کیئو کے قریب روسی بمباری میں شہریوں کی ہلاکتیں، پولینڈ میں 10 لاکھ سے زیادہ پناہ گزین داخل
اطلاعات کے مطابق یوکرینی دارالحکومت کے قریب ایک علاقے میں روسی افواج کی شیلنگ سے ’ایک ہی خاندان کے تین افراد‘ ہلاک ہوگئے ہیں۔ ادھر ماریوپل کی سٹی کونسل کا کہنا ہے کہ اس جنگ زدہ شہر میں سیزفائر اور شہریوں کے انخلا کا عمل معطل ہوگیا ہے۔
لائیو کوریج
جرمن چانسلر کا صدر پوتن سے یوکرین میں مداخلت روکنے کا مطالبہ
،تصویر کا ذریعہEPA
جرمنی کے حکومتی ترجمان کا کہنا ہے کہ جرمن چانسلر اولاف شولز نے روسی صدر ولادیمیر پوتن سے فون پر بات کی ہے کہ ان سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر یوکرین میں تمام فوجی کارروائیاں روک دیں۔
شولز نے پوتن سے مطالبہ کیا کہ جنگ کی زد میں آنے والے علاقوں میں امدادی سرگرمیوں کی اجازت دی جائے۔
ترجمان کے مطابق ایک گھنٹے طویل گفتگو میں دونوں رہنماؤں نے جلد مزید بات چیت پر اتفاق کیا۔
’پلیز مودی جی، ہیلپ کیجیے‘, ویڈیو: یوکرین میں پھنسے انڈین طلبہ کی مودی سے مدد کی اپیل
انڈین نیوز چینل این ڈی ٹی وی نے ایک ویڈیو پوسٹ کی ہے جس میں بظاہر یوکرین کے انڈین طلبہ مدد کی اپیل کر رہے ہیں۔
قریب چار منٹ کی اس ویڈیو میں ان کا کہنا ہے کہ وہ روسی مداخلت کے آغاز سے سومی سٹیٹ یونیورٹسی میں پھنسے ہوئے ہیں۔
’اب تک کسی طالب علم کو بچایا نہیں گیا۔ روز بمباری اور دھماکے ہو رہے ہیں۔‘
وہ بتاتے ہیں کہ ان کے پاس یوکرین کی سرحد پر پہنچنے کے لیے آمد و رفت کا کوئی ذریعہ نہیں ہے اور اگر انھوں نے سرحد پہنچنے کی کوشش کی تو ان کی زندگی کو خطرہ لاحق ہے۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام
یوکرین میں جوہری پلانٹ پر حملہ کتنا خطرناک تھا؟
انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی کا کہنا ہے کہ یوکرین میں جوہری پاور پلانٹ پر روسی حملے سے کوئی حفاظتی نظام متاثر نہیں ہوا اور اب تک کی اطلاعات کے مطابق تابکاری کا مواد بھی خارج نہیں ہوا ہے۔
تاہم جوہری ماہرین کہتے ہیں کہ روسی حملے نے ایک بہت خطرناک صورتحال کو جنم دیا ہے۔
اگر کسی جوہری پاور پلانٹ کا ری ایکٹر (جو جوہری توانائی پیدا کرتا ہے) اور اس کے اردگرد کی عمارت کو نقصان پہنچتا ہے اور ری ایکٹر کا درجہ حرارت بہت زیادہ بڑھ جاتا ہے تو اس سے بڑا جوہری حادثہ ہوسکتا ہے۔
پلانٹ سے خارج ہونے والی تابکاری اردگرد کے ماحول میں داخل ہوسکتی ہے۔ اس تابکاری سے متاثر ہو کر لوگ فوری اور طویل مدتی امراض میں مبتلا ہوسکتے ہیں، جیسے کینسر۔
تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ حملہ خطرناک تھا لیکن چرنوبل کے مقابلے زیپروزیا کے پلانٹ میں اہم تبدیلیاں ہیں۔
کیا روسی افواج نے یوکرین کے شہریوں پر کلسٹر بم گرائے؟
بریکنگ, نیٹو: روس نے یوکرین میں کلسٹر بم استعمال کیے
نیٹو کے سیکریٹری جنرل جینز سٹولٹنبرگ کہتے ہیں کہ یوکرین میں روسی مداخلت کے بعد ایسے شواہد سامنے آئے ہیں کہ روس نے وہاں کلسٹر بم دھماکے کیے ہیں۔
انھوں نے بتایا ہے کہ ’ہم نے کلسٹر بموں کا استعمال دیکھا ہے اور ایسے ہتھیار استعمال کرنے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں جو بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہیں۔‘
ان کا کہنا ہے کہ مغربی فوجی اتحاد یوکرین میں نو فلائی زون نہیں بنائے ہیں اور نہ ہی وہاں فوجی دستے بھیجے گا۔ مگر اس نے وعدہ کیا ہے کہ وہ کیئو کی مدد کرے گا۔
انھوں نے روسی صدر ولادیمیر پوتن سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر اس مداخلت کو ختم کیا جائے۔
پوتن: روس پابندیوں کا مقابلہ کرے گا
،تصویر کا ذریعہReuters
روسی صدر ولادیمیر پوتن نے کہا ہے کہ ان کے ملک پر مزید تجارتی پابندیوں سے عالمی سطح پر نقصان ہوگا۔
وہ کہتے ہیں کہ جو لوگ تعاون نہیں کریں گے وہ روس کو نقصان پہنچانے کے ساتھ اپنا نقصان بھی کریں گے۔
وہ کہتے ہیں کہ نقصان کے باوجود ان کا ملک اس کا مقابلہ کرے گا اور خود کو درپیش مشکلات سے نمٹے گا۔
’ہم اس (پابندی) سے فائدہ حاصل کریں گے۔‘
نیوکلیئر پلانٹ پر حملہ ’جوہری دہشتگردی ہے‘
یوکرین کے وزیر توانائی کا کہنا ہے کہ روسی دستوں نے ایک جوہری پاور پلانٹ پر قبضہ کر لیا ہے مگر اسے موجودہ عملہ حفاظت کے ساتھ چلا رہا ہے۔
تاہم انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ اس نیوکلیئر پلانٹ پر روسی شیلنگ ’اصل جوہری دہشتگردی ہے۔‘
’انھوں نے براہ راست سٹیشن پر شیلنگ کی۔ وہ جانتے ہیں کہ انھوں نے کیا کِیا ہے۔‘
یوکرین کے جوہری پلانٹ میں آگ لگنے سے اموات کا خدشہ
،تصویر کا ذریعہReuters
یوکرین کی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ ایک پاور پلانٹ میں روسی شیلنگ کے بعد آگ لگنے سے کئی لوگ ہلاک اور زخمی ہوگئے ہیں۔
فیس بک پر جاری کیے گئے بیان میں وزارت کا کہنا ہے کہ کئی ملازمین یہ کوشش کر رہے ہیں کہ زیپروزیا شہر کے پلانٹ میں حفاظتی اقدام یقینی بنائے جاسکیں جبکہ فی الحال تابکاری کی سطح معمول کے مطابق ہے۔
لیکن اگر جوہری ایندھن کو ٹھنڈا رکھنے کا نظام متاثر ہوتا ہے تو اس سے بڑے پیمانے پر نقصان ہوسکتا ہے۔
وزارت کا کہنا ہے کہ ’اس سے ہزاروں لوگ متاثر ہوں گے۔ ان میں وہ شہری شامل ہیں جو شیلنگ اور لڑائی کی وجہ سے نکل نہیں پا رہے۔‘
یوکرینی وزارت خاجہ نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ روسی افواج کو اس علاقے سے نکالا جائے تاکہ حفاظتی اقدامات یقینی بنائے جائیں۔
بریکنگ, جوہری پلانٹ پر حملے سے ’چرنوبل کے چھ گنا‘ تباہی ہو سکتی تھی، زیلنسکی, ’تابکاری کو نہیں پتا روس کی سرحدیں کہاں سے شروع ہوتی ہیں‘
،تصویر کا ذریعہUKRAINIAN PRESIDENTIAL PRESS SERVICE
یوکرین کے صدر زیلنسکی کا کہنا ہے کہ زیپروزیا کے جوہری پاور پلانٹ پر روسی حملے سے ’چرنوبل کے چھ گنا تباہی‘ ہو سکتی تھی۔
انھوں نے ٹیلی ویژن پر خطاب میں کہا ’یوکرین کے لوگو! ہم اس رات سے بچ گئے جو یوکرین کی تاریخ، یورپ کی تاریخ کے دھارے کو روک سکتی تھی۔‘
انھوں نے کہا کہ روس کو معلوم تھا کہ براہ راست سٹیشن پر گولہ باری کا کیا مطلب ہے۔ انھوں نے اسے ’دہشت گردی کی ایسی کارروائی‘ قرار دیا جس کے بارے میں اس سے قبل کسی نے سنا تک نہ ہو۔
روسی عوام کو مخاطب کرتے ہوئے انھوں نے کہا ’یہ کیسے ممکن ہے؟ کیا ہم نے 1986 میں چرنوبل کی تباہی کے نتائج کا ایک ساتھ مقابلہ نہیں کیا؟‘
انھوں نے کہا ’سڑکوں پر نکلیں اور اپنی حکومت کو بتائیں کہ آپ جینا چاہتے ہیں۔‘
انھوں نے یوکرین پر نو فلائی زون قائم کرنے اور روس کے خلاف پابندیوں کا بھی مطالبہ کیا ہے۔
انھوں نے روسی عوام کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ’تابکاری نہیں جانتی کہ روس کہاں ہے۔ تابکاری کو نہیں پتا کہ آپ کے ملک کی سرحدیں کہاں سے شروع ہوتی ہیں۔‘
،تصویر کا ذریعہReuters
تابکاری مواد کا اخراج نہیں ہوا، بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی
یوکرین میں زیپروزیا کے جوہری پاور پلانٹ پر روسی حملے کے بعد بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کے ڈائریکٹر جنرل رافیل گروسی کا کہنا ہے کہ:
’راتوں رات ایک پروجیکٹائل پلانٹ کی عمارت سے ٹکرا گیا۔ یہ عمارت ری ایکٹرز کا حصہ نہیں ہے۔ اس سے لگنی والی آگ پر قابو پا لیا گیا ہے۔‘
ان کا مزید کہنا ہے کہ ’پلانٹ کا حفاظتی نظام متاثر نہیں ہوا اور نہ ہی تابکاری مواد کا اخراج ہوا ہے۔‘
یوکرین کا 9000 سے زائد روسی فوجی مارنے کا دعویٰ
یوکرین کی فوج کے جنرل سٹاف نے 4 مارچ کو فیس بک پر دعویٰ کیا کہ روس کے یوکرین پر حملے کے بعد سے اب تک 9000 روسی فوجی ہلاک ہو چکے ہیں۔
جنرل سٹاف کی جانب سے روس کو پہنچائے گئے نقصانات کا دعویٰ:
فوجی - تقریباً 9166
ٹینک - 251
اے پی وی (بکتر بند گاڑیاں) - 939
توپ خانہ سسٹم - 105
راکٹ لانچ سسٹم - 50
طیارہ شکن سسٹم - 18
طیارے - 33
ہیلی کاپٹر - 37
گاڑیاں - 404
ہلکی سپیڈ بوٹس - دو
ایندھن کے ٹینک - 60
آپریشنل ٹیکٹیکل لیول یو اے وی ایس - تین
جوہری پلانٹ کی صورتحال جنگ کے بارے میں لاپرواہی ظاہر کرتی ہے، نیٹو چیف
مغربی وزرائے خارجہ یوکرین کی جنگ پر اپنے ردعمل کا جائزہ لینے کے لیے برسلز میں جمع ہو رہے ہیں۔
نیٹو کے سیکرٹری جنرل جینز سٹولٹن برگ نے یوکرین میں روسی کارروائیوں کی مذمت کی جس میں جوہری پاور پلانٹ پر گولہ باری بھی شامل ہے۔
یورپ کا سب سے بڑا جوہری پلانٹ زیپروزیا اب روس کے کنٹرول میں ہے۔
انھوں نے کہا ’ہم شہریوں پر حملوں کی مذمت کرتے ہیں اور ہم نے راتوں رات جوہری پاور پلانٹ پر حملے کی رپورٹس بھی دیکھی ہیں۔ یہ اس جنگ کے بارے میں لاپرواہی کو ظاہر کرتا ہے‘
’ لہذا ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم جلد از جلد اسے ختم کرنے، روس کے تمام فوجیوں کو واپس بلانے اور سفارتی کوششوں میں نیک نیتی کے ساتھ شامل ہونے کی اہمیت پر زور دیں۔‘
بریکنگ, چرنیہیو پر روسی فضائی حملوں میں مرنے والوں کی تعداد میں اضافہ
یوکرینی حکام کا کہنا ہے کہ جمعرات کو چرنیہیو شہر کے رہائشی ضلع پر روسی فضائی حملوں میں 47 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔
مقامی ایمرجنسی سروسز کے مطابق جمعرات کو شدید گولہ باری کے باعث ریسکیو کا کام معطل کرنا پڑا۔
حکام کے مطابق اس علاقے میں اب تک مجموعی طور پر 148 افراد ہلاک ہو چکے ہیں جن میں زیادہ تر عام شہری ہیں۔
یہ شہر ملک کے شمال میں روس اور بیلاروس کی سرحدوں کے قریب واقع ہے۔
ماریوپل کے ڈپٹی میئر کی نیٹو سے فوج بھیجنے اور یوکرین میں ’نو فلائی زون‘ قائم کرنے کی اپیل
،تصویر کا ذریعہReuters
جنوبی بندرگاہی شہر ماریوپل شدید گولہ باری کی زد میں ہے۔
شہر کے ڈپٹی میئر نے نیٹو رہنماؤں سے یوکرین میں فوج بھیجنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ روس اس وقت تک نہیں رکے گا جب تک وہ ملک کو صحرا نہ بنا دے اور بہت سے شہریوں کو ہلاک نہ کر دے۔
سرگئی اورلوف نے بی بی سی ریڈیو 4 کے پروگرام میں کہا: ’ایسا کوئی طریقہ نہیں ہے کہ پوتن کو ہمارے شہریوں کو مارنے سے روکا جا سکے جب تک کہ نیٹو بیدار ہو کر یہ سمجھ نہ لے کہ یہ کوئی علاقائی تنازعہ نہیں ہے -‘
’یہ جمہوریت کے خلاف جنگ ہے، آزادی کے خلاف ہے، نیٹب ممالک کے خلاف جنگ ہے، یہ یورپ کی سب سے بڑی قوم کے خلاف جنگ ہے۔‘
انھوں نے مزید کہا ’نیٹو رہنماؤں کو سمجھ نہیں آ رہی کہ پوٹن نہیں رکیں گے، یہ رہنما خوفزدہ ہیں اور یہ افسوس کی بات ہے۔‘
’ہم امید کرتے ہیں کہ ایک دن نیٹو رہنما سمجھ جائیں گے کہ پوتن کو روکنے کے لیے یوکرین کو براہ راست فوجی مدد فراہم کرنا بہت ضروری ہے۔‘
انھوں نے کہا ’یا کم از کم یوکرین میں نو فلائی زون کا اطلاق کر دیں تاکہ ہمیں فضائی حملوں کے خطرے سے بچایا جا سکے۔‘
،تصویر کا ذریعہGetty Images
نو فلائی زون کیا ہوتا ہے؟
نو فلائی زون سے مراد یہ ہے کہ کسی خطے کی فضائی حدود کے اندر خاص قسم کے طیارے پرواز نہیں کر سکتے۔ یہ پابندی عموماً کسی ملک کے خاص مقامات کو فضائی حملوں سے محفوظ رکھنے کے لیے لگائی جاتی ہے۔
اس کے علاوہ کھیلوں کے مقابلوں اور بڑے عوامی اجتماعات کی صورت میں بھی نو فلائی زون کی پابندی عارضی طور پر لگائی جا سکتی ہے۔ اس کا بنیادی مقصد کسی خاص حدود کے اندر طیاروں کو داخلے سے روکنا ہوتا ہے، تاکہ ان مقامات کو حملوں اور دشمن کی جانب سے فضائی نگرانی سے محفوظ رکھا جا سکے۔
برطانیہ کے ایک وزیر نے خبردار کیا ہے کہ اگر نیٹو ااتحاد نے یوکرین میں نو فلائی زون کا اطلاق کیا تو اس سے ’جوہری جنگ‘ کا آغاز ہو سکتا ہے۔
اس قسم کی پابندی کا اطلاق فوجی طاقت اور ذرائع سے کیا جاتا ہے، جیسے فوجی نگرانی، فوجی تنصیبات پر ممکنہ حملے کو روکنے کے لیے دشمن کی فوج پر حملہ (پری ایمپٹِو سٹرائیک) اور ایسے طیاروں کو مار گرانا جو اس پابندی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے نو فلائی زون میں داخل ہو جائیں۔
اگر یوکرین میں نوفلائی زون کا اطلاق کیا جاتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہو گا کہ فوجی، خاص طور پر اگر ضروری ہوا تو نیٹو اتحاد کی فوجیں یوکرین کی فضاؤں میں اڑنے والے روسی طیاروں کو براہ راست نشانہ بنا سکیں گی۔
،تصویر کا ذریعہEPA
مغرب یوکرین میں نو فلائی زون کا اطلاق کیوں نہیں کرے گا؟
اگر نیٹو فورسز روسی طیاروں یا روسی جنگی آلات کے ساتھ براہ راست ٹکراتی ہیں تو اس سے لڑائی میں بہت تیزی سے اضافہ ہو سکتا ہے۔
اس حوالے سے امریکی فضائیہ کے سابق سینیئر افسر، جنرل فلپ بریڈلوو نے ایک جریدے کو بتایا تھا کہ ’آپ صرف یہ نہیں کہہ دیتے کہ فلاں علاقہ نو فلائی زون ہو گیا ہے، بلکہ آپ کو وہاں نو فلائی زون کا طاقت کے زور پر اطلاق کرنا پڑتا ہے۔‘
جنرل فلپ بریڈلوو سنہ 2013 سے 2016 تک نیٹو کے سپریم کمانڈر بھی رہے ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ اگرچہ وہ بھی یوکرین میں نو فلائی زون کا اطلاق چاہتے ہیں لیکن یہ ایک بہت خطرناک فیصلہ ہو گا۔
’یہ جنگ چھیڑنے کے مترداف ہو گا۔ اگر ہم (یوکرین کو) نو فلائی زون قرار دینے جا رہے ہیں، تو ہمیں دشمن کی صلاحیت کو ختم کرنا ہو گا کہ وہ اس علاقے میں حملہ نہ کر سکے اور ہم اپنے نو فلائی زون پر عمل کروا سکیں۔‘ مزید پڑھیے >>
ارب پتی روسی ’اولیگارک‘ کون ہیں اور صدر پوتن کا ان سے کیا تعلق ہے؟
،تصویر کا ذریعہGETTY IMAGES
روس کے یوکرین پر حملے اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے عالمی بحران نے روسی ’اولیگارک‘ یعنی سیاسی اثرورسوخ رکھنے والے امرا اور کاروباری شخصیات کو ایک بار پھر خبروں کا موضوع بنا دیا ہے۔
یوکرین پر روس کے حملے کے بعد مغربی ممالک نے روسی بینکوں اور ملک ایسے اہم افراد پر پابندیاں لگا دی ہیں جنھیں مغربی ذرائع ابلاغ میں پوتن کے ’قریبی ساتھی‘ کہا جاتا ہے۔
’اولیگارک‘ ہوتا کیا ہے، یہ اصطلاح آئی کہاں سے اور ایسی کئی روسی شخصیات پر مغرب پابندیاں کیوں لگا رہا ہے۔ اس بارے میں مزید پڑھیے >>
کیئو میں گولی لگنے سے انڈین طالبعلم زخمی, بی بی سی مانیٹرنگ
،تصویر کا ذریعہGetty Images
انڈیا کے وزیر برائے شہری ہوا بازی وی کے سنگھ نے کہا ہے کہ یوکرین کے دارالحکومت کیئو میں مبینہ طور پر ایک انڈین طالب علم کو گولی مار کر زخمی کر دیا گیا ہے۔
وی کے سنگھ انڈین شہریوں کے یوکرین سے انخلا میں سہولت فراہم کرنے کے لیے پولینڈ میں موجود ہیں۔
انڈین ایکسپریس اخبار نے وی کے سنگھ کے حوالے سے لکھا ’ہم نے ایسی خبریں سنی ہیں کہ کیئو سے نکلنے والے ایک طالب علم کو گولی مار دی گئی ہے۔ اسے واپس کیئو لے جایا گیا ہے۔ لڑائی میں ایسے حادثات ہوں گے۔‘
اس سے قبل یکم مارچ کو خارخیو میں روسی افواج کے حملے کے دوران ایک انڈین طالب علم ہلاک ہو گیا تھا۔
یوکرین کی رومانیہ، ہنگری اور پولینڈ کے ساتھ زمینی سرحدوں کے ذریعے انڈیا اپنے شہریوں کو نکال رہا ہے۔
یوکرین تنازع: روسی حملے سے پہلے اور بعد کی تصاویر
روسی میزائل حملوں نے یوکرین کے شہروں، قصبوں اور دیہاتوں کو تباہ کر دیا ہے۔
روسی حملے سے پہلے اور بعد کی تصاویر شہری علاقوں میں ہونے والی تباہی کو ظاہر کرتی ہیں۔
،تصویر کا ذریعہbbc
،تصویر کا کیپشنارپین کا شہر کیئو کے شمال مغرب میں 20 کلومیٹر پر واقع ہے اور گذشتہ ہفتے کے دوران روسی اور یوکرینی افواج کے درمیان لڑائی میں یہ شہر فرنٹ لائن پر رہا ہے۔
،تصویر کا ذریعہbbc
،تصویر کا کیپشنیوکرین کا دوسرا سب سے بڑا شہر خارخیو گذشتہ کئی دنوں سے روسیوں کی جانب سے شدید فضائی بمباری کا مرکز بنا ہوا ہے اور شہر کے مرکز کو بری طرح نقصان پہنچا ہے۔
،تصویر کا ذریعہbbc
،تصویر کا ذریعہbbc
،تصویر کا کیپشنبورودیانکا کیئو کے شمال مغرب میں 60 کلومیٹر پر ایک قصبہ ہے، روسی فضائی حملوں میں یہاں کئی رہائشی عمارتیں تباہ ہو گئی ہیں۔
،تصویر کا ذریعہbbc
،تصویر کا ذریعہbbc
روسی فوجیوں کی ساری توجہ کیئو کو گھیرنے پر مرکوز ہے: یوکرین
یوکرین کے جنرل سٹاف نے 4 مارچ کو فیس بک پر فوجی صورتحال کے بارے میں پوسٹ کیا ہے کہ روسی فوجیوں کی ساری توجہ کیئو کو گھیرنے اور مزاحمت کو کمزور کرنے پر مرکوز ہے۔
پوسٹ میں کہا گیا ہے کہ ’اس مقصد کے حصول میں روسی مسلح افواج کے آپریشنل ذخائر کا اہم حصہ ختم ہو گیا ہے اور جنوبی اور مشرقی فوجی اضلاع سے اضافی فوجیوں اور آلات کی تعیناتی کی تیاری شروع کر دی گئی ہے۔‘
جنرل سٹاف کا کہنا ہے کہ یوکرین کی مسلح افواج نے کیئو کے اردگرد کوزارووچی، ویشورود، فاستیو اور اوبوخیو کے کچھ دیگر علاقوں کے قریب جارحانہ کارروائیاں کی ہیں۔
جنرل سٹاف نے مزید کہا کہ ’اس امکان کو رد نہیں کیا جا سکتا کہ بیلاروسی افواج کو یوکرین کے خلاف جنگ میں گھسیٹنے کے لیے روس سرحد پر اشتعال انگیزی میں اضافہ کر سکتا ہے۔‘
روس نے جوہری پلانٹ پر حملہ کرکے پورے براعظم کو خطرے میں ڈالا ہے: عالمی رہنماؤں کی مذمت
،تصویر کا ذریعہGetty Images
عالمی رہنماؤں نے روس پر الزام لگایا ہے کہ اس کی افواج نے جنوبی یوکرین میں ایک جوہری پاور پلانٹ پر گولہ باری کرکے پورے براعظم کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔
زیپروزیا جوہری پاور پلانٹ پر روسی فوجیوں کی طرف سے گولہ باری کے بعد آگ بھڑک اٹھی تھی۔
یوکرین کی ایمرجنسی سروسز کا کہنا ہے کہ پہلے انھیں جوہری پلانٹ تک پہنچنے سے روک دیا گیا تھا لیکن بعد میں وہ عمارت تک رسائی حاصل کرنے اور آگ پر قابو پانے میں کامیاب ہو گئے۔
حکام کا کہنا ہے کہ یہ عمارت محفوظ ہے اور تابکاری کی سطح معمول پر ہے مگر تازہ اطلاعات کے مطابق اب یہ پلانٹ روسی افواج کے قبضے میں ہے۔
برطانیہ کے وزیر اعظم بورس جانسن نے کہا ہے کہ اس ’لاپرواہ‘ حملے سے پورے یورپ کی سلامتی کو براہ راست خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔
امریکی صدر جو بائیڈن نے ماسکو پر زور دیا کہ وہ اس جگہ کے ارد گرد اپنی فوجی سرگرمیاں روک دے۔
جبکہ کینیڈا کے وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو نے کہا کہ روس کی جانب سے ان حملوں کو فوری طور پر بند ہونا چاہیے۔
ان تینوں رہنماؤں نے یوکرین کے صدر زیلنسکی سے فون پر بات کی ہے۔
بریکنگ, یوکرین: روسی افواج نے جوہری پلانٹ پر قبضہ کر لیا ہے
یوکرینی حکام کا کہنا ہے کہ روسی فوجیوں نے زیپروزیا جوہری پاور پلانٹ پر قبضہ کر لیا ہے۔
خبر رساں ادارے روئٹرز نے ایک مقامی اتھارٹی کے حوالے سے لکھا ہے کہ ’آپریشنل اہلکار پاور یونٹس پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔‘
ان کا کہنا ہے کہ سٹیشن پر موجود اہلکار اپنا کام کرتے رہیں گے اور وہ پاور یونٹس کی نگرانی جاری رکھیں گے۔
اس سے قبل یورپ کے اس سب سے بڑے پارو پلانٹ میں روسی حملے کے بعد آگ بھڑک اٹھی تھی۔