اسرائیل کی جوابی کارروائی مشرق وسطیٰ کو بدل کر رکھ دے گی: نیتن یاہو
اسرائیلی وزیر اعظم بنیامن نیتن یاہو کا کہنا ہے کہ حماس کے حملے کے بعد اسرائیل کا جواب ’مشرق وسطیٰ کو بدل کر رکھ دے گا۔‘ اسرائیل نے غزہ کی پٹی کے 'مکمل محاصرے' کا حکم دیا ہے۔ سنیچر سے اب تک پُرتشدد واقعات کے دوران اسرائیل میں 900 افراد ہلاک ہوئے ہیں جبکہ غزہ میں ہلاکتوں کی تعداد قریب 600 بتائی گئی ہے۔
لائیو کوریج
بریکنگ, اسرائیل کا غزہ کے ’مکمل محاصرے‘ کا حکم
،تصویر کا ذریعہGetty Images
اسرائیل کے وزیر دفاع یوو گیلنٹ کا کہنا ہے کہ انھوں نے غزہ
کی پٹی کی مکمل ناکہ بندی کا حکم دیا ہے: ’نہ بجلی، نہ خوراک، نہ ایندھن۔‘
یاد رہے کہ اسرائیل غزہ کی فضائی حدود اور اس کے ساحل کو کنٹرول
کرتا ہے اور غزہ میں سرحدی گزرگاہوں سے کیا کچھ آئے گا وہ اس پر بھی کنٹرول رکھتا
ہے۔
دوسری جانب اسرائیلی ڈیفنس فورسز کا کہنا ہے کہ عزہ سے راکٹ
داغے جانے کے بعد مقبوضہ بیت المقدس اور اسرائیل بھر میں پھر سے انتباہی سائرن گونج
رہے ہیں۔ مقبوضہ بیت المقدس میں اب سے کچھ دیر قبل تین دھماکوں کی آوازیں سنی گئی
ہیں۔
بریکنگ, غزہ میں ہلاکتوں کی تعداد تقریباً 500 ہو گئی
،تصویر کا ذریعہGetty Images
فلسطین
کی وزارت صحت کا کہنا ہے کہ غزہ پر اسرائیلی حملوں میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد
تقریباً 500 تک پہنچ چکی ہے۔
فلسطینی
وزارت صحت کے مطابق اس حملوں میں 493 افراد اب تک ہلاک ہو چکے ہیں۔ جبکہ 2751
افراد زخمی ہوئے ہیں۔
اسرائیل غزہ حالیہ کشیدگی: اب تک کی تازہ صورتحال
،تصویر کا ذریعہGetty Images
اسرائیلی
افواج نے پیر کی صبح بریفنگ دیتے ہوئے بتایا ہے کہ انھوں نے غزہ کے اندر تقریباً ایک
ہزار اہداف پر حملہ کیا ہے۔
اسرائیلی
فوج کا مزید کہنا ہے کہ حماس کے مسلح جنگجو اب بھی اسرائیل کے اندر سات سے آٹھ
مقامات پر لڑ رہے ہیں۔
اسرائیلی
فوج کا کہنا ہے کہ آج صبح بہتر صورتحال ہو گی اور وہ اس بات کو یقینی بنا رہا ہے
کہ حماس کو سنیچر کے حملے کی ’بھاری قیمت‘ ادا کرنی پڑے
اسرائیل
کے شمال میں علاقوں سے شہریوں کا مکمل انخلا نہیں کیا گیا ہے لیکن لوگ وہاں سے نکل
رہے ہیں۔
سنیچر
کے حملوں کے آغاز کے بعد سے اسرائیل اور غزہ میں تقریباً 1100 افراد کی ہلاکت کی
تصدیق ہو چکی ہے۔
اقوام
متحدہ کا کہنا ہے کہ غزہ میں فضائی حملوں سے تقریباً 123,000 افراد بے گھر ہوئے ہیں۔
اسرائیل اور غزہ کی کشیدہ صورتحال کی تازہ تصاویر
،تصویر کا ذریعہReuters
،تصویر کا کیپشنغزہ میں اسرائیلی راکٹ حملے کے بعد دھواں اٹھ رہا ہے
،تصویر کا ذریعہReuters
،تصویر کا کیپشنجنوبی اسرائیل کے علاقے اشکیلون میں ایک شخص اپنی کھڑکی سے غزہ سے داغے جانے والے راکٹوں سے ہونے والے نقصان کو دیکھ رہا ہے۔
،تصویر کا ذریعہReuters
،تصویر کا کیپشنایک اسرائیلی فوجی غزہ کی پٹی کے قریب گولہ بارود کے ایک ڈبے پر بیٹھا ہے
،تصویر کا ذریعہReuters
،تصویر کا کیپشناسرائیلی حملے کے بعد غزہ میں تباہی کے مناظر
’حماس کا حملہ ہمارے لیے نائن الیون تھا، انھوں نے ہمیں آ لیا‘: اسرائیلی میجر
گذشتہ
چند گھنٹوں میں اسرائیلی فوج کے دو سینئر ارکان نے سنیچر کے روز غزہ سے ہونے والے
حملوں کا موازنہ امریکا پر نائن الیون کے حملوں سے کیا ہے۔
اسرائیلی
فوج کے ترجمان میجر نیر دینار نے سنیچر کے روز حماس کے جانب سے اسرائیل پر حملے کا
موازنہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’یہ ہمارے لیے امریکہ میں ہونے والے نائن الیون کے
حملے جیسا تھا۔ انھوں نے ہمیں آ لیا۔‘
لیفٹیننٹ
کرنل جوناتھن کونریکس نے بھی حماس کے حملوں کا موازنہ امریکہ میں ہونے والے بڑے
حملوں سے کیا۔
انھوں
نے کہا کہ یہ نائن الیون اور پرل ہاربر جیسا حملہ ہے۔
انھوں
نے کہا کہ ’یہ اسرائیل کی تاریخ کا اب تک کا بدترین دن ہے۔ اس سے پہلے کبھی ایک ہی
حملے سے اتنے زیادہ اسرائیلی نہیں مارے گئے تھے۔‘
بریکنگ, اسرائیلی فضائیہ کا غزہ میں رات بھر 500 اہداف کو نشانہ بنانے کا دعویٰ
،تصویر کا ذریعہGetty Images
اسرائیلی
فضائیہ کا کہنا ہے کہ غزہ کی پٹی میں حماس اور اسلامی جہاد کے 500 سے زائد اہداف
کو راتوں رات نشانہ بنایا گیا ہے۔
اسرائیلی
فضائیہ کا کہنا ہے کہ لڑاکا طیاروں، ہیلی کاپٹروں اور توپ خانے کی مدد سے ان اہداف
کو نشانہ بنایا گیا۔
اس
کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس نے حماس کے سات کمانڈ سینٹرز اور اسلامی جہاد کے ایک
کمانڈ سینٹر کو نشانہ بنایا۔
فلسطینی
محکمہ صحت کے حکام کا کہنا ہے کہ غزہ میں اسرائیلی فضائی حملے شروع ہونے کے بعد سے
اب تک 413 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
بریکنگ, اسرائیل پر حماس کے حملے میں تھائی لینڈ کے 12 شہری ہلاک اور 11 اغوا
تھائی
لینڈ کی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ سنیچر کی صبح حماس کے حملوں کے بعد سے 12 تھائی
شہری ہلاک جبکہ آٹھ زخمی ہو چکے ہیں۔
اس
کا مزید کہنا ہے کہ حماس کے حملے میں تھائی لینڈ کے 11 شہریوں کو اغوا بھی کیا گیا
ہے۔
تھائی
لینڈ کے ایک کارکن نے بی بی سی تھائی کو بتایا کہ وہ سنیچر کے روز حملے میں تقریباً
ہلاک ہو گیا تھا۔
انھوں
نے کہا کہ ’میں ایک ٹرک کے نیچے رینگ رہا تھا کہ حماس کے (عسکریت پسند) نے مجھے
باہر نکالا اور بندوق کی اٹھنے کا اشارہ کیا۔‘
اسرائیل
میں تقریباً 30,000 جبکہ غزہ میں 5,000 کے قریب تھائی شہری مقیم ہیں۔
بریکنگ, اب بھی اسرائیل میں حماس کے جنگجوؤں سے لڑائی جاری ہے: اسرائیلی افواج
،تصویر کا ذریعہGetty Images
اسرائیلی
ڈیفنس فورسز کا کہنا ہے کہ اب بھی اسرائیل کے اندر حماس کے عسکریت پسندوں کے ساتھ لڑائی
جاری ہے۔
پیر
کی صبح اسرائیلی ڈیفنس فورسز نے ایک بریفنگ میں بتایا کہ اسرائیلی فورسز غزہ کی پٹی
کے قریب جنوبی اسرائیل میں سات سے آٹھ مقامات پر حماس کے مسلح جنگوؤں کے ساتھ لڑ
رہی ہیں۔
ان علاقوں میں بیری بھی شامل ہے، جو ایک زرعی علاقہ ہے جہاں حماس
کے جنگجو راتوں رات گھس گئے۔ آئی ڈی ایف نے کہا کہ بہت سے عسکریت پسند مارے جا چکے
ہیں، لیکن دیگر اب بھی کبوتز میں گھروں میں چھپے ہوئے ہیں۔
اسرائیلی فوج نے مزید کہا کہ اس نے غزہ میں ایک ہزار سے زائد اہداف
پر حملے کیے ہیں۔
لیفٹیننٹ
کرنل رچرڈ ہیچٹ نے صحافیوں کے ساتھ بریفنگ میں کہا کہ ’اس آپریشن کا دائرہ کچھ
بالکل مختلف ہے۔۔۔چیزوں کو دفاعی انداز میں واپس لانے میں ہماری توقع سے زیادہ وقت
لگ رہا ہے۔‘
بریکنگ, پولینڈ نے اسرائیل سے اپنے شہریوں کا انخلا شروع کر دیا
پولینڈ نے اپنے شہریوں کو اسرائیل سے نکالنا شروع کر دیا ہے اور پہلا
طیارہ تقریباً 120 افراد کو لے کر پیر کی صبح وارسا میں اترا ہے۔
پولینڈ کے وزیر دفاع ماریوز بلاسزک نے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’اسرائیل
سے نکالے جانے والے افراد پہلے ہی پولینڈ میں ہیں۔ میں (ہمارے) فوجیوں کا شکریہ
ادا کرنا چاہوں گا کہ انھوں نے آپریشن کو مؤثر طریقے سے انجام دیا۔
آج مزید دو پروازوں کے ذریعے اسرائیل سے پولینڈ کے شہریوں کا انخلا
متوقع ہے۔
اتوار کو پولینڈ کے وزیر دفاع بلاسزک نے کہا تھا کہ تقریباً 200
پولش سیاح جن میں سکول ٹرپ کے بچے بھی اسرائیل چھوڑنے کے منتظر تھے۔
کم
از کم 200 پولش فوجی اس آپریشن میں مدد کر رہے ہیں۔
بریکنگ, اسرائیلی فوج کے غزہ پر علی الصبح تازہ حملے کے مناظر
اسرائیلی فوج کی جانب سے غزہ پر رات پر وقفے وقفے سے حملے جاری رہے ہیں۔ تاہم دن کے آغاز کے ساتھ ہی ایک بار پھر اسرائیلی فوج نے غزہ کو نشانہ بنایا ہے۔
،ویڈیو کیپشناسرائیلی فوج کے غزہ پر تازہ حملے کے مناظر
بریکنگ, اسرائیل فلسطین حالیہ کشیدگی پر دیگر ممالک کا کیا ردعمل ہے؟
،تصویر کا ذریعہGetty Images
عالمی رہنماؤں نے حماس کے حملے اور اسرائیل کی جوابی
کارروائی پر مختلف ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ اس پر ایک نظر ڈالتے ہیں۔
امریکہ: صدر جو بائیڈن کا کہنا ہے کہ اسرائیل کے لیے ان کے ملک کی حمایت ’چٹان کی طرح
ٹھوس اور اٹل‘ ہے۔ امریکہ نے اسرائیل کے مدد کے لیے خطے میں بحری جہاز اور ہوائی
جہاز تعینات کیے ہیں اور کہا ہے کہ وہ اسرائیل کو اضافی جنگی سازوسامان بھیجے گا۔
برطانیہ: وزیر اعظم رشی سونک نے بنیامن نیتن یاہو کی ’ بھرپور حمایت‘
کا وعدہ کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ہم ہر ممکن مدد کریں گے۔
ایران: صدر ابراہیم رئیسی نے کہا کہ ایران فلسطینیوں کے اپنے دفاع کے حق کی حمایت
کرتا ہے اور خبردار کیا کہ اسرائیل کو کئی سالوں سے خطے کو خطرے میں ڈالنے کے لیے
جوابدہ ہونا چاہیے۔ حماس کو ایران کی حمایت حاصل ہے۔
لبنان: حزب اللہ، ایک طاقتور مسلح گروہ جسے ایران کی حمایت بھی حاصل ہے نے اتوار کو
اسرائیل کے ساتھ گولہ باری اور راکٹوں کا تبادلہ کیا۔ اس سے اسرائیل اور اس کی
مخالف ریاستوں کے درمیان وسیع تر تصادم کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔
چین: بیجنگ نے دونوں فریقوں سے ’تحمل سے کام لینے‘ اور ’فوری طور پر جنگ بندی‘ کا
مطالبہ کیا ہے۔ سرکاری میڈیا نے ’دو ریاستی حل‘ کا اعادہ کیا ہے، جس میں فلسطین کی
ایک آزاد ریاست کا قیام بھی شامل ہے۔
روس: وزارت خارجہ نے ’فوری جنگ بندی‘ اور ’جامع، دیرپا امن‘ کے لیے مذاکرات کا
مطالبہ کیا۔
حماس: ’سرنگوں کی جنگ‘ کی ماہر فلسطینی تنظیم عسکری قوت کیسے بنی اور یہ اسلحہ کہاں سے حاصل کرتی ہے؟
اسرائیل کا دفاعی نظام آئرن ڈوم کیا ہے؟
،ویڈیو کیپشناسرائیل کا دفاعی نظام آئرن ڈوم کیا ہے اور یہ کیسے کام کرتا ہے
آئرن ڈوم ان متعدد میزائل شکن نظاموں میں سے ایک ہے جو اسرائیل میں اربوں ڈالر لگا کر نصب کیے گیے ہیں۔
یہ نظام ریڈار کی مدد سے اس کی جانب داغے گئے راکٹس کو ٹریک کرتا ہے اور ان کو روکنے کے لیے ’انٹرسیپٹ‘ کرنے والے میزائل داغتا ہے۔
یہ ٹیکنالوجی ان راکٹوں میں تفریق کرتی ہے جو کہ زیادہ آبادی والے علاقے کو ہدف بنا رہے یا پھر جو اپنے ہدف پر نہیں پہنچیں گے۔
صرف ان راکٹوں کو روکا جاتا ہے جو کہ زیادہ آبادی والے علاقوں کی جانب آ رہے ہوتے ہیں جس کی وجہ سے یہ نظام سستا پڑتا ہے۔
اخبار ٹائمز آف اسرائیل کے مطابق ہر انٹرسیپٹر میزائل ایک لاکھ پچاس ہزار ڈالر کا ہوتا ہے۔
اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ ان کے دفاعی نظام آئرن ڈوم کی کامیابی کی شرح تقریباً 90 فیصد ہے۔
آئرن ڈوم کی بنیاد سنہ 2006 میں اسرائیل اور جنوبی لبنان میں موجود حزب اللہ کے درمیان کشیدگی کے وقت رکھی گئی تھی۔
حزب اللہ نے ہزاروں راکٹ داغے تھے جس سے اسرائیل میں کافی مالی نقصان ہوا اور درجنوں اسرائیلی بھی مارے گئے۔
ایک سال بعد اسرائیل کی ریاستی دفاعی کمپنی رفائل ایڈوانس سسٹمز نے اعلان کیا تھا کہ وہ ایک نیا میزائل شکن دفاعی ڈھال کا نظام تیار کریں گے۔
اس پروجیکٹ کے لیے امریکہ نے 20 کروز ڈالر بھی دیے تھے۔
کچھ برسوں کی تحقیق کے بعد یہ نظام سنہ 2011 میں پہلی مرتبہ جنگی حالات میں ٹیسٹ کیا گیا جب اس نے جنوبی شہر بیرشیبہ پر داغا گیا ایک راکٹ مار گرایا تھا۔
اس بات میں کوئی شک نہیں کہ آئرن ڈوم نے اسرائیلیوں کو کئی حملوں سے بچایا مگر یہ مکمل طور پر 100 فیصد کامیاب نہیں۔
بریکنگ, ایران کی حماس کے حملے میں براہ راست ملوث ہونے کی تردید
،تصویر کا ذریعہGetty Images
اقوام متحدہ میں ایران کے مشن نے کہا ہے کہ جنوبی اسرائیل میں
حماس کے عسکریت پسندوں کے حملے میں ایران ’ملوث نہیں‘ تھا۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق، اتوار کو ایک بیان میں ایرانی
حکام نے کہا کہ ’ہم فلسطین کی غیر متزلزل حمایت میں بھرپور طور پر کھڑے ہیں، تاہم ہم فلسطین کے ردعمل میں شامل نہیں ہیں، کیونکہ
یہ صرف اور صرف فلسطین نے کیا ہے۔‘
حماس نے پہلے کہا تھا کہ ایران کی مدد سے اسے سنیچر کی صبح اسرائیل
پر حملہ کرنے میں مدد ملی تھی۔
ایران نے برسوں سے حماس کی حمایت کی ہے اور اس کے جنگجوؤں
کو ہتھیار اور تربیت فراہم کرتا رہا ہے ۔ اور حماس کا کہنا ہے کہ ایران کی مدد سے
اسے مربوط حملے میں مدد ملی۔
لیکن امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے اتوار کو سی این این
کو بتایا کہ امریکی حکومت نے ’ابھی تک ایسے شواہد نہیں دیکھے ہیں کہ ایران نے اس حملے
کی ہدایت کی تھی یا اس کے پیچھے تھا۔‘
اسرائیل کا بڑے پیمانے پر فوجی آپریشن یقینی لگتا ہے، جیرمی بوون کا تجزیہ
،تصویر کا ذریعہGetty Images
اب تک بنیامن نیتن یاہو سمیت اسرائیلی وزرائے اعظم نے حماس
کی طاقت کو توڑنے کی کوشش کے لیے غزہ میں ایک بڑی فوج بھیجنے کے اقدام کی مزاحمت کی
ہے۔
یہ ایک خوفناک فوجی چیلنج ہے جو بہت سے فلسطینی شہریوں ہلاکت
کا سبب بھی بنے گا اور شاید یہ کام بھی نہ کرے۔ اس کے بجائے انھوں نے غزہ کا
محاصرہ کر کے اور انٹیلی جنس اور اسرائیل کی فوج کی طاقت پر بھروسہ کر کے حماس پر
قابو پانے کی کوشش کی ہے۔
مگر یہ پالیسی اب ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے۔ بڑے پیمانے پر فوجی
آپریشن یقینی لگتا ہے۔
یہاں تک کہ اگر اس نے جنگ کو دیگر علاقوں میں پھیلائے بغیر اپنے
مقاصد حاصل کر بھی لیے تو یہ کچھ بڑے چیلنجوں سے نمٹ نہیں پائے گا۔
غزہ پر حکومت کیسے ہو گی؟ اسرائیل کے انخلاء کے اگلے دن کیا
ہوگا؟ فوجی طاقت کافی نہیں ہے۔
طویل مدتی اس مہلک تنازعہ کی بنیادی سیاسی وجوہات کو حل
کرنے کی ضرورت ہے۔ اگر نہیں تو مزید نسلیں خونریزی اور درد کی سزا بھگتیں گی۔
بریکنگ, غزہ کے واحد بجلی گھر کا ایندھن اگلے چند دنوں میں ختم ہو جائے گا: اقوام متحدہ
،تصویر کا ذریعہGetty Images
اقوام متحدہ نے اتوار کی رات ایک بیان میں کہا کہ غزہ کا
واحد پاور پلانٹ، جو اس وقت علاقے میں بجلی کا واحد ذریعہ ہے کا ایندھن چند دنوں میں ختم ہو سکتا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ مکمل بلیک آؤٹ کئی زندگیوں کو خطرے میں
ڈال سکتا ہے۔
یاد رہے کہ غزہ کی پٹی کی آبادی تقریباً 23 لاکھ ہے۔
غزہ توانائی کے لیے اسرائیل پر بہت زیادہ انحصار کرتا ہے۔
مقامی حکام کے کے مطابق یہ اسرائیل سے یومیہ 120 میگاواٹ بجلی خریدتا ہے جبکہ اس
کا واحد پاور پلانٹ مزید 60 میگا واٹ فراہم کرتا ہے۔
اسرائیل نے وزیر اعظم کے دفتر کے حکم کے بعد اتوار کو غزہ
کو بجلی کی سپلائی بند کر دی ہے۔
حالیہ واقعات سے قبل بھی غزہ کے باسی بجلی کے بڑھتے ہوئے
بحران سے دوچار رہے ہیں۔
بریکنگ, غزہ میں 123,000 سے زائد فلسطینی بے گھر ہوئے: اقوام متحدہ
،تصویر کا ذریعہGetty Images
اقوام متحدہ نے اتوار کی رات ایک بیان میں کہا کہ 123,000
سے زیادہ فلسطینی بے گھر ہو چکے ہیں، جن میں سے 74,000 کے قریب سکولوں میں پناہ لیے
ہوئے ہیں۔
اسرائیل نے حماس کے اچانک حملے کے جواب میں غزہ پر فضائی
حملے کیے ہیں۔ غزہ کی پٹی تقریباً 2.3 ملین افراد کا گھر ہے۔
فلسطینی محکمہ صحت کے حکام کا کہنا ہے کہ حالیہ اسرائیلی
حملوں 400 سے زائد افراد ہلاک اور 2300 سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔
بریکنگ, غزہ: بجلی کی بندش کے باعث ہسپتالوں کو مشکلات کا سامنا
فلسطین اور اسرائیل کے حالیہ تنازعہ میں دونوں طرف سے جانی
نقصان ہوا ہے۔ فلسطینی محکمہ صحت کے حکام کے مطابق غزہ کی پٹی میں 400 سے زائد
افراد اسرائیلی فضائی حملوں کے نتیجے میں ہلاک اور 2300 سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔
فلسطین کی وزارت صحت نے کہا ہے کہ غزہ میں بجلی کی بندش
ہسپتالوں کے لیے ایک بڑا چیلنج بنی ہوئی ہے۔
اقوام متحدہ کے پناہ گزینوں کے ادارے نے کہا ہے کہ وہ
فلسطینی انکلیو کے 64 سکولوں میں 73,538 بے گھر افراد کو پناہ دے رہا ہے۔
وائٹ ہاؤس کی امریکی شہریوں کی ہلاکت کی تصدیق
امریکی صدارتی دفتر وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ اسرائیل میں ’متعدد‘
امریکی شہری مارے گئے ہیں تاہم اس نے ہلک ہونے والے شہریوں کی تعداد نہیں بتائی
ہے۔
قومی سلامتی کونسل کے ترجمان کا کہنا ہے کہ امریکی حکومت
صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور اسرائیل میں مقامی حکام سے رابطے میں ہے۔
اسرائیل فلسطین حالیہ کشیدگی کی تازہ ترین صورتحال
،تصویر کا ذریعہGetty Images
اسرائیل کا کہنا ہے
کہ حملوں میں اب تک اس کے 700 سے زائد شہری ہلاک ہو چکے ہیں۔ جبکہ فلسطینیوں کا
کہنا ہے کہ غزہ پر اسرائیلی حملوں میں کم از کم 413 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔
امدادی کارکنوں کا
کہنا ہے کہ انھوں نے اسرائیلی میوزک فیسٹیول کے مقام سے 250 سے زائد لاشیں برآمد کی
ہیں۔ اس مقام پر حماس کے جنگجوؤں نے حملہ کیا تھا۔
اتوار کو بھی رات بھر غزہ پر اسرائیلی
راکٹ حملے جاری رہے ہیں
اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ غزہ میں فضائی حملوں سے 123,000
فلسطینی بے گھر ہوئے ہیں جن میں سے 74,000 کے قریب سکولوں میں پناہ لیے ہوئے ہیں۔
امریکہ نے اسرائیلی میں متعدد امریکی شہریوں کی ہلاکت کی
تصدیق کی ہے اور اسرائیل کے لیے جنگی سازوسامان بھیج کر اور خطے میں افواج کو بڑھا
کر حمایت کا اعلان بھی کیا ہے۔
پیر کو تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا کیونکہ سرمایہ کاروں نے
تیل پیدا کرنے والے خطے میں طویل تنازع کے امکان کا اندازہ لگایا