آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

امریکی صدر کا اسرائیل کو پیغام: ’آج سے کشیدگی میں کمی کی توقع‘

غزہ میں حملوں اور جوابی حملوں کے بعد امریکی صدر جو بائیڈن نے اسرائیلی وزیر اعظم بنیامن نتن یاہو سے فون پر بات کی ہے۔ وائٹ ہاؤس کے بیان کے مطابق ’صدر نے وزیر اعظم کو بتایا کہ وہ آج سے سیز فائر کے حصول کے لیے کشیدگی میں کمی کی توقع کر رہے ہیں۔‘

لائیو کوریج

  1. ایران کا فلسطینیوں کی حمایت جاری رکھنے کا اعلان

    ایران میں خصوصی فوجی دستے پاسداران انقلاب کے سربراہ نے کہا ہے کہ ان کا ملک فلسطینوں کی ’صہیونیت پر مبنی ریاست‘ کے خلاف حمایت کرتا ہے۔

    ٹی وی پر نشر ہونے والے ایک بیان میں حسین سلامی نے کہا کہ اس لڑائی سے ثابت ہوا کہ فلسطینی قوم میزائل سے اپنا دفاع کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

    ماضی میں حماس کو ایران کی مالی اور فوجی حمایت حاصل رہی ہے۔

    دونوں میں تعلقات اس وقت خراب ہوئے جب حماس نے شام میں خانہ جنگی کے دوران ایران کے اتحادی اور شام کے صدر بشار الاسد کی حمایت سے انکار کیا۔

    تاہم اب یہ سمجھا جاتا ہے کہ دونوں فریقین میں اس کے بعد تعلقات بحال ہوگئے تھے۔

  2. حماس: اسرائیل سیز فائر کے لیے بات چیت سے انکار کر رہا ہے

    امریکی صدر جو بائیڈن نے اسرائیلی وزیر اعظم کو کشیدگی کم کرنے کی تجویز دی ہے۔ تاہم اس کے بعد غزہ میں حماس کے ترجمان حازم قاسم نے کہا ہے کہ سفارتی کوششوں کے باوجود اسرائیل سیز فائر کے لیے پُرتشدد واقعات ختم کرنے سے انکار کر رہا ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ ’سیز فائر کے لیے کوئی تاریخ نہیں دی جاسکی کیونکہ تمام بین الاقوامی کوششیں، اور مصری کوششیں، اس اسرائیلی موقف کی وجہ سے رُک گئی ہیں جس میں وہ سیز فائر کے معاہدے سے انکار کر رہا ہے۔‘

    انھوں نے روئٹرز کو بتایا کہ اگر اسرائیل نے ’غزہ پر بمباری روک دی۔۔۔ تو امن کی بحالی کے لیے بات چیت کے مواقع پیدا ہوسکتے ہے۔‘

  3. اسرائیلی وزیر اعظم کا فوجی آپریشن جاری رکھنے کا فیصلہ

    اسرائیلی وزیر اعظم بنیامن نتن یاہو نے ٹوئٹر پر جاری کردہ ایک ویڈیو پیغام میں کہا ہے کہ ان کی حکومت فلسطینی جنگجوؤں کے خلاف آپریشن جاری رکھے گی۔

    ان کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے کہ جب امریکی صدر جو بائیڈن نے ایک فون کال پر انھیں کشیدگی میں کمی لانے کی تجویز دی ہے۔

    نتن یاہو نے اس فون کال سے متعلق بات نہیں کی مگر کہا کہ وہ بائیڈن کی حمایت کے شکر گزار ہیں جس میں امریکہ اسرائیل کی جانب سے اپنے دفاع کے حق کا تحفظ کرتا ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ ’میں اس وقت تک یہ آپریشن جاری رکھنے کا عزم رکھتا ہوں جب تک اس کے مقاصد حاصل نہیں کر لیے جاتے جو کہ اسرائیل کے شہریوں کے لیے امن و سلامتی بحال کرنا ہے۔‘

    سفارتی سطح پر سیز فائر کے مطالبات تاحال کامیاب نہیں ہوسکے۔

  4. امریکہ نے پھر سلامتی کونسل کے سیز فائر کے مطالبے کی حمایت سے انکار کر دیا

    خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق امریکہ نے ایک بار پھر اقوام متحدہ میں سلامتی کونسل کی اس مجوزہ فرانسیسی قراردار کی حمایت سے انکار کر دیا ہے جس میں اسرائیل-فلسطین کشیدگی پر سیز فائر کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

    اے ایف پی کے مطابق ایک امریکی ترجمان نے اقوام متحدہ کو بتایا ہے کہ ’ہم نے واضح طور پر بارہا کہا ہے کہ ہماری توجہ سنجیدہ سفارتی کوششوں پر مرکوز ہے تاکہ پُرتشدد واقعات کو ختم کیا جاسکے اور ہم کسی ایسے اقدام کی حمایت نہیں کریں گے جس کی وجہ سے تناؤ میں کمی کی کوششوں کی حوصلہ شکنی ہو۔‘

    سلامتی کونسل میں امریکہ پانچ مستقل اراکین میں سے ایک ہے جس کے پاس ویٹو کا حق ہے۔

  5. بائیڈن کی نتن یاہو کو کال میں لہجے میں تبدیلی کا تاثر, باربرا پلیٹ اشر، بی بی سی نیوز

    یہ پہلی مرتبہ ہے کہ امریکی صدر جو بائیڈن نے براہ راست اسرائیل پر سیز فائر کے لیے دباؤ ڈالا ہے، یا اس کشیدگی میں فوری کمی کی بات کی ہے۔

    اب تک وہ اسرائیل کی جانب سے اپنے دفاع کے حق پر زور دے رہے تھے اور حماس سے راکٹ حملے روکنے کا مطالبہ کر رہے تھے۔

    آج انھوں نے اسرائیلی وزیر اعظم بنیامن نتن یاہو کو بتایا کہ اب تناؤ میں کمی ضروری ہے اور اسرائیل کی جانب سے آپریشن کو روکنا مناسب ہوگا تاکہ سیز فائر کی راہ ہموار ہوسکے۔

    انھوں نے اس بات کو حماس کی فوجی صلاحت میں کمی کے حوالے سے پیشرفت اور غزہ میں حالات سے جوڑا جہاں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں بڑھ رہی ہیں۔

    بائیڈن پر سیاسی اور بین الاقوامی دباؤ بڑھ رہا تھا کہ وہ اس تنازع میں مداخلت کریں اور پُر تشدد واقعات ختم کرنے میں اپنا کردار ادا کریں۔

    جمعرات کو ایک بار پھر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا اجلاس ہونے جا رہا ہے۔ انھوں نے یہ تاثر دیا ہے کہ امریکہ شاید اب اسرائیل کو سفارتی تحفظ فراہم نہیں کرے گا۔

  6. اسرائیل میں ہلاک ہونے والے تھائی لینڈ کے شہریوں کی شناخت ہوگئی

    گذشتہ روز جنوبی اسرائیل میں فلسطینی جنگجوؤں کے راکٹ حملے میں تھائی لینڈ کے دو شہری ہلاک ہوگئے تھے جو ایک پیکجنگ فیکٹری میں ملازمین تھے۔

    اب ان کی شناخت کر لی گئی ہے۔ یہ 24 سالہ سیکھرن سنگمرام اور 44 سالہ ویراوت کرن بوریراک تھے۔

    اسرائیلی چینل کان نیوز نے ان کی تصاویر ٹویٹ کی ہیں۔ تھائی لینڈ کی وزارت خارجہ کے مطابق اس حملے میں آٹھ مزید تھائی ورکر زخمی ہوگئے تھے۔

  7. امریکہ کا صبر کا پیمانہ ٹوٹ سکتا ہے, پال ایڈمز، نامہ نگار برائے سفارتی امور، یروشلم

    امریکی صدر بائیڈن نے اسرائیلی وزیر اعظم سے فون پر بات کی ہے اور یہ پیغام دیا ہے کہ وہ ’آج سے کشیدگی میں کمی کی توقع کر رہے ہیں۔‘

    بظاہر اس سے یہ لگتا ہے کہ اسرائیلی فوجی حملوں کی وجہ سے امریکہ کا صبر کا پیمانہ ٹوٹ رہا ہے۔

    جمعرات کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا ایک اور اجلاس ہونے جا رہا ہے جس سے قبل یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ اس میں شاید امریکہ اسرائیل کی اتنی حفاظت نہیں کر پائے گا۔ امریکہ کو اسرائیل کے بڑے اتحادیوں میں سے ایک سمجھا جاتا ہے۔

    نتن یاہو نے آج غیر ملکی سفارتکاروں سے بات چیت میں واضح کیا تھا کہ غزہ میں جاری اسرائیلی آپریشن کا کوئی ٹائم فریم قائم نہیں کیا جاسکتا۔

    گذشتہ شب کے دوران مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق اسرائیل نے پیشکش کی تھی کہ جمعرات کی صبح تک سیز فائر کا اعلان کیا جاسکتا ہے۔ لیکن ان خبروں کی تصدیق نہیں ہوسکی۔

  8. امریکہ کو ’آج سے کشیدگی میں قبل ذکر کمی کی توقع‘

    جس وقت اسرائیل لبنان میں متعدد اہداف کا تعاقب کر رہا تھا اسی دوران امریکی صدر جو بائیڈن نے اسرائیلی وزیر اعظم بنیامن نتن یاہو سے فون پر بات کی۔

    خطے میں حملے اور جوابی حملے شروع ہونے کے بعد سے یہ ان دونوں رہنماؤں کے درمیان چوتھی فون کال تھی۔

    امریکہ کو اسرائیل کے اہم اتحادیوں میں سے ایک سمجھا جاتا ہے اور اس نے اب تک اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی جانب سے تنازع پر مشترکہ بیان کو روکا ہے۔

    وائٹ ہاؤس کے جاری کردہ بیان کے مطابق دونوں رہنماؤں کے درمیان صورتحال سے متعلق ’تفصیلی بات چیت‘ ہوئی اور اس میں سفارتی سطح پر سیز فائر کی کوششوں پر مشاورت شامل ہے۔

    بیان کے مطابق ’صدر نے (اسرائیلی) وزیر اعظم کو بتایا کہ وہ آج سے سیز فائر کے حصول کے لیے کشیدگی میں قبل ذکر کمی کی توقع کر رہے ہیں۔‘

    اس سے قبل بنیامن نتن یاہو نے کہا ہے کہ اسرائیلی فوج ’مقاصد کا خیال رکھ رہی ہے‘ اور ’ہم سٹاپ واچ لیے نہیں کھڑے۔‘

    اسرائیلی دفاعی ذرائع نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ اب تک سیز فائر کی کوئی بات نہیں ہو رہی۔ حماس کے اہلکار صلح کی کوششوں کو سنجیدگی سے لے رہے ہیں تاہم انھوں نے اسرائیل پر ’ہٹ دھرمی‘ کا الزام لگایا ہے۔

  9. غزہ میں ہلاکتوں کے بعد اسرائیل-لبنان تعلقات میں کشیدگی کیوں؟

    اسرائیل اور اس کے ہمسایہ ملک لبنان کے درمیان ایک طویل عرصے سے سرحد پر تناؤ رہا ہے۔

    سنہ 1948 سے 1949 میں عرب اسرائیلی تنازع سے دونوں ملکوں کے تعلقات کشیدگی کی طرف بڑھے۔ اس سرحد پر اسرائیلی فوج کا سامنا لبنان کی فوج اور حزب اللہ سے ہوتا ہے اور پیس کیپر امن قائم کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

    مسلح گروہ حزب اللہ کو ایران کی حمایت حاصل ہے اور یہ لبنان کی فوج کے ساتھ ملک کے سکیورٹی اور سیاسی معملات پر اثر و رسوخ رکھتا ہے۔

    سنہ 2006 میں اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان ایک ماہ طویل جنگ جاری رہی تھی جس میں لبنان کے 1190 شہری جبکہ اسرائیل کے 163 شہری ہلاک ہوئے تھے۔ اس کے بعد اقوام متحدہ کی مدد سے سیز فائر نافذ کیا گیا تھا۔

    گذشتہ 10 روز کے دوران جنوبی لبنان سے شمالی اسرائیل کی جانب کئی راکٹ داغے گئے ہیں۔ اس سے قبل ایسا پیر کو ہوا تھا۔

    کسی بھی راکٹ سے کوئی نقصان کی اطلاع سامنے نہیں آئی۔ اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اکثر حملوں کو روک لیا گیا تھا یا اس سے غیر آباد علاقوں میں دھماکے ہوئے تھے۔

  10. لبنان سے شمالی اسرائیل پر راکٹ حملے، اسرائیل کی جوابی کارروائی

    لبنان سے متعدد راکٹ شمالی اسرائیل کی طرف داغے گئے ہیں۔

    اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اس پر چار راکٹ داغے گئے تھے: ایک کو روک لیا گیا، دوسرا کھلے میدان میں جا گِرا اور دو بحیرہ روم میں گِرے ہیں۔

    اخبار ٹائمز آف اسرائیل کی خبر کے مطابق شفاعمرو، حيفا، كريوت اور ان کے گرد و نواح کے علاقوں میں تنبیہ کے سائرن بجائے گئے تھے۔ ‎

    خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق كريوت کے رہائشیوں نے تین بڑے دھماکے سنے ہیں۔ تاہم اب تک کسی کے زخمی ہونے کی اطلاع سامنے نہیں آئی۔

    دوسری جانب اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے جوابی کارروائی میں لبنان کے علاقوں میں اہداف کو نشانہ بنایا ہے۔

    لبنان اور اسرائیل میں 2006 میں ایک ماہ تک جنگ جاری رہی تھی جس کے بعد سے لبنان میں حزب اللہ سمیت کئی مسلح گروہ موجود ہیں۔

    سکیورٹی ذرائع نے روئٹرز کو بتایا ہے کہ یہ راکٹ لبنان کے جنوبی ساحلی شہر صور کے قریب واقع گاؤں صديقين سے اسرائیل کی طرف لانچ کیے گئے تھے۔ ابتدائی طور پر یہ واضح نہیں ہوسکا کہ یہ راکٹ کس نے داغے ہیں اور دونوں جانب حملوں سے کیا نقصان پیش آیا ہے۔

  11. روس: غزہ میں مزید ہلاکتیں ’قابل قبول نہیں‘

    روسی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ ملک کے ایک سینیئر اہلکار نے اسرائیلی سفیر کو بتایا ہے کہ ایسے کوئی اقدامات اب ’قابل قبول نہیں‘ ہوں گے جن سے غزہ میں مزید ہلاکتیں ہوتی ہیں۔

    رواں ہفتے کے اوائل میں روس عالمی سطح پر ان ممالک اور بین الاقوامی گروہوں میں شامل ہوگیا تھا جنھوں نے غزہ میں سیز فائر کا مطالبہ کیا ہے۔ ان میں امریکہ، یورپی یونین اور اقوام متحدہ بھی شامل ہیں۔

    اسرائیل میں موجود درجنوں غیر ملکی سفارتکار امن معاہدے کی کوششیں کر رہے ہیں۔

    غزہ میں حماس کے زیر انتظام وزارت صحت کے مطابق اب تک تقریباً 100 خواتین اور بچوں سمیت کم از کم 219 افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔ اسرائیل کا کہنا ہے کہ اس نے غزہ میں کم از کم 150 جنگجوؤں کو ہلاک کیا ہے۔ تاہم حماس ان جنگجوؤں کی تعداد کے حوالے سے اعداد و شمار جاری نہیں کرتا جو اسرائیلی فضائی حملوں میں ہلاک ہوتے ہیں۔

  12. فلسطینی رہنما کا اسرائیل پر جنگی جرائم کا الزام

    فلسطینی صدر محمود عباس نے اسرائیل پر غزہ میں ’ریاستی دہشتگردی اور جنگی جرائم‘ کا الزام لگایا ہے۔

    ٹی وی پر نشر ہونے والے ایک بیان میں محمود عباس نے کہا ہے کہ فلسطینی شہری ’بین الاقوامی عدالتوں میں ان جرائم کے ذمہ داران کے خلاف کارروائی سے رُکنے والے نہیں ہیں۔‘

    اسرائیل کا دعویٰ ہے کہ وہ صرف فوجی اہداف کو نشانہ بناتا ہے اور اس نے فضائی حملوں سے قبل تنبیہ کے ذریعے شہریوں کی ہلاکتیں روکنے کی کوشش کی ہے۔

    رواں سال انٹرنیشنل کریمنل کورٹ (آئی سی سی) نے سنہ 2014 میں اسرائیل اور فلسطینی گروہوں کے مبینہ جنگی جرائم کی تحقیقات شروع کی تھی۔ یہ وہ وقت ہے جب آخری بار اس لڑائی نے شدت اختیار کی تھی۔

    حالیہ کشیدگی پر بھی آئی سی سی نے تشویش ظاہر کی ہے۔

  13. غزہ میں جاری کشیدگی: اب تک کی اہم خبریں

    اسرائیل نے غزہ میں نئے سرے سے فضائی حملے کیے ہیں۔ اس کے اہداف میں غزہ میں قائم سرنگیں ہیں جو اس کے مطابق حماس کے مسلح گروہوں نے قائم کر رکھی ہیں۔

    غزہ میں موجود جنگجو اسرائیل پر جوابی راکٹ حملے کر رہے ہیں جن کی اکثریت جنوبی اسرائیل میں گِری ہے۔ اشكلون اور اشدود میں کئی راکٹ گِرے ہیں مگر ہلاکت یا زخمیوں کی اطلاع سامنے نہیں آئی۔

    اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اسرائیل امن قائم کرنے کے لیے لڑ رہا ہے۔ سیز فائر کے معاملے پر انھوں نے غیر ملکی سفارتکاروں سے کہا ہے کہ وہ ’کوئی سٹاپ واچ لے کر نہیں کھڑے۔‘

    فلسطینی صدر محمود عباس نے اسرائیل پر جنگی جرائم کا الزام لگایا ہے جبکہ اسرائیل کا کہنا ہے کہ وہ صرف ایسے اہداف کو نشانہ بناتا ہے جہاں سے دہشتگردی کی کارروائیاں کی جاتی ہیں اور اس نے شہری آبادی کو نقصان پہنچانے سے خود کو روکا ہے۔

  14. سو برس قبل جب 67 الفاظ نے عرب اسرائیل تنازع کی بنیاد رکھی

    برطانیہ میں فلسطینی مشن کے سربراہ نے کہا ہے کہ حالیہ کشیدگی کی وجہ تاریخ میں پیش آنے والے اہم واقعات ہیں۔

    حسام زملط نے بی بی سی کو بتایا کہ ’یہ لڑائی نیتن یاہو اور حماس کے درمیان نہیں ہے بلکہ یہ لڑائی 100 برس قبل اسرائیل اور فلسطین کے لوگوں کے درمیان شروع ہوئی تھی۔‘

    ان کا کہنا ہے کہ یہ لڑائی 1917 میں بیلفور اعلامیے سے شروع ہوئی جس میں ’ہم سے پوچھے بغیر ہماری زمین کسی اور کو دے دی گئی۔‘

    بیلفور اعلامیہ دو نومبر 1917 میں جاری ہوا تھا۔ اس کے بارے میں تاریخ کی جماعتوں میں پڑھایا جاتا ہے اور اہم باب کو اسرائیل اور فلسطین میں ایک بالکل الگ الگ قومی بیانیے میں پڑھایا جاتا ہے۔

    اس اعلامیے کو عرب اسرائیل تنازع کے آغاز کی وجہ کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔

    اس وقت کے وزیر خارجہ آرتھر بیلفور کے اعلامیے کا ذکر صیہونیت کے مرکزی حمایتی لارڈ والٹر روتھسچائلڈ کو لکھے گئے ایک خط میں شامل ہے۔ صیہونیت تحریک کا مقصد یہودیوں کی اپنی تاریخی سرزمین پر بحیرہ روم سے دریائے اردن کے مشرقی کنارے تک یہودی ریاست قائم کرنا تھا۔ اس علاقے کو فلسطین کہا جاتا تھا۔

    اس میں کہا گیا تھا کہ برطانوی حکومت یہودیوں کے لیے فلسطین میں ملک کے قیام کے حق میں ہے۔

    اس کے ساتھ ہی انھوں نے کہا تھا کہ اس وقت وہاں موجود غیر یہودی برادریوں کے شہری اور مذہبی حقوق کے ساتھ تعصب نہیں برتنا چاہیے۔

  15. برطانیہ میں فلسطین کے حامی گروہ کا ایک ڈرون فیکٹری میں مظاہرہ

    برطانیہ کے شہر لیسٹر میں ڈرون بنانے والی ایک فیکٹری کی چھت پر کچھ لوگوں نے فلسطین کے حق میں مظاہرہ کیا ہے۔

    ’پیلسٹائن ایکشن‘ نامی اس گروہ نے اسرائیل کی قائم کردہ ایلبٹ فیکٹری کا کچھ حصہ قبضے میں لیا اور وہ اس کی چھت پر چڑھ گئے۔

    اس فیکٹری میں ڈرونز بنائے جاتے ہیں اور مظاہرین کا دعویٰ ہے کہ یہی ڈرون اسرائیل اور حماس کے درمیان حالیہ کشیدگی کے دوران اسرائیلی حملوں کے لیے استعمال کیے گئے ہیں۔

    ان کا کہنا ہے کہ انھوں نے فیکٹری کے دروازے بند کر دیے ہیں اور اس کی پیداوار روک دی ہے۔

  16. بریکنگ, اسرائیلی وزیر اعظم بنیامن نتن یاہو: ’کچھ بھی خارج از امکان نہیں ہے‘

    اسرائیلی وزیر اعظم بنیامن نتن یاہو نے تل ابیب میں غیر ملکی صحافیوں سے بات کرتے ہوئے جنگ بندی کے بارے میں بیان دیتے ہوئے کہا کہ اسرائیل اپنے آپریشن کے مقاصد پورے کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

    ’ہم یہاں پر گھڑی لے کر نہیں کھڑے ہوئے ہیں۔ ہم اپنے آپریشن کے مقاصد کو پورا کرنے کی کوششیں کر رہے ہیں۔‘

    اس سے قبل ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل کی لڑائی کا مقصد ہے کہ علاقے میں نہ صرف ’امن اور خاموشی‘ دوبارہ قائم کی جا سکے بلکہ عسکریت پسند تنظیم حماس کے ساتھ صلح قائم رہے۔

    ’ان سے نمٹنے کے صرف دو طریقے ہیں۔ یا تو آپ ان پر غلبہ حاصل کر لیں، اور وہ ہمیشہ ممکن ہے، یا آپ انھیں باز رکھنے میں کامیاب ہو جائیں۔ ابھی کوئی بھی چیز خارج از امکان نہیں ہے۔‘

  17. غزہ شہر میں اسرائیلی حملے سے فلسطینی صحافی کی موت: میڈیا رپورٹس

    فلسطینی خبر رساں ادارے وفا کے مطابق غزہ شہر میں اسرائیلی حملے کے نتیجے میں ایک فلسطینی صحافی کی موت ہو گئی ہے۔

    غزہ میں عسکریت پسند جماعت حماس کے ریڈیو سٹیشن الاقصیٰ وائس سے منسلک صحافی یوسف ابو حسین کی موت اس وقت ہوئی جب اسرائیلی جنگی طیاروں نے شہر کے شمالی حصے میں واقع قبرستان کے قریب موجود ایک گھر پر بمباری کی۔

    وفا کے مطابق شہر کے مغربی حصے میں واقع ال رمل ضلع میں ایک اور گھر پر کیے گئے حملے میں مزید تین افراد کی ہلاکت ہو گئی تھی۔

    غزہ شہر میں موجود بی بی سی کے رشدی ابوالاعوف کو مقامی ذرائع نے بتایا کہ ایک عمارت پر کیے گئے حملے کے نتیجے میں دو جنگجو ہلاک ہو گئے جبکہ کچھ ڈاکٹروں نے انھیں بتایا کہ خان یونس شہر میں ایک عورت دل کا دورہ پڑنے سے ہلاک ہو گئیں جب ان کے پڑوس میں واقع مکان پر فضائی حملے کیے گئے۔

  18. برطانوی فٹبال کلب مانچسٹر یونائیٹڈ کے مینیجر کا کھلاڑیوں کی جانب سے فلسطینی جھنڈا لہرانے پر دفاع

    اسرائیل اور فلسطین میں جاری لڑائی کا اثر عالمی فٹبال تک پہنچ چکا ہے اور حال ہی میں مختلف کھلاڑیوں کی جانب سے خیالات کے اظہار اور فلسطینی جھنڈے لہرانے کے واقعات کے بعد گذشتہ شب برطانوی فٹبال کلب مانچسٹر یونائیٹڈ کے پال پوگبا اور عماد دیالو نے فلہم کے خلاف کھیلے گئے میچ کے بعد فلسطین کا جھنڈا لہرایا۔

    میچ کے بعد کلب کے مینیجر اولے گُنر سولشار نے اپنے دونوں کھلاڑیوں کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ ان کا کلب ’کھلاڑیوں کی مختلف سوچ رکھنے کے حق کی عزت کرتا ہے‘۔

    بظاہر پال پوگبا اور عماد دیالو کو یہ جھنڈا ایک شائق نے دیا تھا جب وہ اپنے میدان میں موجودہ فٹبال سیزن کا آخری میچ کھیلنے کے بعد میدان کا چکر لگا رہے تھے۔

    مینیجر سولشار کا کہنا تھا کہ ’ہمارے کھلاڑی مختلف پس منظر سے آتے ہیں ، مختلف ثقافتوں سے تعلق رکھتے ہیں، مختلف مملک سے تعلق رکھتے ہیں اور ہمیں چاہیے کہ ان کے خیالات کی عزت کریں اگر وہ کسی اور کے خیالات سے مختلف ہوں۔ اگر میرے کھلاڑی صرف فٹبال کے علاوہ بھی کچھ اور چیزوں کے بارے میں سوچتے ہیں تو میرے لیے یہ ایک مثبت بات ہے۔‘

  19. ترکی کی جانب سے صدر اردوغان پر یہودی مخالف خیالات رکھنے کے الزامات کی تردید

    ترکی نے اس الزام کی تردید کی ہے کہ ملک کے صدر رجب طیب اردوغان نے اسرائیل کے بارے میں تبصرہ کرتے ہوئے یہودی مخالف خیالات کا اظہار کیا تھا۔

    صدر اردوغان نے حال ہی میں اسرائیل پر ’دہشت گردی‘ کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ ’یہ ان کی فطرت میں ہے‘۔

    امریکی سٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے ترجمان نیڈ پرائس نے اس بیان کو ’قابل مذمت‘ قرار دیا۔

    بدھ کو صدر اردوغان کی سیاسی جماعت کے ترجمان عمر چیلک کا کہنا ہے کہ ترک صدر نے یہودی مخالف خیالات کے خلاف بہت سخت پیغام دے چکے ہیں۔

    ’ہمارے صدر پر یہ الزام عائد کرنا قطعی غلط ہے اور غیر منطقی ہے۔ یہ سراسر جھوٹ ہے۔‘

  20. جنگ بندی کی تمام کوششیں تاحال ناکام

    پس پردہ رہتے ہوئے کئی عالمی رہنما اور بین الاقوامی ادارے مشرق وسطی کے تازہ ترین بحران پر قابو پانے کے لیے فوری جنگ بندی کی کوششیں کر رہے ہیں۔

    اب جبکہ اسرائیل اور فلسطینی عسکریت پسند گروپ حماس کے مابین لڑائی دسویں دن بھی جاری ہے، گذشتہ روز یہ خبریں آئی تھیں کہ جنگ بندی کے امکانات کافی روشن ہیں، بالخصوص جب امریکہ کی جانب سے پہلی بار اس کے لیے حمایت کا اظہار کیا گیا تھا۔

    تاہم اسرائیلی دفاعی ذرائع نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ ’جنگ بندی کا کوئی امکان نہیں ہے۔‘

    اس سے قبل فرانس، مصر اور اردن نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں مشترکہ قرارداد پیش کرنے کی تجویز پیش کی تھی لیکن خبر رساں ادارے روئٹرز کو سفارت کاروں نے بتایا کہ امریکہ کو نہیں لگتا کہ اس سے کوئی فائدہ ہوگا۔

    وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری جین ساکی کا کہنا تھا کہ امریکہ پس پردہ رہ کر خاموش طریقے سے اس معاملے کو سلجھانے کی کوشش کر رہا ہے۔

    دوسری جانب قطر میں حماس کے اعلی عہدے داروں کا کہنا ہے کہ جنگ بندی کی کوششیں سنجیدگی سے آگے بڑھ رہی ہیں۔

    ان کی جانب سے کہا گیا کہ اسرائیل ’بضد‘ ہے کہ حماس پہلے راکٹ فائر بند کرے جس کے بعد وہ (اسرائیل) فیصلہ کرے گا کہ وہ اپنے حملے بند کریں یا نہیں۔

    اسرائیلی وزیراعظم بنیامن نتن یاہو کے مشیر مارک ریگیو کا کہنا ہے کہ اسرائیل اس معاملے کا ایسا حل چاہتا ہے جس کی مدد سے ’دیرپا امن‘ قائم ہو۔