پاکستان میں کورونا وائرس سے مزید 76 افراد ہلاک، ملک میں آج سے پبلک ٹرانسپورٹ بحال

پاکستان میں گذشتہ 24 گھنٹوں میں کورونا وائرس کے 2379 نئے مریض سامنے آئے ہیں جبکہ جبکہ اس وائرس سے 76 ہلاکتیں بھی ہوئی ہیں۔ دوسری جانب آج ملک بھر میں پبلک ٹرانسپورٹ بحال کر دی گئی ہے۔

لائیو کوریج

  1. کوئٹہ میں پابندیوں کے باوجود چھپ چھپ کر کاروبار جاری, محمد کاظم، نامہ نگار کوئٹہ

    بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں سیکورٹی اقدامات کے باعث اگرچہ تاجر تنظیموں کے اعلان کے باوجود دکاندار اپنی دکان نہیں کھول سکے تاہم گذشتہ چار روز کے مقابلے میں بدھ کو شہر میں خریداروں کی بڑی تعداد دکھائی دی۔

    خیال رہے کہ حکومت اور انتظامیہ سے مذاکرات میں ناکامی کے بعد تاجر تنظیموں نے یہ اعلان کیا تھا کہ وہ بدھ اور جمعرات کو ایس او پیز کے تحت اپنی دکانیں کھولیں گے۔

    اس اعلان کے بعد انتظامیہ کی جانب سے چار روز کے مقابلے میں شہر کے وسطی علاقوں میں سیکورٹی کے انتظامات کو مزید سخت کیا گیا تھا جبکہ پولیس اہلکار شہر میں بکتر بند گاڑیوں میں بھی گشت کرتے رہے۔

    تاجروں کے نکلنے اور ان کی متوقع گرفتاری کے پیش نظر جیل کی گاڑیاں بھی منان چوک پر لانے کے علاوہ شہر کے بعض داخلی راستوں کو گاڑیاں کھڑی کر کے بند کیا گیا تھا، چنانچہ سہ پہر تک تاجر تنظیموں کے اعلان کے مطابق دکاندار اپنی دکان نہیں کھول سکے۔

    تاہم دکانداروں کی ایک بڑی تعداد اپنی دکانوں کے باہر موجود رہی اور خریداروں کے آنے پر وہ شٹر اٹھا کر ان کو دکانوں کے اندر داخل کرواتے رہے۔

    یہ مناظر شہرمیں زیادہ تر جناح روڈ، قندہاری بازار اور پرنس روڈ پر جوتوں کی دکانوں پر دیکھنے کو ملے جبکہ بعض سڑکوں پر دکانیں مکمل کھلی بھی رہیں لیکن پولیس یا دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کے آنے پر فوری طور پر شٹر بند کیے جاتے رہے۔

    اس کے علاوہ یہ بھی دیکھنے میں آیا کہ ماضی کے مقابلے میں ریڑھیوں پر جوتے فروخت کرنے والوں کی تعداد زیادہ تھی اور ان ریڑھیوں پر قیمتی جوتے بنانے والی کمپنیوں کے جوتوں کے ڈبے بھی نظر آئے۔

    مکمل لاک ڈاﺅن کے نفاذ کے بعد سے گذشتہ چار روز کے مقابلے میں شہر میں خریداروں کی بھی بڑی تعداد نظر آئی لیکن وہ کورونا ایس او پیز کا خیال نہ رکھتے ہوئے نظر آئے۔ اسی طرح کے شہر کے نواحی علاقوں میں بھی زیادہ تر دکانیں کھلی رہیں۔

    کوئٹہ، کورونا
    کوئٹہ، کورونا
    کوئٹہ، کورونا
  2. آج سے سونگھ کر کورونا وائرس کا پتا لگانے والے کتے اسلام آباد ایئرپورٹ پر ٹیم کی صورت کام کریں گے

    نیشنل کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر (این سی او سی) کے 3 مئی کو ہونے والے اجلاس میں یہ فیصلہ کیا گیا تھا کہ سونگھ کر بیماری کا پتا لگانے والے کتوں کے ذریعے ائیرپورٹس پر کورونا وائرس کے متاثرین کا پتا چلایا جائے گا۔ فیصلے کے مطابق 12 مئی سے یہ کتے ایئرپورٹ پر تعینات کر دیے جائیں گے۔

    این سی او سی نے متعلقہ حکام کو اس حوالے سے تمام انتظامات کرنے سے متعلق بھی لکھا ہے۔

    ایئرپورٹ کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ کتے بیرون ملک سے آنے والوں کی قطار کے قریب کھڑے یہ سونگھ سکیں گے کہ ان میں سے کون کون اس وائرس سے متاثرہ ہے۔ اہلکار کے مطابق دنیا کے کئی ممالک میں بھی اس طرح مریضوں کا پتا چلایا جاتا ہے۔

    خیال رہے کہ سول ایوی ایشن اتھارٹی نے دو روز قبل تحفظات کا اظہار کیا تھا کہ بیرون ملک سے کچھ مسافر ایسے بھی آئے جن کے پاس کورونا وائرس کا ٹیسٹ منفی آیا تھا مگر ان میں اس وائرس کی تشخیص ہوئی ہے۔

    Corona

    ،تصویر کا ذریعہNCOC

  3. کورونا وائرس کی انڈین قسم دنیا کے 44 ممالک میں پائی گئی ہے: عالمی ادارہِ صحت

    عالمی ادارہِ صحت ڈبلیو ایچ او نے بدھ کے روز کہا ہے کہ انڈیا میں کورونا وائرس کی وبا میں تیزی لانے والی قسم دنیا میں درجنوں ممالک میں پائی گئی ہے۔ ڈبلیو ایچ او کا کہنا ہے کہ کووڈ19 کی قسم بی.1.617 قسم جو اکتوبر میں پہلی مرتبہ انڈیا میں دریافت ہوئی تھی، ڈبلیو ایچ او کے جمع کردہ 4500 نمونوں میں پایا گیا ہے جو کہ 44 ممالک میں جمع کیے گئے ہیں۔

    انڈیا سے باہر وائرس کی یہ قسم سب سے زیادہ برطانیہ میں پائی گئی ہے۔ اس قسم کو ڈبلیو ایچ او پہلے ہی کورونا وائرس کی قابلِ تشویش قسم قرار دے چکا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انڈیا میں دریافت ہونے والی اس قسم کو برطانیہ، برازیل اور جنوبی افریقہ میں ملنے والی اقسام کی ایک فہرست میں شامل کیا گیا ہے جو کہ بظاہر وائرس کی ابتدائی قسم کے مقابلے میں زیادہ تیزی سے پھیلتے ہیں۔

    کورونا

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

  4. بریکنگ, عید الفطر پر تمام ائیرلائنز کو مزید 30 فیصد پروازیں چلانے کی اجازت

    پاکستان سول ایوی ایشن اتھارٹی نے عید الفطر پر مسافروں کے رش کے باعث تمام ائیرلائنز کو مزید 30 فیصد پروازیں چلانے کی اجازت دے دی ہے۔

    ترجمان سول ایوی ایشن کے مطابق یہ فیصلہ پروازوں کی قلت اور رش کی وجہ سے کیا گیا ہے۔ سول ایوی ایشن اتھارٹی نے تمام ایئر لائنز سے18 مئی تک شیڈول بھی طلب کرلیا ہے۔

    سی اے اے نوٹیفکیشن کے مطابق ائیرلائنز 30 فیصد پروازوں کو مسافروں کے ساتھ بیرون ملک لے جاسکیں گی لیکن واپسی پر صرف کارگو سامان لانے کی اجازت ہوگی۔

    خیال رہے کہ اس قبل سے پہلے 20 فیصد ایئرلائنز کو مسافر لے جانے اور واپس لانے کی اجازت تھی اور ان 20 فیصد پروازوں کو 20 مئی تک محدود کیا گیا تھا۔

    وائرس

    ،تصویر کا ذریعہٰCAA

  5. بریکنگ, کورونا وائرس: پاکستان میں 30 سال سے زیادہ عمر والوں کے لیے ویکسین کی رجسٹریشن 16 مئی سے شروع

    پاکستان میں وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی اور ملک میں کورونا وائرس کے حوالے سے حکومتی اقدامات کے نگران ادارے این سی او سی کے سربراہ اسد عمر کا کہنا ہے کہ جیسے جیسے ملک میں ویکسین کی رسد بڑھ رہی ہے۔

    تمام صوبوں میں ویکسینیشن کرنے کی صلاحیت کو بڑھایا جا رہا ہے۔ انھوں نے اعلان کیا ہے کہ آئندہ اتوار یعنی 16 مئی سے پاکستان میں 30 سال عمر سے زیادہ کے شہریوں کی کورونا وائرس کی ویکسین کے لیے رجسٹریشن شروع کر دی جائے گی۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  6. گوا کے وزیر صحت کا سرکاری ہسپتال میں آکسیجن کی کمی کا اعتراف

    انڈیا، کورونا

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    گوا کے وزیر صحت نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ ایک سرکاری ہسپتال، جہاں منگل کی صبح کورونا کے 26 مریض ہلاک ہو گئے تھے، میں آکسیجن کی کمی تھی۔

    وشوجیت رانے نے کہا ہے کہ ’منگل کے روز جی ایم سی ایچ ہسپتال میں کورونا کے 26 مریض ہلاک ہو گئے۔ سوموار کے روز ہسپتال میں آکسیجن کے 1200 سیلنڈرز کی ضرورت تھی لیکن صرف 400 سیلنڈر فراہم کیے گئے۔‘

    واضح رہے کہ کے اس سے قبل وزیر صحت یہ کہہ چکے ہیں کہ ہائی کورٹ کو اس معاملے کی تحقیقات کرنی چاہیے تاکہ حقیقت سامنے آ سکے۔

    انڈیا کے خبر رساں ادارے پریس ٹرسٹ آف انڈیا کے مطابق گوا کے وزیر اعلیٰ پرامود ساونت نے بھی آکسیجن کی قلت کا اعتراف کیا ہے۔

  7. ’بلیک فنگس‘: انڈیا میں کورونا سے صحتیاب ہونے والے کیسے اپاہج ہو رہے ہیں؟

    انڈیا

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    انڈیا میں جہاں کووڈ 19 کی تباہ کُن دوسری لہر جاری ہے، وہیں ڈاکٹروں کی جانب سے اس نایاب فنگس جسے 'بلیک فنگس' بھی کہا جاتا ہے کے کیسز کووڈ کے مریضوں یا اس سے صحتیاب ہونے والوں میں تیزی سے سامنے آنے لگے ہیں۔

    سنیچر کی صبح ممبئی میں مقیم آنکھوں کے سرجن ڈاکٹر اکشے نائر ایک 25 سالہ خاتون کا آپریشن کرنے کی تیاری کر رہے تھے۔ یہ خاتون تین ہفتے قبل ہی کووڈ 19 سے صحتیاب ہوئی تھیں۔

    ہسپتال کے آپریشن تھیٹر میں ایک ناک، کان اور گلے کا ماہر ڈاکٹر ایک دوسری خاتون مریضہ کے علاج میں مصروف تھے۔ یہ مریضہ ذیابیطس کے مرض کا بھی شکار تھیں۔ ڈاکٹر نے ان کے ناک میں ایک ٹیوب ڈالی ہوئی تھی اور وہ اُن کے جسم میں سے میوکورمائیکوسز سے متاثرہ ٹیشوز نکال رہے تھے۔ میوکورمائیکوسز ایک نایاب مگر خطرناک فنگل انفیکشن ہے۔ یہ انفیکشن ناک، آنکھوں یا کبھی کبھی دماغ پر اثر انداز ہوتا ہے۔

    جب یہ ڈاکٹر اپنی مریضہ کے میوکورمائیکوسز ٹشوز نکال دیں گے تو ڈاکٹر نائر اپنی مریضہ کا تین گھنٹوں کا آپریشن کریں گے جس میں وہ اُن کی ایک آنکھ نکال دیں گے۔

    ڈاکٹر نائر بتاتے ہیں ’میں اُن کی جان بچانے کے لیے ایک آنکھ نکال دوں گا۔ یہ بیماری ایسے ہی کام کرتی ہے۔‘

  8. انڈیا: گنگا کنارے لاشیں کہاں سے آئیں؟

    YouTube پوسٹ نظرانداز کریں
    Google YouTube کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو Google YouTube کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے Google YouTube ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔ YouTube کے مواد میں اشتہارات ہو سکتے ہیں۔

    YouTube پوسٹ کا اختتام

    انڈیا میں کورونا کے دوسری لہر کی شدت میں کوئی کمی آتی دکھائی نہیں دے رہی ہے اور شمالی انڈیا میں دریائے گنگا کے کنارے پر مزید درجنوں لاشیں برآمد ہوئی ہیں۔

    انڈین ریاست اترپردیش کے علاقے گھمار میں اب تک گنگا دریا سے 50 سے زائد لاشیں برآمد ہوئی ہیں۔

    یہ لاشیں یہاں کیسے آئی اس کے متعلق اطلاعات نہیں ہے تاہم یہ خیال کیا جا رہا ہے کہ یہ تمام کورونا سے متاثرہ افراد کی لاشیں ہیں۔ اب تک ان کی شناخت نہیں ہو سکی۔

    مزید جانیے بی بی سی اردو کے نامہ نگار شکیل اختر کی اس ویڈیو میں۔

  9. انڈیا میں کورونا کے باعث اموات کی تعداد ڈھائی لاکھ سے زیادہ

    انڈیا

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    انڈیا میں کورونا وائرس سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد ڈھائی لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے۔ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ایک ارب اور 30 کروڑ کی آبادی والے اس ملک میں اموات کی تعداد اس سے بھی کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔

    وزارت صحت کے مطابق گذشتہ 24 گھنٹوں میں ملک میں ریکارڈ 4205 اموات ہوئی ہیں۔ انڈیا میں اس وائرس سے ہلاک ہونے والوں کی کل تعداد دو لاکھ 54 ہزار اور 197 تک پہنچ چکی ہے۔

    امریکہ کے بعد اس وقت انڈیا میں کورونا وائرس کے سب سے زیادہ متاثرین ہیں جن کی تعداد ساڑھے تین لاکھ سے بڑھ کر 23.5 ملین تک پہنچ گئی ہے۔

    انڈیا کی دو تہائی آبادی دیہی علاقوں میں رہتی ہے جہاں بظاہر اس وائرس پر زیادہ نظر نہیں رکھی جا رہی ہے۔ کئی ماہرین کا خیال ہے کہ انڈیا جہاں صحت کا ایک ناقص نظام ہے وہاں اس وائرس سے ہلاک ہونے والوں کی صیحح تعداد کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔

    ایک آزاد تحقیقاتی ادارے ہیلتھ پالیسی اینڈ بائیوتھکس ریسرچر نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ انڈیا میں سرکاری اعدادوشمار کے برعکس اموات کی تعداد زیادہ ہے۔

  10. کووڈ 19 کی وبا: بی بی سی اردو کی لائیو کوریج

    کورونا وائرس کی وبا کے حوالے سے بی بی سی اردو کی لائیو کوریج جاری ہے۔

    اس صفحے پر آپکو دنیا بھر سے کووڈ 19 کی وبا کے حوالے سے سامنے آنے والی اہم معلومات، خبریں اور تجزیے ملیں گے۔

    گذشتہ چار دنوں میں کیا ہوا؟ جاننے کے لیے کلک کیجیے