخل ہونے والے لے کر گئے ہیں اُس میں آٹا اور دیگر اشیا شامل ہیں۔ تاہم یو این ڈبلیو آر اے نے تاحال اس بارے میں وضاحت سامنے نہیں آئی کہ آیا غزہ کے دیگر گوداموں پر بھی سیکیورٹی میں اضافہ کیا جائے گا کہ نہیں۔

    اب تک انسانی امداد لے جانے والے 80 سے زائد ٹرکوں کو غزہ میں داخل ہونے کی اجازت دی گئی ہے۔

    اسرائیل نے غزہ میں ایندھن کی فراہمی کی اجازت دینے سے انکار کر دیا ہے کیونکہ اس کا کہنا ہے کہ اسے حماس فوجی مقاصد کے لیے استعمال کر سکتی ہے۔

  11. حماس کی قید میں اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی کے لیے قطر کی ثالثی کتنی اہم ہے؟

  12. ’اسرائیل غزہ میں مزید فوج بھیج رہا ہے‘: آئی ڈی ایف

    اسرائیل

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    عبرانی زبان میں بات کرتے ہوئے اسرائیلی دفاعی افواج (آئی ڈی ایف) کے ترجمان ڈینیئل ہاگری نے وضاحت کی ہے کہ ’آئی ڈی ایف کی جانب سے غزہ کی پٹی میں لڑنے والی اسرائیلی افواج کی مدد کے لیے مزید تازہ دم دستے غزہ میں بھیجے جا رہے ہیں، اور اس کے بعد یہ فوجی بھی غزہ میں جاری زمینی کارروائی میں پہلے سے وہاں موجود اپنی فورسز کی مدد کریں گے۔‘

    آئی ڈی ایف کے ترجمان کا کہنا تھا کہ ’ہم آہستہ آہستہ غزہ کی پٹی میں زمینی کارروائیوں اور اپنی افواج کی کی تعداد کو بڑھا رہے ہیں۔‘

    اُن کا مزید کہنا تھا کہ ’زمینی کارروائی پیچیدہ ہے اور اس میں ہماری افواج کے لئے بھی خطرات شامل ہیں۔‘

    ترجمان اسرائیلی فوج کا کہنا تھا کہ ’ہم اپنی افواج کی حفاظت کو یقینی بنانے اور جنگ کے مقاصد کے حصول کے لیے فضا، سمندر اور زمین سے لے کر ہر ممکن کوشش کریں گے۔‘

  13. غزہ میں بڑے پیمانے پر تباہی اور ایسے میں جاری امدادی کارروائیاں

    ان تصاویر میں آپ دیکھ سکتے ہیں، غزہ کے اہم شہر خان یونس کے کُچھ حصوں میں عمارتیں تباہی کے مناظر پیش کر رہی ہیں اور ایسے میں امدادی کارکُنان زمین بوس ہونے والی ان عمارتوں میں پھنس جانے والوں کی تلاش میں ہیں۔

    کچھ تصاویر آپ کے لیے تکلیف کا باعث بھی ہو سکتی ہیں۔

    ان تصاویر میں خان یونس کے ناصر ہسپتال کی تصاویر بھی شامل ہیں۔ گزشتہ روز غزہ میں شہریوں کو ایک بار پھر جنوب کی جانب جانے کے لیے کہا گیا تھا جہاں اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ انسانی ہمدردی کی بنیاد پر کی جانے والی کوششوں میں اضافہ کیا جائے گا۔

    غزہ

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    غزہ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    غزۃ

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    غزہ

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    غزہ

    ،تصویر کا ذریعہReuters

  14. اسرائیلی بمباری کے بعد غزہ میں تباہی کے فضائی مناظر

    ،ویڈیو کیپشنغزہ میں تباہی کے فضائی مناظر

    غزہ کی پٹی پر واقع دير البلح میں تباہی کے ان مناظر کو ایک ڈرون کی مدد سے فلمبند کیا گیا ہے۔

    شہر کی سڑکوں پر زمین بوس عمارتوں اور گھروں کے ملبے کا ڈھیر ہے جبکہ کئی مکانات کی چھتیں گِر چکی ہیں۔

  15. غزہ میں لوگ امدادی اشیا کی تقسیم کے مراکز میں داخل ہو گئے

    غزہ کے ہزاروں شہری اقوام متحدہ کے فلسطینی پناہ گزینوں کے ادارے (یو این آر ڈبلیو اے) کے ڈسٹری بیوشن سینٹر اور ادارے کے گوداموں میں داخل ہو گئے اور وہاں سے آٹا اور دیگر بنیادی اشیا اپنے ساتھ لے گئے۔

    یہ واقعہ جنوبی غزہ کی پٹی کے دیر البلاح میں واقع سپلائی سینٹر میں پیش آیا۔

    خبر رساں ادارے اے ایف پی کی جانب سے موصول ہونے والی ان تصاویر میں یہ مناظر دیکھے جا سکتے ہیں۔

    غزۃ

    ،تصویر کا ذریعہAFP

    غزہ

    ،تصویر کا ذریعہAFP

    غزہ

    ،تصویر کا ذریعہAFP

  16. ’گزشتہ روز سے اب تک غزہ میں حماس کے 450 ٹھکانوں کو نشانہ بنایا جا چُکا ہے:‘ آئی ڈی ایف

    غزہ

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    اسرائیلی دفاعی افواج (آئی ڈی ایف) نے دعویٰ کیا ہے کہ اُن کے جنگی طیاروں نے گزشتہ روز غزہ کی پٹی میں حماس کے 450 سے زائد فوجی ٹھکانوں پر حملے کیے گئے ہیں۔

    ایکس پر ایک پوسٹ میں آئی ڈی ایف نے کہا ہے کہ ’اہداف میں فوجی ہیڈ کوارٹرز، متعدد چیک پوسٹوں اور بھاری توپ خانوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔‘ آئی ڈی ایف کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ’اسرائیلی فورسز نے حماس کے اُن ٹھکانوں کو خاص طور پر نشانہ بنایا گیا ہے کہ جہاں سے اسرائیل پر مزائل داغے جانے کا سلسلہ جاری تھا۔‘

    سوشل میڈیا پوسٹ میں آئی ڈی ایف نے مزید کہا کہ زمینی فوجی بھی اب لڑائی میں شامل ہے۔

    دوسری جانب اسرائیلی حکومت کے ترجمان ایلون لیوی نے اس بات کا اظہار بھی کیا ہے کہ تین ہفتے قبل یرغمال بنائے گئے 230 افراد کے مستقبل کے بارے میں وہ ’فکر مند‘ ہیں۔

    انھوں نے بی بی سی ریڈیو فائیو لائیو سے بات کرتے ہوئے حماس کی جانب سے اسرائیل پر ہونے والے 7 اکتوبر کے حملے کو ’انسانی تاریخ کا ایک بڑا حملہ قرار دیا‘ تاہم اُن کا کہنا تھا کہ اسرائیل ’پرعزم ہے کہ ایسا دوبارہ کبھی نہیں ہوگا۔‘

    لیوی کا کہنا ہے کہ ’یہ وہ جنگ نہیں ہے جو اسرائیل نے شروع کی تھی۔ یہ ایسی جنگ نہیں ہے جس کی اسرائیل کو توقع بھی تھی۔ یہ ایک ایسی جنگ ہے جو حماس نے شروع کی اور ہمارے خلاف اس کا اعلان کیا۔‘

    لیوی نے ’حماس کو تباہ کرنے‘ کے عہد کا اعادہ کیا اور غزہ میں شہریوں پر زور دیا کہ وہ ’نقصان دینے والے اس راستے سے دور رہیں۔‘

  17. اگر واقعی صلاح الدین ایوبی آ گیا تو پھر؟ وسعت اللہ خان کا کالم

  18. اسرائیل اور غزہ میں اب تک کی تازہ ترین صورت حال

    اسرائیلی فوجی مشین گن کے ساتھ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    اسرائیل اور غزہ کے درمیان جنگ کی صورت حال کے حوالے سے ہم آپ کے لیے یہاں گزشتہ 24 گھنٹوں کی اہم خبروں کا خلاصہ پیش کر رہے ہیں۔

    • غزہ میں 24 گھنٹے سے زائد مواصلاتی سروسز میں تعطل کے بعد اب فون اور انٹرنیٹ کا رابطہ بحال کیا جا رہا ہے۔
    • غزہ میں اسرائیلی فوج کی کارروائیاں سنیچر اور اتوار کی درمیانی رات بھی جاری رہیں جبکہ غزہ میں فلسطینی مسلح گروہوں کی جانب سے اسرائیل پر مزید راکٹ فائر کیے جانے کی بھی اطلاعات ہیں۔
    • ایران کے صدر ابراہیم رئیسی نے اسرائیل کے غزہ کے خلاف اٹھائے گئے اقدامات پر متنبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل نے اب حد سے تجاوز کر لیا ہے جو کسی کو بھی اس کے خلاف کارروائی پر مجبور کر سکتا ہے۔
    • اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے سنیچر کے روز ایک ٹیلیویژن خطاب میں کہا ہے کہ غزہ میں اضافی اسرائیلی افواج داخل ہو گئی ہیں اور کمانڈر اب ’غزہ کی پٹی ‘ پر ہر جگہ تعینات ہیں۔
    • اسرائیلی وزیراعظم نے کہا کہ مغویوں کی بازیابی فوج کے اہداف کا ایک ’لازم حصہ‘ ہے اس کے ساتھ ہی انھوں نے کہا کہ اولین ترجیح حماس کو ’ختم کرنا‘ ہے۔
    • ریڈ کراس نے اسرائیل غزہ تنازعے میں فوری طور پر کمی کا مطالبہ کیا ہے۔
    • حماس کے سات اکتوبر کو اسرائیل پر حملے کے نتیجے میں 1400 افراد ہلاک جبکہ 229 افراد یرغمال بنائے گئے۔
    • غزہ میں حماس کے زیر انتظام وزارت صحت کا کہنا ہے کہ اسرائیل کی بمباری شروع ہونے کے بعد سے اب تک 8000 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
  19. مغربی کنارے میں رات گئے حملوں میں مزید تین فلسطینی ہلاک

    غزہ حملے

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    فلسطینی وزارت صحت نے غرب اردن میں رات گئے اسرائیل کے حملوں میں مزید سات شہریوں کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔

    فلسطینی وزارت صحت نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم فیس بک پر مزید بتایا کہ سنیچر کے روز نابلس کے قریب واقع ایک گاؤں میں اسرائیلی آباد کار نے ایک 40 سالہ شخص کو گولی مار کر ہلاک کر دیا۔

    سات اکتوبر کو حماس کے حملوں اور اس کے نتیجے میں غزہ میں اسرائیل کی جوابی کارروائی کے بعد سے اسرائیل کے زیر قبضہ علاقے میں تشدد میں اضافہ ہوا ہے۔

    مغربی کنارے میں حالیہ ہفتوں میں اسرائیلی کارروائیوں کے بعد سے 100 سے زائد فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں۔

  20. ’ میں نے ایک منٹ کے اندر چھ زور دار دھماکوں کو گِنا ہے‘, جیریمی بوون، انٹرنیشنل ایڈیٹر، جنوبی اسرائیل

    ’میں تقریباً آدھا گھنٹہ پہلے مقامی وقت کے مطابق 06:45 پر جنوبی اسرائیل کے قصبے عسقلان میں اپنے ہوٹل میں بیدار ہوا جو غزہ کے قریبی حصے سے تقریباً 10 کلومیٹر دور ہے۔‘

    ’غزہ پر اسرائیلی توپ خانے سے کی جانے والی گولہ باری کا شور تسلسل کے ساتھ موجود ہے۔ جب سے میں جاگا ہوں تب سے یہ گھن گرج تھمی نہیں۔‘

    واضح رہے کہ بی بی سی کے انٹرنیشنل ایڈیٹر جیریمی بوون جنوبی اسرائیل کے ہوٹل میں مقیم ہیں اور وقت وہاں کا آنکھوں دیکھا منظر بیان کر رہے ہیں۔

    ’ میں نے صرف ایک منٹ کے اندر چھ زور دار دھماکوں کو شمار کیا ہے۔‘

    ’اپنی کھڑکی سے مجھے سنسان گلیاں دکھائی دے رہی ہیں اور اگر بہت سے نہیں تو زیادہ تر رہائشی یہاں سے نقل مکانی کر چکے ہیں۔‘