غزہ میں 450 کے قریب بچے ہلاک، اسرائیلی فوج کے سربراہ کا حماس کے حملوں کو روکنے میں ناکامی کا اعتراف
اسرائیل، فلسطین تنازع کے چھٹے روز ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 2700 تک پہنچ چکی ہے جبکہ اسرائیلی فضائیہ کے غزہ پر لگاتار حملے جاری ہیں۔ دوسری جانب اسرائیلی فوج کے سربراہ کی جانب سے حماس کے حملے کے بعد سے پہلی مرتبہ میڈیا سے بات کرتے ہوئے حملوں کو روکنے میں ناکامی کا اعتراف کیا ہے۔
لائیو کوریج
یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نےنہیں کیا جا رہا۔
امریکہ تنازع کو پھیلنے سے روکنے کے لیے کام کر رہا ہے: انٹونی بلنکن

امریکی وزیر خارجہ نے ایک بار پھر اسرائیل کے متعلق بات کی ہے اور ان کا کہنا ہے کہ آنے والے دنوں میں ’تنازعہ کو پھیلنے سے روکنے‘ کے لیے پورے خطے کے دیگر رہنماؤں سے ملاقات کریں گے، اور حماس سے یرغمالیوں کی واپسی کو ممکن بنانے پر بات کریں گے۔
ان کا کہنا ہے کہ وہ اردن جائیں گے جہاں وہ شاہ عبداللہ اور فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس سے ملاقات کریں گے۔
اس کے بعد وہ مشرق وسطیٰ کے دیگر رہنماؤں سے ملاقات کریں گے۔
انٹونی بلنکن اس بات کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ اسرائیل اور اس کے عوام کے ساتھ ’آج، کل اور ہر روز‘کھڑا ہے۔
امریکی وزیر خارجہ کا یہ بھی کہنا ہے کہ انھوں نے ان امریکی شہریوں کے خاندانوں سے ملاقات کی ہے جو مارے گئے یا اغوا کیے گئے ہیں اور یہ کہ ’ان کی تکلیف کی شدت بے حد ہے۔‘
ان کا کہنا ہے کہ اپنے پیارے کی قسمت کے بارے میں نہ جاننے کی ’غیر متزلزل اذیت‘ ایسی چیز ہے جسے کسی کو بھی برداشت نہیں کرنا چاہیے۔
ان کا کہنا ہے کہ امریکہ ان 30 سے زائد ممالک میں سے ایک ہے جو حماس کی طرف سے ’زندگی سے نفرت‘ کی وجہ سے المیے سے گزر رہے ہیں۔
بلنکن کا کہنا ہے کہ وہ جو کچھ دکھاتے ہیں وہ ’اس سے آگے ہے جس کا کوئی تصور کرنا چاہے گا۔ بچوں کو گولیوں سے چھلنی کر دیا گیا، نوجوانوں کو زندہ جلا دیا گیا۔‘
پھر انھوں نے غزہ کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ’حماس شہریوں کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کرنا جاری رکھے ہوئے ہے۔‘
بلنکن اس نقطہ نظر پر زور دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ حماس جان بوجھ کر شہریوں کو نقصان پہنچا رہی ہے۔
اسرائیل کے جوابی فضائی حملوں کے بعد سے غزہ میں لگ بھگ 1400 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
بلنکن کا کہنا ہے کہ انھوں نے اسرائیلی حکام سے ان شہریوں کو محفوظ راستہ فراہم کرنے کے بارے میں بات کی ہے جو غزہ سے نکلنا چاہتے ہیں۔
بریکنگ, اسرائیل فلسطین کشیدگی میں 27 امریکیوں کی ہلاکت کی تصدیق
وائٹ ہاؤس کی قومی سلامتی کے ترجمان جان کربی کا کہنا ہے کہ اسرائیل فلسطین حالیہ کشیدگی میں اب تک 27 امریکیوں کی ہلاکت کی تصدیق ہوئی ہے جب کہ 14 لاپتہ ہیں۔
ہم فرانسیسی شہریوں کو واپس لانے کی ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں: میکخواں

،تصویر کا ذریعہAFP
فرانسیسی صدر ایمانوئل میکخواں کا کہنا ہے کہ وہ ان 17 فرانسیسی شہریوں کو واپس لانے کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں جو گذشتہ سنیچر کے روز جنوبی اسرائیل پر حماس کے حملوں کے بعد سے لاپتہ ہیں۔
اس حملے میں مزید 13 فرانسیسی شہری مارے گئے ہیں۔
فرانسیسی صدر نے حماس پر اسرائیل کے خلاف ’اندھی نفرت‘ کا الزام لگایا اور کہا کہ اسرائیل کو اپنے دفاع کا حق حاصل ہے۔
فرانس کے قومی ٹیلی ویژن پر بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ حماس ایک دہشت گرد تنظیم ہے جو اسرائیل کے لوگوں کی موت چاہتی ہے۔
انھوں نے مزید کہا کہ خطے کی سلامتی میں اسرائیل اور فلسطینیوں کے لیے ایک ریاست کی ضمانتیں شامل ہونی چاہئیں۔
اس سے قبل جمعرات کو فرانسیسی انسداد دہشت گردی پراسیکیوٹرز نے کہا تھا کہ وہ حماس کے حملے کی دہشت گردی کی تحقیقات شروع کر رہے ہیں۔
سنیچر سے اب تک غزہ پر 6000 بم گرائے گئے ہیں: اسرائیلی فوج

اسرائیلی ڈیفنس فورسز کے ترجمان کے مطابق سنیچر کے روز لڑائی شروع ہونے کے بعد سے اسرائیل کی طرف سے غزہ پر تقریباً 6000 بم گرائے جا چکے ہیں۔
ڈینیئل ہیگری نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک ویڈیو جس میں ایک عمارت کو دھوئیں سے گھرا ہوا دکھایا گیا تھا کے ک ساتھ بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے۔
انھوں نے کہا کہ دھماکہ خیز مواد کا وزن 4000 ٹن تک تھا۔
بریکنگ, اسرائیل میں فرانس کے 17 شہری لاپتا، 12 ہلاک
فرانسیسی صدر ایمانوئل میکخواں اسرائیل فلسطین تنازعے کے بحران کے بارے میں مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں سے بات کر رہے ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ حماس کے سنیچر کے روز اسرائیل پر حملوں کے بعد سے 17 فرانسیسی شہری ابھی تک لاپتہ ہیں جن میں چار بچے بھی شامل ہیں۔
فرانس کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے صحافیوں کو بتایا کہ لاپتہ ہونے والے فرانسیسی شہریوں کی حالت انتہائی تشویشناک ہے۔
اس کے علاوہ سنیچر کے حملے میں ہلاک ہونے والے فرانسیسی شہریوں کی تعداد 12 ہو گئی ہے۔
اسرائیل حماس کو تباہ کرنے کے لئے تسلی سے کاروائی کرے: سدیروت میئر

اسرائیلی سرحدی شہر سدیروت کے میئر ایلن ڈیوڈی کا بی بی سی کی نامہ نگار لیز ڈوسیٹ سے بات کرتے ہوئے کہنا تھا کہ وہ جانتے ہیں کہ مغربی رہنماؤں کو اسرائیل سے کیا کہنا چاہیے۔
بعض مقامات پر سدیروت غزہ کی سرحد سے ایک میل سے بھی کم فاصلے پر ہے۔
میئر ایلن ڈیوڈی جن کا شہر کئی دہائیوں سے حماس کے راکٹ حملوں کا نشانہ رہا ہے، کا خیال ہے کہ مغربی طاقتوں کی بے چینی کی وجہ سے پہلے بھی فوجی کارروائیاں ناکام ہو چکی ہیں۔
انھوں نے کہا کہ ’جب ہم غزہ میں آپریشن شروع کرتے ہیں تو ایک ہفتے، دو ہفتوں کے بعد برطانیہ، امریکہ اور تمام ممالک کے رہنما ہمارے وزیر اعظم سے کہتے ہیں کہ رک جاؤ، آپ کو رکنے کی ضرورت ہے۔‘
ڈیوڈی نے اسرائیلی فوج اور حکومت پر زور دیا کہ وہ عسکریت پسند تنظیموں حماس اور فلسطینی اسلامی جہاد کو تباہ کرنے اور انھیں اس خطے سے غائب کرنے کے لیے 'ایک ماہ، دو ماہ' کا وقت لیں۔
لیز بتاتی ہیں کہ ’جب ہم نے ان سے پوچھا کہ کیا وہ اپنے شہر کی حفاظت نہ کرنے پر اپنی ہی حکومت سے ناراض ہیں تو انھوں نے کہا کہ وہ ایسا نہیں کر رہے۔ لیکن انھوں نے وزیر اعظم نیتن یاہو سے مطالبہ کیا کہ وہ سدیروت کو ان حالات سے نکالنے میں ان کی مدد کریں۔
امریکی وزیر خارجہ انتھونی بلنکن جمعے کے روز قطر پہنچیں گے
امریکی وزیر خارجہ انتھونی بلنکن قطر میں سینئر حکام سے ملاقات کے لیے کل (جمعے کو) قطر پہنچیں گے۔
رواں ہفتے کے اوائل میں قطر کی جانب سے غزہ میں یرغمال بنائی گئی خواتین اور بچوں کی رہائی کے لیے ثالثی کی کوشش کی گئی تھی جس کے بدلے اسرائیلی جیلوں میں قید 36 فلسطینی خواتین کو رہا کرنے کی تجویز پیش کی گئی تھی۔
قطر نے تصدیق کی تھی کہ وہ ثالثی کی کوشش میں ہے لیکن خبر رساں ادارے روئٹرز کی جانب سے پوچھے جانے پر اسرائیل نے اس بات کی تردید کی تھی کہ کوئی مذاکرات نہیں ہو رہے۔
بریکنگ, حماس اور اسرائیل کے درمیان جاری جنگ میں اب تک غزہ میں 447 بچے ہلاک ہوئے ہیں

،تصویر کا ذریعہGetty Images
غزہ کی وزارت صحت کی جانب سے ہلاکتوں کی تعداد سے متعلق تفصیلات جاری کی گئیں جن میں کہا گیا ہے کہ سنیچر کے روز سے اسرائیلی بمباری کے دوران ہلاک ہونے والے 1417 افراد میں 447 بچے اور 248 خواتین شامل ہیں۔
اسرائیل کی جانب سے لبنان کے ساتھ سرحد کو محفوظ بنانے کے لیے مزید فوجی بھیجے کا فیصلہ

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اسرائیل اور لبنان کی سرحد پر موجود بی بی سی کی نامہ نگار انا فوسٹر کے مطابق اسرائیل کی جانب سے تین لاکھ ریزرو فوجیوں کو متحرک کرنے اور اُن میں سے ایک بڑے حصے کو لبنان کے ساتھ شمالی سرحد کو محفوظ اور مضبوط بنانے کے لئے بھیجے جانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
ایسا کرنے کی وجہ یہ بتائی جا رہی ہے کہ لبنان میں بھی ایک عسکریت پسند گروہ ’حزب اللہ‘ اسرائیل کے لیے خطرے کا باعث ہے۔
تاہم حماس کی طرح حزب اللہ کو بھی برطانیہ، امریکہ اور دیگر ممالک نے دہشت گرد تنظیم قرار دے رکھا ہے۔
ایران کی حمایت سے لبنان میں حزب اللہ سیاسی اور عسکری لحاظ سے کافی مضبوط ہے۔ حزب اللہ اور اسرائیلی افواج کے درمیان کئی دنوں سے سرحد پار فائرنگ کا تبادلہ جاری ہے۔
اگر صورتحال مزید بگڑتی ہے اور اس جنگ میں ایک نیا محاذ کھلتا ہے جو اسرائیل کو لبنان کے ساتھ ایک اور بڑے پیمانے پر تنازعے میں دھکیل دیتا ہے تو اس کے اثرات پورے خطے پر پڑیں گے۔
جدید ٹیکنالوجی اور طاقتور فوج بھی اسرائیل کو حماس کے طوفان الاقصیٰ آپریشن سے محفوظ کیوں نہ رکھ سکی؟
اسرائیلی فوج کے سربراہ کی جانب سے حملوں کو روکنے میں ناکامی کا اعتراف
گزشتہ ہفتے حماس کے اسرائیل پر حملے کے بعد اسرائیلی دفاعی افواج (آئی ڈی ایف) کے چیف آف اسٹاف نے پہلی بار میڈیا سے بات کی ہے۔
لیفٹیننٹ جنرل ہرزی حلوی نے کہا کہ ’آئی ڈی ایف اپنے شہریوں کی سلامتی کی ذمہ دار ہے، اور ہفتے کی صبح غزہ کی پٹی کے آس پاس کے علاقوں میں، ہم ایسا کرنے میں ناکام رہے۔‘
لیفٹیننٹ جنرل ہرزی حلوی نے اپنے حالیہ بیان میں کہا ہے کہ ’ہم حماس کے حملوں سے سبق حاصل کریں گے، ہم اس کی تحقیقات کریں گے، لیکن فی الحال ہم حالتِ جنگ میں ہیں۔‘
حلوی سے غزہ میں یرغمال بنائے گئے یرغمالیوں کے بارے میں بھی پوچھا گیا جن کی تعداد کم از کم 150 بتائی جاتی ہے تو انھوں نے جواب دیا کہ ’جنگ کی قیمت بہت زیادہ اور مشکل ہے۔ ہم قیدیوں کو گھر واپس لانے کے لیے سب کچھ کریں گے۔‘
بریکنگ, غزہ میں ہلاکتوں کی تعداد 1400 سے تجاوز کر گئی
فلسطینی علاقے میں وزارت صحت کی جانب سے جاری تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق غزہ میں اسرائیلی افواج کے فضائی حملوں میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 1417 ہوگئی ہے۔
تاہم اسرائیل میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد اب 1300 تک پہنچ گئی ہے۔ ان میں زیادہ تر عام شہری تھے جنھیں حماس کے عسکریت پسندوں نے اپنے گھروں میں اور ڈانس فیسٹیول کے دوران ہلاک کیا تھا۔
جبکہ سنیچر سے لیکر اب تک زخمیوں کی مجموعی تعداد اب 6268 ہے۔
اسرائیل کا دمشق اور حلب کے ہوائی اڈوں پر حملہ
شام کے سرکاری میڈیا کا کہنا ہے کہ اسرائیل نے دارالحکومت دمشق اور حلب دو اہم شہروں کے ہوائی اڈوں کو نشانہ بنایا ہے۔
سرکاری خبر رساں ادارے سانا نے خبر دی ہے کہ ’میزائل حملے‘ کی وجہ سے ہوائی اڈوں کے رن وے کو نقصان پہنچا ہے اور انھیں بند کر دیا گیا ہے۔
مقامی میڈیا کا یہ بھی کہنا ہے کہ ’حملوں کے جواب میں شامی فضائی دفاع آپریشن کا آغاز کیا گیا۔‘
جنگی حالات پر نظر رکھنے والی برطانوی تنظیم سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس (ایس او ایچ آر) نے حلب میں متعدد دھماکوں کی اطلاع دی ہے۔
بی بی سی آزادانہ طور پر ان حملوں کی تصدیق نہیں کر سکا ہے۔
واضح رہے کہ یہ فضائی حملے ایرانی وزیر خارجہ کے شام کے دورے سے ایک روز قبل کیے گئے ہیں۔
دونوں اسرائیل کے مخالف ملک ہیں اور ایران طویل عرصے سے حماس کی حمایت کرتا چلا آرہا ہے۔
اسرائیل کی جانب سے اکثر شام میں ایران اور لبنانی عسکریت پسند گروپ حزب اللہ کے ٹھکانوں پر بمباری کی جاتی ہے۔
اسرائیلیوں کی بڑی تعداد فوج میں شمولیت کی خواہش مند, نیک بیکے، بی بی سی تل ابیب
اسرائیلی وزارت دفاع کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ’تل ابیب میں، سبز وردیوں میں ملبوس اور بندوقوں سے لیس نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد ہمیشہ موجود رہتی ہے۔
اسرائیل میں فوجی تربیت لازمی ہے، لیکن اب اسرائیلی ملک بھر میں فوجی اڈوں پر بڑی تعداد میں ڈیوٹی دے رہے ہیں۔
کچھ نوجوان اپنے والدین کے ساتھ سویلین کپڑوں میں آتے ہیں اور بعد میں جنگی لباس پہن کر یہ کام کر رہے ہیں۔
اسرائیل کا کہنا ہے کہ ’نوجوانوں کی فوج میں اتنی بڑی تعداد میں بھرتی بالآخر حماس کی تباہی ثابت ہوگی۔‘
اس سے پہلے ایک ٹیکسی ڈرائیور جو ہمیں (بی بی سی) کسی فلم بندی کے لیے باہر لے جانے پر راضی ہوئے تھے، نے معذرت کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایسا نہیں کر سکتے کیونکہ سرچ اینڈ ریسکیو اسپیشلسٹ کے طور پر ان کی مہارت اور خدمات کی اسرائیل کو ضرورت تھی۔
ایک شاپنگ سینٹر کے ساتھ لگے ایک بڑے اسرائیلی جھنڈے کے نیچے، ایک خاتون ہمیں بتاتی ہیں کہ وہ فون کرنے کے لئے بے تاب ہیں لیکن انھیں بتایا گیا ہے کہ ابھی ان کی ضرورت نہیں ہے۔
لیکن سینکڑوں ہزاروں کی ضرورت ہے اور بہت سے لوگ اب جنوب کی جانب غزہ میں متوقع زمینی آپریشن کی طرف بڑھ رہے ہیں۔
اسرائیل نے غزہ کے رہائشیوں کو محفوظ مقام پر پناہ لینے کی تنبیہ کرنے والے پمفلٹ فضا سے گرائے ہیں

بی بی سی کو غزہ کی پٹی کے ایک اہم شہر ’بیت لاہیہ‘ میں اسرائیل کی جانب سے فضا سے گرائے جانے والے ایک پمفلٹ کی تصویر موصول ہوئی ہے۔
اس پمفلٹ میں اسرائیل کی جانب سے کہا گیا ہے کہ ’حماس کے حملوں کی وجہ سے اسرائیلی دفاعی فورس اپنی کارروائی کر رہی ہیں۔‘
پمفلٹ میں غزہ کے رہائشیوں کو محفوظ پناہ گاہوں میں جانے کی تنبیہ کی گئی ہے اور کہا گیا ہے کہ جن عمارتوں میں حماس نے پناہ لے رکھی ہے انھیں تباہ کر دیا جائے گا۔
غزہ میں تباہی کے فضائی مناظر
،ویڈیو کیپشناسرائیل کی غزہ پر بمباری کی ڈرون فوٹیج میں تباہی کے مناظر دیکھے جا سکتے ہیں۔ اسرائیل کی جانب سے غزہ شہر پر کی جانے والی بمباری کی ڈرون فوٹیج میں شہر کے تباہی کے مناظر دیکھے جا سکتے ہیں۔ سات اکتوبر کو حماس کی جانب سے اسرائیل میں کی جانے والی کارروائیوں کے ردعمل میں غزہ پر اسرائیلی بمباری کا سلسلہ جاری ہے۔ دونوں جانب اب تک تقریباً 2400 ہلاکتیں ہو چکی ہیں۔
’امریکہ اسرائیل کی مدد کے لئے ہمیشہ تیار رہے گا،‘ امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن

،تصویر کا ذریعہGetty Images
امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن اسرائیل کے دورہ پر ہیں جہاں انھوں نے وزیر اعظم بنیامن نیتن یاہو کے ساتھ ایک نیوز کانفرنس کی ہے۔
مشترکہ نیوز کانفرنس کے آغاز میں نیتن یاہو نے حماس کا داعش سے موازنہ کرنے سے پہلے انگریزی اور عبرانی دونوں زبانوں میں بلنکن اور امریکہ کا شکریہ ادا کیا۔
نیتن یاہو کا کہنا ہے تھا کہ ’بائیڈن نے اسے (حماس کو) ایک ’برائی‘ قرار دیا۔ حماس کے ساتھ ویسا ہی برتاؤ کیا جائے گا جیسا داعش کے ساتھ تھا۔ انھیں نکال باہر کیا جائے گا۔‘
نیتن یاہو کا کہنا تھا کہ ’یہ وہ وقت ہے جب ہمیں برائی (حماس) کے خلاف متحد ہو کر کھڑا ہونا چاہیے۔’ اُن کا مزید کہنا تھا کہ ’ہم ایک موقف اختیار کر رہے ہیں، جس میں امریکہ ہمارے ساتھ ہے۔‘
امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے پریس کانفرنس میں اسرائیلی شہریوں کی بہادری کو بھی سراہا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’میں اسرائیل کے لیے یہ پیغام لے کر آیا ہوں کہ آپ اپنے دفاع کے لیے خود اتنے مضبوط ہو سکتے ہیں لیکن جب تک امریکہ موجود ہے آپ کو کبھی ایسا نہیں کرنا پڑے گا۔‘
بلنکن کا کہنا ہے کہ ’جو کوئی بھی امن اور انصاف کا خواہاں ہے اسے حماس کی دہشت گردی کی مذمت کرنی چاہیے۔ حماس کا ایک ہی ایجنڈا ہے کہ اسرائیل کو تباہ کیا جائے اور یہودیوں کو قتل کیا جائے۔‘
امریکی وزیر خارجہ نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ ہفتے کے روز شروع ہونے والے حماس کے حملوں میں 25 امریکی ہلاک ہوئے ہیں۔
برطانوی حکومت کی جانب سے اپنے شہریوں کے لیے اسرائیل سے خصوصی پروازوں کا اعلان
برطانوی حکومت نے کہا ہے کہ وہ برطانوی شہریوں کو اسرائیل سے نکالنے کے لیے پروازوں کا انتظام کرے گی۔
برطانوں دفتر خارجہ نے اعلان کیا ہے کہ ’اسرائیل چھوڑنے کے خواہشمند افراد کے لیے کمرشل پروازوں کی سہولت خصوصی طور پر فراہم کی جائے گی۔‘
اسی سلسلے میں پہلی پرواز جمعرات یعنی آج تل ابیب کے بین گوریون ہوائی اڈے سے روانہ ہوگی۔
برطانوی دفتر خارجہ کی جانب سے جاری ایک بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ’اسرائیل میں موجود برطانوی شہریوں کی مدد کے لیے ایک 'خصوصی ٹیم' بھی اسرائیل بھیجی گئی ہے جو وہاں موجود لوگوں کو برطانیہ واپسی اور اس سلسلے میں کیے جانے والے اقدامات سے متعلق مدد فراہم کرے گی۔‘
