غزہ میں 450 کے قریب بچے ہلاک، اسرائیلی فوج کے سربراہ کا حماس کے حملوں کو روکنے میں ناکامی کا اعتراف

اسرائیل، فلسطین تنازع کے چھٹے روز ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 2700 تک پہنچ چکی ہے جبکہ اسرائیلی فضائیہ کے غزہ پر لگاتار حملے جاری ہیں۔ دوسری جانب اسرائیلی فوج کے سربراہ کی جانب سے حماس کے حملے کے بعد سے پہلی مرتبہ میڈیا سے بات کرتے ہوئے حملوں کو روکنے میں ناکامی کا اعتراف کیا ہے۔

لائیو کوریج

  1. غزہ میں اسرائیلی فضائی حملوں سے ہونے والی تباہی کے مناظر

    ،ویڈیو کیپشنغزہ میں رہنے والے بی بی سی کے نامہ نگار رشدی ابوالوف نے جمعرات کو یہ ویڈیو بنائی

    غزہ میں رہنے والے بی بی سی کے نامہ نگار رشدی ابوالعوف نے جمعرات کو یہ ویڈیو بنائی جس میں غزہ میں اسرائیلی فضائی حملوں سے ہونے والی تباہی کو دکھایا گیا ہے۔

  2. اسرائیلی انتظامیہ کی جانب سے 95 سے زائد یرغمالیوں کے اہل خانہ کو مطلع کر دیا گیا

    ہمیں اسرائیل کی دفاعی افواج کی طرف سے یہ اطلاعات موصول ہوئی ہیں کہ

    • 95 سے زائد یرغمالیوں کے اہل خانہ کو بتایا گیا ہے کہ ان کے رشتہ داروں کو غزہ لے جایا گیا ہے۔
    • ہفتہ سے اب تک غزہ سے اسرائیل پر پانچ ہزار سے زائد راکٹ داغے جا چکے ہیں۔
    • اسرائیل نے غزہ میں 2600 سے زائد اہداف کو نشانہ بنایا
    • حماس کے ہفتے کے اختتام پر ہونے والے حملوں میں کم از کم 1200 اسرائیلی ہلاک اور 3000 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔
  3. اسرائیل کے لیے برٹش ایئرویز کی جانب سے پروازیں تین ہفتوں معطل کرنے کا اعلان

    برٹش ائیرویز

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق آئی اے جی گروپ، جس میں برٹش ایئرویز اور ایر لنگس شامل ہیں، نے اسرائیل میں اپنا آپریشن تین ہفتوں کے لیے منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    برسلز میں انڈسٹری بریفنگ کے دوران آئی اے جی کے سی ای او لوئس گالیگو کا کہنا تھا کہ ’فضائی کمپنیاں یہ دیکھنے کا انتظار کریں گی کہ 'وہاں (اسرائیل) میں صورتحال کیا شکل اختیار کرتی ہے۔‘

    واضح رہے کہ برٹش ایئرویزنے سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر بدھ کے روز تل ابیب میں لینڈنگ سے کچھ دیر قبل اپنے ایک طیارے کو واپس بھیج دیا تھا۔

  4. اپنے شہریوں کی حفاظت اور ملکی سلامتی کے لیے آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا: اسرائیلی صدر

    اسرائیل

    ،تصویر کا ذریعہEPA-EFE/REX/Shutterstock

    اسرائیل کے اپنے مختصر دورے کے دوران امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن اسرائیلی صدر آئزک ہرزوگ سے بھی ملاقات کریں گے۔

    اس سے قبل ہرزوگ نے کہا تھا کہ ’اسرائیل غزہ میں شہریوں کے تحفظ کی کوشش کرے گا لیکن اسرائیلیوں کے تحفظ اور مُلکی سلامتی کے لیے ’مُلک دشمن عناصر سے آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا، اور اس سلسلے میں جو ہو سکا وہ کیا جائے گا۔‘

    بعد ازاں صحافیوں کے سوالات کے دوران حماس کی جانب سے کیے جانے والے حملوں پر اسرائیل کے ردعمل کے بارے میں پوچھے جانے پر ہرزوگ نے سخت ردعمل کا اظہار کیا۔

    انھوں نے کہا کہ ’ہم بین الاقوامی قوانین کے مطابق کاروائی کر رہے ہیں، لیکن واضح طور پر! ہم حالتِ جنگ میں ہیں۔‘

  5. بریکنگ, غزہ میں ہلاکتیں 1300 سے تجاوز کر گئیں

    غزہ کی وزارتِ صحت کی جانب سے جاری اعدادوشمار کے مطابق سنیچر سے یہاں 1354 افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ اس وقت چھ ہزار سے زیادہ زخمی ہیں۔

  6. غزہ کے ہسپتالوں کے میں بجلی فراہم کرنے والے جنریٹرز بند ہونے کے قریب: ریڈ کراس

    بی بی سی نے ریڈ کراس کی بین الاقوامی کمیٹی (آئی سی آر سی) کی جانب سے غزہ میں اسپتالوں کے جنریٹرز کے لیے ایندھن ختم ہونے کے بارے میں جاری ایک بیان سے آگاہ کیا تھا۔

    اب ایک حالیہ بیان میں آئی سی آر سی کی جانب سے کہا جا رہا ہے کہ ’ہسپتالوں کے جنریٹرز میں ایندھن ختم ہو سکتا ہے۔‘

    آئی سی آر سی کے ڈائریکٹر برائے مشرق وسطیٰ فیبریزیو کاربونی نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’ہماری مطابق ابھی ہسپتالوں کے جنریٹرز میں ایندھن تو ہے مگر اب یہ بس چند گھنٹوں کی بات ہے۔‘

  7. غزہ کے ہسپتال جو زخمیوں کے ساتھ ساتھ اب پناہ گزینوں سے بھی بھر گئے ہیں, رشدی ابو العوف، بی بی سی نیوز، غزہ

    hospital

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    آج میں غزہ میں ایک ہسپتال کے باہر سے گزرا تو اس کے باہر ایمبولینسز کی ایک ایک طویل قطار موجود تھی جو زخمیوں کو ایمرجنسی تک پہنچانے کے لیے کھڑے تھے۔

    فلسطین کی وزارتِ صحت کا کہنا ہے کہ سنیچر سے اب تک پانچ ہزار سے زیادہ افراد زخمی ہو چکے ہیں۔ ہسپتالوں میں جگہ کم پڑ گئی ہے جبکہ لوگوں سے خون کا عطیہ دینے کی اپیل کی جا رہی ہے۔ اس کے علاوہ غزہ کو ضروری طبی سامان اور ایندھن کی قلت کا سامنا ہے۔

    اسرائیل نے سنیچر کو غزہ کے لیے بجلی کی سپلائی کاٹ دی تھی اور وہاں موجود واحد بجلی گھر کو ایندھن کی قلت کا سامنا ہے۔

    گذشتہ روز میں جب ایک اور ہسپتال میں گیا اور ڈاکٹر سے بات کرنا چاہتا تھا تو مجھے حیرت ہوئی کہ متعدد بے گھر افراد ہسپتالوں کو بطور پناہ گزین مراکز استعمال کر رہے ہیں۔

    ہر کونے میں آپ کو کوئی نہ کوئی خاندان زمین پر سوتا ہوا ملے گا۔ ان کا خیال ہے کہ ہسپتال ایک محفوظ جگہ ہے۔

  8. برلن کی سڑکوں پر اسرائیلی ہلاکتوں پر جرمن چانسلر شولز کی جانب سے سخت کاروائی کا عندیہ

    جرمنی

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    جرمن چانسلر اولاف شولز نے آج صبح جرمنی کی پارلیمنٹ میں اپنے خطاب کے دوران کہا کہ ’جو کوئی بھی حماس کی تعریف کرے گا، یا اسرائیلی جھنڈے جلائے گا اس کے خلاف فوجداری کارروائی کی جائے گی۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ ’فلسطینیوں کے حامی گروپ ’سمیدون‘ پر پابندی عائد کی جائے گی۔‘ پارلیمنٹ سے اپنے خطاب کے دوران انھوں نے ’الزام عائد کیا کہ برلن کے علاقے نیوکولن میں ہفتے کے روز سڑکوں پر نکل کر اسرائیلی شہریوں کے قتل کا جشن منایا گیا اور راہگیروں کو مٹھائیاں تقسیم کی گئیں۔‘

    انھوں نے بنڈس ٹاگ سے بات کرتے ہوئے کہا، کہ ’یہ خوفناک ہے، یہ غیر انسانی ہے۔ ہم نفرت اور اشتعال انگیزی کے سامنے کھڑے نہیں ہوں گے۔ ہم یہود دشمنی کو برداشت نہیں کرتے۔‘

    شولز نے جرمنی میں حماس کی تمام سرگرمیوں پر پابندی کا بھی اعلان کیا۔

    حماس کو پہلے سے ہی یورپی یونین، برطانیہ اور امریکہ میں ایک دہشت گرد گروپ سمجھا جاتا ہے اور جرمنی میں حماس کی کوئی سرکاری تنظیم نہیں ہے، لیکن جرمن چانسلر اولاف شولز نے کہا کہ ’پابندی میں تمام ایسوسی ایشنز اور سرگرمیاں شامل ہوں گی۔‘

  9. ایرانی صدر کا اسرائیل پر 'نسل کشی' کا الزام

    ابراہیم رئیسی

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    ایسے وقت میں جب اسرائیل غزہ پر حملے جاری رکھے ہوئے ہے، ایران کے صدر ابراہیم رئیسی نے اسرائیل پر فلسطینوں کی ’نسل کشی‘ کا الزام لگایا ہے۔

    ابراہیم رئیسی نے یہ بھی کہا کہ اسرائیلی فورسز کی جانب سے غزہ کا محاصرہ، جس میں پانی، بجلی اور ایندھن جیسی بنیادی اشیا کی سپلائی منقطع کر دی گئی ہے، تمام بین الاقوامی معاہدوں کی خلاف ورزی ہے۔

    ایران پر عموماً یہ الزام عائد کیا جاتا ہے کہ وہ غزہ میں حماس کی مالی معاونت کرتا ہے اور انھیں فوجی ساز و سامان فراہم کرتا ہے۔ منگل کو ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے کہا تھا کہ اُن کا ملک اسرائیل پر گذشتہ ہفتے کے آخر میں ہونے والے مہلک حملوں کے پیچھے نہیں تھا۔ تاہم اُن کا مزید کہنا تھا کہ وہ اسرائیل پر ان حملوں کی منصوبہ بندی کرنے والوں کے ’ہاتھ چومتے ہیں۔‘

  10. حماس کے بارے میں ہم کیا جانتے ہیں؟

    YouTube پوسٹ نظرانداز کریں
    Google YouTube کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو Google YouTube کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے Google YouTube ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔ YouTube کے مواد میں اشتہارات ہو سکتے ہیں۔

    YouTube پوسٹ کا اختتام

  11. بریکنگ, یرغمالیوں کی رہائی تک غزہ کو بجلی، پانی یا ایندھن فراہم نہیں کیا جائے گا:اسرائیل

    اسرائیل کے وزیر توانائی اسرائیل کاٹز کا کہنا ہے کہ غزہ کا محاصرہ اس وقت تک ختم نہیں ہوگا جب تک اسرائیلی یرغمالیوں کو رہا نہیں کیا جاتا۔

    اسرائیل کاٹز نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ ’اغوا کاروں کی رہائی تک بجلی کا سوئچ آن نہیں کیا جائے گا، کوئی واٹر ہائیڈرنٹ نہیں کھولا جائے گا اور نہ ہی کوئی ایندھن کا ٹرک داخل ہوگا۔

    اسرائیل نے سنیچر کو حماس کے حملوں کے بعد غزہ کی پٹی کو رسد کی فراہمی روک دی تھی۔

  12. بریکنگ, غزہ کے ہسپتالوں کا مردہ خانوں میں تبدیل ہونے کا خطرہ ہے: ریڈ کراس

    بین الاقوامی ریڈ کراس کمیٹی (آئی سی آر سی) نے خبردار کیا ہے کہ غزہ کے ہسپتالوں میں بجلی کی کمی کی وجہ سے ان کے مردہ خانوں میں تبدیل ہونے کا خطرہ ہے۔

    غزہ کی پٹی کے واحد بجلی گھر نے ایندھن کی قلت کی وجہ سے بدھ کو کام کرنا بند کر دیا تھا۔ اس کا مطلب ہے کہ غزہ بشمول ہسپتال جنریٹرز پر انحصار کر رہے ہیں، جس کے نتیجے میں ایندھن کی تازہ فراہمی کی ضرورت ہے۔

    غزہ کو بجلی کی زیادہ تر فراہمی اسرائیل سے آتی تھی جس نے حماس کے حملے کے بعد علاقے کی بجلی منقطع کردی تھی۔

    آئی سی آر سی کے علاقائی ڈائریکٹر برائے مشرق وسطیٰ فیبریزیو کاربونی کا کہنا ہے کہ ’اس کشیدگی کی وجہ سے پیدا ہونے والی انسانی مشکلات گھناؤنی ہیں اور میں فریقین سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ شہریوں کی مشکلات کو کم کریں۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ’غزہ میں بجلی کی کمی کے باعث ہسپتالوں میں بجلی کی فراہمی معطل ہو گئی ہے جس کی وجہ سے نوزائیدہ بچوں کو انکیوبیٹرز اور عمر رسیدہ مریضوں کو آکسیجن پر رکھنے کا خطرہ لاحق ہے۔ گردے کا ڈائیلاسز بند ہو جاتا ہے، اور ایکسرے نہیں لیے جا سکتے۔‘

    کاربونی نے حماس کے عسکریت پسندوں کے ہاتھوں یرغمال بنائے گئے اسرائیلیوں کے بارے میں بھی اپنے خدشات کا اظہار کیا اور ان کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا۔

  13. ’غزہ کے مرکزی ہسپتال میں صرف چار دن کا ایندھن بچا ہے‘, ٹام بیٹ مین، یروشلم

    غزہ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    واحد پاور پلانٹ بند ہونے اور غزہ کے اندھیرے میں ڈوب جانے کے بعد اسرائیل کے جنگی طیاروں نے رات بھر یہاں کے مختلف علاقوں پر بمباری جاری رکھی۔

    امدادی گروپوں کا کہنا ہے کہ غزہ شہر کے مرکزی اسپتال میں جنریٹرز کے لیے صرف چار دن کا ایندھن بچا ہے۔

    اسرائیل کے محاصرے کا مطلب ہے کہ خوراک اور صاف پانی ختم ہو رہا ہے۔

    پمپوں کے لیے بجلی نہ ہونے کی وجہ سے کچھ گلیوں میں سیوریج کا گند جمع ہو رہا ہے۔

    ہمسایہ ملک مصر نے امداد پہنچانے کے لیے انسانی بنیادوں پر چھ گھنٹے کی جنگ بندی کا مطالبہ کیا ہے۔

  14. غزہ کے تازہ ترین اعداد و شمار

    غزہ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    غزہ میں رات بھر اسرائیلی حملوں کے بعد کی صورتحال کچھ یوں رہی:

    • فلسطینی وزارت صحت کے مطابق سنیچر کے روز اسرائیل کے فضائی حملوں کے بعد سے غزہ میں 1200 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
    • حملوں میں 5,339 افراد زخمی ہوئے ہیں۔
    • فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے اقوام متحدہ کے ادارے کا کہنا ہے کہ 3 لاکھ 38 ہزار سے زائد افراد بے گھر ہو چکے ہیں جن میں سے زیادہ تر ہسپتالوں اور اقوام متحدہ کے سکولوں میں پناہ لیے ہوئے ہیں۔
  15. بریکنگ, کیبتز حملے میں بچوں کے سر قلم کیے گئے: اسرائیلی فوج

    جوناتھن کونریکس کا کہنا ہے کہ حماس کے عسکریت پسندوں نے اپنے حملوں کے دوران بچوں کے سر قلم کیے تھے۔

    کونریکس کا کہنا ہے کہ کیبتز بیری میں قتل عام کے بعد کا دورہ کرنے والے ایک اہلکار نے بچوں کی لاشیں دیکھی تھیں اور اس بات کی تصدیق کی تھی کہ ان کی موت کیسے ہوئی۔

    ان کا کہنا تھا کہ ’میں تسلیم کرتا ہوں کہ ہمیں اس رپورٹ کو سمجھنے اور اس کی تصدیق کرنے میں کچھ وقت لگا اور یہ یقین کرنا مشکل تھا کہ حماس بھی اس طرح کی وحشیانہ کارروائی کر سکتی ہے۔‘

    انھوں نے کہا ’میرے خیال میں اب ہم نسبتا اعتماد کے ساتھ کہہ سکتے ہیں کہ حماس نے یہی کیا۔۔۔ ہر طرف لاشیں بکھری ہوئی تھیں، مسخ شدہ تھیں۔‘

  16. اسرائیل اور غزہ تنازعے پر بات چیت کے لیے اقوام متحدہ کا اجلاس جمعے کو ہوگا

    اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا اجلاس جمعے کو ہوگا جس میں اسرائیل اور حماس کے درمیان تنازع پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔

    برازیل کی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی صدر کی حیثیت سے برازیل نے غزہ کی پٹی کی صورتحال سے نمٹنے کے لیے اجلاس طلب کیا ہے۔

    برازیل کے وزیر خارجہ ماؤرو ویرا نے اجلاس میں شرکت کے لیے نیویارک جانے کے لیے ایشیا کا دورے میں تبدیلی کی۔

    اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ارکان اتوار کو ہونے والے اجلاس میں اسرائیل اور فلسطین سے متعلق پالیسی پر منقسم تھے۔

    برازیل کے صدر لوئیز اناسیو ڈی سلوا نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ دنیا میں کہیں بھی بچوں کو یرغمال نہیں بنایا جانا چاہیے۔

    ان کا کہنا تھا کہ حماس کو ان بچوں کو آزاد کرے جنھیں اغوا کیا گیا ہے۔

    صدر نے اسرائیل پر زور دیا کہ وہ فلسطینی بچوں اور ان کی ماؤں پر بمباری بند کرے تاکہ وہ مصر کے راستے غزہ چھوڑ سکیں۔ انھوں نے مزید کہا کہ ’جنگ کے جنون میں کم از کم انسانیت برقرار رہنی چاہیے۔ ‘

  17. غزہ میں حماس کا سرنگ نیٹ ورک فضائی حملوں کا نشانہ ہے: اسرائیلی دفاعی فورسز

    غزہ میں حماس

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ غزہ کی پٹی میں اس کے تازہ ترین فضائی حملوں کا مقصد سرنگوں کے نیٹ ورک کو تباہ کرنا ہے جو کئی دہائیوں سے حماس کے آپریشن سینٹر کے طور پر کام کرتا رہا ہے۔

    اسرائیلی دفاعی افواج کے ترجمان جوناتھن کونریکس نے ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر پوسٹ کیے گئے ایک ویڈیو پیغام میں کہا ہے کہ ’غزہ کی پٹی کو شہریوں کی ایک پرت اور اس کے نیچے حماس کی ایک پرت سمجھیں۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ 2007 میں حماس کے غزہ میں اقتدار سنبھالنے کے بعد سے برسوں کے دوران تعمیر کی گئی یہ سرنگیں حماس کے لیے رسد منتقل کرنے کے ساتھ ساتھ اسرائیل کے خلاف کارروائیوں کی منصوبہ بندی اور آغاز کا ایک راستہ ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ سرنگوں کی وسعت اور اہمیت کو اوپر زمین پر موجود گنجان آباد آبادیوں نے پوشیدہ رکھا ہے، جن میں سے بہت سی اب کھنڈرات بن چکی ہیں۔

    ’جو آنکھوں کو دکھائی دیتا ہے اس کے علاوہ اور بھی بہت کچھ ہے۔ اسرائیلی فضائیہ غزہ کے بہت سے علاقوں کو نشانہ بنا رہی ہے۔ ہم جو کر رہے ہیں وہ یہ ہے کہ حملوں میں تمام سطحوں پر کمانڈروں اور حماس کے سینئر رہنماؤں کو ترجیح دی جا رہی ہے۔‘

    ’جو کچھ بھی حماس کا ہے، ہم اس پر حملہ کر رہے ہیں۔‘

    غزہ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    سرنگوں کا یہ نیٹ ورک بنا کب؟

    غزہ میں سرنگوں کا استعمال تقریباً 19 سال پہلے مصر کی سرحد کے نزدیک شروع ہوا جب حماس نے غیر قانونی طور پر اسلحہ سمگل کرنا شروع کر دیا۔

    کچھ ہی عرصے میں ان سرنگوں سے عام شہریوں کے لیے روز مرہ کے استعمال کی اشیا بھی غزہ کے اندر جانے لگیں۔

    اسرائیلی فوجوں کے غزہ سے نکل جانے کے بعد ان سرنگوں کی تعداد سو سے تجاوز کر کے ہزاروں تک پہنچ گئی اور بہت سے لوگ ان کے ذریعے کی جانے والی تجارت میں ملوث ہو گئے۔

    2001 میں فلسطینیوں نے بارود سے بھری سرنگوں کو اسرائیلی سرحدوں کے نزدیک موجود چوکیوں کو نشانہ بنانے کے لیے استعمال کرنا شروع کیا، تاہم ان حملوں کی تعداد کچھ زیادہ نہ تھی کیوں کہ یہ حملے اسرائیلی فوجیوں کو غیر معمولی نقصان پہنچانے میں ناکام رہے تھے اور سرنگوں کے اس طرح کے استعمال سے میں نقصان زیادہ اور فوائد کم تھے۔

    2006 میں فلسطینیوں نے نیا انداز اپنایا۔ انھوں نے غزہ اور اسرائیل کی سرحد کے نیچے سرنگ بنائی جو اسرائیلی فوجی چوکی کے بالکل پاس جا کر نکلی۔ فلسطینی حملہ آوروں نے اس حملے سے اسرائیلی فوجیوں پر اچانک حملہ کر دیا، جس سے دو اسرائیلی فوجی مارے گئے، ایک زخمی ہوا، جبکہ گیلاد شالت نامی ایک اور فوجی کو یرغمال بنا لیا گیا۔

    ان سرنگوں کے داخلی اور خارجی راستے دھماکہ خیز مواد مواد سے بھرے ہوتے ہیں۔ اس ترکیب کا استعمال سب سے پہلے 2008 میں کیا گیا اور اس کی کامیابی کے بعد اس منصوبے میں توسیع کر دی گئی۔ نومبر 2012 میں حماس کے راکٹ حملوں کی ناکامی کے بعد انھوں نے ان سرنگوں کی تعداد میں اضافہ کر دیا جس کا مقصد اسرائیلی بستیوں تک رسائی تھی۔

    ان سرنگوں کی اوسطاً گہرائی 65 فٹ ہوتی ہے اور ان کا جائزہ لینے کے بعد بھی ان کو مکمل طور پر تباہ آسان کام نہیں ہے۔ ان سرنگوں کے راستوں کے تعین کے لیے اسرائیل کو غزہ کے اندر غیر معمولی انٹیلی جنس درکار ہوتی ہے۔

  18. اسرائیل اور غزہ میں تازہ ترین

    • امریکی وزیر خارجہ انتھونی بلنکن اسرائیل کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے چند گھنٹوں میں اسرائیل پہنچیں گے۔ فلسطینی حکام کا کہنا ہے کہ وہ فلسطینی صدر محمود عباس سے بھی ملاقات کریں گے۔ فلسطینی سیاسی قیادت مغربی کنارے میں محمود عباس کی فتح پارٹی اور غزہ پٹی پر کنٹرول رکھنے والے اس کے اسلامی عسکریت پسند حماس مخالفین کے درمیان تقسیم ہے۔
    • وائٹ ہاؤس نے امریکی صدر جو بائیڈن کے اس بیان کو مسترد کر دیا ہے جس میں انھوں نے حماس کے ہاتھوں ہلاک ہونے والے بچوں کی تصاویر دیکھی تھیں۔
    • غزہ میں انسانی بحران شدت اختیار کر رہا ہے کیونکہ ہسپتال بجلی سے محروم ہو رہے ہیں جہاں ہزاروں زخمی اپنی زندگیوں کے بقا کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ ایندھن کی کمی کی وجہ سے انکلیو کے واحد بجلی گھر نے گذشتہ روز کام بند کر دیا تھا اور اسرائیل نے چند روز قبل غزہ کو ایندھن، پانی اور خوراک کی تمام فراہمی بند کر دی تھی۔
    • فلسطینی صحت کے حکام کا کہنا ہے کہ غزہ میں اسرائیلی فضائی حملوں میں 1200 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ حماس کے ہفتے کے اختتام پر ہونے والے حملے میں اسرائیل کی ہلاکتوں کی تعداد بھی 1200 ہے۔ فلسطینی عسکریت پسند گروپ حماس نے غزہ میں کم از کم 150 افراد کو یرغمال بنا رکھا ہے۔
    • اسرائیل نے بدھ کے روز حماس کے خلاف جنگ کی رہنمائی کے لیے حزب اختلاف کے رہنما بینی گینٹز پر مشتمل ایک جنگی صورتحال میں ہدایات جاری کرنے کے لیے خصوصی کابینہ تشکیل دی ہے۔ اس کے وزیر دفاع یواو گیلنٹ نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ وہ حماس کو صفحہ ہستی سے مٹا دیں گے۔ اسرائیل نے ممکنہ زمینی حملے کے لیے غزہ کی سرحد کے قریب تین لاکھ ریزرو فوجیوں کو جمع کر رکھا ہے۔
    • امریکہ اسرائیل، اقوام متحدہ اور مصر کے ساتھ غزہ میں امداد کی اجازت دینے اور کچھ رہائشیوں کو محفوظ راستہ فراہم کرنے پر بات چیت کر رہا ہے۔
  19. غزہ میں ہلاکتوں کی تعداد 1200 تک پہنچ گئی: فلسطینی وزارت صحت

    غزہ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    فلسطینی وزارت صحت کا کہنا ہے کہ سنیچر کے روز حماس کے عسکریت پسندوں کے تباہ کن حملے کے جواب میں اسرائیل کی جانب سے علاقے میں فضائی حملے شروع کیے جانے کے بعد سے اب تک 1200 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

    دونوں اطراف سے ہلاکتوں کی تعداد اب تقریبا 2500 ہے۔

    قبل ازیں اسرائیلی دفاعی افواج نے کہا تھا کہ ہفتے کے اختتام پر حماس کے مسلح افراد نے 1200 اسرائیلیوں کا قتل عام کیا ہے اور ہلاکتوں کی تعداد میں اضافے کا خدشہ ہے۔

  20. بریکنگ, ’صدر بائیڈن سکرپٹ سے ہٹ گئے‘، وائٹ ہاؤس نے اسرائیلی بچوں کے قتل سے متعلق بیان واپس لے لیا, انتھونی زرچر، بی بی سی نیوز

    امریکی صدر جو بائیڈن

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    اپنے پیش رو کی طرح امریکی صدر جو بائیڈن بھی بعض اوقات آف سکرپٹ پر جانے کا رجحان رکھتے ہیں اور ان کا عملہ ان بیانات کی وضاحت یا اسے واپس لینے کی کوشش کر رہا ہے۔

    واشنگٹن میں یہودی رہنماؤں سے خطاب کے دوران جو بائیڈن نے حماس کے حملہ آوروں کے ہاتھوں اسرائیلی بچوں کے سر قلم کرنے کی تصاویر پر حیرت کا اظہار کرنا اس کی تازہ ترین مثال ہے۔

    اس کے بعد وائٹ ہاؤس نے جو بائیڈن کے اس بیان کو واپس لے لیا ہے، جس میں کہا گیا تھا کہ حماس کے حملہ آوروں کی طرف سے خاص طور پر گھناؤنے مظالم کی امریکہ کو باضابطہ تصدیق کی گئی تھی۔

    اس بیان کے بعد اس دعوے کی صداقت پر بحث چھڑ گئی ہے اور اس نے جو بائیڈن کے ااس پیغام سے توجہ بھٹکا دیی کہ وہ اس حملے کی مذمت کرتے ہیں اور اسرائیل کی مکمل حمایت میں کھڑے ہیں۔

    قتل ہونے والے بچے ایک دل دہلا دینے والا المیہ ہوتے ہیں چاہے وہ کیسے بھی مارے گئے ہوں۔ لیکن جو بائیڈن کے ریمارکس نے امریکہ کے لیے معاملات کو پیچیدہ بنا دیا ہے کیونکہ وہ اسرائیل کی مدد اور حمایت کرنا چاہتا ہے۔

    چونکہ اس نئے تنازعے کے گرد جنگ کی دھند چھائی ہوئی ہے، کسی بھی طرح کے پیچھے ہٹنے یا الجھن سے ان لوگوں کی مدد کرنے کا خطرہ ہے جو غلط معلومات پھیلانے کی کوشش کر رہے ہیں اور ان واقعات اور مظالم پر شکوک و شبہات کا اظہار کر رہے ہیں سچ ہیں۔