غزہ کے القدس ہسپتال کو خالی کرانے کے اسرائیلی حکم پر عالمی ادارۂ صحت سمیت دیگر امدادی تنظیموں کو تشویش

شمالی غزہ کے القدس ہسپتال کے ڈاکٹروں اور فلسطینی ہلال احمر کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فوج نے یہ علاقہ فوراً خالی کرنے کا حکم دیا ہے۔ عالمی ادارہ صحت کے سربراہ نے اسے ’انتہائی تشویشناک‘ قرار دیا ہے جبکہ انٹرنیشنل ریڈ کراس کا کہنا ہے کہ ’موجودہ صورتحال میں انتہائی نگہداشت کے مریضوں اور انکیوبیٹرز میں رکھے گئے بچوں کو نکالنا ناممکن ہے۔‘

لائیو کوریج

  1. اسرائیل کا حد سے تجاوز کرنا کسی کو بھی اس کے خلاف کارروائی پر مجبور کر سکتا ہے: ایران

    ایرانی صدر

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    ایران کے صدر ابراہیم رئیسی نے اسرائیل کے غزہ کے خلاف اٹھائے گئے اقدامات پر متنبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل نے اب حد سے تجاوز کر لیا ہے جو کسی کو بھی اس کے خلاف کارروائی پر مجبور کر سکتا ہے۔

    سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں ایرانی صدر رئیسی نے مزید کہا ’واشنگٹن ہم سے کچھ بھی قدم نہ اٹھانے کو کہتا ہے لیکن ساتھ ہی وہ اسرائیل کی وسیع حمایت جاری رکھے ہوئے ہے۔

    ان کے مطابق ’امریکہ نے مزاحمتی اتحاد کو پیغامات بھیجے لیکن ان کا جواب انھیں واضح طور پر میدان جنگ میں ملا۔‘

    مزاحمتی اتحاد سے مراد پورے مشرق وسطیٰ میں ایران کی حمایت یافتہ فورسز کا نیٹ ورک ہے جس کا حماس ایک حصہ ہے۔

    واضح رہے کہ امریکی حکام ایران کو خبردار کرتے رہے ہیں کہ وہ اسرائیل اور حماس جنگ سے دور رہے کیونکہ وہ وسیع تر علاقائی تنازع کو روکنے کا خواہاں ہے۔

    لبنان میں ایران کا حمایت یافتہ حزب اللہ گروپ حالیہ ہفتوں میں اسرائیل کے ساتھ فائرنگ کا تبادلہ کرتا رہا ہے۔

  2. اسرائیلی فوج کے غزہ میں دائرہ کار بڑھانے کی تصویری جھلکیاں

    غزہ میں فوج تعینات

    ،تصویر کا ذریعہIsrael Defense Forces

    اسرائیلی فوج نے سماجی رابطے کی ویب سایٹ ایکس پر ایسی تصاویر پوسٹ کی ہیں جن میں اس کے فوجیوں کو غزہ میں زمینی کارروائیوں کی تیاری کرتے دکھایا گیا ہے۔

    غزہ میں اسرائیلی فوج

    ،تصویر کا ذریعہIsrael Defense Forces

    اسرائیلی وزیر اعظم بنیا مین نتن یاہو نے سنیچر کے روز ایک ٹیلی ویژن خطاب میں کہا تھا کہ اسرائیل حماس کے ساتھ اپنی جنگ کے دوسرے مرحلے میں داخل ہو گیا ہے اور پوری غزہ کی پٹی پر اسرائیلی فوجی اور کمانڈوز تعینات ہیں۔

    غزہ میں فوج تعینات

    ،تصویر کا ذریعہIsrael Defense Forces

    ٹیلی ویژن خطاب میں بنیامن نیتن یاہو نے غزہ کو ’برائی کا گڑھ‘ قرار دیا ہے۔

  3. وہ اسرائیلی یرغمالی جو برسوں سے غزہ میں حماس کی قید میں ہیں

  4. ’ مشکل حالات کے باوجود تکنیکی ٹیمیں اندرونی نیٹ ورک کو پہنچنے والے نقصان کو بحال کر رہی ہیں‘

    فلسطین کی مرکزی ٹیلی کام کمپنی نے غزہ میں فون اور انٹرنیٹ بحالی کی تصدیق کی ہے۔

    فلسطین ٹیلی کمیونیکیشن کمپنی پال ٹیل نے ٹوئٹر پر لکھا ہے کہ غزہ کی پٹی میں لینڈ لائن، موبائل اور انٹرنیٹ سروسز بتدریج بحال کی جا رہی ہیں،

    پال ٹیل نے لکھا کہ ’ہماری تکنیکی ٹیمیں مشکل حالات میں اندرونی نیٹ ورک کے بنیادی ڈھانچے کو پہنچنے والے نقصان کو پوری تندہی سے ٹھیک کر رہی ہیں۔‘

    اس سے قبل فلسطینی میڈیا ایجنسیوں کے ساتھ ساتھ انٹرنیٹ مانیٹرنگ گروپ نیٹ بلاکس نے بھی بتدریج انٹرنیٹ اور موبائل فون کی بتدریج بحالی سے متعلق آگاہ کیا تھا۔

  5. غزہ میں انسانی امداد کی کوششوں کو ’بڑھایا‘ جائے گا: اسرائیلی فوج

    غزہ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    اسرائیلی فوج کی جانب سے غزہ میں انسانی امداد کی کوششوں کو بڑھائے جانے کا اعلان کیا گیا ہے تاہم اس کے بارے میں مکمل تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔

    اسرائیلی فوج کے ترجمان ڈینیئل ہیگری نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر پوسٹ کی گئی ویڈیو میں کہا کہ اتوار کو مصر اور امریکہ کی طرف سے غزہ میں انسانی امداد میں اضافہ کیا جائے گا۔

    ڈینیئل ہیگری نے حماس پر الزام لگایا کہ وہ غزہ کے لوگوں کے درمیان سے حملے کر رہے ہیں اور انھیں ’انسانی ڈھال‘ کے طور پر استعمال کر رہے ہیں۔

    انھوں نے مزید کہا کہ ’حماس کے دہشتگرد سویلین عمارات کے اندر اور نیچے اپنے سرگرمیاں کرتے ہیں، اس کی وجہ بالکل یہ ہے کہ انھیں علم ہے کہ آئی ڈی ایف دہشتگردوں اور عام شہریوں کے درمیاںنفرق کرتی ہے۔‘

  6. دنیا کے مختلف ممالک میں فلسطین کی حمایت میں مظاہروں کی تصویری جھلکیاں

    برطانیہ میں  فلسطین کے حق میں مظاہرے

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    ،تصویر کا کیپشنفلسطین کی حمایت میں مظاہرین نے لندن میں ایک ریلی میں فلسطینی جھنڈا اٹھا رکھا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق اس مظاہرے میں لاکھوں افراد نے شرکت کی

    دنیا کے مختلف ممالک میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران غزہ کی حمایت میں مظاہرے کیے گئے۔

    ترکی میں صدر رجب طیب اردوغان نے استنبول میں فلسطینیوں کے حامی ایک بڑے مظاہرے میں شرکت کی۔

    ترک صدر نے جہاں انہوں نے اسرائیل کو ’قابض‘ قرار دیا وہیں غزہ پر تشدد کا ذمہ دار مغربی ممالک کو ٹھہرایا۔

    فلسطین کی حمایت میں مظاہرے

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    ،تصویر کا کیپشنترک صدر اردوغان نے غزہ پر تشدد کا ذمہ دار مغربی ممالک کو ٹھہرایا ہے جبکہ اسرائیل نے اردوغان ککی تنقید کے جواب میں اپنے سفارت کاروں کو واپس بلا لیا ہے
    ملائشیا میں فلسطین کے حق میں مظاہرے

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    ،تصویر کا کیپشنملائیشیا میں مظاہرین نے امریکی سفارت خانے کے باہر سینکڑوں فلسطینی پرچم لہرائے

    آسٹریلیا کے شہر پرتھ میں ایک ریلی کے دوران فلسطینی حامی مظاہرین بڑی تعداد میں اکھٹا ہوئے۔

    آسٹریلیا میں مظاہرے

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    مغربی کنارہ میں ریلی

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنغرب اردن میں اسرائیلی جیلوں میں قید فلسطینیوں کے رشتہ داروں نے ریلی میں ان کی رہائی کا مطالبہ کیا اور غزہ میں قیدیوں کی حمایت کا بھی اظہار کیا

    غزہ اور اسرائیل کے درمیان جاری جنگ کو تین ہفتے گزر چکے ہیں۔ سات اکتوبر کو حماس کے اسرائیل پر حملے کے نتیجے میں 1400 ہلاکتیں رپورٹ ہوئیں اور 229 افراد کو یرغمال بنایا گیا۔

    دوسری جانب اسرائیل نے جوابی کارروائی میں اب تک آٹھ ہزار سے زیادہ فلسطینی شہری ہلاک ہو گئے ہیں اور وہاں پانی خوراک، ایندھن، طبی امداد کی شدید قلت ہے۔

  7. بریکنگ, اب تک کی تازہ ترین صورتحال

    • اسرائیلی وزیر اعظم بنیامن نیتن یاہو نے کہا ہے کہ غزہ میں زمینی کارروائی اپنے ’دوسرے مراحلے‘ میں داخل ہو چکی ہے اور ان کے بقول یہ حماس کے ساتھ ’طویل اور مشکل‘ جنگ ہو گی۔
    • ٹی وی پر خطاب کرتے ہوئے انھوں نے اسرائیل کی زمینی فورسز ’برائی کے گڑھ‘ یعنی غزہ میں داخل ہو گئے ہیں اور کمانڈرز غزہ پٹی میں ہر جگہ تعینات ہیں۔
    • بنیامن نیتن یاہو نے حماس کے ہاتھوں یرغمال بنائے گئے اسرائیلیوں کے اہل خانہ سے ملاقات کی، جنھوں نے غزہ پر حملوں میں شدت آنے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
    • اسرائیلی وزیراعظم نے کہا کہ مغویوں کی بازیابی فوج کے اہداف کا ایک ’لازم حصہ‘ ہے۔
    • غزہ شہر پر پمفلٹ گرائے گئے ہیں جس میں رہائشیوں کو متنبہ کیا گیا ہے کہ یہ علاقہ اب ایک ’میدان جنگ‘ ہے اور انھیں جنوب کی طرف نکل مقانی کر لینی چاہیے چاہیے۔
    • ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان نے اسرائیل پر جنگی جرائم کا الزام عائد کیا۔ جواب میں بنیامن نیتن یاہو نے اسرائیلی سفارتکاروں کو ترکی سے واپس بلا لیا اور کہا کہ اسرائیلی فوج ایک ’اخلاقی فوج‘ ہے۔
    • حماس نے سات اکتوبر کو اسرائیل پر حملہ کیا جس کے نتیجے میں 1400 افراد ہلاک جبکہ 229 افراد کو یرغمال بنایا گیا تھا جس کے بعد سے اسرائیل غزہ پر بمباری کر رہا ہے۔
    • غزہ میں حماس کے زیر انتظام وزارت صحت کا کہنا ہے کہ اسرائیل کی بمباری شروع ہونے کے بعد سے اب تک 8000 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
  8. بریکنگ, غزہ میں ٹیلی فون اور انٹرنیٹ سروس بتدریج بحال ہونا شروع

    فلسطینی میڈیا کے مطابق غزہ میں ٹیلیفون اور انٹرنیٹ سروس بتدریج بحال ہونا شروع ہو گئی ہے۔

    سفا پریس ایجنسی اور حماس سے منسلک شہاب نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق ٹیلی فون اور انٹرنیٹ بدتدریج بحال ہو رہے ہیں۔

  9. بریکنگ, غزہ میں ہلاکتوں کی تعداد 8000 سے زیادہ ہو گئی

    GAZA

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    غزہ میں حماس کے زیر انتظام وزارت صحت کا کہنا ہے کہ اسرائیلی بمباری میں اس علاقے میں مرنے والوں کی تعداد اب 8000 سے تجاوز کر گئی ہے۔

    فلسطینی وزرات صحت کا کہنا ہے کہ اسرائیلی حملوں میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 8000 سے تجاوز کر گئی ہے

    غزہ کے شہری بیرونی دنیا سے کٹے ہوئے ہیں اور زیادہ تر لوگوں کے لیے فون لائنز اور انٹرنیٹ بند ہے۔

  10. بریکنگ, غزہ میں لڑائی طویل اور مشکل ہوگی، اسرائیلی وزیراعظم

    اسرائیل

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ایک ٹیلی ویژن خطاب میں بنیامن نیتن ہاہو کا کہنا ہے کہ اسرائیلی افواج غزہ میں داخل ہو گئی ہیں اور کمانڈر ’پوری غزہ پٹی‘ میں تعینات ہیں۔ انھوں نے غزہ کو ’برائی کا گڑھ‘ قرار دیا ہے۔

    ادھر سنیچر کی رات جنوبی اسرائیل سے غزہ میں متعدد دھماکے دیکھے گئے ہیں۔

    گزشتہ ہفتے اسرائیل کے وزیر دفاع یوو گیلنٹ نے پارلیمانی کمیٹی کو بتایا کہ جنگ کے تین مراحل ہوں گے۔ گیلنٹ نے کہا کہ مہم کے پہلے مرحلے کا مقصد حماس کے بنیادی ڈھانچے کو تباہ کرنا تھا تاکہ حماس کو شکست دی جا سکے۔ انھوں نے دوسرے مرحلے کو مسلسل لڑائی کے طور پر بیان کیا جو کہ فوجی ’مزاحمت کو ختم کرنے‘ کے لیے کام کریں گے۔

    گیلنٹ نے تیسرے مرحلے کے بارے میں کہا کہ یہ مرحلہ ’غزہ پٹی میں جانی نقصان کے لیے اسرائیل کی ذمہ داری کو ختم کرنے اور اسرائیل کے شہریوں کے لیے ایک نئی سکیورٹی حقیقت کا قیام ہے۔‘

    واضح رہے کہ سات اکتوبر کو حماس کے اسرائیل پر حملے کے بعد سے اب تک اسرائیل میں 1400 افراد ہلاک ہوئے ہیں جبکہ 229 افراد کو یرغمال بنایا گیا ہے۔

  11. بریکنگ, بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید!

    GAZA

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    غزہ اور اسرائیل تنازعے کی صورتحال سے متعلق بی بی سی کی لائیو پیج کوریج میں خوش آمدید۔