کورونا: پاکستان میں مزید 70 ہلاکتیں، 4825 افراد میں کورونا کی تشخیص

نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کے مطابق پاکستان میں 25 اپریل کو 4825 افراد میں کورونا کی تشخیص ہوئی جبکہ 70 مزید افراد اس مرض کے باعث جان کی بازی ہار گئے۔

لائیو کوریج

  1. بریکنگ, عید کی شاپنگ کے لیے آخری دنوں کا انتظار نہ کریں، لاک ڈاؤن لگ سکتا ہے: اسد عمر

    shpng

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    این سی او سی کے اجلاس کے بعد وفاقی وزیر منصوبہ بندی اسد عمر نے بھی خطاب کرتے ہوئے حکومت کی جانب سے لیے گئے پانچ اہم اقدامات کے بارے میں بھی تفصیل دی۔

    اسد عمر نے کہا کہ وبا میں اضافے کے باعث اب بازار شام چھ بجے تک بند ہو جائیں گے اور صرف ضروری اشیا کے لیے دکانیں کھلی رہیں گی۔

    انھوں نے عوام سے کہا کہ وہ عید کی شاپنگ کرنا چاہیں تو ضرور کریں لیکن صرف دن کے اوقات میں کریں اور رمضان کے آخری دنوں کا انتظار نہ کریں کیونکہ حالات میں خرابی کی صورت میں لاک ڈاؤن بھی لگ سکتا ہے۔

    وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ دفاتر صرف 50 فیصد حاضری پر چلیں گےاور دن میں دو بجے تک کام ہوگا۔

    ریستورانٹس کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ عید تک آؤٹ ڈور کھانے پر بھی پابندی ہوگی اور صرف ٹیک اوے اور ڈیلیوری کی اجازت رہے گی۔

    وفاقی وزیر نے کہا کہ پانچ فیصد سے زیادہ پازیٹیویٹی ریٹ والے شہروں میں تمام سکول عید تک بند رہیں گے۔

  2. بریکنگ, پاکستان میں کورونا ایس او پیز پر عمل درآمد میں مدد کے لیے فوج طلب

    فوج

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستانی وزیر اعظم نے نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کے اجلاس کے بعد خطاب کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ انھوں نے پاکستانی فوج سے کہا ہے کہ وہ ایس او پیز پر عمل کرانے کے لیے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مدد کے لیے سڑکوں پر نکلے۔

  3. بریکنگ, اروند کیجریوال کی نریندر مودی سے ملاقات: ’آکسیجن کی کمی کی وجہ سے بڑے حادثے کا خدشہ ہے‘

    narendar modi

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    انڈیا کے وزیر اعظم نریندر مودی کے ساتھ کورونا وائرس کی صورتحال سے متعلق جائزہ اجلاس میں وزیر اعلی اروند کیجریوال نے کہا ہے کہ انھیں آکسیجن کی کمی کی وجہ سے بڑے حادثے کا خدشہ ہے۔

    نیوز ایجنسی پی ٹی آئی کے مطابق، وزیر اعلی کیجریوال نے وزیر اعظم مودی سے اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے قومی پالیسی کا مطالبہ کیا ہے۔ انھوں نے کہا ’آکسیجن کی کمی کی وجہ سے عوام شدید غم میں ہیں۔

    ’میں وزیر اعظم مودی سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ وزرائے اعلی کو آکسیجن ٹینکر آسانی سے دہلی لے جانے کی ہدایت کریں۔‘

  4. انڈیا میں کورونا کی بگڑتی صورتحال، فیصل ایدھی کی انڈیا کو مدد کی پیشکش

    document

    آج ایدھی فاونڈیشن کے سربراہ فیصل ایدھی نے ایک اعلامیہ جاری کیا ہے جس میں انھوں نے پڑوسی ملک انڈیا میں تیزی سے پھیلتے کورونا وائرس پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مدد کی پیشکش کی ہے۔

    اعلامیے کے مطابق فیصل ایدھی کا کہنا تھا کہ ’مصیبت کی اس گھڑی میں ایدھی فاونڈیشن اور اس کے رضا کار اپنے پڑوسی ملک کی عوام کے ساتھ کھڑے ہیں-‘

    انھوں نے انڈیا کے وزیرِ اعظم نریندر مودی کو پچاس ایمبولینس اور ایک رضاکاروں کی ٹیم انڈیا بھیجنے کی پیشکش کی ہے۔

  5. ماؤنٹ ایورسٹ: کورونا وائرس دنیا کی سب سے بلند چوٹی پر بھی پہنچ گیا

    Mount Everest

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    دنیا کی سب سے بلند چوٹی ماؤنٹ ایورسٹ کے کوہ پیماؤں کے لیے دوبارہ کھلنے کے بعد کم از کم ایک کوہ پیما میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔

    ماؤنٹ ایورسٹ کو گذشتہ برس کورونا وائرس کے پیش نظر کوہ پیماؤں کے لیے بند کر دیا گیا تھا۔

    ناروے سے تعلق رکھنے والے کوہ پیما ارلینڈ نیس نے بی بی سی کو بتایا کہ انھوں نے وائرس سے متاثر ہونے کے بعد آٹھ راتیں ہسپتال میں آئسولیشن میں گزاری تھیں۔

    اطلاعات کے مطابق ان کی کوہ پیما پارٹی میں شامل شیرپا میں بھی کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔

    ماؤنٹ ایورسٹ پر اس وبا کا پھیلنا نیپال کے لیے ایک بڑا دھچکہ ہے کیونکہ نیپال کی معیشت کا بہت بڑا حصہ ماؤنٹ ایورسٹ پر مہم جوئی کے اجازت نامے دینے سے حاصل ہوتا ہے۔

    کوہ پیما ارلینڈ کو یہ علم نہیں ہے کہ انھیں یہ وائرس کہاں سے لگا لیکن ان کا کہنا ہے کہ ماؤنٹ ایورسٹ کے قریب واقع وادی کھمبو کے چائے خانوں میں سے کہیں سے ممکنہ طور پر وہ متاثر ہوئے ہیں۔

    ان کا کہنا ہے کہ وہ خود کو محفوظ رکھنے کے لیے زیادہ احتیاط کر سکتے ہیں جیسا کہ ہاتھ دھونے اور پورا دن ماسک پہنے رکھنے کا خیال کر سکتے تھے۔

    ان کا کہنا ہے کہ پہاڑ پر زیادہ تر افراد ماسک کا استعمال نہیں کرتے۔ انھیں 15 اپریل کو بیمار پڑنے کے بعد بذریعہ ہیلی کاپٹر ہسپتال لایا گیا تھا۔

    انھیں کھٹنڈو کے دو ہپستالوں میں لے جایا گیا اور ان کا تین مرتبہ کورونا ٹیسٹ مثبت آیا تھا۔

  6. آکسیجن کی قلت کے باعث کسی بڑے حادثے کا خدشہ ہے: وزیر اعلیٰ کیجریوال

    Covid-19

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    وزیر اعظم نریندر مودی کی زیر قیادت ملک میں کورونا وبا کی صورتحال سے متعلق وزرا اعلیٰ کے اجلاس میں دہلی کے وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال نے کہا ہے کہ ہپستالوں میں آکسیجن کی کمی کی وجہ سے کسی بڑے سانحہ کا خدشہ ہے۔

    نیوز ایجنسی پی ٹی آئی کے مطابق، دہلی کے وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال نے وزیر اعظم مودی سے اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے قومی پالیسی مرتب دینے کا مطالبہ کیا ہے۔

    انھوں نے کہا کہ ’آکسیجن کی قلت کی وجہ سے عوام شدید غم میں ہیں۔ میں وزیر اعظم مودی سے ہاتھ جوڑ کر درخواست کرتا ہوں کہ وہ تمام وزرائے اعلیٰ کو آکسیجن ٹینکر آسانی سے دہلی لے جانے کی ہدایت کریں۔‘

    انھوں نے اس اجلاس میں یہ بھی کہا کہ ریاستی حکومتوں کو کووڈ-19 ویکسین اسی قیمت پر ملنی چاہئے جس پر مرکزی حکومت کو مل رہی ہے۔

  7. فرانسیسی صدر کا انڈین عوام کو پیغام: ’اس جدوجہد میں ہم آپ کے ساتھ ہیں‘

    کورونا

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    انڈیا میں مسلسل دوسرے روز یومیہ تین لاکھ سے زیادہ کورونا وائرس کے متاثرین سامنے آنے کے بعد فرانسیسی صدر ایمانوئل میکخواں نے انڈیا کو ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کروائی ہے۔

    انڈیا میں فرانس کے سفیر ایمانوئل لینن نے جمعہ کو ٹویٹ کر کے اس کے بارے میں معلومات دی ہیں۔

    انھوں نے اپنی ٹویٹ میں لکھا کہ ’میں کووڈ 19 کے کیسز کی دوسری لہر کے دوران انڈین عوام کو یکجہتی کا پیغام دینا چاہتا ہوں۔ اس وائرس نے کسی کو نہیں بخشا ، فرانس اس جدوجہد میں آپ کے ساتھ ہے۔ ہم اپنا تعاون دینے کے لیے تیار ہیں۔ - صدر ایمانوئل میکخواں۔‘

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

    جمعہ کے روز انڈیا میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کورونا کے تین لاکھ 32 ہزار سے زیادہ نئے کیس رپورٹ ہوئے ہیں جبکہ 2263 افراد کی موت ہوئی ہے۔

    ملک کے ہسپتالوں میں آکسیجن کی قلت پیدا ہو چکی ہے اور اس دوران بہت سے ممالک نے انڈیا پر سفری پابندیاں عائد کر دی ہیں۔

    فرانس نے بدھ کے روز اعلان کیا تھا کہ انڈیا سے آنے والے سیاحوں کو 10 دن قرنطینہ میں گزارنا پڑیں گے۔

  8. چین کی انڈیا کو کورونا کی صورتحال پر مدد فراہم کرنے کی آمادگی

    Covid-19

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ٹائمز آف انڈیا کی خبر کے مطابق، چین نے انڈیا میں کورونا مریضوں کی بڑھتی ہوئی تعداد اور ان کے علاج معالجے کے لیے میڈیکل آکسیجن کی کمی کی وجہ سے پیدا ہونے والی موجودہ صورتحال پر قابو پانے کے لیے ضروری مدد فراہم کرنے پر آمادگی ظاہر کی ہے۔

    مرکزی وزارت صحت نے گذشتہ ہفتے کہا تھا کہ انڈیا بیرون ملک سے میڈیکل آکسیجن درآمد کرنے پر غور کر رہا ہے۔ سرکاری ذرائع کے حوالے سے خبروں میں کہا گیا ہے کہ چین ان ممالک میں شامل نہیں ہے جہاں سے انڈیا اپنی آکسیجن کی ضرورت کو پورا کرنا چاہتا ہے۔

    انڈیا نے اس کے لیے خلیجی ممالک اور سنگاپور کو ترجیح دی ہے۔ بین الاقوامی یکجہتی اور باہمی تعاون کی ضرورت کا حوالہ دیتے ہوئے کووڈ 19 کو پوری انسانیت کا مشترکہ دشمن قرار دیتے ہوئے چین کی وزارت خارجہ نے جمعرات کے روز کہا کہ اس کی نظر 'انڈیا کی نازک صورتحال' پر ہے جہاں اس وبا سے لڑنے کے لیے ضروری دوائیوں کی کمی ہے۔‘

  9. پنجاب میں 3032 نئے متاثرین، پشاور کے ہسپتالوں میں مریضوں کی بڑھتی تعداد

    Covid-19

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان میں کورونا کی تیسری لہر میں شدت آتی جا رہی ہے اور وبا کے تیزی سے پھیلاؤ کے باعث ملک کے ہسپتالوں پر بوجھ بڑھ رہا ہے۔

    صوبہ پنجاب کے محکمہ پرائمری اینڈ سکینڈری ہیلتھ کیئر کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق گذشتہ 24 گھنٹوں میں 3032 نئے مریضوں میں وائرس کی تصدیق ہوئی ہے جس کے بعد صوبے میں اب تک کل مریضوں کی تعداد دو لاکھ 82 ہزار سے زیادہ ہو چکی ہے۔

    پنجاب میں سب سے زیادہ متاثرہ شہر لاہور ہے جبکہ گوجرانوالہ، فیصل آباد، راولپنڈی، گجرات، ملتان، سرگودھا میں بھی وائرس کا پھیلاؤ بہت زیادہ ہے۔

    کورونا وائرس سے صوبے میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مزید 81 ہلاکتیں ہوئی ہیں جس کے بعد وائرس سے اموات کی کل تعداد 7799 ہوچکی ہے۔

    جبکہ دوسری جانب خیبر پختونخوا کے سب سے بڑے شہر پشاور میں ہسپتالوں پر مریضوں کا بوجھ بڑھتا جا رہا ہے۔

    پشاور کے حیات آباد میڈیکل کمپلیکس میں کورونا کے مریضوں کے لیے مختص کردہ 38 وینٹیلیٹرز میں سے 31 وینٹیلیٹرز پر مریض موجود ہیں۔ جبکہ اسی طرح 178 مختص بستروں میں سے 155 بستروں پر مریض داخل ہیں۔

    اسی طرح پشاور کے دوسرے بڑے لیڈی ریڈنگ ہسپتال میں مختص کردہ 485 کورونا مریضوں کے بستروں میں سے 435 بستروں پر مریض موجود ہیں۔

    جبکہ 33 مریض انتہائی نگہداشت وارڈ میں زیر علاج ہیں۔

  10. انڈیا: کورونا وارڈ میں آگ لگنے سے 13 مریض ہلاک

    کورونا

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    انڈین ریاست مہاراشٹرا کے ایک ہسپتال میں قائم کورونا وارڈ میں آگ لگنے کے باعث 13 کورونا متاثرین ہلاک ہو گئے ہیں۔ یہ کورونا مریض کورونا سینٹر کے انتہائی نگہداشت یونٹ میں داخل تھے۔

    ضلع پلگھر کی انتظامیہ نے اس واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ وسائی ہسپتال میں لگنے والی آگ میں زخمی ہونے والوں کو دوسرے ہسپتالوں میں منتقل کر دیا گیا ہے۔

    مقامی پولیس نے نیوز ایجنسی پی ٹی آئی کو بتایا کہ اس حادثے میں کم از کم 13 کورونا مریض ہلاک ہو چکے ہیں۔ یاد رہے کہ دو روز قبل مہاراشٹرا کے ہی ایک ہسپتال میں آکسیجن لیک ہونے کے باعث 22 مریض ہلاک ہوئے تھے۔

  11. کورونا: دہلی کے ہسپتالوں میں آکسیجن ختم ہونے کے قریب

    کورونا

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    انڈیا کے دارالحکومت دہلی میں کم از کم دو ہپستالوں میں آکسیجن ختم ہو رہی ہے۔ انڈیا میں کورونا کی وبا کے بہت زیادہ پھیلاؤ اور اس سے پیدا ہونے والے ہنگامی حالات کے باعث ملک کی بیشتر ریاستوں میں ہسپتالوں پر بہت زیادہ دباؤ پڑنے کے باعث صورتحال انتہائی تشویشناک ہے۔

    دارالحکومت دہلی کے ہسپتالوں میں انتہائی نگہداشت کے وارڈز مریضوں سے بھر چکے ہیں اور بہت سے افراد آکسیجن کے انتظار میں جان کی بازی ہار چکے ہیں۔

    انڈیا میں کورونا کے دوسری لہر نے بہت تباہ کاری مچائی ہے۔ ملک میں ایک کروڑ ساٹھ لاکھ کورونا متاثرین کی تصدیق کی گئی ہے۔

    وزیر اعظم نریندر مودی آج (جمعے) کو متاثرہ ریاستوں کے وزرا اعلیٰ اور آکسیجن بنانے والوں سے ملاقات کریں گے۔ جمعے کی صبح دہلی کے میکس ہیلتھ کیئر نے ایک ہنگامی ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ وہ دو ہپستالوں میں آکسیجن کی نئی سپلائی کا گذشتہ سات گھنٹوں سے انتظار کر رہے ہیں۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں, 1
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام, 1

    ان دو ہسپتالوں میں 700 سے زائد مریض داخل ہیں۔

    دہلی کے سر گنگا رام ہسپتال کا کہنا ہے کہ ان کے پاس صرف اگلے دو گھنٹوں کی آکسیجن سپلائی رہ گئی ہے۔ ہسپتال کے وینٹیلیٹر اور بائی پاس مشینیں کام نہیں کر رہی ہیں۔

    ہسپتال کے ڈائریکٹر کا کہنا ہے کہ اس وقت ہسپتال میں داخل انتہائی تشویشناک حالت کے 60 مریضوں کی زندگیوں کا خطرہ لاحق ہے۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں, 2
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام, 2

  12. پاکستان میں 5870 نئے متاثرین، 144 ہلاکتیں

    کورونا

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 5870 افراد میں کورونا وائرس کی تصدیق کی گئی ہے جبکہ 144 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

    نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سنٹر کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق کورونا کے مریضوں کی سب سے زیادہ 57 ہلاکتیں پنجاب میں ہوئی ہیں۔

    یاد رہے کہ پاکستان میں کورونا کی تیسری لہر میں وائرس کے تیزی سے پھیلاؤ نے ملک کے ہپستالوں پر مریضوں کا بوجھ بڑھا دیا ہے۔

    جمعہ کو وزیر اعظم کی صدارت میں ہونے والے اجلاس میں حکومت نے پابندیاں مزید سخت کرنے کا عندیہ دیا ہے۔

    ملک کے تمام بڑے شہروں کے ہسپتالوں میں وینٹیلیٹرز اور آکسیجن بیڈز پر مریضوں کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے۔

    پاکستان میں فعال کیسز کی کل تعداد 84976 تک پہنچ گئی ہے۔ گذشتہ 24 گھنٹوں میں 53818 ٹیسٹ کیے گئے ہیں۔

    پاکستان میں مجموعی طور پر سات لاکھ 84 ہزار سے زائد افراد میں کورونا وائرس کی تصدیق کی جا چکی ہے جبکہ ہلاکتوں کی کل تعداد 16842 ہے۔

  13. انڈیا میں کورونا کے تین لاکھ 32 ہزار نئے مریض، 2263 اموات

    کورونا

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    انڈیا میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کورونا کے تین لاکھ 32 ہزار نئے مریضوں کی تصدیق کی گئی ہے جبکہ 2263 افراد کی ہلاکت ہوئی ہے۔

    انڈیا کی وزارت صحت کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق مریضوں کی یہ تعداد عالمی سطح پر یومیہ متاثرین کی ریکارڈ تعداد ہے۔

    کورونا کی وبا نے انڈیا کو بری طرح متاثر کر رکھا ہے اور اس کے ہہت زیادہ پھیلاؤ کے باعث دہلی اور ممبئی جیسے بڑے شہروں کے ساتھ ساتھ چھوٹے شہروں میں بھی ہسپتالوں پر دباؤ بڑھ چکا ہے اور ملک سے زیادہ تر ہسپتالوں میں آکسیجن کی شدید قلت سامنے آ رہی ہے۔

    انڈیا میں اب تک ایک کروڑ باسٹھ لاکھ سے زیادہ افراد میں وائرس کی تصدیق ہو چکی ہے جبکہ ایک لاکھ 86 ہزار سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

  14. بی بی سی اردو کی لائیو کوریج جاری ہے!

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

    کورونا وائرس کی وبا ایک بار پھر شدت اختیار کر رہی ہے اور انڈیا میں اس وقت ہنگامی صورتحال دیکھنے میں آ رہی ہے۔ مسلسل تین روز سے ملک میں سامنے آنے والے نئے متاثرین کی تعداد تین لاکھ سے زیادہ ہے اور ملک کے بیشتر علاقوں میں مریض ہسپتالوں میں جگہ نہ ہونے کی وجہ سے سڑکوں پر بیٹھے انتظار کرتے نظر آتے ہیں۔

    ادھر پاکستان میں بھی وبا میں تیزی کو مدنظررکھتے ہوئے نیشنل کمانڈ ایننڈ کنٹرول سنٹر کا اجلاس ہوگا جس میں اس بات پر غور ہوگا کہ آیا ملک کو ایک بار پھر لاک ڈاؤن کی جانا چاہیے یا نہیں۔

    بی بی سی اردو کے لائیو پیج پر آپ کو انڈیا اور پاکستان سمیت دنیا بھر سے اس وبا کے حوالے سے آنے والی اہم خبریں اور معلومات ملیں گی۔

    جمعرات تک کی اہم خبروں کو جاننے کے لیے آپ یہاں کلک کریں۔