اقوام
متحدہ ، امریکہ اور برطانیہ سمیت بین الاقوامی برادری نے فلسطین اور اسرائیل تنازع میں پھنسے شہریوں کی زندگیاں بچانے
کے لیے مزید اقدامات اٹھانے کا مطالبہ کیا ہے۔
غزہ
میں ملبے کے نیچے سے بچوں کی نکالنے کی تصاویر کے ساتھ ساتھ اسرائیل میں شہریوں کی
محفوظ پناہ گاہ کے لیے بھاگتے ہوئے تصاویر پر عالمی برادری نے ردعمل کا اظہار کیا ہے۔
اسرائیل
فلسطین تنازعے کی حالیہ لہر اب دوسرے ہفتے میں داخل ہو چکی ہے اور اس میں جنگ بندی
کے آثار بہت کم ہیں۔
غزہ
کے صحت حکام کے مطابق اسرائیل کی جانب سے اب تک جاری حملوں میں کم از کم 212 فلسطینی
شہری ہلاک ہو چکے ہیں جن میں 61 بچے اور 36 خواتین شامل ہیں۔ جبکہ اسرائیل میں بھی
دو بچوں سمیت دس افراد ہلاک ہوئے ہیں۔
اسرائیل
کا کہنا ہے کہ غزہ پر ان کے حملوں میں ہلاک ہونے والے زیادہ تر افراد عسکریت پسند
ہیں اور ان حملوں میں بچوں کی ہلاکتیں غیر ارادی ہیں۔
تاہم
غزہ میں عکسریت پسند تنظیم حماس اس دعوے کو تسلیم نہیں کرتی۔
پیر
کی رات کو بھی اسرائیل کی لبنان کے قریب شمالی اور جنوبی سرحدوں پر سائرن کی
آوازیں گونجتی رہیں اور وہاں راکٹ حملے جاری رہے۔
جبکہ اسرائیلی رہنماؤں نے بھی حملے جاری رکھنے کے عزم کو دوبارہ دہرایا ہے۔
دوسری جانب عالمی رہنماؤں کی جانب سے خطے میں جاری کشیدگی اور اس میں ہونے والی شہریوں کی ہلاکتوں پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔ عالمی برادری اور انسانی ہمدردی کی تنظیموں نے اس تنازعے میں معصوم شہریوں کی زندگیوں کو محفوظ بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔
برطانیہ کے وزیر اعظم بورس جانسن کے ترجمان کا کہنا تھا کہ اسرائیل عام شہریوں کے ہلاکتوں سے بچنے کی کوشش کریں لیکن انھوں نے حماس کی جانب سے شہری آبادی کو ڈھال بنانے پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔
امریکی سیکرٹری آف سٹیٹ انٹونی بلنکن نے دونوں فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ شہریوں خصوصاً بچوں کی زندگیوں کو محفوظ بنائے۔ ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل پر ایک جموری ملک کی حیثیت سے اس حوالے سے بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔
اقوام متحدہ کی جانب سے بھی پہلے سے مخدوش حالات کا شکار غزہ میں شہری انفراسٹریکچر کی تباہی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ حالیہ دنوں میں 40 سکول اور چار ہسپتال ’مکمل طور پر یا جزوی طور‘ پر تباہ ہو چکے ہیں۔
جبکہ صحت کی عالمی تنظیم ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے ہنگامی سروسز کے سربراہ ڈاکٹر مائیک ریان نے بھی کہا ہے کہ ہسپتالوں ہر حملوں کو فوری بند کرنا چاہیے۔