انڈیا میں مزید 3900 سے زیادہ ہلاکتیں، امریکہ کی کورونا ویکسین کے ’پیٹنٹ ختم کرنے‘ کی حمایت
انڈیا میں کورونا وائرس کی دوسری لہر کے باعث گذشتہ روز چار لاکھ 12 ہزار سے زیادہ افراد متاثر ہوئے جبکہ 3900 سے زیادہ افراد ہلاک بھی ہوئے۔ ادھر امریکہ نے کورونا ویکسین کے پیٹنٹ ختم کرنے کی تجویز کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’غیرمعمولی حالات کے لیے غیرمعمولی اقدامات اٹھانے پڑتے ہیں۔‘
لائیو کوریج
بریکنگ, پاکستان میں چار ہزار سے زیادہ نئے مریض، مزید 119 اموات
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام
پاکستان میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران چار ہزار سے زیادہ افراد میں کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے جبکہ 119 افراد اس وائرس کے باعث ہلاک بھی ہوئے ہیں۔
خیال رہے کہ تین اپریل کو ملک میں پہلی مرتبہ ڈیڑھ لاکھ سے زیادہ افراد کو ویکسین لگائی گئی تھی۔ اس وقت ملک میں ویکسینیشن کا عمل جاری ہے اور 40 سال سے زیادہ عمر کے افراد کو ویکسین لگائی جا رہی ہے۔
بریکنگ, انڈیا میں تین لاکھ 82 ہزار سے زیادہ نئے مریض، مزید 3783 اموات
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام
انڈیا میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران تین لاکھ 82 ہزار سے زیادہ افراد میں کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی جبکہ 3783 افراد اس وائرس کے باعث ہلاک بھی ہوئے۔
ملک میں کورونا وائرس کا ہھیلاؤ تھمنے کا نام نہیں لے رہا اور گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ایک مرتبہ پھر سے ٹیسٹس میں اضافہ دیکھنے میں آیا اور 18 اعشاریہ چھ مثبت کیسز سامنے آئے۔
صرف دارالحکومت دہلی میں 19 ہزار سے زیادہ افراد میں کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی اور 338 افراد ہلاک بھی ہوئے۔
ملک میں ویکسینیشن کا عمل بھی سست روی کا شکار ہے اور صرف ساڑھے 11 لاکھ افراد کو گذشتہ روز ویکسین لگائی گئی تھی۔
گلگلت بلتستان میں وائرس کی شرح دو فیصد سے بڑھ گئی، سیاحوں کے لیے سرٹیفکیٹ کی شرط
،تصویر کا ذریعہGetty Images
محکمہ صحت گلگت بلتستان کے مطابق مزید گیارہ افراد میں کورونا وائرس تصدیق ہوئی ہے۔ خطے میں متاثرین کی کل تعداد ایک سو بیس ہوگئی ہے، جس میں پندرہ سیاح بھی شامل ہیں۔
اس وقت وائرس پھیلنے کی شرح دو فیصد سے زائد ہے۔ صحت یابی کا تناسب پچانوے فیصد سے زائد جبکہ اموات کی شرح دو فیصد بنتی ہے۔
گلگت بلتستان کے کورونا کے لیے فوکل پرسن ڈاکٹر شاہ فرمان کے مطابق گلگت بلتستان میں ایس او پیز کو سختی سے نافذ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے کیونکہ گلگت بلتستان کے زمینی حالات پاکستان سے مختلف ہیں۔
انھوں نے کہا کہ ہم کوشش کررہے ہیں کہ وائرس کو کنٹرول کیا جائے کیونکہ وائرس بڑھنے کی صورت میں مسائل میں اضافہ ہوسکتا ہے۔ ڈاکٹر شاہ فرمان کے مطابق گلگت بلتستان میں آنے والے سیاحوں کے لیے واضح ہدایات ہیں کہ وہ اپنی ہمراہ کورونا منفی سرٹیفیکٹ رکھیں جو کہ گلگت بلتستان کی حدود میں داخلے کے وقت چیک کیا جائے گا۔
اس کے علاوہ محکمہ صحت کا عملہ سیاحوں کی متفرق ٹیسٹنگ بھی کررہا ہے۔ جس کے نتیجے میں اب تک پندرہ سیاحوں میں کورونا پازیٹو آیا ہے۔
پازیٹو آنے والے سیاحوں کو ڈیٹا کی مدد سے تلاش کرکے ان ہی کے ہوٹلوں میں قرنطینہ کیا جارہا ہے۔
ڈاکٹر شاہ فرمان کا کہنا تھا کہ سیاحوں سے گزارش ہے کہ وہ مکمل ایس او پیز کے ساتھ گلگت بلتستان میں داخل ہوں۔ اس کے علاوہ گلگت بلتستان میں داخلے سے پہلے ہر صورت میں ٹیسٹنگ کروا لیں۔ اگر سیاحوں میں متفرق ٹیسٹنگ کے نتیجے میں پازیٹو رزلٹ آتا تو ان کو ان ہی کے ہوٹلوں میں مکمل صحت یابی تک قرنطینہ کیا جائے گا۔
’فوج کی وجہ سے بہتری آئی‘: عید پر ضلعی سطح تک مانیٹرنگ ٹیمیں تشکیل دینے کا فیصلہ
،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان کے یشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) نے 8 سے 16 مئی کے دوران چھٹیوں میں ضلعی سطح تک کورونا ایس او پیز پر عملدرآمد کو یقینی بنانے کے لیے مانیٹرنگ ٹیمیں تشکیل دی ہیں۔
این سی او سی کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق وفاقی وزیر منصوبہ بندی اسد عمر کی زیر صدارت اجلاس کے بعد ایک یان میں کہا گیا کہ اجلاس میں وفاقی، صوبائی اور ضلعی سطح پر مانیٹرنگ ٹیمیں تشکیل دینے کا فیصہ کیا گیا ہے تا کہ 8 مئی سے 16 مئی2021 تک ایس او پیز پر عمل درآمد یقینی بنایا جائے گا۔
ان چھٹیوں کے دوران تمام کاروبار اور دوکانیں بند رہیں گی تاہم ضروری اشیا جیسے غذائی اجناس، سبزیوں کی دکانیں، میڈیکل اسٹور، پیٹرول پمپس اور بیکریاں کھلی رہیں گی۔
پاکستان میں سیاحت پر پابندی برقرار رکھی جائے گی۔ تمام سیاحتی مقامات، پکنک پوائنٹس، عوامی پارکس، شاپنگ مالز، تمام ہوٹل اور پکنک پوائنٹس کے اطراف میں ریسٹورنٹس بدستور بند رہیں گے۔
ملک کے شمالی علاقوں کے پہاڑیوں میں سیاحتی اور پکنک پوائنٹس اور جنوب میں ساحلوں اور سی ویو بھی بند رہیں گے۔
تاہم گلگت بلتستان اور پاکستان کے زیر انتظآم کشمیر کے مقامی لوگوں کو خصوصی طور پر گھروں کو واپس جانے کی اجازت ہو گی۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام
’فوج کی وجہ سے حالات بہتر ہیں‘
اجلاس سے قبل اسد عمر نے اپنے ایک ٹویٹ میں ایس او پیز پر عملدار آمد کے حوالے سے اطمینان کا اظہار کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’فوج کی تعیناتی سمیت دیگر ٹھوس اقدامات کی بدولت کورونا سے بچاؤ کے لیے ایس او پیز پر عملدرآمد میں نمایاں بہتری آئی ہے۔‘
انھوں نے کہا تھا کہ ’قومی سطح پر ایس او پیز پر عملدرآمد کی شرح 25 اپریل کو 34 فیصد تھی جو 3 مئی کو بڑھ کر 68 فیصد ہوگئی ہے۔‘
خیال رہے کہ حکومت نے کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے فوج تعینات کی تھی۔
85 برس کی اودری نے 14 ماہ بعد گھر سے باہر نکل کر اپنی پسندیدہ آئس کریم کھائی
،تصویر کا ذریعہJake Rusby
برطانیہ میں 85 برس کی خاتون نے 14 ماہ بعد گھر سے باہر نکل کر اپنی پسندیدہ آئس کریم کا انتخاب کیا۔ وہ کورونا وائرس کی وجہ سے اتنا عرصہ گھر تک ہی محدود رہیں۔
جولی چٹر نے اپنی ماں ادودری سے یہ وعدہ کر رکھا تھا کہ جب وہ انھیں باہر لے کر جائیں گے تو پھر انھیں ان کی پسند کی بڑی آئس کریم پیش کریں گے۔
اودری جو اپنا کیئر ہوم چھوڑے کے لیے بے تاب تھیں کا کہنا ہے کہ انھیں گھر سے باہر آ کر بہت اچھا لگ رہا ہے اگرچہ موسم بہت فضول سا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ وہ آئسکریم سے خاص لگاؤ رکھتی ہیں اور وہ اپنی انہتائی پسندیدہ آئسکریم کا انتخاب کیا ہے اگرچہ موسم سرد ہے۔
انڈیا میں حزب اختلاف کا ملک بھر میں لاک ڈاؤن نافذ کرنے کا مطالبہ
انڈیا کی حزب اختلاف کی جماعت کانگرس نے ملک بھر میں لاک ڈاؤن نافذ کرنے کا مطالبہ کر دیا ہے۔ خیال رہے کہ انڈیا میں کورونا وائرس کے متاثرین کی تعداد 20 ملین سے تجاوز کر گئی ہے۔
کانگرس کے رہنما راہول گاندھی نے کہا ہے کہ وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کا کوئی اور طریقہ ہے ہی نہیں ہے۔
کانگرس کے ترجمان پاون کھیرا نے بی بی سی کو بتایا کہ انڈیا میں ہیلتھ سروسز تقریباً خاتمے کے دھانے پر ہے۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام
اب لوگ سماجی رابطے کی ویب سائٹس پر مدد کے لیے دہائیاں دے رہے ہیں۔
وزیر اعظم نریندر مودی نے معاشی نقصانات کا حوالہ دیتے ہوئے ملک بھر میں لاک ڈاؤن کے مطالبات کی مخالفت کر رہے ہیں۔
خیبر پختونخوا میں کورونا وائرس سے مزید 43 افراد ہلاک
محکمہ صحت خیبر پختونخوا کے مطابق گذشتہ 24 گھنٹوں میں کورونا وائرس سے مزید 509 افراد متاثر ہوئے ہیں جبکہ اس وائرس سے مزید 43 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔
صوبے میں اس وائرس سے ہلاک ہونے والوں کی مجموعی تعداد 3466 ہوگئی ہے۔ اعدادوشمار کے مطابق گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کورونا وائرس سے 1030 مریض صحت یاب بھی ہوئے ہیں۔
اس وقت صوبے میں فعال کیسز کی تعداد 11076 بنتی ہے۔ صوبے کے سب سے متاثرہ اضلاع پشاور میں 156، سوات میں 61، مردان میں 60، ملاکنڈ میں 41 اور لوئر دیر میں 30 نئے مریض سامنے آئے ہیں۔
کورونا: چھتیس گڑھ میں لاک ڈاؤن 15 مئی تک توسیع
،تصویر کا ذریعہAlok parkash
انڈیا کی ریاست چھتیس گڑھ میں لاک ڈاؤن کو کورونا کیسز کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیش نظر 15 مئی تک بڑھا دیا گیا ہے۔
چھتیس گڑھ کے تمام 28 اضلاع میں، لاک ڈاؤن کو گذشتہ ماہ کی مختلف تاریخوں سے 5 مئی تک لاگو کیا گیا تھا۔
تاہم اس لاک ڈاؤن کے دوران اہم خدمات کو استثنیٰ حاصل ہوگا۔ ڈیری، بجلی کے آلات کی مرمت کی دکانوں، زرعی دکانوں اور راشن کی دکانوں کو شام 5 بجے تک کھلے رہنے کی اجازت ہے۔
اس کے علاوہ 50 فیصد ملازمین کے ساتھ بینک اور پوسٹ آفس میں بھی کام کیا جاسکتا ہے۔
دارالحکومت رائے پور اور درگ اضلاع میں شام 5 بجے تک کچھ اور عوامی سہولیات چلانے کی اجازت دی گئی ہے۔
اسلام آباد کی سبزی منڈی میں ایس او پیز کی خلاف ورزی پر متعدد افراد گرفتار
ڈپٹی کمشنر حمزہ شفقات کا اسلام آباد سبزی منڈی میں آپریشن اور ایس او پیز کی خلاف ورزی پر متعدد افراد کو گرفتار کر لیا۔
ایڈمنسٹریٹر مارکیٹ کمیٹی، اسسٹنٹ کمشنر صدر کا دورہ سبزی منڈی کے دوران ایس او پیز کی خلاف ورزی پر پندرہ افراد کو گرفتار کر لیا گیا۔
دس افراد کو ایس او پیز کی خلاف ورزی پر جرمانہ اوربیس دکانداروں کو انتباہ کر دیا گیا۔ انتظامیہ کے مطابق سبزی منڈی میں صفائی کا کام شروع کر دیا گیا یے۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام
ٹپٹی کمشنر کے مطابق منڈی میں ایک مستقل مجسٹریٹ کی ڈیوٹی بھی لگا دی گئی ہے، جو 24 گھنٹے منڈی میں ایس او پیز کی خلاف ورزی اور پرائس کنٹرول کی دیکھ بھال کرے گا۔
ڈپٹی کمشنر حمزہ شفقات نے کہا ہے کہ انتظامیہ سبزی منڈی کی صفائی اور اشیا کے ریٹس کو بہتر بنانے کے لیے فعال ہے۔ عوام انتظامیہ اور ڈیوٹی مجسٹریٹ کے ساتھ تعاون کرے۔
پنجاب میں راولپنڈی، فیصل آباد اور لیہ کے متعدد علاقوں میں سمارٹ لاک ڈاؤن نافذ
،تصویر کا ذریعہ1122
کیبنٹ کمیٹی برائے کورونا کی سفارشات کے مطابق کورونا کے بڑھتے کیسز کے پیش نظر راولپنڈی، فیصل آباد اور لیہ کے متعدد علاقوں میں سمارٹ لاک ڈاؤن نافذ کر دیا گیا ہے۔
سیکرٹری پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کیئر سارہ اسلم نے سمارٹ لاک ڈاؤن نوٹیفیکیشن جاری کر دیا ہے جو چا مئی سے 17 مئی تک نافذ العمل رہے گا۔
زیادہ کورونا ٹیسٹ مثبت آنے والوں علاقوں میں سمارٹ لاک ڈاؤن لگایا جا رہا ہے۔
راولپنڈی کے علاقے خیابان شمالی، اصغر مال سکیم، سیٹلائٹ ٹاون، اے آر ایل کالونی اور آفندی کالونی میں سمارٹ لاک ڈاؤن لگا دیا گیا ہے۔
فیصل آباد
فیصل آبا میں دمسلم ٹاون نمبر1 ،2، 3، جناح کالونی، خیابان کالونی نمبر1،2،3، ایڈن ویلی، ایڈن گارڈن، ایگزیکٹو بلاک، سید کالونی نمبر 1،2، پیپلز کالونی نمبر 1،2، آفیسرز کالونی نمبر 1،2، عبداللہ گارڈن، مدینہ ٹاؤن اور امین ٹاؤن کو بند کر دیا گیا ہے۔
لیہ
لیہ کے علاقے سٹریٹ نمبرایک،محلہ حافظ آباد بھی سمارٹ لاک ڈاون لگا دیا گیا ہے۔ لاک ڈاؤن والے علاقوں میں تمام شاپنگ مالز، ریسٹورانٹ، دفاتر (نجی اور سرکاری) بند رہیں گے۔ علاقہ مکینوں کی نقل و حمل محدود ہو گی جبکہ انتہائی ضرورت کے پیش نظر ایک فرد ایک سواری استعمال کر سکے گا۔
گروسری سٹورز، جنرل سٹورز، بیکریز، گوشت کی دکانیں، آٹا چکیاں، فروٹ، سبزی کی دوکانیں اور تندور صبح 9 بجے سے شام 6 بجے تک کھل سکیں گی۔
ضروری مذہبی رسومات اور جنازہ میں ایس او پیز کے مطابق شمولیت کی اجازت ہو گی۔
یوٹیلیٹی کمپنیز، بینک، میڈیا اور بنیادی سہولیات پہنچانے والے سماجی اور فلاحی اداروں کو کام کرنے کی اجازت ہو گی۔ سمارٹ لاک ڈاؤن کا مقصد کورونا سے زیادہ متاثر ہونے والے علاقوں سے لوگوں کی آمدورفت کو محدود کرنا ہے۔
سائنسدانوں نے خبردار کیا ہے کہ انڈیا جیسی صورتحال دیگر ممالک میں بھی پیدا ہو سکتی ہے
،تصویر کا ذریعہReuters
ماہر وبائی امراض نے خبردار کیا ہے کہ جس طرح کورونا وائرس نے انڈیا کو متاثر کیا ہے یہ صورتحال دیگر ممالک میں بھی پیدا ہو سکتی ہے۔
لندن سکول آف ہائی جین اینڈ ٹروپیکل میڈیسن کے ایڈم کچارسکی نے بی بی سی 4 کے پروگرام ورلڈ ایٹ ون میں بتایا کہ بدقسمتی سے ہم انڈیا کی طرح کورونا وائرس کی صورتحال دیگر ممالک میں بھی دیکھ سکتے ہیں کیونکہ ایسے اور بہت سے ممالک ہیں جہاں ایسی ہی علامتیں ہیں۔
ان کے مطابق مختلف کورونا وائرس کی اقسام ان ممالک میں پائی جاتی ہیں جس سے کورونا وائرس کے متاثرین کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے جو کہیں بھی انڈیا جیسی صورتحال پیدا کر سکتی ہے۔
انھوں نے نیپال میں بڑھتے ہوئے کیسز کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اب ایسی صورتحال ان ممالک میں بھی پیدا ہو سکتی ہے جنھوں نے گذشتہ سال کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے بہت اہم کردار ادا کیا تھا۔ ان ممالک میں کمبوڈیا، فجی اور منگولیا شامل ہیں جہاں اب یہ وائرس پھیل رہا ہے اور یہ ممالک اس سے نمٹنے کے لیے لاک ڈاؤن جیسے سخت آپشن کی طرف جا رہے ہیں۔
ایڈم کچارسکی کا کہنا ہے کہ تمام ممالک کو یہ سوچ بچار کرنی ہو گی کیسے ویکسین کی تقسیم میں مساوات کو یقینی بنایا جا سکے تا کہ اس وائرس سے نمٹنے میں آسانی ہو۔
ان کے مطابق اس وقت امیر ممالک کو تو کئی اقسام کی ویکسین دستیاب ہے جبکہ غریب ممالک میں ایک انسانی بحران سے گزر رہے ہیں۔
انڈیا میں آٹھ ایشین ببر شیر بھی کورونا وائرس سے متاثر
،تصویر کا ذریعہGetty Images
انڈیا میں حیدر آباد کی نہرو زولوجیکل پارک میں آٹھ شیروں میں بھی کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔
معائنے کی غرض سے 24 اپریل کو ان شیروں کے خون کے نمونے چڑیا گھر کی انتظامیہ کو بھیجے گئے۔ ان شیروں میں اس وائرس کی علامات ظاہر ہوئیں۔
اس حوالے سے سی سی ایم بی۔لیکلونز (CCMB-LACLONES) نے اپنی رپورٹ پیش کر دی، جس میں اس بات کی تصدیق ہو جاتی ہے کہ حیدر آباد کے چڑیا گھر میں یہ آٹھ ایشائی نسل کے شیر کورونا وائرس (SARS-Kovid 2) سے متاثر ہو چکے ہیں۔
ان شیروں کو تنہائی میں رکھا گیا ہے جہاں ان کا مناسب خیال رکھا جا رہا ہے اور ان کا علاج بھی شروع کر دیا گیا ہے۔
انڈیا کی کووڈ صورتحال عالمی تشویش کا باعث کیوں؟
ایک جانب جہاں دنیا کے کئی حصوں میں کورونا وائرس کے باعث لگے لاک ڈاؤن میں نرمی کی جارہی ہے وہیں انڈیا میں اس وائرس کی دوسری لہر نے نظام زندگی بری طرح مفلوج کردیا ہے۔
آئیے آپ کو بتاتے ہیں کہ انڈیا میں پایا جانے والا یہ مسئلہ صرف انڈیا کے لیے ہی نہیں بلکہ پوری دنیا کے لیے تشویش کا باعث کیوں ہے؟
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو Google YouTube کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے Google YouTube ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔ YouTube کے مواد میں اشتہارات ہو سکتے ہیں۔
YouTube پوسٹ کا اختتام
نئی دہلی میں راشن کارڈ رکھنے والے ہر شہری کو دو ماہ کا مفت راشن فراہم کیا جائے گا
،تصویر کا ذریعہGetty Images
انڈیا کے دارالحکومت نئی دہلی میں راشن کارڈ رکھنے والے ہر شہری کو آئندہ دو ماہ مفت راشن فراہم کیا جائے گا جبکہ رکشہ اور ٹیکسی ڈرائیورز کو 5 ہزار روپے نقد دیے جائیں گے۔
نیی دہلی کے وزیر اعلیٰ اروند کیجروال نے ایک ویڈیو بیان میں کہا ہے کہ ’ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ دہلی کے تقریباً 72 لاکھ راشن کارڈ ہولڈرز کو آئندہ دو ماہ مفت راشن فراہم کیا جائے گا۔‘
اپنے پیغام میں انھوں نے یہ بھی واضح کیا کہ اس کا مطلب یہ نہیں کہ دلی میں آئندہ دو ماہ تک لاک ڈاؤن ہو گا بلکہ ’یہ اقدام اس معاشی بحران میں غریب لوگوں کی مدد کے لیے اٹھایا جا رہا ہے۔‘
انھوں نے یہ بھی کہا کہ ہر رکشہ اور ٹیکسی ڈرائیور کو مالی معاونت کے لیے 5000 روپے بھی دیے جائیں گے۔
واضح رہے کہ پیر کے روز دلی میں کورونا کے 18043 کیس جبکہ 448 اموات ریکارڈ کی گئی ہیں۔
بریکنگ, انڈین کرکٹ بورڈ نے آئی پی ایل کے بقیہ میچز کو ملتوی کر دیا
،تصویر کا ذریعہGetty Images
انڈین کرکٹ بورڈ نے انڈین پریمئیر لیگ کے بقیہ میچز کو غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کر دیا ہے۔
اس حوالے سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ انڈین کرکٹ بورڈ اور آئی پی ایل کی گورننگ کونسل نے ایک ہنگامی اجلاس میں متفقہ طور پر فیصلہ کیا ہے کہ فوری طور پر آئی پی ایل 2021 کو ملتوی کر دیا جائے۔
بیان کے مطابق انڈین کرکٹ بورڈ کھلاڑیوں، سپورٹ سٹاف اور آئی پی ایل کے انعقاد میں شامل دیگر شرکا کی حفاظت پر سمجھوتہ نہیں کرنا چاہتا اور یہ فیصلہ تمام سٹیک ہولڈرز کی حفاظت اور صحت کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔
بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ آئی پی ایل 2021 کے تمام شرکا کو بحفاظت واپس بھیجنے کے انتظام میں انڈین کرکٹ بورڈ اپنے تمام اختیارات کا استعمال کرے گا۔
واضح رہے کہ انڈیا میں کورونا وائرس سے ہونے والے شدید بحران کے سبب ناقدین کا مؤقف رہا ہے کہ ایسے موقع پر یہ ٹورنامنٹ کرانا نہایت ہی ’غیر مناسب‘ ہے۔
دوسری جانب گذشتہ روز انڈین پریمئیر لیگ کی کولکتہ نائٹ رائیڈرز ٹیم کے دو کھلاڑی ورون چکرورتی اور سندیپ واریر کا کورونا مثبت ہونے کے سبب ان کا رائل چیلنجرز بنگلور کے ساتھ ہونے والا میچ ملتوی کر دیا گیا تھا۔
بہار میں 15 مئی سے لاک ڈاؤن کا اعلان
انڈین ریاست بہار میں کورونا وائرس کے بڑھتے کیسز کے پیش نظر 15 مئی سے لاک ڈاؤن کا اعلان کیا گیا ہے۔
ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں یہ اعلان کرتے ہوئے بہار کے وزیراعلیٰ نتیش کمار نے کہا کہ اس حوالے سے گائیڈ لائنز آج جاری کر دی جائیں گی۔
،تصویر کا ذریعہGetty Images
لاہور میں کورونا ایس او پیز کی خلاف ورزی پر 118 نئے مقدمات درج
لاہور میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کورونا ایس او پیز کی خلاف ورزی پر 118 نئے مقدمات درج کیے گئے ہیں۔
سی سی پی او لاہور کے دفتر سی جاری بیان کے مطابق بغیر ماسک گھومنے پر 67 جبکہ حکومتی گائیڈ لائنز پر عملدرآمد نہ کرنے پر 51 مقدمات درج کیے گئے ہیں۔
واضح رہے کہ لاہور میں کورونا ایس او پیز کی خلاف ورزی پر اب تک مجموعی طور پر 3464 مقدمات درج کیے جا چکے ہیں۔
،تصویر کا ذریعہEPA
امریکہ: 12 سے 15 سال کے بچوں کے لیے ویکسین منظوری کے لیے تیار
،تصویر کا ذریعہReuters
امریکی فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن اگلے ہفتے کے اوائل تک 12 سے 15 سال کی عمر کے بچوں کے لیے فائزر انک اور بائیونٹیک ایس ایز کی ویکسین کی اجازت دینے کی تیاری کر رہی ہے۔
نیویارک ٹائمز نے اس منصوبے سے باخبر وفاقی اہلکاروں کے حوالے سے پیر کو یہ بات کہی ہے۔
رواں ماہ کے شروع میں ان کمپنیوں نے ایف ڈی اے میں اس ویکسین کی ممکنہ منظوری کے لیے درخواست دی تھی، جو امریکہ میں پہلے ہی 16 سال یا اس سے زیادہ عمر کے لوگوں کے استعمال کے لیے منظور ہو چکی ہے۔
ایف ڈی اے سے اس کی منظوری کی بہت امید ہے کیونکہ دوا ساز کمپنیون نے مارچ میں کہا تھا کہ کلینیکل ٹرائل میں 12 سے 15 سال کی عمر کے بچوں میں یہ ویکسین محفوظ، موثر پائی گئی اور یہ مضبوط اینٹی باڈی تیار کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
پاکستان: صوبہ پنجاب میں کورونا سے مزید 111 ہلاکتیں، 37 کا تعلق لاہور سے
،تصویر کا ذریعہEPA
پاکستان کے صوبہ پنجاب میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کورونا وائرس سے مزید 111 ہلاکتیں ہوئی ہیں جس کے بعد صوبے بھر میں اس مہلک وبا سے ہونے والی اموات کی تعداد 8683 ہو گئی ہے۔
پرائمری اینڈ سکینڈری ہیلتھ کیئر ڈیپارٹمنٹ کے ترجمان کے مطابق 111 ہلاکتوں میں سے 37 لاہور میں ہوئی ہیں جس کے بعد شہر میں کورونا سے اموات کی کل تعداد 3558 ہو گئی ہے۔
ترجمان کے مطابق صوبے میں کورونا وائرس کے 1600 نئے کیس بھی سامنے آئے ہیں جس کے بعد صوبے میں متاثرین کی تعداد 308,529 ہو گئی ہے۔
بریکنگ, انڈیا میں متاثرین کی تعداد دو کروڑ سے بڑھ گئی
،تصویر کا ذریعہEPA
اگرچہ وہاں کی حکومت کا دعوی ہے کہ وبا کا زور ٹوٹ رہا ہے، انڈیا میں وائرس سے متاثر ہونے والے افراد کی تعداد دو کروڑ سے تجاوز کر گئی ہے۔
انڈیا اس وقت دنیا میں کورونا کی وبا کا مرکز بنا ہوا ہے تاہم سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 30 اپریل سے متاثرین کی تعداد میں کمی آئی ہے۔
منگل کو ملک میں تین لاکھ 55 ہزار سے زیادہ نئے مریض سامنے آئے تاہم ماہرین کا ماننا ہے کہ متاثرین اور اموات کی تعداد کم بتائی جا رہی ہے۔+
دارالحکومت نئی دہلی میں پیر کو 448 افراد کی ہلاکت ہوئی، جو کہ شہر کے لیے ایک ریکارڈ تعداد ہے۔