آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

انڈین ریاست مہاراشٹرا میں 15 جون تک لاک ڈاؤن، تیسری لہر میں بچوں کے متاثر ہونے کا خدشہ

انڈیا کی ریاست مہارشٹرا میں 15 جون تک لاک ڈاؤن بڑھا دیا گیا ہے۔ ریاست کے وزیر اعلیٰ نے وبا کی تیسری لہر کے دوران بچوں کے متاثر ہونے کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔ دوسری جانب پاکستان کے صوبہ پنجاب کے وزیر تعلیم ڈاکٹر مراد راس نے کہا ہے کہ 31 مئی یعنی آج بروز سوموار سے صوبے بھر میں دسویں اور بارہویں جماعت کے طلبا کے لیے تعلیمی ادارے کھول دیے جائیں گے۔

لائیو کوریج

  1. سائنوفارم کمپنی کی دونوں ویکسینز 70 فیصد سے زیادہ موثر ہیں: تحقیق

    تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ چین کی دواساز کمپنی سائنوفارم کی دو مختلف ویکسینز ان کیسز میں 70 فیصد سے زیادہ مؤثر ہیں جن میں کووڈ کی علامات ظاہر ہوتی ہیں۔

    تاہم تاحال یہ واضح نہیں ہے کہ اس کے باعث شدید علامات یا بغیر علامات کے متاثرہ افراد پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ یہ معلومات بڑے پیمانے پر کیے گئے آخری مراحل کے ٹرائلز کے نتائج سے پتا چلی ہیں۔

    ان تنائج کے مطابق سائنوفارم کمپنی کے ایک ذیلی محکمے کی جانب سے ووہان میں بنائی گئی ویکسین علامات کے ساتھ ہونے والے کووڈ کے مریضوں کے لیے دوسرے انجیکشن کے دو ہفتوں بعد 72 اعشاریہ آٹھ فیصد موثر ہے۔ یہ تحقیق بدھ کے روز جرنل آف دی امیریکن میڈیکل اسوسی ایشن میں چھپی تھی۔

    فروری میں کمپنی کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق اس ویکسین کی شرح 72 اعشاریہ پانچ فیصد تھی۔ یعنی مزید تحقیق کے بعد اس میں بہتری واقع ہوئی ہے۔

    اس کے علاوہ بیجنگ میں قائم ایک انسٹیٹیوٹ کی جانب سے سائنوفارم کمپنی کی شراکت سے بنائی گئی ویکسین جسے اس ماہ عالمی ادارہ صحت کی جانب سے ایمرجنسی اجازت ملی ہے 78 اعشاریہ ایک فیصد مؤثر ہے۔

    یہ اعداد و شمار ایک ایسے ٹرائل کے بعد شائع کیے گئے ہیں جس میں 40 ہزار سے زیادہ افراد شریک ہوئے تھے۔ ان میں 142 علامات کے ساتھ مریضوں میں سے 26 کو ووہان یونٹ کی ویکسین، جبکہ 21 کو بیجنگ یونٹ کی ویکسین لگائی گئی۔

    اس تحقیق میں کہا گیا ہے کہ ان میں سے صرف دو ایسے مریض تھے جن کی حالت تشویش ناک تھی، اس لیے اس حوالے سے کوئی فیصلہ کن بات نہیں کہی جا سکتی۔

    اس کے مطابق یہ تحقیق اس سوال کا جواب بھی نہیں دے سکتی کہ آیا ویکسینز بغیر علامت کے کووڈ کو بھی روکنے میں مدد کرتی ہے۔

    اس ٹرائل میں متحدہ عرب امارات اور بحرین کے ممالک سے لیے گئے افراد میں حاملہ خواتین اور 18 برس سے کم عمر افراد کو شامل نہیں کیا گیا جبکہ عمر رسیدہ افراد اور پہلے سے کسی مرض میں مبتلا افراد کے اعداد و شمار بھی ناکافی تھے۔

    مصر اور اردن سے لیے جانے والے اعداد و شمار مکمل رپورٹ میں شامل کیے جائیں گے۔

  2. ٹوکیو اولمپکس کے انعقاد سے وائرس کی نئی ’اولمپک قسم‘ جنم لے سکتی ہے: جاپانی ڈاکٹر کی تنبیہ

    جاپانی ڈاکٹروں کی یونین کے سربراہ نے خبردار کیا ہے کہ ٹوکیو میں موسمِ گرما میں ہونے والی اولمپک گیمز کے انعقاد سے وائرس کی نئی ’اولمپک‘ قسم جنم لے سکتی ہے۔

    خبررساں ادارے روئٹرز کے مطابق ڈاکٹر ناوتو یویاما کے مطابق اولمپکس کے دوران دنیا بھر کے 200 سے زیادہ ممالک سے ہزاروں افراد اس ایونٹ میں شرکت کے لیے آییں گے اس لیے جولائی میں ان گیمز کا انعقاد خطرناک ہو سکتا ہے۔

    انھوں نے ایک نیوز کانفرنس کے دوران کہا کہ ’وائرس کی مختکف اقسام جو اس وقت پوری دنیا میں پائی جاتی ہیں وہ ٹوکیو میں اکھٹی ہو جائیں گی۔ ہم اولمپکس کے بعد ایک نئی قسم کے جنم لینے کے امکان کو بھی رد نہیں کر سکتے۔‘

    ان کا مزید کہنا تھا کہ ’اگر ایسی صورتحال پیدا ہوتی ہے تو اس سے وائرس کی نئی قسم کا نام ٹوکیو اولمپک قسم رکھا جائے گا جو ایک سانحے سے کم نہ ہو گا، اور اس حوالے سے 100 سال تک تنقید کی جاتی رہے گی۔

  3. انڈیا میں ’غفلت کے باعث‘ 20 افراد کو دو مختلف ویکسینز لگانے پر انکوائری کا حکم

    شمالی انڈیا میں ریاست اترپردیش میں 20 افراد کو کورونا وائرس کی دو مختلف ویکسینز لگانے کے بعد حکام کی جانب سے اس حوالے انکوائری کا حکم دیا گیا ہے۔

    ان 20 افراد کو اپریل میں ایسٹرازینیکا کی ایک خوراک دی گئی تھی جبکہ مئی میں انھیں مقامی طور پر تیار کردہ کوویکسن کی خوراک دی گئی ہے۔

    دنیا کے دیگر ممالک کی طرح انڈیا میں بھی دو مختلف ویکسینز دینے کی اجازت نہیں ہے اور اس وقت دنیا بھر میں اس حوالے سے تحقیق جاری ہے کہ آیا مختلف ویکسینز لگانا محفوظ ہے یا نہیں۔

    حکام کا کہنا ہے کہ یہ 20 افراد تاحال صحت مند ہیں اور ان میں ویکسین کے مضر اثرات نہیں دیکھے گئے۔

    ریاست اتر پردیش کے ضلع سدھارتنگر کے حکام کا کہنا ہے کہ انھوں نے اس ’انتظامی نا اہلی‘ سے متعلق انکوائری آرڈر کر دی ہے۔

    انھوں نے انڈین نیوز چینل این ڈی ٹی وی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انھوں نے ’غفلت برتنے والوں سے‘ وضاحت مانگی ہے جس کے بعد ان کے خلاف کارروائی کی جا سکتی ہے۔

    ان افراد کو خدشہ ہے کہ ’ویکسینز کے اس ملاپ‘ کے باعث آنے والے ہفتوں میں انھیں اس کے مضر اثرات سے نمٹنا پڑے گا۔

    یہ ’غفلت‘ ایک ایسے موقعے پر سامنے آئی ہے جب انڈیا کو پہلے ہی ویکسینز کی قلت کا سامنا ہے۔

  4. آسٹریلوی حکومت سرحدیں کھولنے کے معاملے میں ہچکچاہٹ کا شکار کیوں ہے؟

    آسٹریلیا کا شمار دنیا کے ان ممالک میں ہوتا ہے جس نے کووڈ 19 کی عالمی وبا پر کامیابی سے قابو پایا ہے اور یہاں انفیکشن ریٹ تقریباً صفر رہا اور زندگی معمول پر آ چکی ہے۔

    اس کی ایک بڑی وجہ ملک کی جانب سے سرحدیں بند کرنا ہے اور یہ ایک ایسی حکومتی پالیسی ہے جسے عوام کی جانب سے خاصی حمایت ملی ہے۔

    تاہم ایک سال تک تمام دنیا سے علیحدہ رہنے کے بعد اب ملک میں اس ’فورٹرس آسٹریلیا‘ پالیسی کے حوالے سے خاصی بے چینی پائی جاتی ہے۔

    حال ہی میں حکومت کی جانب سے اس اعلان کے بعد خدشات میں مزید اضافہ ہوا ہے کہ آسٹریلیا کی سرحدیں 2022 کے وسط تک نہیں کھولی جائیں گی۔

    ناقدین کا کہنا ہے کہ سرحدوں کو زیادہ دیر تک بند رکھنے سے معیشت، نوجوانوں اور علیحدگی پر مجبور خاندانوں کو دیر پا نقصان اٹھانا پڑے گا جبکہ یہ آسٹریلیا کے امیج کے بھی خلاف ہے جس کے مطابق یہ سب کے لیے کھلا ہے اور یہاں ہر نسل کے لوگ آ سکتے ہیں۔

    آسٹریلیا کو واپس عام دنیا کے ساتھ جوڑنے کے حوالے سے مطالبات زور پکڑ رہے ہیں اور ملک اب ان خدشات سے نبردآزما ہے جس کے مطابق اسے سرحدوں کے بند ہونے سے ملنے والے تحفظ اور علیحدگی میں رہنے سے ہونے والے نقصان کے بیچ توازن پیدا کرنا ہے۔

    تاہم حکومت کو اب اس بڑھتے دباؤ کا سامنا ہے جس میں اسے عالمی وبا کے اگلے مرحلے سے نبردآزما ہونا ہے۔

    وزیرِ اعظم سکاٹ موریسن جو اگلے سال الیکشن بھی لڑیں گے، نے اعلان کیا تھا کہ آسٹریلیا 2022 کے وسط تک ایسے ہی بند رہے گا۔

    اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ ملک میں ویکسین لگانے کا عمل تاخیر کا شکار ہے اور یہ دیگر ترقی یافتہ ممالک کے مقابلے میں اس حوالے سے بہت پیچھے ہے۔

  5. بریکنگ, پاکستان میں گذشتہ روز ریکارڈ دو لاکھ 94 ہزار سے زیادہ ویکسینیشنز

    پاکستان میں گذشتہ روز دو لاکھ 90 ہزار سے زیادہ افراد کو کووڈ ویکسین لگائی گئی ہے جو اب تک کا ریکارڈ ہے۔

    اب تک ملک میں کل 64 لاکھ افراد کو ویکسین لگائی جا چکی ہے۔ خیال رہے کہ اس وقت ملک میں 30 سال سے زیادہ عمر کے افراد کو ویکسین لگائی جا رہی ہے جبکہ آج سے ملک میں 19 برس سے زیادہ کے افراد ویکسین کے لیے اندارج کروا سکیں گے۔

  6. غم و غصے کے اس دور میں انڈین حکومت 'مثبت سوچ' کیوں چاہتی ہے؟, ونیت کھرے، بی بی سی نیوز

    کورونا وائرس کی وجہ سے ایک طرف حکومت پر ہلاکتوں کی تعداد کم بتانے کے الزامات کے درمیان انڈیا میں اموات کی کل تعداد تین لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے۔

    اس وقت صورتحال اپریل کے مقابلے میں خاصی بہتر ہے، لیکن یہ بھولنا مشکل ہے کہ کس طرح آکسیجن کی کمی، ہسپتالوں میں آئی سی یو بیڈز اور وینٹیلیٹرز نہ ہونے کی وجہ سے لوگ سڑکوں اور گھروں میں مر رہے تھے۔

    کس طرح لوگوں کو ادویات اور آکسیجن کے لیے بلیک مارکیٹ کا رخ کرنا پڑا اور بہت سے خاندان معاشی طور پر برباد ہو گئے اور آخری رسوم کے لیے انھیں اپنے کندھوں پر کس طرح لاشیں اٹھانا پڑیں۔

    یہ الزامات لگائے جا رہے ہیں کہ یہ سب اس لیے ہوا ہے کہ نریندر مودی حکومت کورونا وبا کی دوسری لہر کے لئے تیار نہیں تھی۔

    وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت کی مسلسل بڑھتی ہوئی تنقید کے درمیان ملک کی اور پوری دنیا میں حکومت کی 'تھنک پازیٹو' مہم زیر بحث آ گئی ہے۔

    کیا اس مہم کا مقصد بری خبروں کو کم کرنا ہے یا تنقید سے ان کی توجہ ہٹانا ہے؟

    سیما چشتی کے مطابق ’سیاسی طور پر حوصلہ افزائی‘ اس مہم کا اصل مقصد ہے ’جو کچھ بھی ہوا ہے، لوگوں کو ان سب کو کسی طرح بھول جانا چاہیے۔‘

    وہ کہتی ہیں کہ حکومت کا مقصد کسی نہ کسی طرح کورونا کی وبا سے لوگوں کی توجہ ہٹانا ہے تاکہ وہ یہ کہہ سکیں کہ ’اچھے دن‘ آ رہے ہیں۔

    ناقدین کے مطابق کورونا سے متعلق پی آئی بی بریفنگ میں حکومت کی یہ کوشش بھی ہے کہ وہ ملک کی صورتحال کی بہتر تصویر پیش کریں، اور میڈیا سے بات کریں کہ ملک میں صورتحال کس طرح بہتر ہو رہی ہے اور لوگ صحت یاب ہو رہے ہیں۔

  7. کووڈ 19 کے پھیلاؤ کی ابتدا کو سیاسی رنگ دینے سے تحقیقات متاثر ہوں گی: چینی سفارت خانہ

    امریکہ میں چینی سفارتخانے کی ویب سائٹ پر ایک بیان جاری کیا گیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ کووڈ 19 کے پھیلاؤ کی ابتدا کو سیاسی رنگ دینے سے نہ صرف اس ضمن میں ہونے والی تحقیقات متاثر ہوں گی بلکہ اس سے عالمی وبا کو روکنے کی عالمی کوششیں بھی متاثر ہوں گی۔

    یہ بیان صدر بائیڈن کی جانب سے چین میں کورونا وائرس کےپھیلاؤ کی ابتدا سے متعلق اپنی انتظامیہ میں خفیہ معلومات پر نظرثانی کرنے کے حکم کے بعد سامنے آیا ہے۔

    واشنگٹن میں موجود سفارتخانے نے لکھا کہ ’چند سیاسی قوتوں کی توجہ اس وقت سیاسی ہیراپھیری اور الزام تراشی پر مرکوز ہے۔

    چینی سفارتخانے نے مزید کہا کہ وہ ’ابتدا میں سامنے آنے والے کووڈ 19 کے تمام کیسز سے متعلق ایک جامع تحقیق کی حمایت کرے گا جس میں دنیا بھر میں موجود خفیہ اڈے اور لیبارٹریوں کو تحقیق میں شامل کیا جائے گا۔

  8. چین میں کووڈ کے پھیلاؤ کی ابتدا کہاں سے ہوئی؟ جو بائیڈن کا انتظامیہ کو جواب تلاش کرنے کا حکم

    خبررساں ادارے روئٹرز کے مطابق امریکی صدر جو بائیڈن نے اپنے مشیروں کو حکم دیا ہے کہ وہ وائرس کے پھیلاؤ کے آغاز سے متعلق سوالات کے جوابات ڈھونڈیں۔ انھیں نے مزید کہا ہے کہ امریکی انٹیلیجینس افسران اس حوالے سے موجود متضاد مفروضوں کے حوالے سے تحقیقات کر رہے ہیں جن میں یہ امکان بھی شامل ہے کہ آیا یہ وائرس چین کی لیبارٹری سے ایک حادثے کے باعث پھیلا تھا۔

    بائیڈن کا مزید کہنا تھا کہ خفیہ ادارے اس وقت دو امکانات پر غور کر رہے ہیں تاہم تاحال وہ اس حوالے سے مکمل طور پر پراعتماد نہیں ہے کہ وہ کسی ٹھوس نتیجے پر پہنچ سکیں اور اس وقت بھی وہ یہ بحث کر رہے ہیں کہ کون سا نتیجہ درست ہے۔

    بائیڈن کو یہ نتائج مارچ میں ان ہی کی جانب سے آرڈر کی گئی ایک رپورٹ کے بعد دیے گئے ہیں جس میں یہ جاننے کی کوشش کی گئی ہے کہ آیا یہ وائرس کسی متاثرہ جانور سے انسانوں میں منتقل ہوا یا لیبارٹری سے حادثاتاً۔

    تاہم بائیڈن کی جانب سے یہ غیرمعمولی طور پر آشکار کی گئی غیر نتیجہ خیز خفیہ رپورٹ منظر عام پر لانے سے یہ بات واضح ہوئی ہے کہ اس وقت کی انتظامیہ میں یہ بحث زور ہکڑ چکی ہے کہ کورونا وائرس کے پھیلاؤ کی ابتدا کہاں سے ہوئی۔

  9. میلبرن میں وائرس کے تیز پھیلاؤ کے باعث ریاست وکٹوریا میں سات روزہ لاک ڈاؤن

    آسٹریلیا کی دوسری سب سے زیادہ آبادی والی ریاست وکٹوریا اپنے دارالحکومت میلبرن میں وائرس کے بڑھتے کیسز کے باعث جمعرات کی رات سے سات روزہ لاک ڈاؤن میں جا رہی ہے۔

    یہ لاک ڈاؤن مقامی وقت کے مطابق جمعرات کی رات 12 بجے سے شروع ہو گا۔

    حکام کا کہنا ہے کہ حالیہ دنوں میں 26 نئے مریض سامنے آئے ہیں اور 150 ایسی جگہوں کی نشاندہی کی گئی ہے جہاں یہ شبہ ہے کہ لوگ اس وائرس سے متاثر ہوئے ہوں گے۔

    اس حوالے سے مقامی افراد میں بے چینی پائی جاتی ہے کیونکہ اسی ریاست میں دوسری لہر کے باعث خاصی اموات ہوئی تھیں۔

    ریاست وکٹوریا کے قائم مقام وزیراعلیٰ جیمز میرلینو کا کہنا ہے کہ وائرس کا یہ پھیلاؤ وائرس کی قسم B.1.617 کے باعث ہے۔ انھوں نے بتایا کہ ایک مسافر کی وطن واپسی کے بعد سے اس کا پھیلاؤ دیکھا گیا ہے اور یہ ’اب تک کے ریکارڈ کے حساب سے بہت تیز پھیل رہا ہے۔‘

  10. کورونا وائرس: برسوں سے لوگ کیسے جانتے تھے کہ کووڈ 19 جیسی وبا آئے گی؟

    کورونا وائرس کی عالمگیر وبا کے بارے میں، جو کووِڈ 19 کے نام سے جانی جاتی ہے، پہلے سے اندازہ کر لینا اس سے زیادہ آسان نہیں ہو سکتا تھا۔ یہ دعوٰی میں اپنی رپورٹنگ کی بنیاد پر کر رہا ہوں۔

    اکتوبر 2019 میں، میں نے کورونا وائرس کی ایک فرضی عالمی وبا کے بارے میں ایک سِمیولیشن یا تمثیل کا مشاہدہ کیا تھا۔ اسی طرح سنہ 2017 کے موسم بہار میں، میں نے اسی موضوع پر ٹائم میگزین کے لیے ایک مضمون لکھا تھا۔ رسالے کے سرِ ورق پر تحریر تھا: ’خبردار: دنیا ایک اور عالمی وبا کے لیے تیار نہیں ہے۔‘

    اس کا مطلب بالکل یہ نہیں ہے کہ میں دوسروں سے زیادہ سوجھ بوجھ رکھتا تھا۔ پچھلے پندرہ برس میں ایک ایسی عالمی وبا کے بارے میں بہت سے مضامین اور قرطاسِ ابیض شائع ہوئے ہیں جن میں خبردار کیا گیا تھا کہ ہمارے نظام تنفس کو متاثر کرنے والا ایک نیا مرض پھیلنے والا ہے۔

    بس یہ معلوم نہیں تھا کہ کب؟ سنہ 2018 میں بی بی سی فیوچر میں ہم نے لکھا تھا کہ فلو کی طرح کی ایک عالمی وبا بس وقت کی بات ہے، اور یہ کہ دنیا میں لاکھوں غیردریافت وائرس موجود ہو سکتے ہیں۔

  11. انڈیا کی ریاستی حکومتیں بیرون ملک سے ویکسین کیوں نہیں لے پاتیں؟, موریش کنور، نامہ نگار بی بی سی

    اب تک انڈیا میں دس سے زیادہ ریاستوں نے کورونا ویکسین کے لیے 'عالمی ٹینڈر' جاری کیا ہے۔ ان میں مہاراشٹر، اترپردیش، پنجاب، گوا، تمل ناڈو، کیرالہ، کرناٹک، دہلی اور مغربی بنگال شامل ہیں۔

    لیکن ان میں سے کسی کو بھی مثبت جواب نہیں ملا۔ حال ہی میں، پنجاب حکومت نے کہا ہے کہ انھوں نے متعدد غیر ملکی ادویات بنانے والی کمپنیوں سے بات کرنے کی کوشش کی ہے لیکن صرف ایک کمپنی (موڈرنہ) نے انھیں جواب دیا۔ موڈرنہ نے کہا کہ وہ پنجاب حکومت سے نہیں، صرف مرکزی حکومت سے بات کریں گی۔

    ایسی صورتحال میں کیا انڈین حکومت ویکسینیشن کا اپنا مقصد حاصل کرنے میں کامیاب ہو گی، یہ ایک بہت بڑا سوال بن گیا ہے؟

    مہاراشٹر اور دیگر ریاستوں سمیت پورے ملک میں کورونا کی وبا کو روکنے کے لیے ویکسینیشن مہم اب سست ہو گئی ہے۔

    ریاستوں کی جانب سے 'گلوبل ٹینڈر' جاری کرنے اور اس پر خاطر خواہ جواب نہ آنے کے بعد غیرملکی ویکسینز لگانے کی امید ماند پڑتی دکھائی دے رہی ہے۔

    مرکزی حکومت نے گذشتہ ماہ ریاستوں کو 18 سے 44 سال کی عمر کے تمام لوگوں کو ویکسین دینے کی اجازت دی تھی۔

    اس کے علاوہ تمام ریاستوں کو بھی براہ راست فارما کمپنیوں سے ویکسین خریدنے کی اجازت دی گئی ہے۔ لہٰذا ریاستی حکومتیں غیر ملکی دوا ساز کمپنیوں سے بھی اس ویکسین کے لیے بات کر سکتی ہیں۔

    دریں اثنا، متعدد ریاستوں نے 'گلوبل ٹینڈر' بھی جاری کیا ہے، جس میں ان کی ریاست کے لوگوں کے لیے ویکسین لینے کے کمپنیوں کو مدعو کیا گیا ہے، لیکن اب تک دہلی کے علاوہ کسی بھی دوسری ریاست کو اس میں کامیابی نہیں مل سکی۔

    بدھ کے روز دہلی کے وزیر اعلی اروند کیجریوال نے کہا کہ روسی کمپنی نے ریاستی حکومت کو سپوتنک ویکسین کی فراہمی پر اتفاق کیا ہے۔

    انھوں نے بتایا کہ فی الحال اس بارے میں بات چیت جاری ہے کہ کمپنی کتنی خوراکیں پیش کر سکتی ہے۔

    متعدد دوا ساز کمپنیوں نے یا تو ریاستوں کی طرف سے واپس لی جانے والے عالمی ٹینڈر پر کوئی رد عمل ظاہر نہیں کیا ہے یا واضح طور پر کہا ہے کہ مرکزی حکومت کے ساتھ ویکسین فروخت کرنے کے لیے معاہدہ کیا جاسکتا ہے نہ کہ ریاستی حکومتوں سے۔

    لہٰذا اب متعدد ریاستوں نے مرکزی حکومت سے اپیل کی ہے کہ وہ اس ویکسین کے لئے عالمی ٹینڈر جاری کرے اور ریاستوں کو ویکسین دے۔

    مرکزی حکومت کی حکمت عملی اس بارے میں کیا ہے کے بارے میں فی الحال کوئی وضاحت نہیں ہے۔ لیکن دوا ساز کمپنیوں کو دوسرے ممالک کی طلب کو بھی پورا کرنا ہے۔

  12. بریکنگ, انڈیا میں دو لاکھ 11 ہزار سے زیادہ نئے مریض، مزید 3800 سے زیادہ اموات

    انڈیا میں گذشتہ روز کورونا وائرس سے مزید 3841 افراد کی ہلاکت ہوئی ہے جبکہ مزید دو لاکھ 11 ہزار سے زیادہ اس وائرس سے متاثر بھی ہوئے ہیں۔

    گذشتہ روز صحتیاب ہونے والوں کی تعداد دو لاکھ 82 ہزار سے زیادہ رہی جبکہ 18 لاکھ سے زیادہ افراد کو ویکسین کی خوراک لگوائی گئی۔

    گذشتہ روز ملک میں 23 لاکھ سے زیدہ ٹیسٹ کیے گئے، اور مثبت کیسز کی شرح بدستور 10 فیصد سے کم ہی رہی۔

  13. بریکنگ, پاکستان میں کووڈ 19 سے مزید 75 اموات، مزید 2700 سے زیادہ نئے مریض

    پاکستان میں گذشتہ روز کورونا وائرس کے باعث مزید 75 افراد کی اموات واقع ہوئی ہے جبکہ مثبت کیسز کی شرح چار اعشاریہ تین فیصد رہی ہے۔

    گذشتہ روز ملک میں 62 ہزار سے زیادہ ٹیسٹ کروائے گئے جن میں سے 2700 سے زیادہ مثبت کیسز رپورٹ ہوئے۔

  14. کووڈ 19 سے متعلق بی بی سی اردو کی خصوصی لائیو کوریج میں خوش آمدید

    کووڈ 19 سے متعلق بی بی سی اردو کی خصوصی لائیو کوریج میں خوش آمدید۔ اس لائیو پیج کے ذریعے آپ دنیا بھر سے کورونا وائرس سے متعلق خبریں پڑھ پائیں گے۔ گذشتہ دنوں کی خبروں سے متعلق جاننے کے لیے اس لنگ پر کلک کریں۔