چین
نے امریکہ کی جانب سے کورونا وائرس کی ابتدا چینی لیبارٹری سے ہونے کے نظریہ پر
مزید تحقیقات کرنے کی مذمت کی ہے۔
امریکی
صدر جو بائئڈن نے انٹیلیجنس حکام سے اپنی ’کوشش دگنی‘ کرنے کا حکم دیا کہ وہ یہ پتا
کریں کہ کورونا وائرس کی انسانوں میں منتقلی کس طرح ہوئی تھی۔
چین کی وزارت خارجہ نے اس پر ردعمل دیتے ہوئے امریکہ پر سیاسی ساز باز اور الزام تراشی کا الزام عائد کیا ہے۔ چینی وزارت خارجہ نے کورونا وائرس کے ووہان کی لیبارٹری میں وائرس تحقیق کے دوران پھیلنے کو مسترد کیا ہے۔
امریکی صدر کا کہنا تھا کہ انھوں نے خفیہ ایجنسیوں کو ’اپنی کوششیں تیز کرنے اور ایسی معلومات اکٹھی کرنے اور ان کا تجزیہ کرنے کا کہا ہے جس سے ہم کسی حتمی نتیجے پر پہنچ سکیں۔‘
امریکی صدر کی جانب سے اس اعلان نے چینی حکام کو غصہ دلایا ہے۔ چین کی وزارت خارجہ کی ترجمان ژاؤ لیجان کا کہنا تھا کہ ’یہ ظاہر کرتا ہے کہ امریکہ کو حقائق اور سچ سے کوئی سروکار نہیں ہے اور اس کی اس وائرس کی ابتدا کے متعلق سنجیدہ سائسنی تحقیق کے متعلق صفر دلچسپی ہے۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’ ان کا مقصد اس وبا کے ذریعے الزام تراشی ، سیاسی ساز باز اور ذمہ داری عائد کرنا ہے۔ وہ سائنس کی توہین کر رہے ہیں اور وہ عوام کی جانوں کی حفاظت کرنے اور وائرس کے خلاف لڑائی میں ناکام رہے ہیں۔‘
چینی وزارت خارجہ کے ترجمان کا کہنا تھا کہ امریکی خفیہ ایجنسیوں کی غلط معلومات پھیلانے کی ایک ’سیاہ تاریخ‘ رہ چکی ہے۔
امریکہ میں چینی سفارت خانے کی جانب سے ایک بیان ، جس میں براہ راست صدر بائیڈن کے حکم کا حوالہ نہیں دیا گیا ، میں کہا گیا ہے کہ ’ الزام تراشی کی مہم کی واپسی ہو رہی ہے۔‘
واضح رہے کہ اس سے قبل امریکی صدر جو بائیڈن نے اپنے مشیروں کو حکم دیا ہے کہ وہ وائرس کے پھیلاؤ کے آغاز سے متعلق سوالات کے جوابات ڈھونڈیں۔ انھوں نے مزید کہا ہے کہ امریکی انٹیلیجینس افسران اس حوالے سے موجود متضاد مفروضوں کے حوالے سے تحقیقات کر رہے ہیں جن میں یہ امکان بھی شامل ہے کہ آیا یہ وائرس چین کی لیبارٹری سے ایک حادثے کے باعث پھیلا تھا۔
یاد رہےکہ کورونا وائرس کی سب سے پہلے تشخیص سنہ 2019 کے آخر میں چینی شہر ووہان میں ہوئی تھی۔ تب سے اب تک دنیا بھر میں اس سے 168 ملین افراد متاثر ہو چکے ہیں جبکہ 35 لاکھ اموات ہو چکی ہیں۔
حکام نے ابتدا میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ کا مرکز ووہان میں موجود ایک سی فوڈ مارکیٹ سے جوڑا تھا اور سائنسدانوں نے مطابق یہ وائرس جانوروں سے انسانوں میں منتقل ہوا ہے۔
تاہم حالیہ امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق اس بات کے واضح ثبوت مل رہے ہیں کہ یہ وائرس چینی شہر ووہان کی ایک لیبارٹری سے ایک حادثے کے نتیجے میں پھیلا ہے۔
بدھ کو ایک بیانمیں امریکی صدر جو بائیڈن کا کہنا تھا کہ صدارتی دفتر سنبھالنے کے بعد انھوں نے کورونا وائرس کے ابتدائی پھیلاؤ کے متعلق رپورٹ پیش کرنے کا کہا تھا جس میں یہ جاننے کی کوشش کی گئی ہے کہ آیا یہ وائرس کسی متاثرہ جانور سے انسانوں میں منتقل ہوا یا لیبارٹری سے حادثاتاً۔
اس ماہ اس متعلق رپورٹ موصول ہونے کے بعد انھوں نے اس پر مزید کام کرنے کا حکم دیا تھا۔
بائیڈن کا مزید کہنا تھا کہ خفیہ ادارے اس وقت دو امکانات پر غور کر رہے ہیں تاہم تاحال وہ اس حوالے سے مکمل طور پر پراعتماد نہیں ہے کہ وہ کسی ٹھوس نتیجے پر پہنچ سکیں اور اس وقت بھی وہ یہ بحث کر رہے ہیں کہ کون سا نتیجہ درست ہے۔