غزہ میں 450 کے قریب بچے ہلاک، اسرائیلی فوج کے سربراہ کا حماس کے حملوں کو روکنے میں ناکامی کا اعتراف
اسرائیل، فلسطین تنازع کے چھٹے روز ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 2700 تک پہنچ چکی ہے جبکہ اسرائیلی فضائیہ کے غزہ پر لگاتار حملے جاری ہیں۔ دوسری جانب اسرائیلی فوج کے سربراہ کی جانب سے حماس کے حملے کے بعد سے پہلی مرتبہ میڈیا سے بات کرتے ہوئے حملوں کو روکنے میں ناکامی کا اعتراف کیا ہے۔
لائیو کوریج
غزہ میں تین لاکھ 38 ہزار سے زائد افراد بے گھر ہوگئے: اقوام متحدہ

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ غزہ میں اسرائیل کے فضائی حملوں کی وجہ سے 338,000 سے زیادہ افراد بے گھر ہو چکے ہیں۔
غزہ میں انتہائی ضروری امداد اور ادویات کی فراہمی کے لیے محفوظ راستے کی اجازت دینے کے مطالبات میں اضافہ ہو رہا ہے۔
فلسطینیوں کو جنگ زدہ علاقے سے نکلنے کی اجازت دینے کے لیے ایک انسانی راہداری کا بھی مطالبہ کیا جا رہا ہے، جہاں فضائی حملوں میں بہت سے گھروں پر گولہ باری کی گئی ہے اور انھیں تباہ کر دیا گیا ہے۔
غزہ میں حکام کے مطابق غزہ سے مصر جانے والا اہم راستہ رفح کراسنگ منگل سے اسرائیلی بمباری کے بعد بند ہے۔
اسرائیلی فوجی پہلے ہی زمینی حملے کی تیاری کے لیے غزہ کی سرحد کے قریب جمع ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
’مصر نے حماس کے حملے سے چند دن پہلے اسرائیل کو خبردار کیا تھا‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
امریکی کانگریس کے پینل کے ایک چیئرمین نے کہا ہے کہ حماس کے سرحد پار حملے سے تین دن قبل مصر نے اسرائیل کو ممکنہ تشدد کے بارے میں خبردار کیا تھا۔
ایوان نمائندگان کی خارجہ امور کی کمیٹی کے سربراہ مائیکل مک کول نے صحافیوں کو مبینہ انتباہ کے بارے میں بتایا۔
اسرائیلی وزیر اعظم بنیامن نتن یاہو نے ان خبروں کو ’بالکل غلط‘ قرار دیا تھا۔
اسرائیل کی 75 سالہ تاریخ میں فلسطینی عسکریت پسندوں کے مہلک ترین حملے کو روکنے میں ناکامی پر اسرائیلی انٹیلی جنس سروسز کی باز پرس کی جا رہی ہے۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق مشرق وسطیٰ کے بحران کے بارے میں قانون سازوں کو بند کمرے میں دی گئی انٹیلی جنس بریفنگ کے بعد مسٹر مک کول نے صحافیوں کو بتایا کہ ’ہم جانتے ہیں کہ مصر نے تین دن پہلے اسرائیلیوں کو خبردار کیا تھا کہ اس طرح کا واقعہ پیش آ سکتا ہے۔‘
ٹیکساس سے تعلق رکھنے والے رپبلیکن پارٹی کے رکن نے مزید کہا کہ ’میں زیادہ خفیہ تفصیلات میں نہیں جانا چاہتا لیکن ایک انتباہ جاری کیا گیا تھا۔ میرے خیال میں سوال یہ تھا کہ یہ کس سطح پر کیا گیا تھا۔‘
مصر کے ایک انٹیلی جنس عہدیدار نے رواں ہفتے خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا تھا کہ قاہرہ نے اسرائیلیوں کو بار بار متنبہ کیا تھا کہ غزہ سے ’کچھ بڑا‘ منصوبہ بنایا جا رہا ہے۔
عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ’ہم نے انھیں متنبہ کیا تھا کہ دھماکے دار صورتحال آنے کو ہے، اور بہت جلد، اور یہ بہت بڑا ہوگا، لیکن انھوں نے اس طرح کی وارننگ کو نظر انداز کر دیا۔‘
قاہرہ کے عہدیدار نے کہا کہ اسرائیلی حکام نے غزہ سے لاحق خطرے کو نظر انداز کرتے ہوئے اس کے بجائے مغربی کنارے پر توجہ مرکوز کی۔
مصر، جو غزہ کے ساتھ اپنی سرحد عبور کرنے والوں کو کنٹرول کرتا ہے اکثر اسرائیل اور حماس کے درمیان ثالث کا کردار ادا کرتا رہا ہے۔
سنیچر کو 1500 سے زائد عسکریت پسندوں نے غزہ کی حفاظتی باڑ عبور کر کے زمینی، فضائی اور بحری حملے کیے تھے۔
اسرائیل فلسطین تنازع پر سعودی اور ایرانی سربراہان کی بات چیت
ایران کے صدر ابراہیم رئیسی اور سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے درمیان ٹیلی فونک رابطہ ہوا ہے جس میں اسرائیل اور غزہ کے تنازع پر تبادلہ خیال کیا گیا ہے۔
سات سال کی دشمنی کے بعد چین کی جانب سے دونوں ممالک کے درمیان معاہدے کروانے کے بعد دونوں رہنماؤں کے درمیان یہ پہلی گفتگو ہے۔
ایران کے سرکاری میڈیا کے مطابق رئیسی اور محمد بن سلمان نے فلسطین کے خلاف جنگی جرائم کے خاتمے کی ضرورت پر تبادلہ خیال کیا۔
سعودی عرب کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ایس پی اے کے مطابق سعودی ولی عہد نے اس بات کا اعادہ کیا کہ ریاست کشیدگی میں اضافے کو روکنے کے لیے تمام بین الاقوامی اور علاقائی فریقین کے ساتھ رابطے میں ہر ممکن کوشش کر رہی ہے۔
ایس پی اے نے خبر دی ہے کہ ولی عہد نے سعودی عرب کی جانب سے شہریوں کو کسی بھی طرح سے نشانہ بنانے کو مسترد کرنے کا اعادہ کیا۔
بریکنگ, غزہ اسرائیل تنازع کی تازہ صورتحال کا خلاصہ

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- غزہ میں اسرائیلی بمباری اور ناکہ بندی کے دوران شہریوں تک خوراک، ایندھن اور پانی کی ضروری اشیا پہنچانے کی اجازت دی جائے: سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ
- انتونیو گوتریس کا کہنا ہے کہ ہمیں فوری اور بلا روک ٹوک انسانی امداد کی ضرورت ہے۔
- وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ امریکہ اسرائیل، اقوام متحدہ اور مصر کے ساتھ کچھ امداد کی اجازت دینے کے لیے بات چیت کر رہا ہے۔
- غزہ کا واحد بجلی گھر بند کر دیا گیا ہے کیونکہ اسرائیل نے بجلی کی فراہمی کے ساتھ ساتھ ادویات، خوراک، ایندھن اور پانی سمیت اشیاء کی فراہمی بھی منقطع کر دی ہے۔
- دریں اثنا اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ غزہ کے قریب لاکھوں فوجی موجود ہیں جو ہمیں دیے گئے مشن کو عملی جامہ پہنانے کے لیے تیار ہیں۔
- حماس کے حملوں میں اسرائیل میں ہلاکتوں کی تعداد 1200 تک پہنچ گئی ہے جبکہ غزہ پر اسرائیلی فضائی حملوں میں 1100 سے زائد افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔
- بی بی سی کو معلوم ہوا ہے کہ سنیچر کے روز حماس کے حملوں کے بعد سے اب تک 17 برطانوی شہری ہلاک یا لاپتہ ہو چکے ہیں ۔
غزہ میں فضائی حملوں میں کم از کم 51 افراد ہلاک: فلسطین کی وزارت صحت
فلسطین کی وزارت صحت کا کہنا ہے کہ گذشتہ ایک گھنٹے کے دوران غزہ میں اسرائیلی فضائی حملوں کے نتیجے میں کم از کم 51 افراد ہلاک ہو گئے ہیںG
سبرا، الزیتون، النفق اور تل الحوا کے مضافات میں ہونے والے حملوں میں 281 افراد زخمی بھی ہوئے۔
غزہ کے ہسپتالوں میں جنریٹرز کے لیے محض چند دنوں کا ایندھن باقی
غزہ میں انسانی ہمدردی کی فلاحی تنظیم میڈیسن سینز فرنٹیئر(Médecins Sans Frontières) سے منسلک ڈاکٹر جستین دالبی نے بی بی سی سے بات چیت میں بتایا ہے کہ دن اور رات کی تفریق کے بغیر غزہ میں ہر جانب تباہی اور پر تشدد کارروائیاں جاری ہیں۔ ہسپتالوں میں جنریٹرز کے لیے محض چند روز کا ایندھن باقی رہ گیا ہے۔
ان کے مطابق شہر کے ہسپتال بھرے ہوئے ہیں اور زخمیوں کی تعداد بہت زیادہ بڑھتی جا رہی ہے۔ جن میں بچے، عورتیں اور مرد شامل ہیں۔ ۔‘
واضح رہے کہ غزہ کا واحد پاور پلانٹ آج دن کے وقت ایندھن ختم ہونے کے باعث بند ہو گیا تھا۔ اسرائیل کی جانب سے سنیچر کے روز حماس کے حملے کے جواب میں علاقے میں بجلی، ایندھن، خوراک، سامان اور پانی کی سپلائی منقطع کر دی گئی تھی۔
ڈاکٹر دالبی کا کہنا ہے کہ غزہ کے بہت سے ہسپتال اپنے جنریٹر چلانے کے لیے ڈیزل پر انحصار کرتے ہیں اور بہت سے لوگوں کے پاس اب محض چند روز کا سٹاک ہے۔
’اگر آپ کسی ہسپتال کی بجلی کی سپلائی بند کرتے ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ لائٹس بند ہو جاتی ہیں، مانیٹرنگ کا سامان، آکسیجن کی ترسیل، مکینیکل وینٹی لیٹرز، آپریشن تھیٹر اور بجلی سے چلنے والے سرجیکل آلات ۔ اس طرح ہسپتال کا سب کام رک جائے گا۔‘
ڈاکٹر دالبی کے مطابق ’طبی ٹیمیں بمباری کی آواز کے ساتھ ساتھ کام کر رہی ہیں جو اکثر انتہائی قریب سے سنائی دیتی ہے۔‘
ان کے مطابق ہسپتال میں سپلائی ایک ’بہت بڑا مسئلہ‘ ہے کیونکہ ہسپتال پہلے ہی عرصہ دراز سے وسائل کی کمی کا شکار ہیں اور طبی سامان اور عملے کے لیے فوری رسائی کی ضرورت ہے۔ لیکن اس وقت سب سے زیادہ اشد ضرورت ایندھن کی ہے۔
بی بی سی اردو کی لائیو کوریج میں خوش آمدید
غزہ میں 450 کے قریب بچے ہلاک، اسرائیلی فوج کے سربراہ کا حماس کے حملوں کو روکنے میں ناکامی کا اعتراف
