امریکی جنگی بیڑہ طاقت کا اظہار ہے, باربرا پلیٹ اشر، بی بی سی نیوز

،تصویر کا ذریعہGetty Images
امریکہ نے اسرائیل کو اسلحہ اور جنگی سازوسامان فرام کرنا شروع کر دیا ہے جبکہ امریکی جنگی بیڑہ خطے کی جانب بڑھ رہا ہے۔
یہ بیڑہ بحرۂ روم میں ہی موجود تھا اور اسے زیادہ دور نہیں جانا پڑے گا۔ یہ کوئی غیر معمولی بات نہیں ہے کہ امریکہ کسی ایسے خطے میں جنگی بحری جہاز بھیجے جہاں حالات بگڑ رہے ہوں۔
تاہم اس سے قبل اسرائیل اور حماس کے درمیان ہونے والی لڑائیوں میں امریکہ نے ایسا نہیں کیا تھا۔ اس بار بھی ایسا کرنے کی وجہ حماس نہیں ہے۔
امریکہ کو خدشہ ہے کہ یہ لڑائی پھیل سکتی ہے۔ ایک سینئر امریکی دفاعی اہلکار نے کہا ہے کہ جنگی جہاز امریکہ کی اسرائیل کے ساتھ شراکت کا اظہار ہیں اور یہ کسی دوسرے ملک یا گروہ کو اس لڑائی میں شامل ہونے سے روکیں گے۔
حقیقت میں یہ اشارہ ایران کی جانب ہے جو لبنان میں حزب اللہ اور غزہ میں حماس کی حمایت کرتا ہے۔ تاہم قومی سلامتی کونسل نے ترجمان جان کربی نے کہا ہے کہ امریکہ کا اپنے فوجی علاقے کی زمین پر اتارنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔

