کورونا: پاکستان میں مزید 70 ہلاکتیں، 4825 افراد میں کورونا کی تشخیص
نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کے مطابق پاکستان میں 25 اپریل کو 4825 افراد میں کورونا کی تشخیص ہوئی جبکہ 70 مزید افراد اس مرض کے باعث جان کی بازی ہار گئے۔
لائیو کوریج
’اگر آپ مدد کرنا چاہتے ہیں، تو تنقید کرنا بند کریں‘
پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا میں کورونا وائرس کے مثبت کیسز کی شرح 12 اعشاریہ 5 فیصد تک پہنچ گئی ہے اور اس وقت صوبے میں 14 ہزار 503 افراد اس مرض سے متاثر ہیں۔
گذشتہ روز 981 نئے متاثرین سامنے آنے اور 37 اموات ریکارڈ کیے جانے کے بعد صوبائی وزیر صحت تیمور سلیم خان جھگڑا نے عوام سے اپیل کی ہے کہ اگر وہ مدد کرنا چاہتے ہیں تو تنقید کے بجائے ماسک پہننے کا پیغام عام کریں۔
،تصویر کا ذریعہTwitter/@Jhagra
انڈیا مخالف قوتیں کورونا بحران کا فائدہ اٹھا سکتی ہیں: آر ایس ایس
،تصویر کا ذریعہHindustan Times/Getty Images
انڈیا کی دائیں بازو کی تنظیم راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے رہنما سرکاریاوہ دتاتریہ نے ملک میں کووڈ کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ’انڈیا مخالف‘ قوتوں سے خبردار کیا ہے۔
اُنھوں نے کہا: ’یہ بھی ہوسکتا ہے کہ سماج مخالف اور انڈیا مخالف قوتیں اس سنگین صورتحال کا فائدہ اٹھائیں اور ملک میں منفیت اور عدم اعتماد کی فضا پیدا کر دیں۔ عوام کو ان قوتوں کی سازشوں سے اپنی مثبت کوششوں کے ذریعے خبردار رہنا پڑے گا۔‘
تاہم اُنھوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ ان مبینہ قوتوں سے اُن کی مراد کیا ہے۔
اُنھوں نے مزید کہا: ’راشٹریہ سویم سیوک سنگھ معاشرے کی تمام سماجی و مذہبی تنظیموں سمیت رضاکاروں اور مسلح افواج کے اہلکاروں، کاروباری شخصیات اور اداروں سے درخواست کرتی ہے کہ کسی بھی قسم کی عدم تیاری پر قابو پائیں اور اس صورتحال پر قابو پانے کی ہر کوشش کریں۔‘
بریکنگ, انڈیا میں مسلسل چوتھے روز بھی تین لاکھ سے زیادہ نئے متاثرین
،تصویر کا ذریعہGetty Images
انڈیا میں کورونا وائرس کی دوسری لہر کی شدت برقرار ہے اور سنیچر کو 348786 نئے مریض سامنے آئے ہیں جبکہ 2744 افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔
پاکستان کی جانب سے انڈیا کو کورونا سے نمٹنے کے لیے سرکاری سطح پر امداد کی پیشکش
پاکستان نے کورونا وائرس کی حالیہ لہر سے نمٹنے کے لیے اظہارِ یکجہتی کے طور پر انڈیا کو امداد کی پیشکش کی ہے۔
وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں لکھا کہ ’ کورونا کی موجودہ لہر کے باعث، انڈیا کے لوگوں سے اظہار یکجہتی کے طور پر پاکستان سرکاری طور پر مدد کی پیشکش کی ہے۔ اس میں وینٹی لیٹر، ڈیجیٹل ایکسرے مشینیں، پی پی ای اور دیگر متعلقہ اشیا شامل ہیں۔ ہم ‘پہلے انسانیت‘ کی پالیسی پر یقین رکھتے ہیں۔‘
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام
ایران میں گذشتہ 24 گھنٹوں میں 22 ہزار نئے مریض، 380 اموات
،تصویر کا ذریعہGetty Images
ایران میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 22904 نئے مریض سامنے آئے ہیں جبکہ 380 افراد اس وائرس سے ہلاک بھی ہوئے ہیں۔
اس طرح ملک میں کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی کل تعداد 23 لاکھ 58 ہزار سے زیادہ ہو گئی ہے جبکہ کل اموات 68746 ہیں۔
اب تک ملک میں صحتیاب ہونے والے افراد کی تعداد 18 لاکھ سے زیادہ ہے جبکہ پانچ ہزار سے زیادہ افراد اس وقت انتہائی نگہداشت کے یونٹس میں ہیں۔
اب تک ایران میں صرف پانچ لاکھ 63 ہزار افراد کو ویکسین کی پہلی خوراک جبکہ ایک لاکھ 54 ہزار سے زیادہ افراد کو ویکسین کی دوسری خوراک دی جا چکی ہے۔
بریکنگ, پاکستان میں کل سے 60 سال سے زائد عمر کے افراد کے لیے ’واک ان‘ ویکسینیشن کا اعلان
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام
پاکستان کے وزیرِ منصوبہ بندی اور این سی او سی کے سربراہ اسد عمر نے اعلان کیا ہے کہ پاکستان میں 60 سے 64 سال کی عمر کے افراد کے لیے بھی اب ’واک ان‘ ویکسینیشن کا آغاز کیا جا رہا ہے۔
انھوں نے ایک ٹویٹ میں کہا کہ ’کل سے ملک میں 60 سال سے زائد عمر کے وہ افراد جو ویکسین کے لیے رجسٹر کروا چکے ہیں وہ کسی بھی ویکسینیشن سینٹر میں جا کر ویکسین لگوا سکیں گے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ اب سے اتوار کے روز بھی ویکسینیشن سینٹر کھلے رہیں گے۔
خیال رہے کہ اب تک 22 کروڑ کی آبادی والے ملک میں صرف 16 لاکھ افراد کو ویکسین لگائی گئی ہے۔
بریکنگ, عمران خان کا ’کورونا کی خطرناک لہر سے جنگ‘ لڑنے والے انڈین شہریوں سے یکجہتی کا اظہار
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام
پاکستان کے وزیرِ اعظم عمران خان نے کورونا کی خطرناک لہر سے جنگ لڑتے انڈین شہریوں سے یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔
انھوں نے کہا کہ ہم اپنے ہمسایہ ملک میں اس عالمی وبا سے متاثرہ افراد کی جلد صحتیابی کے لیے دعا گو ہیں۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ہمیں اس عالمی چیلنج کا سامنا مل کر کرنا ہو گا۔
ادھر پاکستان میں سوشل میڈیا پر گذشتہ کئی روز سے انڈیا میں کورونا وائرس کی صورتحال اور وہاں لوگوں کو درپیش مشکلات اور ان کے لیے نیک تمناؤں سے متعلق ٹرینڈز سرِفہرست ہیں۔
ان ٹرینڈز میں اکثر افراد انڈیا کے لوگوں کے دعائیں اور نیک تمنائیں بھیج رہے ہیں اور پاکستانی حکومت سے انڈیا میں لوگوں کی مدد کرنے کی اپیل بھی کر رہے ہیں۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام
پاکستان کے وزیِرِ خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ ہم کورونا وائرس کی موجودہ لہر کے دوران انڈیا کی عوام سے یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں۔
ان کی جانب سے یہ بیان ایک ایسے موقع پر سامنے آیا ہے جب انڈیا میں گذشتہ تین روز سے عالمی ریکارڈ متاثرین اور اموات سامنے آ رہی ہیں۔ اس کے علاوہ انڈیا میں اس وقت آکسیجن کی قلت بھی اپنے عروج پر ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستانی عوام کی جانب سے میں انڈیا میں متاثرہ خاندانوں کے لیے ہمدردی کا اظہار کرتا ہوں۔
کووڈ 19 کی عالمی وبا کے دوران کیا انڈیا کو دوبارہ آکسیجن کی قلت کے بحران کا سامنا ہے؟
،تصویر کا ذریعہGetty Images
جمعے کی صبح انڈیا کے دارالحکومت دہلی میں 25 خاندانوں کو یہ خبر
ملی تھی کہ ان کے پیارے شہر کے سر گنگا رام ہسپتال میں فوت ہو گئے ہیں۔ مبینہ طور پر
ایسا کورونا وائرس کے مریضوں کو ضرورت کے مطابق آکسیجن نہ ملنے پر ہوا۔
ہسپتال کے میڈیکل ڈائریکٹر نے کہا کہ شدید قلت کے باعث 25 بیمار
مریضوں کو آکسیجن کی فراہمی کم ہو گئی، جنھیں آکسیجن کے زیادہ دباؤ اور مستقل
فراہمی کی ضرورت تھی۔
یہ سانحہ اس ہفتے کے آخر میں اس وقت پیش آیا جب دہلی کے متعدد بڑے
ہسپتالوں میں بار بار آکسیجن ختم ہو رہی ہے جو وائرس کے شکار مریضوں کو سانس لینے
میں مدد کے لیے ضروری ہے۔
منگل کے روز، دہلی کے وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال نے مایوسی کے عالم
میں عوامی التجا کرتے ہوئے ہائی کورٹ کے ذریعے مداخلت کر کے انڈیا کی مرکزی حکومت
سے آکسیجن دوبارہ فراہم کرنے کا انتظام کروایا تھا۔
اس بارے میں مزید جاننے کے
لیے جھانوے مولے کا یہ مضمون پڑھیے۔
کووڈ 19: اسرائیل میں دس ماہ بعد یومیہ اموات کی تعداد صفر
،تصویر کا ذریعہReuters
اسرائیل میں جہاں ویکسینیشن کا عمل تیزی سے جاری ہے، وہیں
ملک میں دس ماہ بعد پہلی بار ایسا ہوا ہے کہ گذشتہ 24 گھنٹوں میں ملک بھر میں
کورونا وائرس سے کوئی بھی موت ریکارڈ نہیں کی گئی۔
ملک کی وزارت صحت کے مطابق وائرس سے ہونے والی اموات کی
تعداد بغیر کسی تبدیلی کے 6346 تک ہی رہی ہے۔
وبا کے
آغاز کے بعد آخری بار ملک میں صفر اموات جون کے آخر میں دیکھی گئیں تھیں جب ملک
میں وائرس کی پہلی لہر کے بعد لاک ڈاؤن نافذ کر دیا گیا تھا۔
اسرائیل
میں رواں سال جنوری میں کیسز کا عروج دیکھا گیا تاہم اس کے بعد سے اموات اور
متاثرین کی تعداد میں کمی کا سلسلہ دیکھنے میں آیا ہے۔
ایک
ماہ بعد اسرائیلی حکومت نے لاک ڈاؤن کی سختی میں کمی کا فیصلہ کیا جب ملک بھر میں
ویکسینیشن کا سلسلہ شروع ہو گیا تھا۔
واضح
رہے کہ دنیا بھر میں ویکسینیشن کی سب سے زیادہ شرح اسرائیل میں ہے اور جمعرات کو
ملک میں 50 لاکھ افراد کو ویکسین لگا دی گئی ہے۔
وزارت
صحت کے مطابق ملک کی 53 فیصد آبادی
کو ویکسین کی دونوں خوراکیں دی جا چکی ہیں۔
بریکنگ, گذشتہ 24 گھنٹوں میں انڈیا میں تقریباً ساڑھے تین لاکھ نئے متاثرین، 2600 سے زیادہ اموات, مسلسل تیسرے روز بھی متاثرین اور اموات کا نیا ریکارڈ قائم
،تصویر کا ذریعہGetty Images
انڈیا کی مرکزی وزارت صحت کی جانب سے جاری کیے گئے تازہ
ترین اعداد و شمار کے مطابق ملک میں گذشتہ 24گھنٹوں میں 346786 نئے متاثرین کی تشخیص ہوئی ہے جبکہ 2624 افراد کی
ہلاکتوں کی تصدیق ہوئی ہے۔
دوسری جانب ملک میں اب تک 13 کروڑ ویکسین کے ٹیکے لگائے جا
چکے ہیں۔
اس طرح انڈیا میں اب مجموعی طور پر ایک کروڑ ساٹھ لاکھ سے
زیادہ متاثرین کی تشخیص ہو چکی ہے جبکہ تقریباً ایک لاکھ نوے ہزار افراد کی مجموعی
طور پر ہلاکتیں ہو چکی ہیں۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام
بریکنگ, پاکستان میں وبا کے آغاز کے بعد ریکارڈ یومیہ اموات، گذشتہ 24 گھنٹوں میں 157 ہلاکتیں
،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان میں کورونا کی وبا کی تیسری لہر میں شدت آ رہی ہے اور
گذشتہ 24 گھنٹوں میں وبا کے آغاز کے بعد ملک میں سب سے زیادہ یومیہ اموات ریکارڈ
کی گئیں جب سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 157 اموات کی تصدیق ہوئی ہے۔
متاثرین کی اگر بات کی جائے تو 52 ہزار سے زیادہ ٹیسٹس کے بعد ملک بھر میں 5908 متاثرین کی
تشخیص ہوئی ہے اور مثبت ٹیسٹس کی شرح 11.27 فیصد رہی۔
کورونا: دہلی میں 24331 نئے مریض، 348 ہلاکتیں
،تصویر کا ذریعہGetty Images
انڈیا میں کورونا
وبا کی دوسری لہر نے تباہی مچا رکھی ہے اور وائرس کے تیز پھیلاؤ سے انڈیا کا صحت
کا نظام بری طرح متاثر ہے۔ ملک میں روزانہ کی بنا پر لاکھوں نئے کورونا مریضوں کی
تصدیق ہو رہی ہے جبکہ ہزاروں اموات ہو رہی ہیں۔
جمعے کی شب انڈین
حکومت کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق دارلحکومت دہلی میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے
دوران 24331 نئے مریضوں میں کورونا وائرس کی تصدیق کی گئی ہے جبکہ اس سے 348 اموات
ہوئی ہیں۔
انڈیا میں گذشتہ
دنوں میں مسلسل تین لاکھ سے زائد متاثرین میں وائرس کی تصدیق کی گئی ہے جو کہ
عالمی سطح پر یومیہ متاثرین کی سب سے بڑی تعداد ہے۔
دہلی سمیت ملک کے
بڑے شہروں کے ہسپتالوں پر کافی دباؤ پڑ چکا ہے اور ملک میں آکسیجن کی قلت کا بحران
شدت اختیار کر گیا ہے۔
گذشتہ روز دہلی کے
سر گنگا رام ہسپتال کے ڈائریکٹر نے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’ہمیں آکسیجن کی
شدید قلت کا سامنا ہے۔‘
حکومت نے ہنگامی
بنیادوں پر آکسیجن کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے اقدامات اٹھائے ہیں۔
پمز ہسپتال میں مریضوں کا دباؤ بڑھنے لگا، سرجریاں ملتوی کر دی گئیں
پمز ہسپتال کے حکام نے فیصلہ کیا ہے کہ ہسپتال میں داخل کووڈ مریضوں کی تعداد میں اضافے کی وجہ سے آکسیجن پر دباؤ بڑھنے لگا ہے جس کی وجہ سے وہ تمام سرجریاں غیر معینہ مدت تک کے لیے ملتوی کر دی گئی ہیں جو جان بچانے والی سرجریز کے زمرے میں نہیں آتیں۔
ادارے کے ایک داخلی سرکولر میں کہا گیا ہے کہ پمز میں کووڈ 19 کے مریضوں کو داخل کرنے اور ان کا علاج کرنے کی مزید گنجائش نہیں ہے اور اب بھی کووڈ مریضوں کی بڑی تعداد ایمرجنسی روم میں آکسیجن پوائنٹس استعمال کر رہی ہے۔
پمز کے ڈین سے کہا گیا ہے کہ وہ وزارتِ نیشنل ہیلتھ سروسز سے رابطہ کریں تاکہ دارالحکومت میں کووڈ 19 کے مریضوں کی بڑھتی تعداد کے لیے سہولیات فراہم کی جا سکیں۔
،تصویر کا ذریعہPIMS
انڈیا جرمنی سے آکسیجن پلانٹس منگوائے گا
انڈیا میں کورونا وائرس کی وبا کے دوران آکسیجن کی شدید کمی کے باعث انڈین وزارت دفاع نے اعلان کیا ہے کہ 23 موبائل آکسیجن پلانٹس جرمنی سے بذریعہ ہوائی جہاز منگوائے جا رہے ہیں۔
وزارت کا کہنا ہے کہ یہ آکسیجن پلانٹس فوج کے زیر انتظام چلنے والے ہسپتالوں میں لگائے جائیں گے جہاں کووڈ کے مریضوں کو طبی امداد دی جا رہی ہے۔
امید ہے کہ یہ پلانٹس اگلے ایک ہفتے میں انڈیا پہنچ جائیں گے۔
یاد رہے کہ انڈیا میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران تین لاکھ 32 ہزار نئے متاثرین سامنے آئے ہیں۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام
پوپ فرانسس کی ویکسین حاصل کرنے والے بے گھر افراد سے ملاقات
،تصویر کا ذریعہReuters
رومن کیتھولک مسیحی برادری کے روحانی پیشوا پوپ فرانسس نے جمعے کو بے گھر اور ضرورت مند افراد سے ملاقات کی جنھیں ویٹیکن کے عطیے سے مفت کووڈ ویکسین فراہم کی جا رہی ہے۔
جمعے کو چھ سو لوگوں کو ویکسین کی دوسری خوراک دی گئی۔ اس سے قبل کُل 1400 ایسے لوگوں کو ویکسین کی پہلی خوراک فراہم کی جا چکی ہے۔
پوپ فرانسس نے ویکسین حاصل کرنے والوں میں چند افراد سے تقریباً 30 منٹ تک گفتگو کی۔ اس موقع پر پوپ فرانسس نے اُنھیں کھانا اور مٹھائی بھی پیش کی۔
ویٹیکن نے ایک مہم شروع کی ہے جس کے تحت عطیہ کنندگان ویٹیکن کی خیراتی ویب سائٹ کے ذریعے غریب ممالک میں ویکسین کے لیے پیسے دے سکتے ہیں۔
’ہم آکسیجن کمپنی تو ہیں نہیں، ہم کیسے آکسیجن کا انتظام کریں؟‘
،تصویر کا ذریعہReuters
انڈیا کے دارالحکومت دلی میں پولیس کی سائرن بجاتی گاڑیوں کے گھیرے میں ایک آکسیجن ٹینکر ہسپتال میں داخل ہوا تو ڈاکٹروں نے سکھ کا سانس لیا کیونکہ لاتعداد مریض اور اُن کے ورثا اسی کا انتظار کر رہے تھے۔
جمعے کو انڈیا میں ایک مرتبہ پھر لگاتار دوسرے روز دنیا میں متاثرین کی سب سے بڑی یومیہ تعداد رپورٹ کی۔ کووڈ کے تشویشناک صورتحال میں موجود متاثرین کی جان بچانے کے لیے آکسیجن ضروری ہے اور اس کا مطلب ہے کہ ریاستیں آکسیجن کی سپلائی پر سخت پہرہ لگائے ہوئے ہیں جبکہ آکسیجن کے پیداوار پلانٹس پر بھی سکیورٹی بڑھا دی گئی ہے۔
نئی دلی کے مغرب میں واقع شانتی مکند ہسپتال میں کووڈ کے 110 مریض داخل ہیں اور جمعرات کو ان کے پاس آکسیجن کی رسد تقریباً ختم ہو چکی تھی۔
بھریندر کمار، جن کے والد 10 دن قبل یہاں کووڈ کے باعث داخل ہوئے تھے، نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ ’ہسپتال نے ہم سے کہا کہ ہم اپنا انتظام خود کریں۔ ہم آکسیجن کمپنی تو ہیں نہیں، ہم کیسے اپنا انتظام خود کر سکتے ہیں؟‘
پاکستانی صارفین کی انڈیا کے لیے نیک تمنائیں: ’اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ہمارے دل صحیح جگہ پر ہیں‘
بریکنگ, ایس و پیز پر عمل درآمد نہ کیا گیا تو انڈیا جیسے حالات ہو جائیں گے: عمران خان
پاکستان کے وزیِرِ اعظم عمران خان نے قوم کو خبردار کیا ہے کہ اگر کورونا قواعد و ضوابط پر عمل نہ کیا گیا تو جس طرح انڈیا کے حالات ہیں کہ مریض ہسپتال پہنچتا نہیں ہے اور اس کی ہلاکت ہو جاتی ہے، اگلے ایک یا دو ہفتوں میں ہمارے وہ حالات ہونے والے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ اس وقت ہمارے وہ حالات اس لیے نہیں ہیں کیونکہ ایک سال پہلے ہم نے ہسپتالوں کی وسائل بڑھا دیے تھے۔ اگر پچھلے سال والے حالات ہوتے تو شاید وہی حالات ہو جاتے جو انڈیا کے ہیں۔
ڈاکٹر فہیم یونس: ’پاکستان کے لیے کورونا کی تیسری لہر کے عروج کے لیے تیار ہونے کا یہی وقت ہے‘
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام
متعدی امراض کے ماہر ڈاکٹر فہیم یونس نے ایک ٹویٹ میں کہا ہے کہ انڈیا میں کورونا وائرس کی لہر کا عروج اگست ستمبر میں آیا تھا، جس کے بعد پاکستان میں نومبر دسمبر میں کیسز میں اضافہ ہوا تھا۔
اس لیے کیونکہ انڈیا اب اس وبا کا عروج دیکھ رہا ہے تو پاکستان کے لیے وبا کا عروج زیادہ دور نہیں ہے۔ یہی وقت ہے اس کے لیے تیار ہونے کا۔