غزہ میں اسرائیلی فضائی حملوں سے ہونے والی تباہی کے مناظر
غزہ میں رہنے والے بی بی سی کے نامہ نگار رشدی ابوالعوف نے جمعرات کو یہ ویڈیو بنائی جس میں غزہ میں اسرائیلی فضائی حملوں سے ہونے والی تباہی کو دکھایا گیا ہے۔
اسرائیل، فلسطین تنازع کے چھٹے روز ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 2700 تک پہنچ چکی ہے جبکہ اسرائیلی فضائیہ کے غزہ پر لگاتار حملے جاری ہیں۔ دوسری جانب اسرائیلی فوج کے سربراہ کی جانب سے حماس کے حملے کے بعد سے پہلی مرتبہ میڈیا سے بات کرتے ہوئے حملوں کو روکنے میں ناکامی کا اعتراف کیا ہے۔
غزہ میں رہنے والے بی بی سی کے نامہ نگار رشدی ابوالعوف نے جمعرات کو یہ ویڈیو بنائی جس میں غزہ میں اسرائیلی فضائی حملوں سے ہونے والی تباہی کو دکھایا گیا ہے۔
ہمیں اسرائیل کی دفاعی افواج کی طرف سے یہ اطلاعات موصول ہوئی ہیں کہ

،تصویر کا ذریعہGetty Images
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق آئی اے جی گروپ، جس میں برٹش ایئرویز اور ایر لنگس شامل ہیں، نے اسرائیل میں اپنا آپریشن تین ہفتوں کے لیے منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
برسلز میں انڈسٹری بریفنگ کے دوران آئی اے جی کے سی ای او لوئس گالیگو کا کہنا تھا کہ ’فضائی کمپنیاں یہ دیکھنے کا انتظار کریں گی کہ 'وہاں (اسرائیل) میں صورتحال کیا شکل اختیار کرتی ہے۔‘
واضح رہے کہ برٹش ایئرویزنے سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر بدھ کے روز تل ابیب میں لینڈنگ سے کچھ دیر قبل اپنے ایک طیارے کو واپس بھیج دیا تھا۔

،تصویر کا ذریعہEPA-EFE/REX/Shutterstock
اسرائیل کے اپنے مختصر دورے کے دوران امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن اسرائیلی صدر آئزک ہرزوگ سے بھی ملاقات کریں گے۔
اس سے قبل ہرزوگ نے کہا تھا کہ ’اسرائیل غزہ میں شہریوں کے تحفظ کی کوشش کرے گا لیکن اسرائیلیوں کے تحفظ اور مُلکی سلامتی کے لیے ’مُلک دشمن عناصر سے آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا، اور اس سلسلے میں جو ہو سکا وہ کیا جائے گا۔‘
بعد ازاں صحافیوں کے سوالات کے دوران حماس کی جانب سے کیے جانے والے حملوں پر اسرائیل کے ردعمل کے بارے میں پوچھے جانے پر ہرزوگ نے سخت ردعمل کا اظہار کیا۔
انھوں نے کہا کہ ’ہم بین الاقوامی قوانین کے مطابق کاروائی کر رہے ہیں، لیکن واضح طور پر! ہم حالتِ جنگ میں ہیں۔‘
غزہ کی وزارتِ صحت کی جانب سے جاری اعدادوشمار کے مطابق سنیچر سے یہاں 1354 افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ اس وقت چھ ہزار سے زیادہ زخمی ہیں۔
بی بی سی نے ریڈ کراس کی بین الاقوامی کمیٹی (آئی سی آر سی) کی جانب سے غزہ میں اسپتالوں کے جنریٹرز کے لیے ایندھن ختم ہونے کے بارے میں جاری ایک بیان سے آگاہ کیا تھا۔
اب ایک حالیہ بیان میں آئی سی آر سی کی جانب سے کہا جا رہا ہے کہ ’ہسپتالوں کے جنریٹرز میں ایندھن ختم ہو سکتا ہے۔‘
آئی سی آر سی کے ڈائریکٹر برائے مشرق وسطیٰ فیبریزیو کاربونی نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’ہماری مطابق ابھی ہسپتالوں کے جنریٹرز میں ایندھن تو ہے مگر اب یہ بس چند گھنٹوں کی بات ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہReuters
آج میں غزہ میں ایک ہسپتال کے باہر سے گزرا تو اس کے باہر ایمبولینسز کی ایک ایک طویل قطار موجود تھی جو زخمیوں کو ایمرجنسی تک پہنچانے کے لیے کھڑے تھے۔
فلسطین کی وزارتِ صحت کا کہنا ہے کہ سنیچر سے اب تک پانچ ہزار سے زیادہ افراد زخمی ہو چکے ہیں۔ ہسپتالوں میں جگہ کم پڑ گئی ہے جبکہ لوگوں سے خون کا عطیہ دینے کی اپیل کی جا رہی ہے۔ اس کے علاوہ غزہ کو ضروری طبی سامان اور ایندھن کی قلت کا سامنا ہے۔
اسرائیل نے سنیچر کو غزہ کے لیے بجلی کی سپلائی کاٹ دی تھی اور وہاں موجود واحد بجلی گھر کو ایندھن کی قلت کا سامنا ہے۔
گذشتہ روز میں جب ایک اور ہسپتال میں گیا اور ڈاکٹر سے بات کرنا چاہتا تھا تو مجھے حیرت ہوئی کہ متعدد بے گھر افراد ہسپتالوں کو بطور پناہ گزین مراکز استعمال کر رہے ہیں۔
ہر کونے میں آپ کو کوئی نہ کوئی خاندان زمین پر سوتا ہوا ملے گا۔ ان کا خیال ہے کہ ہسپتال ایک محفوظ جگہ ہے۔

،تصویر کا ذریعہReuters
جرمن چانسلر اولاف شولز نے آج صبح جرمنی کی پارلیمنٹ میں اپنے خطاب کے دوران کہا کہ ’جو کوئی بھی حماس کی تعریف کرے گا، یا اسرائیلی جھنڈے جلائے گا اس کے خلاف فوجداری کارروائی کی جائے گی۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’فلسطینیوں کے حامی گروپ ’سمیدون‘ پر پابندی عائد کی جائے گی۔‘ پارلیمنٹ سے اپنے خطاب کے دوران انھوں نے ’الزام عائد کیا کہ برلن کے علاقے نیوکولن میں ہفتے کے روز سڑکوں پر نکل کر اسرائیلی شہریوں کے قتل کا جشن منایا گیا اور راہگیروں کو مٹھائیاں تقسیم کی گئیں۔‘
انھوں نے بنڈس ٹاگ سے بات کرتے ہوئے کہا، کہ ’یہ خوفناک ہے، یہ غیر انسانی ہے۔ ہم نفرت اور اشتعال انگیزی کے سامنے کھڑے نہیں ہوں گے۔ ہم یہود دشمنی کو برداشت نہیں کرتے۔‘
شولز نے جرمنی میں حماس کی تمام سرگرمیوں پر پابندی کا بھی اعلان کیا۔
حماس کو پہلے سے ہی یورپی یونین، برطانیہ اور امریکہ میں ایک دہشت گرد گروپ سمجھا جاتا ہے اور جرمنی میں حماس کی کوئی سرکاری تنظیم نہیں ہے، لیکن جرمن چانسلر اولاف شولز نے کہا کہ ’پابندی میں تمام ایسوسی ایشنز اور سرگرمیاں شامل ہوں گی۔‘

،تصویر کا ذریعہReuters
ایسے وقت میں جب اسرائیل غزہ پر حملے جاری رکھے ہوئے ہے، ایران کے صدر ابراہیم رئیسی نے اسرائیل پر فلسطینوں کی ’نسل کشی‘ کا الزام لگایا ہے۔
ابراہیم رئیسی نے یہ بھی کہا کہ اسرائیلی فورسز کی جانب سے غزہ کا محاصرہ، جس میں پانی، بجلی اور ایندھن جیسی بنیادی اشیا کی سپلائی منقطع کر دی گئی ہے، تمام بین الاقوامی معاہدوں کی خلاف ورزی ہے۔
ایران پر عموماً یہ الزام عائد کیا جاتا ہے کہ وہ غزہ میں حماس کی مالی معاونت کرتا ہے اور انھیں فوجی ساز و سامان فراہم کرتا ہے۔ منگل کو ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے کہا تھا کہ اُن کا ملک اسرائیل پر گذشتہ ہفتے کے آخر میں ہونے والے مہلک حملوں کے پیچھے نہیں تھا۔ تاہم اُن کا مزید کہنا تھا کہ وہ اسرائیل پر ان حملوں کی منصوبہ بندی کرنے والوں کے ’ہاتھ چومتے ہیں۔‘
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو Google YouTube کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے Google YouTube ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
YouTube پوسٹ کا اختتام
اسرائیل کے وزیر توانائی اسرائیل کاٹز کا کہنا ہے کہ غزہ کا محاصرہ اس وقت تک ختم نہیں ہوگا جب تک اسرائیلی یرغمالیوں کو رہا نہیں کیا جاتا۔
اسرائیل کاٹز نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ ’اغوا کاروں کی رہائی تک بجلی کا سوئچ آن نہیں کیا جائے گا، کوئی واٹر ہائیڈرنٹ نہیں کھولا جائے گا اور نہ ہی کوئی ایندھن کا ٹرک داخل ہوگا۔
اسرائیل نے سنیچر کو حماس کے حملوں کے بعد غزہ کی پٹی کو رسد کی فراہمی روک دی تھی۔
بین الاقوامی ریڈ کراس کمیٹی (آئی سی آر سی) نے خبردار کیا ہے کہ غزہ کے ہسپتالوں میں بجلی کی کمی کی وجہ سے ان کے مردہ خانوں میں تبدیل ہونے کا خطرہ ہے۔
غزہ کی پٹی کے واحد بجلی گھر نے ایندھن کی قلت کی وجہ سے بدھ کو کام کرنا بند کر دیا تھا۔ اس کا مطلب ہے کہ غزہ بشمول ہسپتال جنریٹرز پر انحصار کر رہے ہیں، جس کے نتیجے میں ایندھن کی تازہ فراہمی کی ضرورت ہے۔
غزہ کو بجلی کی زیادہ تر فراہمی اسرائیل سے آتی تھی جس نے حماس کے حملے کے بعد علاقے کی بجلی منقطع کردی تھی۔
آئی سی آر سی کے علاقائی ڈائریکٹر برائے مشرق وسطیٰ فیبریزیو کاربونی کا کہنا ہے کہ ’اس کشیدگی کی وجہ سے پیدا ہونے والی انسانی مشکلات گھناؤنی ہیں اور میں فریقین سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ شہریوں کی مشکلات کو کم کریں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’غزہ میں بجلی کی کمی کے باعث ہسپتالوں میں بجلی کی فراہمی معطل ہو گئی ہے جس کی وجہ سے نوزائیدہ بچوں کو انکیوبیٹرز اور عمر رسیدہ مریضوں کو آکسیجن پر رکھنے کا خطرہ لاحق ہے۔ گردے کا ڈائیلاسز بند ہو جاتا ہے، اور ایکسرے نہیں لیے جا سکتے۔‘
کاربونی نے حماس کے عسکریت پسندوں کے ہاتھوں یرغمال بنائے گئے اسرائیلیوں کے بارے میں بھی اپنے خدشات کا اظہار کیا اور ان کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
واحد پاور پلانٹ بند ہونے اور غزہ کے اندھیرے میں ڈوب جانے کے بعد اسرائیل کے جنگی طیاروں نے رات بھر یہاں کے مختلف علاقوں پر بمباری جاری رکھی۔
امدادی گروپوں کا کہنا ہے کہ غزہ شہر کے مرکزی اسپتال میں جنریٹرز کے لیے صرف چار دن کا ایندھن بچا ہے۔
اسرائیل کے محاصرے کا مطلب ہے کہ خوراک اور صاف پانی ختم ہو رہا ہے۔
پمپوں کے لیے بجلی نہ ہونے کی وجہ سے کچھ گلیوں میں سیوریج کا گند جمع ہو رہا ہے۔
ہمسایہ ملک مصر نے امداد پہنچانے کے لیے انسانی بنیادوں پر چھ گھنٹے کی جنگ بندی کا مطالبہ کیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
غزہ میں رات بھر اسرائیلی حملوں کے بعد کی صورتحال کچھ یوں رہی:
جوناتھن کونریکس کا کہنا ہے کہ حماس کے عسکریت پسندوں نے اپنے حملوں کے دوران بچوں کے سر قلم کیے تھے۔
کونریکس کا کہنا ہے کہ کیبتز بیری میں قتل عام کے بعد کا دورہ کرنے والے ایک اہلکار نے بچوں کی لاشیں دیکھی تھیں اور اس بات کی تصدیق کی تھی کہ ان کی موت کیسے ہوئی۔
ان کا کہنا تھا کہ ’میں تسلیم کرتا ہوں کہ ہمیں اس رپورٹ کو سمجھنے اور اس کی تصدیق کرنے میں کچھ وقت لگا اور یہ یقین کرنا مشکل تھا کہ حماس بھی اس طرح کی وحشیانہ کارروائی کر سکتی ہے۔‘
انھوں نے کہا ’میرے خیال میں اب ہم نسبتا اعتماد کے ساتھ کہہ سکتے ہیں کہ حماس نے یہی کیا۔۔۔ ہر طرف لاشیں بکھری ہوئی تھیں، مسخ شدہ تھیں۔‘
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا اجلاس جمعے کو ہوگا جس میں اسرائیل اور حماس کے درمیان تنازع پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔
برازیل کی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی صدر کی حیثیت سے برازیل نے غزہ کی پٹی کی صورتحال سے نمٹنے کے لیے اجلاس طلب کیا ہے۔
برازیل کے وزیر خارجہ ماؤرو ویرا نے اجلاس میں شرکت کے لیے نیویارک جانے کے لیے ایشیا کا دورے میں تبدیلی کی۔
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ارکان اتوار کو ہونے والے اجلاس میں اسرائیل اور فلسطین سے متعلق پالیسی پر منقسم تھے۔
برازیل کے صدر لوئیز اناسیو ڈی سلوا نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ دنیا میں کہیں بھی بچوں کو یرغمال نہیں بنایا جانا چاہیے۔
ان کا کہنا تھا کہ حماس کو ان بچوں کو آزاد کرے جنھیں اغوا کیا گیا ہے۔
صدر نے اسرائیل پر زور دیا کہ وہ فلسطینی بچوں اور ان کی ماؤں پر بمباری بند کرے تاکہ وہ مصر کے راستے غزہ چھوڑ سکیں۔ انھوں نے مزید کہا کہ ’جنگ کے جنون میں کم از کم انسانیت برقرار رہنی چاہیے۔ ‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ غزہ کی پٹی میں اس کے تازہ ترین فضائی حملوں کا مقصد سرنگوں کے نیٹ ورک کو تباہ کرنا ہے جو کئی دہائیوں سے حماس کے آپریشن سینٹر کے طور پر کام کرتا رہا ہے۔
اسرائیلی دفاعی افواج کے ترجمان جوناتھن کونریکس نے ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر پوسٹ کیے گئے ایک ویڈیو پیغام میں کہا ہے کہ ’غزہ کی پٹی کو شہریوں کی ایک پرت اور اس کے نیچے حماس کی ایک پرت سمجھیں۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ 2007 میں حماس کے غزہ میں اقتدار سنبھالنے کے بعد سے برسوں کے دوران تعمیر کی گئی یہ سرنگیں حماس کے لیے رسد منتقل کرنے کے ساتھ ساتھ اسرائیل کے خلاف کارروائیوں کی منصوبہ بندی اور آغاز کا ایک راستہ ہیں۔
انھوں نے کہا کہ سرنگوں کی وسعت اور اہمیت کو اوپر زمین پر موجود گنجان آباد آبادیوں نے پوشیدہ رکھا ہے، جن میں سے بہت سی اب کھنڈرات بن چکی ہیں۔
’جو آنکھوں کو دکھائی دیتا ہے اس کے علاوہ اور بھی بہت کچھ ہے۔ اسرائیلی فضائیہ غزہ کے بہت سے علاقوں کو نشانہ بنا رہی ہے۔ ہم جو کر رہے ہیں وہ یہ ہے کہ حملوں میں تمام سطحوں پر کمانڈروں اور حماس کے سینئر رہنماؤں کو ترجیح دی جا رہی ہے۔‘
’جو کچھ بھی حماس کا ہے، ہم اس پر حملہ کر رہے ہیں۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
سرنگوں کا یہ نیٹ ورک بنا کب؟
غزہ میں سرنگوں کا استعمال تقریباً 19 سال پہلے مصر کی سرحد کے نزدیک شروع ہوا جب حماس نے غیر قانونی طور پر اسلحہ سمگل کرنا شروع کر دیا۔
کچھ ہی عرصے میں ان سرنگوں سے عام شہریوں کے لیے روز مرہ کے استعمال کی اشیا بھی غزہ کے اندر جانے لگیں۔
اسرائیلی فوجوں کے غزہ سے نکل جانے کے بعد ان سرنگوں کی تعداد سو سے تجاوز کر کے ہزاروں تک پہنچ گئی اور بہت سے لوگ ان کے ذریعے کی جانے والی تجارت میں ملوث ہو گئے۔
2001 میں فلسطینیوں نے بارود سے بھری سرنگوں کو اسرائیلی سرحدوں کے نزدیک موجود چوکیوں کو نشانہ بنانے کے لیے استعمال کرنا شروع کیا، تاہم ان حملوں کی تعداد کچھ زیادہ نہ تھی کیوں کہ یہ حملے اسرائیلی فوجیوں کو غیر معمولی نقصان پہنچانے میں ناکام رہے تھے اور سرنگوں کے اس طرح کے استعمال سے میں نقصان زیادہ اور فوائد کم تھے۔
2006 میں فلسطینیوں نے نیا انداز اپنایا۔ انھوں نے غزہ اور اسرائیل کی سرحد کے نیچے سرنگ بنائی جو اسرائیلی فوجی چوکی کے بالکل پاس جا کر نکلی۔ فلسطینی حملہ آوروں نے اس حملے سے اسرائیلی فوجیوں پر اچانک حملہ کر دیا، جس سے دو اسرائیلی فوجی مارے گئے، ایک زخمی ہوا، جبکہ گیلاد شالت نامی ایک اور فوجی کو یرغمال بنا لیا گیا۔
ان سرنگوں کے داخلی اور خارجی راستے دھماکہ خیز مواد مواد سے بھرے ہوتے ہیں۔ اس ترکیب کا استعمال سب سے پہلے 2008 میں کیا گیا اور اس کی کامیابی کے بعد اس منصوبے میں توسیع کر دی گئی۔ نومبر 2012 میں حماس کے راکٹ حملوں کی ناکامی کے بعد انھوں نے ان سرنگوں کی تعداد میں اضافہ کر دیا جس کا مقصد اسرائیلی بستیوں تک رسائی تھی۔
ان سرنگوں کی اوسطاً گہرائی 65 فٹ ہوتی ہے اور ان کا جائزہ لینے کے بعد بھی ان کو مکمل طور پر تباہ آسان کام نہیں ہے۔ ان سرنگوں کے راستوں کے تعین کے لیے اسرائیل کو غزہ کے اندر غیر معمولی انٹیلی جنس درکار ہوتی ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
فلسطینی وزارت صحت کا کہنا ہے کہ سنیچر کے روز حماس کے عسکریت پسندوں کے تباہ کن حملے کے جواب میں اسرائیل کی جانب سے علاقے میں فضائی حملے شروع کیے جانے کے بعد سے اب تک 1200 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
دونوں اطراف سے ہلاکتوں کی تعداد اب تقریبا 2500 ہے۔
قبل ازیں اسرائیلی دفاعی افواج نے کہا تھا کہ ہفتے کے اختتام پر حماس کے مسلح افراد نے 1200 اسرائیلیوں کا قتل عام کیا ہے اور ہلاکتوں کی تعداد میں اضافے کا خدشہ ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اپنے پیش رو کی طرح امریکی صدر جو بائیڈن بھی بعض اوقات آف سکرپٹ پر جانے کا رجحان رکھتے ہیں اور ان کا عملہ ان بیانات کی وضاحت یا اسے واپس لینے کی کوشش کر رہا ہے۔
واشنگٹن میں یہودی رہنماؤں سے خطاب کے دوران جو بائیڈن نے حماس کے حملہ آوروں کے ہاتھوں اسرائیلی بچوں کے سر قلم کرنے کی تصاویر پر حیرت کا اظہار کرنا اس کی تازہ ترین مثال ہے۔
اس کے بعد وائٹ ہاؤس نے جو بائیڈن کے اس بیان کو واپس لے لیا ہے، جس میں کہا گیا تھا کہ حماس کے حملہ آوروں کی طرف سے خاص طور پر گھناؤنے مظالم کی امریکہ کو باضابطہ تصدیق کی گئی تھی۔
اس بیان کے بعد اس دعوے کی صداقت پر بحث چھڑ گئی ہے اور اس نے جو بائیڈن کے ااس پیغام سے توجہ بھٹکا دیی کہ وہ اس حملے کی مذمت کرتے ہیں اور اسرائیل کی مکمل حمایت میں کھڑے ہیں۔
قتل ہونے والے بچے ایک دل دہلا دینے والا المیہ ہوتے ہیں چاہے وہ کیسے بھی مارے گئے ہوں۔ لیکن جو بائیڈن کے ریمارکس نے امریکہ کے لیے معاملات کو پیچیدہ بنا دیا ہے کیونکہ وہ اسرائیل کی مدد اور حمایت کرنا چاہتا ہے۔
چونکہ اس نئے تنازعے کے گرد جنگ کی دھند چھائی ہوئی ہے، کسی بھی طرح کے پیچھے ہٹنے یا الجھن سے ان لوگوں کی مدد کرنے کا خطرہ ہے جو غلط معلومات پھیلانے کی کوشش کر رہے ہیں اور ان واقعات اور مظالم پر شکوک و شبہات کا اظہار کر رہے ہیں سچ ہیں۔