یہ صفحہ اب مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا!
یہ صفحہ اب مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا، گذشتہ دنوں کی خبروں سے متعلق جاننے کے لیے یہاں کلک کریں۔
آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
امریکہ کے سیکریٹری صحت نے عالمی ادارہ صحت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ کووڈ 19 کے پھیلاؤ کے آغاز سے متعلق اگلے مرحلے میں شفاف تحقیقات کو یقینی بنائیں جبکہ فرانسیسی سوشل میڈیا انفلوئنسرز کا کہنا ہے کہ انھیں ایک پراسرار مالیاتی آفر موصول ہوئی ہے جس میں فائزر ویکسین سے متعلق منفی خبریں پھیلانے کا کہا گیا ہے۔ ادھر انڈیا میں مزید 4100 سے زیادہ ہلاکتیں ہوئی ہیں جبکہ پاکستان مثبت کیسز کی شرح بدستور پانچ فیصد سے نیچے ہے۔
یہ صفحہ اب مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا، گذشتہ دنوں کی خبروں سے متعلق جاننے کے لیے یہاں کلک کریں۔
دہلی کے وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال نے ایک بار پھر ویکسین کی کمی پر مرکزی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
انھوں نے مرکزی حکومت کو ہدف بناتے ہوئے کہا کہ اگر پاکستان انڈیا پر حملہ کرتا ہے تو کیا ریاستیں اپنے اپنے ہتھیار خریدیں گی؟ پھر کووڈ 19 کے ساتھ جنگ میں ایسا کیوں ہے؟
اروند کیجریوال نے کہا کہ ’میرے علم کے مطابق، کوئی بھی ریاستی حکومت ویکسین کی ایک خوراک بھی نہیں خرید سکی ہے۔ ویکسین کمپنیوں نے ریاستی حکومتوں سے بات کرنے سے انکار کر دیا ہے۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’اب وقت آگیا ہے کہ ریاست اور مرکزی حکومت دونوں متحد ہو کر کام کریں۔ ہمیں ٹیم انڈیا کی حیثیت سے کام کرنے کی ضرورت ہے۔ ویکسین کی فراہمی مرکزی حکومت کی ذمہ داری ہے نہ کہ ریاستوں کی۔ اگر ہم اس میں تاخیر کرتے ہیں تو ہم نہیں جانتے کہ مزید کتنی جانیں جائیں گی۔‘
پاکستان کی مثال دیتے ہوئے دہلی کے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ’ملک ویکسین کیوں نہیں خرید رہا ہے؟ ہم اسے ریاستوں پر نہیں چھوڑ سکتے۔ ہمارا ملک کووڈ ۔19 کے خلاف جنگ لڑ رہا ہے۔ اگر پاکستان انڈیا پر حملہ کرتا ہے تو کیا ہم ریاستوں کو ان کی صورتحال پر چھوڑ دیں گے؟ کیا یوپی اور دہلی الگ الگ اپنا اسلحہ خریدیں گے؟‘
انھوں نے یہ بھی بتایا کہ دہلی میں ویکسین کی خوراکوں کی قلت کے باعث ویکسینیشن مراکز چار دن سے بند ہیں۔
اروند کیجریوال کا کہنا تھا کہ دہلی میں کوئی ویکسین نہیں ہے۔ 18 سے 44 سال کی عمر کے افراد کے ویکسینیشن مراکز گذشتہ چار دن سے بند ہیں۔ متعدد مراکز نہ صرف دہلی بلکہ پورے ملک میں بند ہیں۔ آج جب ہمیں نئے ویکسینیشن مراکز کھولنے چاہیں لیکن اب ہم موجودہ مراکز بند کر رہے ہیں، جو ٹھیک نہیں ہے۔
پاکستان کے صوبے سندھ کے وزیراعلیٰ سید مراد علی شاہ نے کورونا وائرسکی صورتحال بیان کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ 24 گھنٹوں میں کورونا کے باعث 24 افراد ہلاک ہوئے ہیں جبکہ 1293نئے کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔
وزیراعلیٰ سندھ کا کہنا تھا کہ گزشتہ 24 گھنٹوں میں 22043 ٹیسٹ کیے گئے جس کے نتیجے میں 1293 نئے کیسز سامنے آئے ہیں جو کہ تشخیص کی شرح کا 5.9 فیصد ہے۔
وزیراعلیٰ سندھ کی جانب سے جاری بیان بتایا گیا کہ صوبے میں اب تک 4031934 ٹیسٹ کیے جا چکے ہیں اور مجموعی طور پر کورونا کے 313042 مریض سامنے آئے ہیں۔
وزیراعلیٰ سندھ نے صوبے کے عوام پر زور دیا کہ وہحکومت کی جانب سے جاری کردہ ایس او پیز پر سختی سے عمل کریں۔
متحدہ عرب امارات کا کہنا ہے کہ چھ جون سے ایسے تمام افراد جو لائیو ایونٹس میں شرکت کرنا چاہتے ہیں ان کے لیے ویکسین لگوانی لازمی ہے۔ اس وقت متحدہ عرب امارات دنیا میں سب سے تیزی سے ویکسین لگانے والے ممالک میں سے ہے۔
اب تک ملک کی کل 78 فیصد آبادی کو ویکسین لگوائی جا چکی ہے اور ان 60 سال سے زیادہ عمر کے 84 فیصد افراد کو ویکسین لگا دی گئی ہے۔
وزارتِ صحت کا کہنا ہے کہ یہ پالیسی کھیلوں، تقافت، معاشرتی، آرٹس اور دیگر تقریبات کے لیے ہے۔ اس کے علاوہ شرکت کرنے والوں کو 48 گھنٹوں پہلے کے عرصے میں کیا گیا کوؤڈ 19 ٹیسٹ دکھانا ضروری ہے۔
پاکستان سپر لیگ کے چھٹے ایڈیشن میں شریک کھلاڑیوں، سپورٹ اسٹاف، براڈکاسٹرز اور آفیشلز کے ویزوں سے متعلق تازہ ترین خبر یہ ہے کہ انڈیا سے ابوظہبی کے لیے سفر کرنے والے تمام 25 افراد کو ویزے جاری کر دیے گئے ہیں۔
جنوبی افریقہ سے تعلق رکھنے والے تمام کھلاڑیوں اور سپورٹ سٹاف کو ویزے جاری کر دیے گئے ہیں جبکہ جنوبی افریقہ سے ابوظہبی کے لیے سفر کرنے والے مجموعی طور پر 27 میں سے 26 افراد کو ویزے جاری کیے جا چکے ہیں۔
پاکستان سے بذریعہ چارٹرڈ فلائیٹ متحدہ عرب امارات روانہ ہونے والے بیشتر افراد کے ویزے بھی جاری ہو چکے ہیں اور 27 مئی کی دوپہر دو بجے سے پہلے ابوظہبی کے ہوٹل میں چیک ان کرنے پر یو اے ای میں روم آئسولیشن کا پہلا دن شمار کیا جائے گا۔
انڈیا میں اب تک دو کروڑ 60 لاکھ سے زیادہ افراد کورونا وائرس سے متاثر ہو چکے ہیں جو امریکہ کے بعد دوسرے نمبر پر ہے۔ یہ اب عالمی وبا کا نیا گڑھ بن چکا ہے۔
گذشتہ ہفتوں میں سامنے آنے والی دوسری لہر نے صحت کے نظام کو بری طرح متاثر کیا ہے اور ادویات اور آکسیجن کی کمی واقع ہو گئی تھی۔
تاہم نئے کیسز کی تعداد میں وقت کے ساتھ کمی دیکھنے میں آ رہی ہے اور پیر کے روز یہاں نئے کیسز کی تعداد میں 14 اپریل کے بعد سے پہلی مرتبہ دو لاکھ سے کمی واقع ہوئی۔
ماہرین کا ماننا ہے کہ ملکی سطح پر کووڈ کی اس لہر کے زور ٹوٹ رہا ہے۔ تاہم یہ بات ریاستی سطح پر درست نہیں ہے۔ جہاں مہاراشٹر اور دہلی میں کیسز میں کمی واقع ہو رہی ہے تمل ناڈو میں کیسز میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔
انڈیا میں کووڈ 19 کے پھیلاؤ کو روکنے میں دشواری پیش آ رہی ہے لیکن اسی دوران فنگس کا ایک نایاب اورخطرناک انفیکشن بھی کورونا کے کچھ مریضوں کو متاثر کر رہا ہے۔
فنگس کی میوکورمائیکوسز نامی قسم کورونا سے متاثرہ یا صحتیاب ہونے والے افراد میں مزید مشکلات پیدا کر سکتی ہے۔
انڈیا میں کورونا کے بعض متاثرین میوکورمائیکوسز سے متاثر ہوئے ہیں جسے ’بلیک فنگس‘ کا نام دیا گیا ہے۔ ایسے کچھ لوگ بھی اس سے متاثر ہوئے ہیں جو کووڈ سے صحتیاب ہو رہے تھے۔
رواں سال مارچ کے اعداد و شمار کے مطابق دنیا بھر میں میوکورمائیکوسز سے جڑے کووڈ سے 41 کیس سامنے آئے۔ ان میں سے 70 فیصد کی تعداد انڈیا میں تھی۔
پاکستان کے وزیرِ منصوبہ بندی اسد عمر کا کہنا ہے کہ آج کی این سی او سی میٹنگ میں یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ ملک بھر میں 19 سال یا اس سے زیادہ عمر کے افراد کے لیے کل سے ویکسینیشن کے لیے اندراج کا آغاز کیا جائے۔
انھوں نے لکھا کہ اب اندراج کے لیے ماہرین کی رائے کے مطابق 19 سال سے زیادہ عمر کی ملک کی تمام آبادی اندراج کروا سکتی ہے۔
خیال رہے کہ اس سے قبل ملک میں 30 سال سے زیادہ عمر کے افراد کو ویکسین لگائی جا رہی تھی۔ اب تک ملک میں کل 58 لاکھ سے زیادہ افراد کو ویکسین لگائی جا چکی ہے۔
بدھ کے روز جنوبی کوریا کی جانب سے اعلان کیا گیا ہے کہ جولائی سے ایسے افراد کے لیے گھروں سے باہر جاتے وقت ماسک پہننا لازم نہیں ہو گا جنھیں کووڈ 19 کی ویکسین کی کم از کم ایک خوراک دی جا چکی ہے۔
یہ فیصلہ جنوبی کوریا کے عمر رسیدہ شہریوں کو ویکسین کی جانب راغب کرنے کے لیے کیا گیا ہے کیونکہ حکومت نے ستمبر تک اپنی 70 فیصد آبادی کو ویکسین لگانے کا ہدف رکھا ہے۔
جنوبی کوریا کی کل آباد پانچ کروڑ 20 لاکھ کے قریب ہے اور اس وقت اس کی صرف سات اعشاریہ سات فیصد آبادی کو ویکسین لگائی گئی ہے۔
جنوبی کوریا میں گذشتہ روز 707 افراد میں کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے جس کے بعد مجموعی طور پر متاثرہ افراد کی تعداد ایک لاکھ 37 ہزار سے زیادہ جبکہ اموات 1940 ہو گئی ہیں۔
پاکستان میں حالیہ دنوں خلیجی ممالک سے پشاور آنے والے 140 مسافروں کا کووڈ ٹیسٹ مثبت آیا۔ سول ایوی ایشن کے مطابق مسافروں کے شور مچانے پر ان کا دوبارہ ٹیسٹ کیا گیا جو دوبارہ مثبت آیا۔
اب اس وقت پاکستان میں جہاں کووڈ وبا کی تیسری لہر کے نتیجے میں نئے کیسز میں بتدریج اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے، وہیں حکام کو خدشہ ہے کہ دیگر ملکوں کی طرح کہیں خلیجی ممالک سے آنے والی پروازوں کے ذریعے کووڈ وبا کی انڈین قسمیں (بی ون سِکس، ون سیون) پاکستان میں نہ پھیل جائے۔
لیکن اس وقت سوال یہ ہے کہ اگر کووڈ وبا کی انڈین قسم پاکستان پہنچی ہے تو اس بارے میں کیا اقدامات کیے گئے ہیں، کیا یہ اقدامات کافی ہیں، اور آیا سفری پابندیوں سے وبا کا ملک میں داخلہ روکا جاسکتا ہے؟
اکثر فرانسیسی سوشل میڈیا انفلوئنسرز کا کہنا ہے کہ انھیں ایک پراسرار مالیاتی آفر موصول ہوئی ہے جس میں فائزر ویکسین سے متعلق منفی خبریں پھیلانے کا کہا گیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ برطانیہ میں موجود ایک ایجنسی کی جانب سے ان سے شراکت داری کرنے کے لیے رابطہ کیا گیا ہے۔
فرانس سے تعلق رکھنے والے لیو گراسیٹ جن کے یوٹیوب پر 11 لاکھ سے زیادہ فالوئرز ہیں نے فرانسیسی زبانی میں ٹویٹ کرتے ہوئے یہ انکشاف کیا کہ انھیں ’شناخت ظاہر نہ کرنے کا ارادہ رکھنے والی کمپنی‘ نے ’خطیر بجٹ‘ کی آفر کی ہے۔
انھوں نے بتایا کہ ایجنسی کی طرف سے جو پتہ دیا گیا ہے وہ بھی جعلی ہے۔
انھوں نے کہا کہ ’اس کمپنی میں مبینہ طور پر کام کرنے والوں کی لنکڈ ان پروفائلز کے بارے میں انھیں بعد میں معلوم ہوا کہ یہ اب غائب ہو چکی ہیں، تاہم انھیں یہ ضرور پتا چل گیا کہ یہ سب کے سب روس میں کام کر چکے تھے۔‘
لیو گریسیٹ نے پوسٹ کیا کہ انھیں ایجنسی کی جانب سے ہدایات دی گئیں کہ اگر وہ شراکت کے لیے راضی ہوتے ہیں تو وہ ’اشتہار‘ ’تشہیری ویڈیو‘ جیسے الفاظ کا استعمال نہ کریں۔
ای میل میں کہا گیا کہ ’مواد کو اپنی آزادانہ رائے کے طور پر پوسٹ کیا جائے‘
اس حوالے سے انھیں یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ اپنے جاننے والوں میں یہ جھوٹا دعویٰ بھی پھیلائیں کہ فائزر ویکسین لگوانے والوں کی اموات کی شرح ایسٹرازینیکا لگوانے والوں سے تین گنا زیادہ ہے۔
دیگر فرانسیسی سوشل میڈیا انفلوئنسرز جن میں سے اکثر صحت اور سائنس کے شعبے سے وابستہ ہیں بتاتے ہیں کہ انھیں بھی اس قسم کی آفر موصول ہوئی تھی۔
دریں اثنا، فرانس کے وزیرِِصحت اولیور وران نے ایک نجی ٹی وی چینل سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’مجھے نہیں معلوم کہ یہ آفر فرانس سے کی جا رہی ہے یا بیرونِ ملک سے۔ لیکن یہ بہت غلط ہے، خطرناک ہے، غیرذمہ دارانہ ہے اور یہ چل نہیں پائے گی۔‘
امریکہ کے سیکریٹری صحت نے عالمی ادارہ صحت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ کووڈ 19 کے پھیلاؤ کے آغاز سے متعلق اگلے مرحلے میں شفاف تحقیقات کو یقینی بنائیں۔
وزرا کے لیول کی عالمی ادارہ صحت کی میٹنگ میں شاویئر بیسیرا نے کہا کہ بین الاقوامی ماہرین کو کورونا وائرس کے ہھیلاؤ کے آغاز سے متعلق تحقیقات کی اجازت دینی چاہیے۔
امریکی میڈیا میں گذشتہ ہفتے میں ایسی خبریں سامنے آئی ہیں جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس بات کے مزید ثبوت سامنے آئے ہیں کہ وائرس دراصل چین کی لیبارٹری سے نکلا تھا۔
کووڈ 19 کے پہلے مریض کی تشخیص چین کے مرکزی صوبہ ہوبائی کے شہر ووہان میں سب سے پہلے ہوئی تھی۔ اب تک اس عالمی وبا کے باعث دنیا بھر میں 16 کروڑ 70 لاکھ سے زیدہ کیسز جبکہ 34 لاکھ افراد ہلاک ہوئے ہیں۔
اس سال مارچ میں عالمی ادارہ صحت نے چینی سائنسدانوں کے ساتھ مل کر ایک رپورٹ جاری کی تھی جس میں کووڈ 19 کے پھیلاؤ کے آغاز سے متعلق بات کی گئی تھی۔
اس رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ اس بات کے امکانات انتہائی کم ہیں کہ یہ وائرس لیبارٹری سے پھیلا ہو گا۔ تاہم عالمی ادارہ صحت نے اس بات پر اتفاق کیا تھا کہ اس حوالے سے مزید تحقیقات کی ضرورت ہے۔
تاہم اس حوالے سے سوالات اب بھی موجود ہیں اور امریکی جریدے وال سٹریٹ جنرل میں شائع ہونے والی ایک خبر میں امریکی انٹیلیجنس ذرائع کا کہنا ہے کہ ووہان انسٹیٹیوٹ آف وائرولوجی کے تین اہلکاروں کو نومبر 2019 میں ہسپتال داخل کیا گیا تھا۔
چین نے اس کے کئی ہفتے بعد اس بات کا اعتراف کیا تھا کہ اس نے اس بیماری کا ایک نیا کیس پکڑا ہے۔
چین کے جانب سے اس سے قبل سامنے والی رپورٹس کو سختی سے مسترد کیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ یہ وائرس ہو سکتا ہے کہ کسی امریکی لیبارٹری سے آیا ہو۔
عالمی ادارہ صحت سے منگل کے روز خطاب کے دوران امریکی وزیرِ صحت کی جانب سے براہ راست چین کا نام تو نہیں لیا گیا تاہم انھوں نے یہ واضح کر دیا ہے کہ امریکہ تحقیقات کے اگلے مرحلے کے دوران مزید شفافیت چاہتا ہے۔
انھوں نے کہا کہ ’کووڈ 19 کی عالمی وبا نے نہ صرف ہماری زندگیوں سے ایک قیمتی سال چرایا، بلکہ لاکھ قیمتی زندگیاں بھی۔
انھوں نے کہا کہ ’اس ضمن میں کووڈ کے پھیلاؤ کے آغاز سے معلق دوسرے مرحلے کی تحقیقات کا آغاز ہو جانا چاہیے، جس میں ٹی او آرز سائنسی اصولوں کے مطابق اور شفاف ہوں۔ جس سے بین الاقوامی ماہرین وائرس کے پھیلاؤ کے آغاز کے دنوں سے متعلق آزادانہ رائے قائم کر سکیں۔‘
انڈیا میں گذشتہ روز ایک مرتبہ پھر سے 20 لاکھ سے زیادہ ویکسینز لگائی گئی تاہم 4100 سے زیادہ افراد کورونا وائرس سے ہلاک بھی ہوئے۔
گذشتہ روز ملک میں کورونا وائرس کیسز کی تعداد کم ہو کر دو لاکھ آٹھ ہزار تک پہنچ گئی ہے جبکہ مثبت کیسز کی شرح بھی 10 فیصد سے نیچے آ گئی ہے۔ گذشتہ روز ملک میں کل 22 لاکھ 30 ہزار سے زیادہ ٹیسٹ کیے گئے۔
پاکستان میں گذشتہ روز کورونا وائرس سے مزید 65 افراد ہلاک ہوئے جبکہ مثبت کیسز کی شرح بدستور پانچ فیصد سے کم رہی۔
گذشتہ روز ملک میں سامنے آنے والے کل کیسز کی تعداد گر کر 2724 تک پہنچ گئی ہے جبکہ گذشتہ روز 59 ہزار سے زیادہ ٹیسٹ کیے گئے، جس کے مطابق مثبت کیسز کی شرح چار اعشاریہ چھ فیصد رہی۔
کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے کھلاڑی کا کورونا ٹیسٹ کی رپورٹ مثبت آ گئی ہے، جس کے بعد اب وہ پی ایس ایل میچز میں حصہ لینے کے لیے اپنی ٹیم کے ہمراہ اب ابوظہبی کے لیے سفر نہیں کر سکیں گے۔
کوئٹہ گلیڈیٹر کے منیچر نبیل ہاشمی نے بی بی سی کے عبدالشکور رشید کو اس بات کی تصدیق کر دی ہے کہ جس کھلاڑی کا ٹیسٹ مثبت آیا ہے وہ آل راؤنڈر انور علی ہیں۔
انور علی فی الحال کراچی کے ایک ہوٹل میں علیحدہ منزل پر قرنطینہ میں منتقل کر دیے گئے ہیں۔ پیر کو ہوٹل پہنچنے پر انور علی کا کورونا ٹیسٹ کیا گیا تھا۔
یاد رہے کہ کورونا وائرس کی وجہ سے پی ایس ایل کے بقیہ میچز ملتوی کر دیے گئے تھے اور اب پاکستان کے بجائے ان مقابلوں کا انعقادر متحدہ عرب امارات میں کیا جا رہا ہے۔
کورونا سے متاثر ہونے کے باعث کوئٹہ گلیڈیٹر کو اب ان میچز میں انور علی کی خدمات میسر نہیں رہیں گی۔
ٹوئٹر کی طرف سے حکمران جماعت بی جے پی کے کچھ رہنماؤں کی ٹویٹس کو ’مینیوپولیٹڈ میڈیا‘ یعنی پروپینگڈا پوسٹس قرار دینے پر انڈین پولیس ٹوئٹر کے آفس چلی گئی۔
اطلاعات کے مطابق انڈیا کی حکمراں جماعت بے جے پی کے اراکین بشمول اس کے ترجمان سامبت پاترا نے ٹوئٹر کو ایک دستاویزات کے سکرین شارٹس شئیر کیے تھے جس کے بارے میں کہا گیا کہ اپوزیشن کی جماعت نے حکومت کی ناکامیوں کو اجاگر کرنے کے لیے یہ سب کیا ہے۔
کانگرس نے ٹوئٹر کو یہ شکایت کی ہے کہ یہ دستاویزات جعلی ہیں، جس کے بعد ٹوئٹر نے بے جے پی کے ترجمان کی ٹویٹ سمیت کچھ پوسٹس کو ایک جماعت کے پروپیگنڈہ ٹویٹس کے طور پر نشاندہی کی۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق دلی کی پولیس نے پیر کو یہ بیان دیا ہے کہ پولیس کو حکومتی جماعت کے ترجمان کی ٹویٹ کی غلط درجہ بندی سے متعلق ایک شکایت موصول ہوئی تھی، جس پر پولیس نے ٹوئٹر کے دفتر کا رخ کیا۔
دلی پولیس کے مطابق ٹوئٹر کے دفتر جانے کا مقصد اس بات کی تفتیش کرنا تھا اور کمپنی کے مینیجنگ ڈائریکٹر کو اس حوالے س نوٹس دینا بھی تھا۔
اپریل میں انڈیا نے ٹوئٹر کو یہ حکم دیا تھا کہ وہ ایسی ٹویٹس کو ہٹا دے جن میں کورونا وائرس وبا سے متعلق انڈین حکومت کے اقدامات پر تنقید کی گئی تھی، جس کے بعد ٹوئٹر نے ایسی ٹویٹس کو ہٹا دیا تھا۔
برطانوی حکومت نے اپنے شہریوں کو ہدایت کی ہے وہ وائرس کی انڈین قسم سے سب سے زیادہ متاثرہ آٹھ شہروں کی طرف غیر ضروری سفر نہ کریں۔ واضح رہے کہ نئی ہدایات کا سرکاری اعلان نہیں کیا گیا ہے بلکہ صرف آن لائن یہ ہدایات شائع کی گئی ہیں جس کے بعد سے حکومت پر تنقید کی جا رہی ہے کہ اتنی اہم پالیسی متعارف کرانے سے قبل اس کا باقاعدہ اعلان کیوں نہیں کیا گیا ہے۔
حکومت کی ہدایات کے مطابق کرکلیس، بیڈ فورڈ، برنلی، لیسٹر، ہاؤنزلو، شمالی ٹائنسائیڈ سب سے زیادہ متاثرہ شہر ہیں یعنی ان علاقوں میں کورونا وائرس کی انڈین قسم نے شہریوں کو سب سے زیادہ متاثر کیا ہے۔
برطانوی حکومت کی یہ ایڈوائس جمعے کے روز آن لائن شائع ہوئی تھی مگر اس کا کسی حکومتی عہدیدار کی طرف سے باقاعدہ اعلان نہیں کیا گیا ہے۔
برطانوی حکومت نے اس وائرس سے سب سے متاثرہ شہروں میں رہنے والوں کو انڈورز اجتماعات اور اجلاس نہ کرنے کا کہا ہے۔
برطانیہ کے ڈیپارٹمنٹ آف ہیلتھ کے مطابق ان متاثرہ علاقوں میں بسنے والے شہریوں کو غیر معمولی اقدامات اٹھانے ہوں گے۔
انگلینڈ میں کورونا کی انڈین قسم سے کل 5647 افراد متاثر ہوئے ہیں۔ ان میں سے 383 متاثرین کا تعلق سکاٹ لینڈ سے ہے اور 62 ویلز میں رہائش پذیر ہیں جبکہ 15 مریض شمالی آئرلینڈ کے باسی ہیں۔
نئی ہدایات کا سرکاری اعلان کیوں نہیں کیا گیا؟
واضح رہے کہ پبلک ہیلتھ ڈائریکٹر کو اس نئی ہدایات سے متعلق اعتماد میں نہیں لیا گیا۔
پبلک ہیلتھ کے ڈائریکٹر ڈومینک ہارسن نے کہا ہے کہ انھیں حکومت نے متاثرہ علاقوں سے متعلق نئی گائیڈ لائن میں تبدیلی سے متعلق اعتماد میں نہیں لیا ہے۔
ان کے مطابق ہم نے بھی یہ سنا ہے کہ جمعے کو یہ نئی ہدایات شائع کی ہیں مگر اس حوالے سے کوئی سرکاری اعلان نہیں کیا گیا ہے۔
انھوں نے ٹوئٹر پر بھی لکھا کہ حکومت نے نئی ہدایات سے متعلق کوئی مشورہ نہیں کیا ہے۔
رکن پارلیمنٹ کا وزیر صحت سے پارلیمنٹ میں پیش ہو کر وضاحت دینے کا مطالبہ
لبرل ڈیموکریٹ رکن پارلیمنٹ لیلا مورن نے کہا ہے کہ کورونا وائرس سے متعلق بغیر کسی سرکاری اعلان کے ہدایات میں تبدیلی لانے سے مزید تذبذب بڑھے گا اور اس سے ایک غیر یقینی صورتحال پیدا ہو گی۔
لیلا مورن جو کورونا وائرس پر آل پارٹیز پارلیمنٹری گروپ کی صدارت کرتی ہیں کا کہنا ہے کہ حکومت کا یہ (اقدام) پالیسی میں ایک بڑی تبدیلی ہے، جس کا لوگوں کی زندگی پر گہرا اثر پڑے گا تو ایسے میں صرف ویب سائٹ پر نئی ہدایات کو اپ ڈیٹ کر دینے سے غیر یقنیت پیدا ہو گی۔
ان کے مطابق ان علاقوں کے مقامی لوگ اور پبلک ہیلتھ کے حکام حکومت سے اس پر وضاحت چاہتے ہیں۔ انھوں نے مطالبہ کیا ہے کہ وزیر صت میٹ ہینکاک کو پارلیمنٹ میں آ کر اس پر سرکاری بیان دینا چائیے اور ان نئے قواعد کی وضاحت بھی ضرور دینی چائیے۔
ان کے مطابق ایسا لگتا ہے کہ یہ اہم سبق ابھی تک نہیں سیکھا گیا ہے کہ وبا کے دنوں میں واضح پیغام رسانی کی کیا اہمیت ہوتی ہے۔
پاکستان میں کورونا وائرس وبا پر روک تھام پانے کے ادارے نیشنل کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم (این سی او سی) کے سربراہ وفاقی وزیر اسد عمر نے کہا ہے کہ پاکستان میں پہلی دفعہ پیر کو ڈھائی لاکھ سے زائد افراد کی ویکسینیشن کی گئی ہے۔
اپنے ایک ٹویٹ میں انھوں نے ویکسین کے لیے رجسٹرڈ افراد سے یہ درخواست کی ہے کہ وہ جلد اپنی ویکسینیشن کے لیے ویکسین سینٹر جائیں۔
انھوں نے کہا ہے کہ جن افراد کو دوسری ویکسین لگنی ہے وہ ضرور بروقت ویکسینیشن کے لیے جائیں۔
انھوں نے اپنے ایک اور ٹویٹ میں کہا ہے کہ ویکسینیشن مہم کے سلسلے میں چیمبر آف کامرس، وکلاء تنظیمیں، دیگر تاجر تنظیمیں، صحافی تنظیمیں، لیبر یونین، اساتذہ اور مختلف تنظیموں کی ویکسینیشن کے لئے خصوصی پروگرام ترتیب دیئے جائیں گے اور مختلف شعبوں کی تنظیموں کو ساتھ ملا کر ویکسینیشن مہم کو انشاء اللہ مزید متحرک کیا جائے گا۔
وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود بھی کورونا وائرس سے متاثر ہو گئے ہیں۔ شفقت محمود نے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ بہتر ہیں اور انھیں معمولی علامات ظاہر ہوئی ہیں۔
ٹوکیو اولمپکس مقابلوں سے چند ہفتے قبل امریکہ نے کورونا وائرس کے بڑھتے ہوئے کسیز کے پیش نظر اپنے شہریوں کو جاپان کا سفر اختیار کرنے سے متعلق خبردار کیا ہے۔
تاہم امریکہ کے اولمپکس کے حکام کا کہنا ہے کہ وہ پرامید ہیں کہ ان کے ایتھلیٹس کو ٹوکیو گیمز میں شرکت کر سکیں گے۔
جاپان نے خود بھی کئی سیاحوں پر ملک آمد پر پابندی عائد کر دی ہے۔
اگرچہ جاپان میں طویل عرصے تک کورونا وائرس کے کم متاثرین سامنے آتے رہے ہیں مگر اب جاپان میں ایک تازہ لہر آئی ہے جس نے کئی شہروں کے ہیلتھ سسٹم پر خاصا بوجھ ڈالا ہے اور متاثرین کی تعداد میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
جاپان میں اس وائرس سے متاثر ہونے والو کی تعداد سات لاکھ بنتی ہے جبکہ 12 ہزار افراد اس وائرس سے ہلاک بھی ہوئے ہیں۔
امریکہ کہ بیماریوں کے روک تھام کرنے والے ادارے سی ڈی ایس نے کہا ہے کہ سیاح جاپان کا رخ کرنے سے بچیں اور ادارے نے یہ واننگ بھی جاری کی ہے کہ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس وقت مکمل ویکسینیشن کے بعد بھی جاپان میں جانا خطرے سے خالی نہیں ہے۔
خیال رہے کہ اس وقت جاپان بھی نئی قسم کے وائرس کے پھیلاؤ سے بچنے کے لیے سیاحوں کو اپنے ملک کا رخ کرنے کی اجازت نہیں دے رہا ہے اور امریکہ بھی ان ملکوں کی فہرست میں شامل ہے جن کے شہریوں پر جاپان داخلے پر پابندی عائد ہے۔
اس وقت جاپان کے متعدد شہروں میں ایمرجنسی جیسے حالات نافذ ہیں اور جاپان اس وائرس کو قابو میں رکھنے کے لیے سخت اقدامات اٹھا رہا ہے۔