برطانیہ نے انڈیا کو بھی ان ریڈ لسٹ ممالک کی فہرست میں شامل کر دیا گیا ہے جن پر برطانیہ کے سفر کی پابندی ہے۔ پاکستانی پولیس کے سابق سینئیر افسر ناصر درانی کورونا کا شکار ہو کر وفات پا گئے ہیں۔
لائیو کوریج
بریکنگ, پاکستان میں پانچ ہزار سے زیادہ نئے مریض، مزید 112 اموات
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام
پاکستان میں گذشتہ روز یومیہ کورونا کیسز کی تعداد 4976 رہی جبکہ 112 افراد گذشتہ 24 گھنٹوں میں اس وائرس سے ہلاک ہو گئے۔
ملک میں کورونا وائرس کی تیسری لہر جاری ہے اور صرف اپریل کے مہینے میں ہی 1400 سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں یعنی یومیہ اوسطاً 100 افراد اس وائرس سے ہلاک ہو رہے ہیں۔
چلی میں ویکسینیشن میں کامیابی کے باوجود کووڈ۔19 کے کیسز میں اضافہ
،تصویر کا ذریعہReuters
چلی کے وزیر صحت اینریک پیرس اپنی روزانہ کی کووڈ نیوز کانفرنسوں میں کافی پریشان نظر آئے۔ چلی میں روزانہ کے کیسز کی تعداد ایک نئے ریکارڈ کی بلند سطح پر پہنچ چکی ہے اور نو اپریل کو وبائی امراض کا آغاز کے بعد پہلی مرتبہ یہ 9000 سے زیادہ ہو گئی تھی جو کہ گذشتہ سال جون کے وسط میں ہونے والے سب سے زیادہ کیسز، 7000، سے کافی زیادہ ہے۔
انہوں نے گذشتہ جمعہ کو کہا تھا کہ ’یہ پریشان کن ہے۔ ہم اس وبائی مرض کے ایک نازک لمحے سے گزر رہے ہیں ۔۔۔ میں آپ سے گزارش کرتا ہوں کہ اپنے آپ کا، اپنے پیاروں کا، اپنے خاندان کا خیال رکھیں۔‘
انتہائی نگہداشت کے یونٹس میں ایک مرتبہ پھر ضرورت سے زیادہ لوگ بھر چکے ہیں، ملک نے دوسری مرتبہ اپنی سرحدیں ہر اس شخص کے لیے بند کر دی ہیں جو رہائشی نہیں ہے اور اس کے ایک کروڑ 80 لاکھ باشندے ایک مرتبہ پھر زیادہ تر لاک ڈاؤن میں ہی ہیں۔
سینٹیاگو کی ایک رہائشی سوفیا پنٹو کہتی ہیں کہ ’ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے ہم پیچھے جارہے ہیں۔ ہمیں کھانے کی خریداری یا ڈاکٹر کے پاس جانے کے لیے ہفتے میں دو بار آن لائن جا کے خصوصی پرمٹ ڈاؤن لوڈ کرنے پڑتے ہیں۔‘
انڈیا میں کووڈ۔19 کے کیسز میں ریکارڈ اضافہ، انتخابی ریلیاں جاری
،تصویر کا ذریعہGetty Images
،تصویر کا کیپشنانڈیا میں اموات میں ریکارڈ اضافہ ہوا ہے
جمعہ کو انڈیا
میں کووڈ۔19 کی انفیکشن کی شرح میں ریکارڈ اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، اس کی وجہ ایک
بڑے مذہبی اجتماع کے علاوہ انتخابی ریلیاں بھی بتائی جا رہی ہے۔
ممبئی ، نئی دہلی
اور دیگر شہروں میں نئی پابندیاں عائد کرنے کے ساتھ ہی انڈیا کو کورونا وائرس
کی دوسری بڑی لہر کا سامنا ہے۔ اس طرح کے مطالبات میں بھی اضافہ ہو رہا ہے
کہ ملک میں حفاظتی قطرے پلانے کے پروگرام کو مزید تیز کیا جائے کیونکہ ہسپتال مریضوں
سے بھر چکے ہیں۔
جمعہ کو وزارت
صحت کے مطابق 217،353 نئے کیسز رپورٹ کیے گئے جو کہ پچھلے نو دنوں میں آٹھواں
ریکارڈ اضافہ ہے۔ اب متاثرین کی کل تعداد مجموعی طور پر تقریباً ایک کروڑ 43 لاکھ ہو گئی ہے۔ انڈیا سے پہلے صرف
امریکہ کا نمبر آتا ہے جہاں 3 کروڑ سے زیادہ انفیکشنز کی اطلاع ہے۔
انڈیا کی وزارت
صحت کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 1185
اموات ہوئی ہیں جو کہ گذشتہ سات ماہ میں ایک دن میں سب سے زیادہ اضافہ ہے۔ ہلاکتوں
کی کل تعداد ایک لاکھ 74 ہزار 308 ہو چکی ہے۔ رواں ماہ کے
لانسیٹ کے ایک مطالعے کے مطابق جون تک بھارت میں کورونا وائرس سے ہلاکتوں میں دوگنا اضافہ ہو سکتا ہے۔
خبر رساں ایجنسی
روئٹرز کے مطابق جمعہ کو نئی دہلی کے آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز میں خطاب کرتے ہوئے وزیر صحت ہرش وردھن نے کہا کہ ’ہمارے ہاں سب سے بڑی لڑائی معاشرے میں ہے ۔۔۔ کچھ
عرصے سے لوگوں نے اس (کووڈ۔19) کے متعلق ایک عام سا نظریہ اپنا رکھا ہے۔‘
وزیر اعظم نریندر
مودی اور کانگریس کے راہول گاندھی سمیت متعدد سینئر قائدین اور اپوزیشن رہنما مغربی
بنگال سمیت پانچ خطوں میں انتخابات کے دوران بڑی ریلیاں نکالتے رہے ہیں۔
جلسوں کی تصاویر میں
یہ صاف نظر آ رہا ہے کہ وہاں موجود ہزار افراد نے بغیر ماسک پہنے سماجی دوری اور
کووڈ۔19 کے دیگر اصولوں کی واضح خلاف ورزی کی ہے۔
دوسری طرف وزیرِ داخلہ امت شاہ بھی جمعہ
کو مغربی بنگال میں عوامی جلسے اور روڈ شو کرنے والے ہیں۔
پاکستان: 24 گھنٹوں کے دوران 5364 افراد میں وائرس کی تشخیص، 110 اموات
،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 5364 افراد میں کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے جبکہ 110 ہلاکتیں ریکارڈ کی گئیں ہیں۔
گذشتہ روز سب سے زیادہ اموات پنجاب میں ہوئی ہیں جہاں یہ تعداد 58 ہے جبکہ خیبرپختونخوا میں 34 افراد اس جان لیوا وائرس سے ہلاک ہوئے۔
ملک بھر میں گذشتہ روز مرنے والے افراد میں سے 44 وینٹی لیٹر پر تھے۔
اس وقت پاکستان میں کورونا وائرس کے فعال کیسز کی تعداد 78425 ہے۔
انڈیا: اینٹی وائرل دوا ریمڈیسویر بلیک مارکیٹ میں پانچ گنا زیادہ قیمت پر فروخت ہونے لگی
انڈیا میں حالیہ دنوں کے دوران سوشل میڈیا پر کورونا وائرس کے علاج میں معاون اینٹی وائرل دوا ریمڈیسویر اور توسیلزوماب کو تلاش کرنے میں مدد کی اپیلیں بڑھتی جا رہی ہیں۔
ان دونوں ادویات کے مؤثر ہونے پر دنیا بھر میں بحث جاری ہے لیکن انڈیا سمیت کچھ ممالک نے ان کے ہنگامی استعمال کی اجازت دے دی ہے۔
انڈیا بھر میں ڈاکٹر اینٹی وائرل دوا ریمڈیسویر تجویز کر رہے ہیں جس کے وجہ سے اس کی مانگ میں اضافہ ہوا ہے۔
انڈیا میں ریمڈیسویر تیار کرنے والی سات کمپنیوں میں سے ایک ہیٹرو فارما نے کہا کہ وہ پیداوار بڑھانے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن بی بی سی کو پتا چلا ہے کہ اس دوا کی قلت کے باعث دلی سمیت کئی دیگر شہروں میں اس دوا کو بلیک مارکیٹ میں فروخت کیا جا رہا ہے۔
بی بی سی کا کم از کم تین ایسے ایجنٹس سے رابطہ ہوا ہے جنھوں نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ ریمڈیسویر کی ایک شیشی 24 ہزار روپے میں فروخت کی جا رہی ہے جو کہ سرکاری طور پر مقرر کردہ قیمت سے پانچ گنا زیادہ ہے۔
انڈیا کی وزارت صحت کے مطابق ریمڈیسویر کی 100mg کی چھ خوراکیں ایک مریض کے لیے درکار ہوتی ہیں تاہم ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ کچھ کیسز میں اس کی آٹھ خوراکوں کی ضرورت ہوتی ہے۔
واضح رہے کہ گذشتہ تین ہفتوں سے انڈیا میں ہر روز کورونا وائرس کے تقریباً ایک لاکھ پچاس ہزار سے زیادہ نئے متاثرین سامنے آ رہے ہیں۔
،تصویر کا ذریعہReuters
پنجاب: یکم رمضان کو 27 ہزار سے زائد افراد کو ویکسین کی فراہمی
،تصویر کا ذریعہEPA
پنجاب میں ماہِ رمضان کے پہلے روز مجموعی طور پر 27 ہزار 323 بزرگ شہریوں کو کورونا وائرس کی ویکسین لگائی گئی ہے۔
محکمہ صحت پنجاب کے اعلامیے کے مطابق 70 سال سے زائد عمر کے افراد کو ایک خوراک والی ویکسین لگائی جا رہی ہے۔
اب تک صوبے بھر میں ایک لاکھ 36 ہزار سے زائد ہیلتھ ورکرز، اور تین لاکھ 90 ہزار سے زائد بزرگوں کو ویکسین کی پہلی خوراک لگائی جا چکی ہے، جبکہ دوسری خوراک حاصل کرنے والوں کی تعداد بالترتیب 83 ہزار اور 90 ہزار سے زائد ہے۔
اعلامیے میں وزیرِ صحت پنجاب ڈاکٹر یاسمین راشد کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ حکام کو روزانہ 20 ہزار سے زائد شہریوں کو ویکسین لگانے کا ہدف دیا گیا ہے۔
بریکنگ, نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کا ملک بھر میں پابندیاں مزید سخت کرنے کا فیصلہ
،تصویر کا ذریعہGetty Images
اسلام آباد میں نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن
سینٹر (این سی او سی) نے جمعرات کو اپنے اجلاس میں فیصلہ کیا ہے کہ رمضان کے مہینے
میں کورونا وائرس کا پھیلاؤ روکنے کیلیے ملک بھر میں سخت ایس او پیز کے ساتھ وسیع لاک
ڈاؤن لگایا جائے گا۔
این سی او سی اعلامیے کے مطابق ان فیصلوں
کا اطلاق صوبوں پر فوری طور پر ہوگا۔
اعلامیہ میں دی گئی تفصیلات کے مطابق ملک
بھر میں ہر قسم کے بازار، مارکیٹیں اور شاپنگ مال صبح سحری سے شام چھ بجے تک کھلے رہیں
گےتاہم ملک بھر میں ہفتہ اور اتوار کو کاروبار
مکمل بند رہے گا۔
اعلامیے کے مطابق ملک بھر میں نماز تراویح
کھلے مقامات پرادا کی جائیں گی لیکن دیگر ہر قسم کی سماجی اور ثقافتی تقریبات پر مکمل
پابندی ہوگی اور ہر طرح کی ان ڈور اور آؤٹ ڈور تقریبات پر بھی پابندی ہوگی۔
ریسٹورانٹس کے بارے میں اعلان کیا گیا
کہ وہ افطاری سے لے کر رات 12 بجے تک آؤٹ ڈور، ہوم ڈیلیوری اور ’ٹیک اوے‘ کے لیے کھلے
رہینگے۔
دوسری جانب سنیما گھر، مزارات اور پبلک
پارکس مکمل طور پر بند رہیں گے جبکہ صرف واکنگ اور جاگنگ ٹریکس کھلے رہیں گے۔
این سی او سی کے فیصلے کے مطابق تمام نجی
اور سرکاری دفاتر میں 50 فیصد حاضری برقرار رکھی جائے گی۔
ٹرانسپورٹ کے حوالے سے جاری کی گئی تفصیلات
کے مطابق ملک بھر میں اندرون شہر ٹرانسپورٹ 50 فیصد مسافروں کے ساتھ چلےگی جبکہ بین
الصوبائی پبلک ٹرانسپورٹ ہفتے اور اتوار کو بند رہے گی۔
،تصویر کا ذریعہNCOC
،تصویر کا ذریعہNCOC
پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوامیں کورونا وائرس کے باعث ایک اور ڈاکٹر کی موت
،تصویر کا ذریعہCourtesy Provincial Doctors Association
پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوامیں کورونا وائرس کے باعث ایک اور ڈاکٹر کی موت
ہو گئی ہے جس کے بعد صوبے میں ہلاک ہونے والے ڈاکٹرز کی کل تعداد 58 ہو گئی ہے۔
پروونشل ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کے مطابق ڈاکٹر
محمد اقبال حیات آباد میڈیکل کمپلیکس پشاور کے کورونا آئی سی یو میں گذشتہدو ہفتوں سے وینٹیلٹر پر تھے اور جمعرات کی صبح
ان کی وفات ہو گئی۔
ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کے مطابق خیبر پختونخواہ
میں کورونا وائرس سے ہلاک ہونے والے ڈاکٹرز اور دیگر ہیلتھ ملازمینکو تاحال شہدا پیکیج نہیں دیا گیا ہے۔
بریکنگ, انڈیا میں وبا کے آغاز کے بعد پہلی بار 24 گھنٹوں میں دو لاکھ سے زیادہ نئے متاثرین کی تشخیص، ہزار سے زیادہ اموات
،تصویر کا ذریعہGetty Images
انڈیا کی مرکزی وزارت صحت کے اعداد و شمار کے مطابق گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک میں کورونا کے 200739 نئے کیسز رپورٹ ہوئے ہیں جبکہ وائرس کے باعث 1038 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔
وزارت کے مطابق انڈیا میں کورونا کیسز کی تعداد ایک کروڑ ساڑھے 14 لاکھ سے زیادہ ہو چکی ہے اور مجموعی طور پر وبا کی وجہ سے اب تک ملک میں ایک لاکھ 73 ہزار سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
ترکی میں ایک کروڑ نوے لاکھ سے زیادہ افراد کو ویکسین لگ گئی ہے
،تصویر کا ذریعہGetty Images
ترکی میں 14 جنوری کو ویکسین لگانے کی مہم کا آغاز ہوا تھا اور اب تک ایک کروڑ نوے لاکھ اور تیس ہزار سے زیادہ افراد کو ویکسین لگ چکی ہے۔
ملک کورونا کے اب تک سامنے آنے والے مریضوں کی تعداد 40 لاکھ سے زیادہ ہو چکی ہے اور گذشتہ روز 279 مزید ہلاکتوں کے بعد مجموعی طور پر ہلاکتوں کی تعداد 34734 تک پہنچ گئی ہے۔
مجموعی طور پر صحت یاب ہونے والوں کی تعداد تیس لاکھ اڑتالیس ہزار سے اوپر پہنچ چکی ہے۔
تازہ ترین اعداد و شمار سے سامنے آیا ہے کہ ملک بھر میں 3018 مریضوں کی حالت تشویشناک ہے
کوئٹہ میں کورونا وائرس کے بڑھتے متاثرین کے باعث یونی ورسٹی، چار سکول بند
پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں کورونا کیسز کی وجہ سے ایک
یونیورسٹی سمیت پانچ تعلیمی ادارے بند کر دیے گئے ہیں۔
سردار بہادر خان وویمن یونیورسٹی سمیت
چار گرلز سکولوں کو بند کر دیا گیا ہے۔ یونیورسٹی کو 15 روز جبکہ چار گرلز سکولز کو
سات، سات روز کے لیے بند کیا گیا ہے۔
متاثرین میں اساتذہ اور بچے دونوں شامل ہیں۔ محکمہ تعلیم کی جانب سے بند کیے جانے
والے اداروں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ محکمہ صحت سے رابطہ کر کے انھیں ڈس انفیکٹ
(جراثیم سے پاک) کروا لیں۔
،تصویر کا ذریعہBalochistan Govt
بریکنگ, پاکستان میں ایک بار پھر پانچ ہزار سے زیادہ متاثرین کی تشخیص، ریکارڈ تعداد میں یومیہ ٹیسٹس
،تصویر کا ذریعہcovid
پاکستان میں گذشتہ 24 گھنٹوں میں ایک بار پھر پانچ ہزار سے زیادہ یومیہ نئے متاثرین
کی تشخیص ہوئی ہے اور 5395 متاثرین کے سامنے آنے کے بعد اب ملک میں مجموعی طور پر
739818 کیسز سامنے آ چکے ہیں۔
دوسری جانب ہلاکتوں کا سلسلہ بھی کم نہیں ہو رہا ہے اور لگاتار تیسرے روز بھی 118 متاثرین
اس مرض کے ہاتھوں فوت ہو گئے۔ اب تک پاکستان میں کل ہلاکتوں کی تعداد 15872 ہے۔
اس کے علاوہ پاکستان وبا کے شروع ہونے کے بعد پہلی بار یومیہ 60 ہزار سے زیادہ ٹیسٹس
کیے جب گذشتہ 24 گھنٹوں میں ملک بھر میں 64685 ٹیسٹس ہوئے۔
اس سے قبل پاکستان نے پہلی بار 50 ہزار کا ہندسہ پہلی اپریل کو عبور کیا تھا اور اس
کے بعد سب سے زیادہ ٹیسٹس تین اپریل کو کیے گئے تھے۔
ترکی: کورونا متاثرین میں ریکارڈ اضافہ، ایک دن میں 59 ہزار سے زائد متاثرین
،تصویر کا ذریعہReuters
ترکی میں منگل کو کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی ریکارڈ تعداد سامنے آئی۔ یہ گذشتہ ایک برس سے ملک میں وبا کے دوران سامنے آنے والی سب سے زیادہ تعداد ہے۔
وزارت صحت کا کہنا ہے کہ 59187 مثبت کیسز سامنے آئے جن میں 2723 میں کورونا کی ظاہری علامات دکھائی دے رہی تھیں۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق ایک سینئر سرکاری عہدیدار نے بتایا کہ صدر طیب اردوغان سیاحت کے اہم سیزن سے قبل رواں ہفتے پابندیاں سخت کرنے کا حکم دیں گے۔
ترکی میں کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی مجموعی تعداد 30 لاکھ 96 ہزار ہے۔ جبکہ ملک میں گذشتہ ایک روز کے دوران 273 اموات کے بعد اموات کی کل تعداد 34455 ہو چکی ہے۔
ملک میں صحت یاب ہونے والے نئے مریضوں کی تعداد 52104 ہے۔
اب تک کورونا کی تشخیص کے لیے مجموعی طور پر 42 لاکھ سے زیادہ افراد کے ٹیسٹ ہو چکے ہیں جبکہ اس وقت 2951 مریضوں کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔
انڈیا: گذشتہ 24 گھنٹوں میں ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد نئے متاثرین، مزید 1027 اموات
،تصویر کا ذریعہReuters
انڈیا میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کورونا وائرس کے تقریباً ایک لاکھ 84 ہزار 372 نئے متاثرین سامنے آئے ہیں جو وبا کی شروعات سے اب تک کی سب سے بڑی تعداد ہے۔
اسی دوران وبا سے کم از کم 1027 افراد ہلاک ہوئے ہیں اور ملک کے کئی حصوں سے ہسپتالوں میں بستروں کی قلت کی خبریں آرہی ہیں۔
ہر روز اوسطاً 50000 متاثرین کے ساتھ مغربی ریاست مہاراشٹرا سب سے زیادہ متاثرہ ریاست ہے۔ ریاست میں لاک ڈاؤن لفظ لگایا گیا ہے اور یکم مئی تک نقل و حرکت پر سخت پابندی عائد کردی گئی ہے۔
انڈیا میں کورونا متاثرین کی کل تعداد 1،38،73،825 ہے اور اس سے ہلاکتوں کی تعداد 1،72،085 ہے۔
وزارت صحت کے مطابق اب تک کورونا ویکسین کی 11 ملین 11 لاکھ سے زیادہ خوراکیں دی جا چکی ہیں لیکن ابھی بھی ملک کی 90 فیصد سے زیادہ آبادی اس سے محروم ہے۔
انڈیا میں صرف دو ویکسینوں کے استعمال کی اجازت تھی۔’ویکسین ڈپلومیسی‘ کے نام پر ملک نے اپنے شہریوں کو ویکسین لگانے سے زیادہ اسے دوسرے ممالک کو درآمد کیا ہے۔
لیکن وبا کی شدت کے بعد حکومت نے آخر کار ہنگامی استعمال کے لیے روسی ویکسین سپوتنک کی اجازت دے دی ہے۔
بریکنگ, پاکستان میں گذشتہ 24 گھنٹوں میں کورونا وائرس کی وجہ سے 135 ہلاکتیں, ہلاکتوں کی یہ تعداد گذشتہ جون کے بعد سے ہلاکتوں کی بلند ترین سطح ہے۔
پاکستان میں کورونا وائرس کی وبا کا مقابلے کرنے والے مرکزی حکومتی پلیٹ فارم این سی او سی کے مطابق گذشتہ 24 گھنٹوں میں 135 افراد ہلاک جبکہ 4681 نئے متاثرین سامنے آئے ہیں۔ گذشتہ سال جون کے بعد سے کسی ایک دن میں ہلاکتوں کی یہ سب سے زیادہ تعداد ہے جب جون 20، 2020 کو 153 افراد ہلاک ہوئے تھے۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام
لاہور میں مظاہروں کے باعث ہسپتالوں میں آکسیجن سلینڈرز کی کمی نہیں ہوئی, عمر دراز ننگیانہ، بی بی سی اردو سروس، لاہور
،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان کے صوبہ پنجاب کے ہسپتالوں میں کورونا کے مریضوں کے لیے آکسیجن کے سلینڈر وافر مقدار میں موجود ہیں اور تحریک لبیک پاکستان کے کارکنان کی طرف سے جاری مظاہروں کی وجہ سے آکسیجن سلینڈرز کی سپلائی متاثر نہیں ہوئی۔
میو ہسپتال لاہور کے سی ای او اور پنجاب میں کورونا ایکسپرٹ ایڈوائزری گروپ کے ممبر ڈاکٹر اسد اسلم نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ پیر کے روز مختلف شہروں میں شروع ہونے والے مظہروں کی وجہ سے یہ خدشہ تھا کہ ہسپتالوں کو آکسیجن کی سپلائی متاثر ہو جائے گی۔
’لیکن انتظامیہ اور پولیس نے آکسیجن سپلائی کے ٹرکوں کے لیے راستے کھلوا لیے تھے اس لیے وقت آکسیجن تمام ہسپتالوں میں پہنچ گئی تھی۔‘
ان کا کہنا تھا کہ اس وقت صوبے کے ہسپتالوں کو آکسیجن کی ممکنہ کمی کا سامنا نہیں ہے۔
اُنھوں نے بتایا کہ لاہور کے ہسپتالوں میں مجموعی طور پر ہائی ڈیپینڈنسی یونٹس کے بستر 72 فیصد اور وینٹیلیٹرز والے بستر 81 فیصد بھر چکے ہیں یعنی ان تمام بستروں پر موجود مریضوں کو آکسیجن کی ضرورت ہے۔
انڈیا: ایک روز میں کورونا کے 161736 نئے متاثرین
انڈیا کی وزارتِ صحت کا کہنا ہے کہ ملک میں گذشتہ روز 161736 نئے متاثرین اور 879 اموات کی تصدیق ہوئی ہے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق انڈیا میں اب تک کل 1,36,89,453 متاثرین اور 1,71,058 اموات کی تصدیق ہوئی ہے۔
عالمی سطح پر امریکہ کے بعد انڈیا کووڈ 19 سے دوسرے نمبر پر سب سے زیادہ متاثرہ ملک ہے۔
پاکستان میں گذشتہ روز کورونا سے 118 اموات, رواں سال کورونا سے اموات کی سب سے بڑی یومیہ تعداد
،تصویر کا ذریعہEPA
پاکستان کے نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) کے اعداد و شمار کے مطابق ملک میں گذشتہ روز کورونا وائرس کے مزید چار ہزار 318 متاثرین سامنے آئے اور 118 اموات ہوئی ہیں۔
رواں سال کورونا سے اموات کی یہ سب سے بڑی یومیہ تعداد ہے۔ ملک میں مثبت کیسز کی شرح 8.54 ہے۔
اس کے ساتھ پاکستان میں کورونا وائرس سے ہلاک ہونے والوں کی کل تعداد 15 ہزار 619 ہو گئی ہے، جبکہ کُل مریضوں کی تعداد 7 لاکھ 29 ہزار 920 ہے۔
چینی ویکسینز میں کورونا سے بچاؤ کے لیے 'زیادہ افادیت نہیں ہے‘: اعلی چینی عہدے دار
،تصویر کا ذریعہGetty Images
چین میں ڈزیز کنٹرول کے ادارے کے سربراہ ے کہا ہے کہ چین
میں کورونا وائرس سے مقابلے کے لیے تیار کی گئی مختلف ویکسینز کی افادیت قدرے کم
ہے۔
پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے گاؤ فو نے کہا کہ چین اس
بارے میں سوچ رہا ہے کہ مختلف ویکسین کو ملایا جائے تاکہ ان کی افادیت بڑھ سکے۔
چین میں حکومت نے اب تک چار مقامی ویکسینوں کے استعمال کی
اجامت دی ہے البتہ بیرون ملک کیے گئے تجربات میں یہ سامنے آیا ہے کہ کچھ ویکسینز
کی افادیت صرف پچاس فیصد ہے۔
مثال کے طور پر چین کی سائنو ویک ویکسین کا برازیل میں
تجربہ کیا گیا تو واضح ہوا کہ وہ صرف 50.4 فیصد افادیت رکھتی ہے، جو کہ عالمی
ادارہ صحت کی جانب سے کسی بھیویکسین کو
منظور کرنے کے لیے متعین کیے گئے 50 فیصد کے ہندسے کو ذرا سے فرق سے عبور کرتی ہے۔
البتہ بعد میں گاؤ فو نے اپنے بیان کی وضاحت کرتے ہوئے کہا
کہ ان کے الفاظ کو غلط رنگ میں پیش کیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ چین میں اب تک کم از کم دس کروڑ افراد کو
ویکسین کی ایک خوراک تو دی جا چکی ہے۔
چنی حکام نے کہا ہے کہ ان کی ویکسین بالکل مفید ہے اور وہ
مسافر جو چین آنا چاہتے ہیں انھیں چینی ویکسین لگوائے بغیر ویزا نہیں دیا جائے گا۔
بین الاقوامی طور پر چین نے اپنی ویکسین سے متعلق زیادہ
معلومات فراہم نہیں کی ہیں۔
انڈیا میں کورونا وائرس کے بڑھتے ہوئے کیسز: ہردیوار میں کمبھ میلا میں لاکھوں افراد کی شرکت، مہاراشٹر میں ویکسین کی قلت
،تصویر کا ذریعہReuters
انڈیا میں کورونا وائرس کی انتہائی تیزی سے بڑھتی ہوئی
دوسری لہر جس میں گذشتہ 24 گھنٹوں میں تقریباً ایک لاکھ 70 ہزار کے قریب نئے
متاثرین سامنے آئے ہیں، وہیں دوسری جانب انڈیا میں لاکھوں افراد نے شمالی انڈیا میں
دریائے گنگا کے ساتھ موجود ہردیوار شہر میں منعقد ہونے والے مذہبی تہوار کمبھ میلے
میں شرکت کی۔
اس تہوار میں چند مخصوص دنوں میں پچاس لاکھ افراد کی شرکت
کے توقع تھی۔
حکام نے تنبیہ کی تھی کہ تہوار میں شرکت کرنے والے افراد
پر چہرہ ڈھانپنے والا ماسک پہننا لازمی ہوگا لیکن اتوار کو دریا ے کنارے جمع ہونے
والے ہجوم میں احکامات کی خلاف ورزی دیکھنے میں آئی۔
دوسری جانب انڈیا کے وزیر اعظم نریندر مودی نے سنیچر سے
انڈیا میں چار روزہ ’ویکسینیشن کا تہوار‘ منانے کا اعلان کیا تھا تاکہ زیادہ سے
زیادہ تعداد میں وہ انڈینز ویکسینز لگوائیں جو اس کے اہل ہیں۔
جنوری کی وسط سے شروع ہونے والی ویکسینیشن مہم کے تہت ملک
میں اب تک دس کروڑ افراد کو ویکسین لگائی جا چکی ہے جو کہ دنیا میں تیسری سب سے
بڑی تعداد ہے۔
تاہم متعدد انڈین ریاستوں نے ویکسین کی فراہمی میں قلت کی
شکایت کی ہے۔
انڈیا میں حکام نے دوسری لہر کا سبب عوام میں ماسک نہ
پہننے اور ہجوم میں جمع ہونے کو قرار دیا ہے۔