بنارس: وزیراعظم کے حلقے میں کورونا سے ہونے والی ہلاکتوں پر شدید غم و غصہ, گیتا پانڈے، بی بی سی نیوز

انڈیا کا شہر بنارس (وارانسی) اس وقت ملک میں کورونا وائرس کی دوسری لہر کے دوران سب سے زیادہ متاثر ہونے والے علاقوں میں شامل ہے۔
اترپردیش کے اس ضلعے کے لوگ شدید غصے میں ہیں اور وہ پوچھتے نظر آتے ہیں کہ ان کے علاقے کا رکن پارلیمان کہاں ہے۔
یہ دراصل ملک کے وزیراعظم نریندر مودی کا حلقہ ہے اور یہاں کورونا بہت تیزی سے پھیلا ہے۔ کئی لوگ 29 مارچ کو ہولی کے تہوار کے لیے گھروں کو لوٹے جبکہ 18 اپریل کو ہونے والے انتخابات، جو ماہرین کے خبردار کرنے کے باوجود منعقد ہوئے، نے بھی وائرس کو پھیلانے میں بڑا کردار ادا کیا۔
بنارس میں اب تک 70 ہزار سے زیادہ کیسز سامنے آئے ہیں اور 690 اموات ہوئی ہیں جن میں سے 65 فیصد یعنی 40 ہزار سے زیادہ کیسز یکم اپریل کے بعد سامنے آئے ہیں۔
اگرچہ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق یہاں یومیہ اموات کی تعداد 10 سے 11 کے درمیان ہے تاہم مقامی افراد کے مطابق ایسا ممکن ہی نہیں۔
دو شمشان گھاٹ کے قریب رہنے والے ایک شہری نے بتایا کہ ایک ماہ سے گنگا کنارے واقعے ان گھاٹوں پر چتائیں جلانے کا کام بغیر کسی وقفے سے جاری ہے۔
ایک مقامی ریتوران کے مالک کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم اور وزار اعلی چھپ گئے ہیں اور مقامی بی جے پی رہنما بھی لاپتہ ہیں۔ ’انھوں نے اپنے فون بند کر دیے ہیں اور بنارس کے لوگوں کو ان کے حال پر چھوڑ دیا ہے۔‘

















