پاکستان میں کورونا وائرس سے مزید 76 افراد ہلاک، ملک میں آج سے پبلک ٹرانسپورٹ بحال

پاکستان میں گذشتہ 24 گھنٹوں میں کورونا وائرس کے 2379 نئے مریض سامنے آئے ہیں جبکہ جبکہ اس وائرس سے 76 ہلاکتیں بھی ہوئی ہیں۔ دوسری جانب آج ملک بھر میں پبلک ٹرانسپورٹ بحال کر دی گئی ہے۔

لائیو کوریج

  1. ’دنیا کی فارمیسی‘ میں ویکسین کی کمی کیوں پیدا ہوگئی؟

    کورونا

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    انڈیا کی وفاقی حکومت نے 96 کروڑ اہل لوگوں کو ویکسین لگانے کا سلسلہ شروع کر دیا ہے تاہم اس کے پاس ایک ارب 80 کروڑ خوراکیں نہیں ہیں۔

    اس سے بھی زیادہ مسئلے کی بات یہ ہے کہ ویکسین کی کمی ہلاکت خیز دوسری لہر کے دوران پیش آئی ہے اور اب تیسری لہر کا خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔

    ’دنیا کی فارمیسی‘ کہلائے جانے والے اس ملک میں ویکسین کی کمی کیوں پیدا ہوگئی جو دنیا میں ویکسین تیار کرنے والا سب سے بڑا ملک ہے؟

    انڈیا، برازیل اور جنوبی افریقہ میں دواؤں تک رسائی کے لیے مہم چلانے والی تنظیم ایکسیس آئی بی ایس اے کے کوآرڈینیٹر آچل پربھالہ کہتے ہیں کہ ’انڈیا ویکسینز کا پیشگی آرڈر کہیں پہلے کر سکتا تھا مگر اس نے اس میں تاخیر کر دی۔ اس کے بعد اس نے بہت ہی تھوڑی تعداد میں ویکسین خریدیں۔‘

    جنوری اور رواں ماہ کے درمیان انڈیا نے کوویکسن اور آکسفورڈ ایسٹرازینیکا ویکسین کی کوئی 35 کروڑ خوراکیں خریدیں۔

    دو ڈالر فی خوراک قیمت والی یہ ویکسینز دنیا کی سستی ترین ویکسینز ہیں لیکن یہ انڈیا کی 20 فیصد آبادی کو بھی مکمل طور پر ویکسینیٹ نہیں کر سکتیں۔

    اور اسی دوران انڈیا کے وزیرِ اعظم نریندر مودی نے دعویٰ کر دیا کہ کورونا کو شکست دے دی گئی ہے۔ اس کے بعد اُنھوں نے ’ویکسین ڈپلومیسی‘ کا آغاز کرتے ہوئے مارچ میں اتنی زیادہ ویکسینز برآمد کر دیں جتنی کہ انڈیا میں لگائی نہیں گئی تھیں۔

    متعدد فاش غلطیوں میں سے یہ صرف ایک تھی۔

    مقامی طبی ماہرین نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ اس کے علاوہ ناقص منصوبہ بندی، خریداری میں سست روی اور سرکاری طور پر قیمتیں نہ طے کرنے سے انڈیا کی ویکسین مہم کو نقصان پہنچا۔

  2. گوا کے ہسپتال میں مبینہ طور پر آکسیجن کے کم دباؤ کی وجہ سے 15 افراد ہلاک

    حکام کا کہنا ہے کہ انڈیا کے شہر گوا میں ایک سرکاری ہسپتال میں 15 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ یہ خدشتہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ یہ افراد آکسیجن کے دباؤ میں کمی کی وجہ سے ہلاک ہوئے ہیں۔

    لواحقین کا کہنا ہے کہ جس وقت گوا کے ہسپتال میں آکیسجن کا لیول نارمل سطح پر آیا اس وقت تک بہت دیر ہو چکی تھی۔

    خبر رساں ادارے اے این آئی کا کہنا ہے کہ یہ مریض 2 دو بجے سے لے کر شام 6 بجے تک مرے ہیں جس وقت مبینہ طور آکسیجن کی سپلائی میں کمی واقع ہوئی تھی۔

    ایک مریض کے دوست نے بتایا کہ اس ہسپتال میں آکسیجن کی کمی کی وجہ سے یومیہ 20 سے 25 مریض مر رہے ہیں۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں, 1
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام, 1

    تاہم حکام کا کہنا ہے کہ وہ اس کی تحقیقات کر رہے ہیں کہ یہ ہلاکتیں کس وجہ سے ہوئی ہیں۔

    اسی طرح کےحالات میں اس سے قبل ان حالات میں اسی ہسپتال میں 26 افراد ہلاک ہوئے۔ ان اموات کی وجہ بھی آکسیجن کی کمی ہی بتائی جاتی ہے۔

    صحت کے وزیر مملکت وشواجیت رینے نے ہائی کورٹ سے ان اموات کی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔

    اس وقت انڈیا کورونا وائرس کی دوسری مہک لہر سے گز رہا ہے اور ملک میں کورونا وائرس تیزی سے پھیل رہا ہے۔

    ملک کے محتلف حصوں میں آکسیجن کی کمی کی خبریں آ رہی ہیں اور اس وجہ سے اموات کی اطلاعات بھی موصول ہو رہی ہیں۔

    حزب اختلاف کی جماعت کانگرس نے اس واقعے کے بعد حکمران جماعت بی جے پی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے گوا کے وزیر اعلیٰ اور وزیر صحت کے استعفے کا مطالبہ کیا ہے۔

    کانگرس کے ترجمان راندیپ سرجیوالا اسے دن دیہاڑے قتل قرار دیا ہے۔ اس وقت گوا میں بے جے پی سے تعلق رکھنے والے وزیر اعلیٰ پرامود ساونت کی حکومت ہے۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں, 2
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام, 2

  3. انڈیا کے حالات پر دکھی ہوں: وزیر اعظم نریندر مودی

    انڈیا

    ،تصویر کا ذریعہBJP

    انڈیا کے وزیر اعظم نریندر مودی نے کسانوں کے ایک آن لائن پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ کورونا وائرس کی وجہ سے ملک جن حالات سے گزر رہا ہے وہ اس دکھ میں برابر کے شریک ہیں۔

    وزیر اعظم مودی کے مطابق سو سال بعد اتنی خوفناک وبا مرحلہ وار دنیا کا امتحان لے رہی ہے۔ ہمارے سامنے ایک نظر نہ آنے والا دشمن کھڑا ہے۔ ہم نے اس وبا میں اپنے بہت سے عزیز کھوئے ہیں۔

    انھوں نے کہا بہت سے لوگوں نے اس وبا میں دکھ اٹھائے ہیں اور بہت سے اس دکھ سے گزر رہے ہیں۔ ان کے مطابق انھیں بھی ان دکھی شہریوں کا دکھ بالکل ایسے ہی محسوس ہوتا ہے۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

    ان کے مطابق ملک بھر کی سرکاری ہسپتالوں میں مفت ویکسین لگ رہی ہے۔ لہذا جب بھی آپ کی باری آئے تو ویکسین کے لیے درخواست ضرور دیں۔

    وزیر اعظم مودی نے کہا ہے کہ یہ ویکسین ہمیں کورونا سے تحفظ دے گی اور بیماری کی شدت کو کم کرنے میں مدد فراہم کرے گی۔ ان کے مطابق ویکسین اس وائرس سے بچاؤ کا اہم ذریعہ ہے۔

    انھوں نے کہا مرکز ریاستوں سے مل کر تمام شہریوں کی جلد ویکسینیشن کے لیے کوشاں ہے۔ ابھی تک ملک میں 18 کروڑ ویکسین کے نسخے فراہم کیے گئے ہیں۔

  4. بریکنگ, پنجاب میں تمام سکول 23 مئی تک بند رکھنے کا فیصلہ، پاکستان میں وائرس کی لہر میں کمی

    کورونا وائرس کی وجہ سے پاکستان کے سب سے بڑے صوبے پنجاب میں سرکاری اور نجی سکول 23 مئی تک بند رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ صوبائی وزیر تعلیم مراد راس نے ٹوئٹر پر بتایا کہ صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے 18 مئی کو ایک اجلاس ہو گا۔

    مراد راس نے عوام سے ایس او پیز پر مکمل عمدرآمد کرنے کی اپیل کی ہے۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں, 1
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام, 1

    امریکہ میں میری لینڈ یونیورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر فہیم یونس نے کہا ہے کہ دستیاب اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں کورونا وائرس کی انتہا 61 فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔

    پاکستان کی آبادی کے اعتبار سے اس وقت ایک لاکھ بندوں میں سے 11 افراد متاثر ہو رہے ہیں۔ انھوں نے مشورہ دیا ہے کہ پاکستان کو یہ تعداد مزید کم کر کے ایک لاکھ میں سے پانچ افراد پر لانا ہو گی اور ویکسین کی رفتار بڑھانی ہو گی۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں, 2
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام, 2

  5. ویکسین کے بعد امریکہ میں ماسک پہننے کی پابندی ختم

    امریکہ کے صدر جو بائیڈن نے اعلان کیا ہے کہ کورونا وائرس کے خلاف طویل لڑائی کے بعد آج کا دن امریکہ کے لیے عظیم دن ہے۔

    ان کے مطابق چند گھنٹے قبل سی ڈی سی (امریکہ میں بیماریوں کے روک تھام سے متعلق ادارے) نے یہ اعلان کیا ہے کہ جن لوگوں کی مکمل ویکسینیشن ہو چکی ہے ان کے لیے اب ماسک پہننا ضروری نہیں ہے۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

    نئی گائیڈ لائنز کے اعلان کے بعد صدر جو بائیڈن نے اپنے اوول آفس میں دیگر ارکان کے ساتھ ماسک اتارا۔

    خیال رہے کہ نئی گائیڈ لائنزکے مطابق لوگ زیادہ ترجگہوں پر بغیر ماسک کے جا سکتے ہیں تاہم یہ بھی تجویز دی گئی کہ زیادہ رش والی جگہوں پر جیسا کہ بس، جہاز یا ہسپتال میں ماسک کا استعمال کرنا بہتر ہے۔

  6. وائرس کی انڈین قسم: برطانیہ میں نئی پابندیوں کا اطلاق کیا جا سکتا ہے؟

    Virus

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    برطانیہ کی حکومت نے وائرس کی انڈین قسم کے پھیلاؤ پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس وائرس کو روکنے کے لیے مقامی طور پر اور خطے میں نئی پابندیوں کے اطلاق کو رد نہیں کیا جا سکتا ہے۔

    حکومت کے مطابق اگر ضروری ہوا تو اس وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے برطانیہ کے کچھ حصوں میں معاشی اور سماجی پابندیوں کا اطلاق کیا جا سکتا ہے۔

    ان حفاظتی اقدامات میں سے ایک یہ بات بھی شامل ہے کہ اس وائرس سے زیادہ متاثرہ علاقے کے کچھ لوگوں کی دوبارہ ویکسینیشن کی جا سکتی ہے۔

    برطانیہ کے پبلک ہیلتھ انگلینڈ نے انڈین وائرس کی اس قسم سے 1313 متاثرین کی نشاندہی کی ہے۔

    یہ اعداوشمار جعمرات کو جاری کیے گئے ہیں جو اس تعداد کے دگنا سے بھی زیادہ بنتی ہے جب 5 مئی کو جاری کی گئی تھی۔ 5 مئی کو برطانیہ میں اس وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد 520 ریکارڈ کی گئی تھی۔

    UK

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    برطانیہ کے صحت کے محکمے (ڈی ایچ ایس سی) کے مطابق ابھی تک اس بات کے ٹھوس شواہد نہیں ملے ہیں کہ اس وائرس کے شدید قسم کے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں یا ویکسین اس پر اثر نہیں کرتی۔

    تاہم حکومت کا یہ بھی کہنا ہے کہ نئی پابندیوں کے اطلاق کے امکانات کو رد نہیں کیا جا سکتا ہے جن کا مقصد اس وائرس کے پھیلاؤ کو روکنا ہے۔

    وزیر صحت ہیٹ ہینکاک کا کہنا ہے کہ ان کی حکومت ایسے علاقوں کو مدد فراہم کرے گی جہاں اس وائرس کے متاثرین کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔ انھوں نے عوام پر زور دیا ہے کہ وہ اس وائرس سے چوکنا رہیں۔

    ان کے مطابق برطانوی حکومت صورتحال کا بغور جائزہ لے رہی ہے اور اگر ضروری ہوا تو مزید اقدامات اٹھانے سے بالکل گریز نہیں کرے گی۔

    اس سے قبل برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن نے کہا تھا کہ خطے میں دوبارہ پابندیوں کے امکان کو رد نہیں کیا جا سکتا ہے۔ انھوں کہا کہ یہ ایک پریشان کن قسم کا وائرس ہے اور ہم اس سے متعلق پریشان ہیں۔

  7. دنیا کی فارمیسی کہلانے والا ملک انڈیا خوفناک انداز میں ویکسین کی کمی کا شکار کیسے ہوا؟, نخیل انعام دار اور اپرنا الوری، بی بی سی نیوز

    India

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    31 برس کی سنہا مراٹھے کا ویکسین لگوانے کی غرض سے آن لائن تاریخ حاصل کرنے کے لیے آدھا دن صرف ہو گیا۔

    ان کے مطابق یہ محض جلد سے جلد درخواست دینے والی دوڑ تھی اور محض تین سیکنڈز میں دستیاب وقت پر کسی کی درخواست آ جاتی تھی۔ سنہا کی رفتار بہت سست تھی مگر انھوں نے تاریخ حاصل کر ہی لی۔ تاہم ہسپتال نے آخری وقت پر ان کی درخواست یہ کہہ کر منسوخ کر دی کہ اب ان کے پاس ویکسین ہی دستیاب نہیں ہے۔

    اس کے بعد سنہا نے دوسری بار تاریخ حاصل کرنے کی تگ و دو شروع کر دی۔

    انڈیا میں 18 سے 44 برس کی عمر کے افراد ویکسین کے لیے کوون پلیٹ فارم پر رجسٹریشن کے اہل ہیں۔ انڈیا میں ویکسین کی رسد سے طلب کہیں زیادہ ہے۔ ایسے میں ٹیکنالوجی استعمال کرنے والے انڈین شہری تاریخ حاصل کرنے کے لیے ’کوڈ` کے اندراج سے تاریخ حاصل کر لیتے ہیں۔

    سنہا نہ تو کوڈ لکھ کر بھیج سکتی ہیں اور نہ ہی ان کی ٹیکنالوجی تک اتنی رسائی ہے۔ وہ کروڑوں ایسے انڈین شہریوں میں سےایک ہیں، جنھیں سمارٹ فون اور انٹرنیٹ تک رسائی حاصل نہیں ہے جو کہ انڈیا میں ویکسین حاصل کرنے کا اس وقت واحد رستہ ہے۔

    وزیر اعظم نریندر مودی نے 960 ملین انڈین شہریوں کے لیے ویکسینیشن کے عمل کا آغاز کر دیا ہے جبکہ اس وقت انڈیا کو 1.8 بلین ویکسین کی خوراکوں کی سپلائی درکار ہے۔

    یوں اس اعتبار سے انڈیا میں طلب اور رسد میں بہت فرق ہے۔

    یہ صورتحال کورونا وائرس کی دوسری لہر کے دوران مزید خراب ہو گئی جب ملک میں ویکسین کی کمی واقع ہو گئی، جس سے اس وائرس کی تیسری لہر کے خطرات منڈلانے لگے۔

    ماہرین صحت نے بی بی سی کو بتایا کہ متعدد فاش غلطیوں، ناقص منصوبہ بندی، مرحلہ وار ویکسین حاصل کرنے کی حکمت عملی اور ویکسین کی قیمت کی کا بے قاعدہ نظام نے انڈیا میں ویکسین کے مقابلے کو مکمل طور پر غیر شفاف بنا دیا ہے۔

    دنیا کا سب سے زیادہ ویکسین بنانے والا ملک جسے عام دوائیوں کے لیے دنیا کی فارمیسی بھی کہا جاتا ہے کیسے ویکسین کی کمی کا شکار ہوا؟

    کورونا ویکسین

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    'پیس میل سٹریٹیجی`

    انڈیا اگرچہ ویکسین کے لیے آرڈر بہت پہلے دے سکتا تھا مگر اس نے پھر بھی جنوری تک اس کا انتظار کیا۔ اچل پرابھالا ’ایکسس آئی بی ایس اے‘ کے ساتھ کورآرڈینیٹر کے طور پر کام کر رہے ہیں۔ یہ ایک ایسی کمپین ہے جو انڈیا، برازیل اور جنوبی افریقہ کو دوائیوں تک رسائی کو یقینی بنانے کے لیے کام کرتی ہے۔

    انڈیا سے متعلق اچل کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم مودی کی حکومت نے بہت تھوڑی مقدار میں ویکسین حاصل کی ہے۔

    رواں برس جنوری اور مئی کے درمیان انڈیا نے دو منظور شدہ ویکسینز۔۔ آکسفورڈ کی آسٹرا زینیکا (جس میں سیرم انسٹی ٹیوٹ آف انڈیا نے بھی حصہ لیا) اور کوویکسن جو انڈیا کی فرم بھارت بائیوٹیک نے تیار کی ہے۔۔ کی 350 ملین خوراکیں خریدیں۔ ایک خوراک کی قیمت دو ڈالر بنتی ہے جو کہ دنیا میں سب سے سستی ویکسین کی قیمت ہے۔ مگر یہ ویکسین انڈیا کی 20 فیصد آبادی کے لیے بھی کافی ثابت نہیں ہوئی۔

    اس بات کا اعلان کرتے ہوئے کہ انڈیا نے کورونا وائرس کو شکست دے دی ہے ایسے میں وزیر اعظم مودی نے ویکسین ڈپلومیسی اختیار کر لی اور بڑی تعداد میں ویکسین برآمد کرنا شروع کر دی۔ یہ تعداد انڈیا میں مارچ تک ویکسینیشن سے بھی زیادہ بنتی ہے۔

    انڈیا کی حکمت عملی امریکہ اور یورپ کے برعکس رہی، جہاں ایک برس قبل ان ممالک نے ضرورت سے بھی زیادہ ویکسین کا قبل از وقت آرڈر دے دیا تھا جب ابھی ویکسین مارکیٹ میں دستیاب تک بھی نہیں تھی۔

  8. کورونا کے باعث پاکستان میں مزید 48 ہلاکتیں

    نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کے مطابق گذشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران ملک میں 48 مریض ہلاک ہوئے۔

    حکام کا کہنا ہے کہ کورونا کی تشخیص کے لیے عید کے پہلے روز 30700 ٹیسٹ کیے گئے جن میں سے 2517 کیسز کے مثبت نتائج آئے۔

    بتایا گیا ہے کہ مثبت کیسز کی شرح آٹھ اعشاریہ ایک نو فیصد ہے۔

    خیال رہے کہ پاکستان میں عید الفطر کے موقع پر لاک ڈاؤن ہے پبلک ٹرانسپورٹ، کاروباری مراکز اور سیاحتی مقامات مکمل طور پر بند ہیں۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  9. ’اگلے مارچ تک پوری دنیا کو ویکسین لگائی جا سکتی ہے‘

    کورونا

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    اگلے مارچ تک پوری دنیا کو ویکسین لگائی جا سکتی ہے دنیا کی سب سے بڑی دوا ساز کمپنیوں کی نمائندہ تنظیم کے مطابق اگلے سال مارچ کے اختتام تک پوری دنیا کو کورونا وائرس کی ویکسین لگائی جا سکتی ہے۔

    انٹرنیشنل فیڈریشن آف فارماسیوٹیکل مینوفیکچررز اینڈ ایسوسی ایشنز کے ڈائریکٹر جنرل تھامس کوئینی کا اندازہ ہے کہ اس سال کے اختتام تک عالمی سطح پر کووڈ ویکسین کی تیاری کی صلاحیت 10 ارب تک پہنچ جائے گی اور اگلے سال کے اختتام تک دنیا میں ضرورت سے زیادہ ویکسین ہوں گی۔

    اُنھوں نے یہ بھی کہا کہ امریکہ کی جانب سے ویکسینز سے پیٹنٹ کا تحفظ ہٹانے سے عالمی سطح پر ویکسینز کی تیاری میں اضافہ نہیں ہوگا کیونکہ ضروری خام مال مثلاً شیشیوں وغیرہ کی خریداری بھی ایک مسئلہ ہے۔

    اُنھوں نے کہا کہ اگر بہت سے نئے دوا ساز اس میدان میں آ گئے تو خام مال کی اور بھی زیادہ کمی ہو جائے گی۔

  10. کیا کورونا ویکسین زندگی اور موت کے درمیان فرق بن سکتی ہے؟, سوتک بسواس، بی بی سی نیوز

    کورونا

    ،تصویر کا ذریعہPallava Bagla

    کورونا وائرس کی ویکسین کی مکمل خوراک حاصل کرنے کے بعد دلی کے ایک سائنس رپورٹر کو تیز بخار، گلے میں درد اور بے آرامی کی شکایت ہوئی۔

    بائیس اپریل کو پلّوا بگلا کا کورونا ٹیسٹ مثبت آیا۔ چار دن بعد سینے کے ایکس رے میں اُن کے شفاف پھیپھڑے سفید ہوتے ہوئے نظر آئے جو مرض کی علامت ہے۔

    علامات ظاہر ہونے کے آٹھ دن بعد بھی اُنھیں بخار جاری رہنے پر ہسپتال میں داخل کروایا گیا۔ اس سے پہلے کہ وہ ہسپتال سے نکلتے، ڈاکٹروں نے اُنھیں اُن کی ہی عمر کے ایک مرد کورونا مریض کے پھیپھڑوں کا ایکس رے دکھایا جسے ویکسین نہیں لگائی گئی تھی۔

    بگلا کہتے ہیں: ’فرق واضح تھا۔ ڈاکٹروں نے مجھے بتایا کہ اگر میں نے ویکسین نہ لگوائی ہوتی تو شاید میں انتہائی نگہداشت میں وینٹیلیٹر پر پہنچا ہوا ہوتا۔ وقت پر مکمل ویکسین حاصل کرنے کے باعث شاید میں بچ پایا ہوں۔‘

    انڈیا نے اپنی ایک ارب 30 کروڑ سے زیادہ کی آبادی میں سے اب تک صرف تین فیصد لوگوں کو ویکسین لگائی ہے اور مکمل ویکسین حاصل کرنے والے لوگوں میں بھی دو ہفتے بعد متاثر ہونے کی شرح بڑھ رہی ہے۔

    سائنسدان اب اس سوال کا جواب تلاش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ کیا موجودہ ویکسینز کورونا وائرس کی نئی اور زیادہ تیزی سے پھیلنے والی اقسام سے تحفظ فراہم کرتی ہیں یا نہیں۔

  11. نیپال میں آکسیجن کی کمی کے باعث 16 مریض ہلاک

    کورونا

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    نیپال کے طبی حکام نے بتایا ہے کہ ملک کے جنوبی صوبے لمبینی میں کورونا کے کم از کم 16 مریض آکسیجن کی کمی کے باعث ہلاک ہوگئے ہیں۔

    صوبے میں کورونا کے مریضوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے اور ہسپتال حکومت سے ضروری ادویات اور آکسیجن کی فراہمی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

    نیپال نے حال ہی میں انڈیا کو آکسیجن برآمد کرنے پر پابندی عائد کی ہے۔

    نیپال بھی کورونا وائرس کی دوسری لہر سے شدید متاثر ہوا ہے اور یہاں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران نو ہزار سے زائد نئے متاثرین سامنے آئے ہیں۔

    کٹھمنڈو یونیورسٹی سکول آف میڈیکل سائنسز میں ماہر وبائی امراض ارچنا شریستھا کے مطابق نیپال میں کورونا وائرس انڈیا کے مقابلے میں زیادہ ہلاکت خیز ہے۔

    اُنھوں نے کہا کہ نیپال میں ہر 10 لاکھ میں تین اعشاریہ تین لوگ کورونا کے باعث ہلاک ہو رہے ہیں جبکہ انڈیا میں یہ شرح دو اعشاریہ پانچ ہے۔

  12. اللہ پاکستان کو انڈین قسم کے وائرس سے محفوظ رکھے: وزیر خارجہ کی عید پر دعا

    شاہ محمود قریشی

    پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے عید کے دن یہ دعا مانگی ہے کہ اللہ پاکستان کو انڈیا میں کورونا وائرس کی خطرناک قسم سے محفوظ رکھے جس کی وجہ سے انڈیا میں ایک ہی دن میں چار ہزار سے بھی زائد لوگ مر رہے ہیں۔

    پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محممود قریشی نے انڈیا میں ہونے والی ہلاکتوں پر بھی افسوس کا اظہار کیا ہے۔

    خیال رہے کہ شاہ محمود قریشی ملتان میں اپنے حلقے کے لوگوں سے عید ملتے ہوئے میڈیا سے بات کر رہے تھے۔

  13. ویکسین لگوائیے اور ایک ملین ڈالر کی لاٹری کے مالک بن جائیے

    ویکسین

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    امریکی ریاست اوہائیو نے شہریوں کو ویکسین کی طرف مائل کرنے کے لیے ایک دلچسپ طریقہ تلاش کیا ہے۔ اس ریاست کے گورنر نے ٹویٹ کر کے شہریوں کو ویکسین لگوا کر ایک ملین ڈالر تک کی لاٹری جیتنے کی لالچ دی ہے۔

    ان انعامات کا مقصد عوام کو ویکسین کی ترغیب دینا ہے۔

    پہلے انعام کا اعلان 26 مئی کو کیا جائے گا۔ گورنر کے مطابق اس لاٹری کی رقم وفاقی حکومت کی طرف سے قائم کردہ کورونا وائرس ریلیف فنڈ سے ادا کی جائے گی۔ خیال رہے کہ امریکہ اپنی 58 فیصد سے زائد آبادی کی ویکسینیشن کر چکا ہے۔

    اوہائیو کے گورنر مائیک ڈیوائن نے ٹویٹ میں لکھا کہ ان کی حکومت 18 سال سے زائد عمر کے ایسے افراد جنھوں نے کم از کم ویکسین کی ایک خوراک لگوائی ہو انھیں مسلسل پانچ ہفتوں میں ایک ملین لاٹری کے انعامات آفر کرے گی۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

    گورنر نے مزید لکھا کہ وہ جانتے ہیں کہ کچھ لوگ یہ کہیں گے ڈیوائن تم پاگل ہو! تمھارا یہ ملین ڈالر کا خیال پیسے کا ضیاع ہے۔

    تاہم ان کے مطابق اس وقت حقیقت میں شکست اس وبا کو شکست نہ دینا ہے۔ خاص طور پر ایسے موقعے پر جب ہر ایک کو ویکسین دستیاب ہو۔

    18 برس سے کم عمر بھی ویکیسن لگوانے کی صورت میں انعام کے حقدار ہوں گے۔ تاہم انھیں دس لاکھ ڈالر کے بجائے وہ اوہائیوں کی یونیورسٹی میں چار سال تک کا سکالرشپ جیت سکتے ہیں۔

  14. بریکنگ, انڈیا: 24 گھنٹوں میں 3 لاکھ 62 ہزار نئے مریض، چار ہزار سے زیادہ ہلاکتیں

    انڈیا میں گذشتہ 24 گھنٹوں میں کورونا وائرس سے تین لاکھ 62 ہزار افراد متاثر ہوئے ہیں جبکہ چار ہزار 120 افراد اس وائرس سے ہلاک ہوئے ہیں۔

    انڈیا میں تین لاکھ اور 52 ہزار لوگ صحت یاب بھی ہوئے ہیں۔ اس وقت انڈیا میں اس وائرس کے متاثرین کی فعال تعداد 37 لاکھ بنتی ہے۔

  15. امریکی دوا ساز کمپنی ماڈرنا آسٹریلیا کو 25 ملین ویکسین کی خوراکیں بھیجے گی

    Vaccine

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    آسٹریلیا نے امریکی دوا ساز کمپنی ماڈرنا سے کورونا وائرس ویکسین کی 25 ملین خوراکیں حاصل کرنے کا معاہدہ کر لیا ہے۔ اب آسٹریلوی حکومت پہلے سے تاخیر کا شکار ویکسین مہم میں تیزی لانا چاہتی ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اس ویکسین کی 10 ملین خوراکیں رواں برس کے اختتام پر ملیں گی اور 15 ملین اگلے سال 2022 میں مل سکیں گی۔

    آسٹریلیا میں دوسرے ممالک کی نسبت ویکسینیشن کی مہم تاخیر کا شکار ہے۔ آسٹریلیا اب تک 28 لاکھ لوگوں کی ویکسینیشن کر چکا ہے۔

    ابھی آسٹریلیا کو اپنی تمام آبادی کی ویکسنیشن کے لیے 50 ملین ویکسین کی خوراکوں کی ضرورت ہے۔ آسٹریلیا میں حالیہ دنوں میں 50 برس سے زائد کے افراد کے لیے ویکسین کا عمل جاری ہے۔

    اس سے قبل آسٹریلیا نے اکتوبر تک اپنی آبادی کی ویکسینیشن مکمل کرنی تھی۔ اس وقت ملک کا انحصار آسٹرا زینیکا پر تھا۔

    مگر جب آسٹرا زینیکا ویکسین کے حوالے سے مریضوں میں خون جم جانے جیسے خطرات سے متعلق تحفظات پیدا ہوئے تو پھر آسٹریلیا نے یہ ویکسینیشن روک دی۔ اب حکومت نے اپریل میں 50 برس کے کم عمر افراد کے لیے دیگر ویکسین کی تجویز دی ہے۔

    اس وقت آسٹریلیا فائزر ویکسین بھی استعمال کر رہا ہے مگر اس کی صرف 20 ملین خوراکیں ہی دستیاب ہیں۔ حکومت نے فائز ویکسین کی مزید 20 ملین خوراکوں کا آرڈر دیا ہے۔

    آسٹریلین حکومت کا کہنا ہے کہ جو بھی شہری ویکسین لگوانا چاہتا ہے اسے اس سال کے اختتام تک ویکسین کی فراہمی یقینی بنائی جائے گی۔

  16. انڈیا: کیا لوگوں کا دوبارہ اس وائرس سے متاثر ہونا ویکسین پر ایک سوالیہ نشان ہے؟, سوتک بسواس، نامہ نگار بی بی سی نیوز، انڈیا

    Corona Virus

    ،تصویر کا ذریعہPalava Bagla

    ویکسین لگانے کے تین ہفتے بعد دلی میں ایک صحافی کو پھر تیز بخار ہوا، گلے میں خراش اور بے چینی کا سامنا کرنا پڑا۔

    22 اپریل کو پالاوا بگلا میں کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی تھی۔ چار دن بعد ان کے سینے کے سکین سے یہ ظاہر ہو گیا کہ ان کے پھیپھڑے سفید ہو رہے ہیں جو کہ اس وائرس سے متاثر ہونے کی علامات میں سے ہے۔ جب بخار نہیں اترا تو انھیں ہسپتال میں داخل کیا گیا۔

    آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز کے ڈاکٹرز نے پالاوا بگلا کے خون کا ٹیسٹ کیا اور انھیں سٹیروئیڈز بھی لگائے۔ ضابطیس کے مرض میں مبتلا ہونے کی وجہ سے ان کے خون میں شوگر کی سطح بھی بہت بڑھ گئی تھی۔ خوش قسمتی سے ان کا آکسیجن لیول کم نہیں ہوا۔

    جب وہ آٹھ دن بعد ہسپتال سے فارغ ہوئے تو ڈاکٹرز نے انھیں ان کے ٹیسٹ دکھائے اور پھر ان کا موازنہ ان کے سکین سے کیا۔

    فرق صاف واضح تھا۔ ڈاکٹرز نے بتایا کہ اگر وہ ویکسین نہ لگواتے تو اس بات کے قوی امکان تھے کہ وہ شدید خطرے کی حالت میں وینٹیلیٹر تک پہنچ جاتے۔ پالاوا بگلا کے مطابق وقت پر ویکسین نے ان کی مدد کی اور ان کی زندگی بچ گئی۔

    پالاوا ہی اس صورتحال کا سامنا کرنے والے واحد شخص نہیں ہیں۔

    کورونا وائرس

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    انڈیا نے اپنی ایک ارب اور تیس کروڑ کی آبادی میں سے تین فیصد لوگوں کی مکمل ویکسینیشن کرائی ہے تاہم ویکسین کے دو ہفتے بعد بھی کورونا وائرس سے متاثر ہونے والے کیسز کی تعداد میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

    ہیلتھ ورکرز، ڈاکٹرز اور نرسز اس صورتحال سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔

    سائنسدانوں کے مطابق کورونا وائرس ویکسین مؤثر ہے۔ تاہم یہ ویکسین دوبارہ انفیکشن سے نہیں روک سکتی ہے۔ ویکسین کا کام ہی لوگوں کو دوبارہ خطرناک قسم کے انفیکشن سے بچانا ہوتا ہے تاکہ ان کی صحت اتنی متاثر نہ ہو کہ وہ جان سے ہی ہاتھ دھو بیٹھیں۔ ویکسین اس وائرس کی انتہائی خطرناک اقسام کے اثر کو بھی کم کر دیتی ہے جس سے دوبارہ انفیکشن کی صورت میں صورتحال زیادہ تشویشناک حد تک نہیں جاتی۔

    ویکسین کے باوجود دوبارہ وائرس سے متاثر ہونے کے امکانات ہر جگہ اور ہر ملک میں ہوتے ہیں۔

    امریکہ میں 26 اپریل تک 95 ملین لوگوں کی مکمل ویکسینیشن ہو چکی تھی اور ان میں سے 9،045 کو دوبارہ بھی اس وائرس نے متاثر کیا ہے مگر ویکسین کے بعد یہ وائرس زیادہ تشویش کا باعث نہیں بنا۔

  17. کورونا وائرس بحران: بالی ووڈ اداکار انوپم کھیر کی مودی حکومت پر کڑی تنقید

    Anupam

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    بالی ووڈ کے معروف اداکار انوپم کھیر یوں تو حکمراں جماعت بی جے پی کی حمایت کرتے ہی نظر آتے ہیں اور ان کی اہلیہ چندی گڑھ سے اس جماعت کی طرف سے رکن پارلیمان بھی ہیں۔

    تاہم انڈیا کے موجودہ کورونا وائرس بحران میں انوپم نے حکمران جماعت پر کھل کر تنقید کی ہے۔

    این ڈی ٹی وی کے ساتھ ایک انٹرویو میں انوپم کا کہنا تھا حکومت کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے میں ناکام رہی ہے اور انھوں نے اس بحران کے ذمہ داروں کے احتساب کا بھی مطالبہ کیا ہے۔

    انوپم کھیر کا کہنا تھا کہ کہیں نہ کہیں حکومت سے فاش غلطی ہوئی ہے۔ انھوں نے کہا کہ لوگوں کی زندگیاں بہت اہم ہیں اور یہی وجہ ہے کہ حکومت پر تنقید بجا ہے۔

    ان کے مطابق لوگوں نے ہی اس حکومت کا انتخاب کیا تھا اور انھیں اس پر تنقید کا بھی پورا حق ہے۔ انھوں نے کہا کہ اس وقت جو بھی ہو رہا ہے حکومت ہی اس کی ذمہ دار ہے۔

  18. عید کے دن کی ڈیوٹی، ایس اوپیز کا بھرپور خیال رکھیے

    پاکستان میں آج عید منائی جا رہی ہے۔ عید کی نماز پر جانے والوں کو خاص طور پر ایس او پیز کا خیال رکھنے کی تلقین کی گئی ہے۔

    اسسٹنٹ کمشنر باجوڑ فضل الرحمان نے اپنی ٹویٹ میں پیغام دیا کہ عید کے دن کی ڈیوٹی ہے کہ ایس اوپیز کا بھرپور خیال رکھا جائے کیونکہ انسانی زندگی انمول ہے۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  19. بریکنگ, پاکستان میں مزید 126 ہلاکتیں، حکومت کی اپیل کہ شہری عید گھر میں منائیں

    نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا ہے کہ گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک میں کورونا وائرس کے مزید 126 مریض ہلاک ہو گئے ہیں۔

    اعداد و شمار کے مطابق گذشتہ روز 39101 افراد کے کورونا کی تشخیص کے لیے ٹیسٹ کیے گئے جن میں سے 3265 کے نتائج مثبت آئے۔

    مثبت کیسز کی شرح آٹھ اعشاریہ تین پانچ بتائی گئی ہے۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  20. خیبر پختونخوا: 24 گھنٹوں میں مزید 29 ہلاکتیں، 522 نئے متاثرین

    کورونا

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    محکمہ صحت خیبر پختونخوا کے مطابق 24 گھنٹوں میں کورونا وائرس سے 522 افراد متاثر اور 29 ہلاک ہوئے ہیں۔

    صوبے میں کورونا متاثرین کی مجموعی تعداد ایک لاکھ 25 ہزار 914 جبکہ مجموعی ہلاک شدگان کی تعداد 3697 ہوگئی ہے۔

    خیبر پختونخوا میں 24 گھنٹوں کے دوران مزید 814 افراد کورونا سے صحت یاب ہونے کے بعد مجموعی صحت یاب مریضوں کی تعداد ایک لاکھ 13 ہزار 502 ہوگئی ہے۔

    اس وقت کورونا کے فعال کیسز کی تعداد آٹھ ہزار 697 ہے۔

    گذشتہ 24 گھنٹے کے دوران پشاور میں 123، مردان میں 52، سوات میں 38، چارسدہ میں 37 اور دیر اپر میں 32 نئے مریض سامنے آئے ہیں۔