ہمیں اس خانہ جنگی کا خاتمہ کرنا ہوگا جو لال اور نیلے کو آپس میں لڑواتی ہے: جو بائیڈن
جو بائیڈن حلف لے کر امریکہ کے 46ویں صدر منتخب ہو گئے ہیں۔ اس سے قبل کملا ہیرس حلف اٹھا کر امریکہ کی پہلی خاتون نائب صدر بن گئیں۔ حلف اٹھانے کے بعد جو بائیڈن نے خطاب میں کہا کہ ان کا کام امریکہ کے مستقبل کو بچانا ہے اور اس کے لیے محض الفاظ نہیں بلکہ اقدامات درکار ہوں گے۔ انھوں نے چھ جنوری کو ہونے والے واقعات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ’ہمیں اس خانہ جنگی کا خاتمہ کرنا ہوگا جو لال اور نیلے کو آپس میں لڑواتی ہے۔
لائیو کوریج
بریکنگ, ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس چھوڑ دیا
،تصویر کا ذریعہReuters
اب سے چند لمحوں قبل ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی اہلیہ اور خاتونِ اول میلانیا ٹرمپ کے ساتھ وائٹ ہاؤس آخری مرتبہ کے لیے چھوڑ دیا ہے۔
انھیں لینے کے لیے میرین ون نامی فوجی ہیلی کاپٹر وائٹ ہاؤس کے گراؤنڈ پہنچا۔ اب سے کچھ دیر بعد وہ میری لینڈ میں ایک فوجی اڈے پر الوداعی تقریب سے خطاب کریں گے۔
جو بائیڈن کے لیے وائٹ ہاؤس، مگر نائب صدر کملا ہیرس کہاں رہیں گی؟
،تصویر کا ذریعہMark Wilson
کملا ہیرس اور اُن کے شوہر ڈگ ایمہوف بھی ایک وائٹ ہاؤس میں رہیں گے لیکن یہ وہ نہیں ہوگا جس میں جو بائیڈن رہیں گے۔
یہ وائٹ ہاؤس شمال مغربی واشنگٹن میں امریکی نیول آبزرویٹری کے میدان میں قائم ایک 19 ویں صدی کی کوٹھی ہے۔
یہ جگہ وائٹ ہاؤس کے قریب ہے جہاں کملا ہیرس کا دفتر ہوگا۔
یہ جگہ جارج ٹاؤن یونیورسٹی کے لا سکول سے بھی زیادہ دور نہیں جہاں ماہرِ قانون ڈگ ایمہوف پڑھایا کریں گے۔
سفر کے لیے کملا ہیرس اور ڈگ ایمہوف کے لیے ایئر فورس ٹو بھی دستیاب ہوگا جو کہ ایک بوئنگ 757 طیارہ ہے۔ اس کے علاوہ انھیں 24 گھنٹے سکیورٹی دستیاب ہوگی۔
’آج جتنے فوجی واشنگٹن میں ہیں، اتنے تو افغانستان میں بھی نہیں‘
،تصویر کا ذریعہEPA
ڈیموکریٹک پارٹی کے سیتھ مولٹن نے ٹوئٹر پر لکھا کہ ’اس وقت
واشنگٹن ڈی سی میں جتنے فوجی ہیں اتنے تو افغانستان میں بھی نہیں ہیں اور یہ یہاں ہمیں
صدر سے تحفظ دلانے کے لیے ہیں۔ پہلے اسے ہضم کر لیں۔‘
میساچوسیٹس سے تعلق رکھنے والے رکنِ کانگریس کا اشارہ اُن
25 ہزار سے زائد نیشنل گارڈز پر ہے جنھیں حلف برداری کی تقریب کی حفاظت پر مامور کیا
گیا ہے۔
یہ فوج کے ریزرو اہلکار ہیں جو پولیس، خفیہ سروس اور دوسرے
اداروں کا ایک طرح سے بیک اپ ہوتے ہیں۔ ان کی تربیت اس طرح سے کی گئی ہے کہ وہ سول
ہنگامہ آرائی سے نمٹ سکیں۔
اس وقت واشنگٹن میں بینک، ریستوران اور دکانیں نہ صرف بند ہیں
بلکہ ان کے آگے بورڈ لگا دیے گئے ہیں تاکہ کوئی وہاں توڑ پھوڑ نہ کر سکے۔ وائٹ ہاؤس
کو جانے والی سڑک پر ایسی باڑ لگا دی گئی ہے جس کے نہ تو اوپر چڑھا جا سکتا ہے اور
نہ ہی اسے آسانی سے پھلانگا جا سکتا ہے۔
اس کے علاوہ اہم عمارات کے اطراف میں جگہ جگہ باڑیں لگی ہوئی
ہیں، سکیورٹی احاطے ہیں اور بفر زون ہیں جہاں ہزاروں نیشنل گارڈز تعینات ہیں اور دلچسپ
بات یہ کہ سکیورٹی کرنے والے ان نوجوانوں پر بھی نظر رکھی جا رہی ہے کہ کہیں وہ تو
شرپسندوں سے ملے ہوئے نہیں۔
اسی لیے شاید افتتاحی تقریب کے تیاری کے حوالے سے نیشنل گارڈز
کے سربراہ میجر جنرل ولیئم واکر نے کہا ہے کہ فوجیوں کے کوائف کو دوبارہ چیک کیا گیا
ہے۔
صدر ٹرمپ کی جانب سے اکسائے جانے کے بعد چھ جنوری کو اُن کے
حامیوں نے امریکی کانگریس کی عمارت ’کیپیٹل‘ پر حملہ کیا تھا جس کی وجہ سے آج واشنگٹن
میں یہ صورتحال ہے۔
انتخابی نتائج کو تسلیم نہ کرنے اور بعد میں کانگریس پر حملہ
کر دینے کے امریکی نظام پر کیا اثرات مرتب ہوئے ہیں، اس حوالے سے تفصیلی تجزیہ یہاں
پڑھیں۔
بریکنگ, بائیڈن فوری طور پر کیا کیا اقدامات کریں گے؟
،تصویر کا ذریعہGetty Images
نو منتخب صدر جو بائیڈن کی ٹیم کا کہنا ہے کہ کچھ عرصہ قبل جن صدارتی اقدامات کا اعلان کیا گیا تھا، ان کے علاوہ وہ نسل پرستی، امیگریشن، اور ایل جی بی ٹی برادری کے مسائل پر بھی حکمنامے جاری کریں گے۔
وہ وفاقی پالیسی سازی اور منصوبوں میں نسلی برابری کو یقینی بنانے کے لیے حکمنامہ جاری کریں گے تاکہ منظم نسل پرستی کو ختم کیا جا سکے۔
وہ انتظامی حکمنامہ جاری کریں گے جس سے صدر ٹرمپ کی وہ متنازع سفری پابندیاں ختم ہوجائیں گی جن کے تحت کئی مسلم ممالک سے امریکہ میں داخلے پر پابندی عائد کر دی گئی تھی۔
وہ امریکہ اور میکسیکو کے درمیان سرحدی دیوار کی تعمیر پر پابندی کا حکم جاری کریں گے۔
وہ صدر ٹرمپ کے اس منصوبے کے خاتمے کا حکم جاری کریں گے جس کے تحت دستاویزات نہ رکھنے والے تارکینِ وطن کو مردم شماری میں نہیں گنا جانا تھا۔
وہ صنف اور جنسی ترجیح کی بنا پر کام کی جگہوں میں تفریق کو روکنے اور اس کے خاتمے کے لیے بھی انتظامی حکمنامہ جاری کریں گے۔
تقریب میں کون کون اپنے فن کا مظاہرہ کر رہا ہے؟
،تصویر کا ذریعہReuters
،تصویر کا کیپشنگذشتہ برس جو بائیڈن کی صدارتی مہم کے دوران بھی لیڈی گاگا ان کے ہمراہ تھیں
حلف برداری کی تقریب میں جیتنے والے صدور ملک کے نامور فنکاروں
کو اپنے فن کا مظاہرہ کرنے دعوت دیتے ہیں اور اس برس وبا کے باوجود اس میں کوئی ردوبدل
نہیں ہو گا۔
جو بائیڈن کی حلف برداری کی تقریب میں لیڈی گاگا قومی ترانہ
گائیں گی اور جینیفر لوپیز تقریب کے دوران اپنے فن کا مظاہرہ کریں گی۔
جو بائیڈن کی حلف برداری کے بعد اداکار ٹام ہینکس 90 منٹ پرائم
ٹائم ٹیلی ویژن کی میزبانی کریں گے۔
اس نشریات میں جون بون جوی، ڈیمی لوواٹو اور جسٹن ٹمبرلیک شامل
ہوں گے، جسے فوکس نیوز کے علاوہ تمام بڑے امریکی نیٹ ورکس اور سٹریمنگ پلیٹ فارمز پر
نشر کیا جائے گا۔
واضح رہے کہ فوکس نیوز ایک قدامت پسند نیٹ ورک ہے جس نے ٹرمپ
کے دور صدارت میں ان کی حمایت کی۔
،تصویر کا ذریعہEPA
،تصویر کا کیپشنجینیفر لوپیز بھی آج کی تقریب میں اپنے فن کا مظاہرہ کریں گی
واضح رہے کہ صدر اوبامہ نے اپنی پہلی تقریب حلف برداری میں معروف گلوکارہ اریتھا فرینکلن اور بیونسے کو دعوت دی تھی۔
چار سال بعد اپنی دوسری تقریب حلف برداری کے لیے اوباما نے گلوکارہ کیلی کلارکسن اور جینیفر ہڈسن سمیت بیونسے کو ایک بار پھر مدعو کیا تھا۔
تاہم صدر ٹرمپ کو اپنی مرضی کے فنکاروں کو دعوت دینے میں دشواری کا سامنا کرنا پڑا تھا۔
کہا جاتا ہے کہ ایلٹن جان، سیلین ڈییون، کس اور گارتھ بروکس کو تقریب میں مدعو کیا گیا لیکن ان سب نے دعوت ٹھکرا دی تھی۔ بعد میں راکٹس، لی گرین ووڈ اور تھری ڈور ڈاؤن نے تقریب میں گانے گائے تھے۔
ٹرمپ اب سے کچھ دیر میں وائٹ ہاؤس چھوڑ دیں گے
،تصویر کا ذریعہEPA
،تصویر کا کیپشنوائٹ ہاؤس کے باہر سامان کی منتقلی کی لیے ایک ٹرک کھڑا ہے
یہ صبح وہ آخری صبح ہے جب ٹرمپ وائٹ ہاؤس میں امریکہ کے صدر کے طور پر جاگیں گے۔
انھیں اب سے ایک گھنٹے میں یہ عمارت چھوڑنی ہے۔
وہ ایک طویل مدتی صدارتی روایت توڑ رہے ہیں جس کے تحت جانے والا صدر نئے آنے والے صدر کو خوش آمدید کہتا ہے اور اس کی حلف برداری کی تقریب میں شریک ہوتا ہے۔
اس کے بجائے میری لینڈ میں فوجی اڈے جوائنٹ بیس اینڈریوز میں علی الصبح صدارتی الوداع کے لیے دعوت نامے جاری کر دیے گئے ہیں۔
اس تقریب کی تفصیلات واضح نہیں ہیں مگر مہمانوں سے کہا گیا ہے کہ وہ مقامی وقت کے مطابق صبح سوا سات بجے تک پہنچ جائیں۔
یہاں پر امریکی پرچموں سے مزین ایک سٹیج بھی تیار کیا گیا ہے۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام
اپنے سرکاری شیڈول کے مطابق صدر ٹرمپ اور خاتونِ اول میلانیا ٹرمپ صبح آٹھ بجے آخری مرتبہ وائٹ ہاؤس سے نکل جائیں گے۔
اس تقریب کے بعد وہ میری لینڈ سے اپنے صدارتی طیارے ایئر فورس ون میں سوار ہوں گے جو انھیں فلوریڈا میں صدر ٹرمپ کے گولف کلب لے جائے گا۔
اس کے بعد امریکی آئین کے مطابق ان کی مدتِ صدارت مقامی وقت کے مطابق دن بارہ بجے (عالمی وقت کے مطابق شام پانچ بجے) تمام ہوجائے گی اور صدر جو بائیڈن حلف اٹھا لیں گے۔
تقریب میں شرکت کے لیے ٹکٹ کیسے حاصل کیے جا سکتے ہیں؟
،تصویر کا ذریعہBidenInaugural.org
ٹکٹس تقریب میں ان حصوں کے لیے ضروری ہوتی ہیں جو سٹیج کے نزدیک
ہوں لیکن نیشنل مال عوام کے لیے کھلا ہوا ہوتا ہے۔
وہ لوگ جو تقریب میں شرکت کے لیے ٹکٹ لینا چاہتے ہوں تاکہ وہ
حلف برداری کو قریب سے دیکھ سکیں، اس کے لیے انھیں اپنے علاقے کے نمائندے سے بات کرنی
ہوگی۔
سینیٹرز اور ایوانِ نمائندگان کے اراکین کے پاس بھی محدود تعداد
میں ٹکٹس ہوتے ہیں جو وہ بانٹ سکتے ہیں لیکن اس سال وبا کے باعث اس رکن کو اپنے ساتھ
صرف ایک اور مہمان ساتھ لانے کا اجازت ہو گی۔
روایتی پریڈ کے بجائے ’ورچوئل پریڈ‘ کا انعقاد
،تصویر کا ذریعہEPA
اقتدار کی پرامن منتقلی کا ایک روایتی حصہ ’پاس اِن ریویو‘
تقریب ہے جس میں نئے کمانڈر ان چیف فوجیوں کا معائنہ کرتے ہیں۔
مگر تقریب کے منتظمین
کا کہنا ہے کہ روایتی پریڈ کے بجائے اس سال ایک پینسلوینیا ایوینیو سے وائٹ ہاؤس تک
ایک ’ورچوئل پریڈ‘ ہوگی۔
اس کے بعد فوجی اہلکار ایک بینڈ اور ڈرم دستے کے ساتھ جو بائیڈن
اور کملا ہیرس کو اُن کے شریکِ حیات کے ساتھ وائٹ ہاؤس لے جائیں گے۔
نائب صدر کا کام کیا ہوتا ہے؟
،تصویر کا ذریعہEPA
کملا ہیرس بدھ کو حلف اٹھاتے ہی امریکہ کی پہلی خاتون، پہلی جنوبی ایشیائی، اور پہلی سیاہ فام شخص ہوں گی جو نائب صدر کا عہدہ سنبھالیں گی۔
لیکن آخر نائب صدر کا کام کیا ہوتا ہے؟
تاریخی اعتبار سے دیکھیں تو زیادہ نہیں۔ اسے وفاقی حکومت میں سب سے کم سمجھا گیا، سب سے زیادہ مضحکہ خیز، اور سب سے زیادہ نظرانداز کیا گیا آئینی عہدہ تصور کیا جاتا ہے۔
یونیورسٹی آف ورجینیا کے مِلر سینٹر میں شعبہ صدارتی علوم کی ڈائریکٹر باربرا پیری کہتی ہیں کہ ’نائب صدر کا کردار صدر سے بس ایک دل کی دھڑکن کے فاصلے پر رہنا تھا۔‘
یعنی جب تک صدر ہلاک نہیں ہو جاتے یا سنگین بیماری کی زد میں نہیں آ جاتے، تب تک نائب صدر کا کام بس بیٹھے رہنا اور انتظار کرنا ہوتا ہے۔
باربرا پیری کہتی ہیں کہ بیسویں صدی کے اوائل میں ایک نائب صدر نے کہا تھا ’روزانہ میں وائٹ ہاؤس کے دروازے کی گھنٹی بجاتا ہوں اور امید کرتا ہوں کہ صدر دروازہ کھولیں گے۔‘
مگر اس کردار کو ہلکا نہیں لیا جانا چاہیے۔
ملک کے 45 میں سے نو صدور نے اپنی مدت پوری نہیں کی، جس میں آٹھ اموات شامل ہیں۔
یہ تعداد پانچواں حصہ بنتی ہے۔ یوں ان کے نائب صدور کو فوری ترقی ملی۔
اور اب 78 سالہ جو بائیڈن آج تک عہدہ سنبھالنے والے سب سے عمر رسیدہ صدر ہوں گے، اس لیے ان کے بعد کے صدر پر اضافی دباؤ ہوگا۔
کووڈ 19 کی وجہ سے اس سال کی تقریب حلف برداری میں کیا بدلے گا؟
،تصویر کا ذریعہReuters
عام حالات میں صدارتی حلف برداری دیکھنے کے لیے لاکھوں لوگ
واشنگٹن ڈی سی پہنچتے ہیں اور اس موقع پر شہر کے ہوٹلز مکمل طور پر بُک ہوجاتے ہیں۔
اندازہ ہے کہ سنہ 2009 میں جب اوبامہ نے اپنی پہلی مدتِ صدارت
کا حلف اٹھایا تو تقریباً 20 لاکھ لوگ آئے تھے۔
مگر بائیڈن کی ٹیم نے کہا ہے کہ اس سال تقریب ’انتہائی محدود‘
ہو گی اور انھوں نے لوگوں پر زور دیا ہے کہ وہ دارالحکومت کا سفر کرنے سے گریز کریں۔
واشنگٹن کے حکام نے بھی کانگریس پر مظاہرین کے حملے کے بعد
سے یہ اپیل کئی مرتبہ کی ہے۔ پریڈ کے روٹ کے ساتھ ناظرین کے لیے بنائے گئے سٹینڈز بھی
ہٹا دیے گئے ہیں۔
جو روایت برقرار رہے گی وہ یہ کہ جو بائیڈن اور کملا ہیرس اپنے
حلف امریکی کیپیٹل کے سامنے اٹھائیں گے۔
یہ رواج سنہ 1981 میں صدر رونلڈ ریگن سے شروع
ہوا تھا۔ واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق تقریباً 200 لوگ ان کے ساتھ سٹیج پر سماجی
فاصلہ برقرار رکھتے ہوئے بیٹھیں گے۔
ہر کسی نے ماسک پہنے ہوں گے اور پلیٹ فارم پر موجود ہر شخص
کا ایونٹ سے پہلے کے دو دن کے اندر اندر کووڈ کا ٹیسٹ کیا جائے گا۔ جہاں تک حلف برداری
کے لمحے کی بات ہے تو جو بائیڈن خود اس موقع پر ماسک نہیں پہنیں گے۔
ماضی میں اس تقریب میں شرکت کے لیے دو لاکھ تک ٹکٹس جاری کیے
جاتے تھے تاہم چونکہ امریکہ میں اب بھی کیسز کی تعداد میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے، اس
لیے صرف ایک ہزار ٹکٹ ہی لیے جا سکیں گے۔
کیا ڈونلڈ ٹرمپ اس تقریب میں شرکت کریں گے؟
،تصویر کا ذریعہReuters
امریکہ میں یہ روایت ہے کہ اپنی مدت پوری کرنے والا صدر نو
منتخب صدر کی حلف برداری کی تقریب میں موجود ہوتا ہے۔
لیکن اس سال معاملہ کچھ اور ہی ہوگا کیونکہ صدر ٹرمپ وہاں پر
موجود نہیں ہوں گے۔
چند روز قبل ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی ٹویٹ میں لکھا: ’وہ تمام
لوگ جو پوچھ رہے تھے، میں 20 جنوری کو ہونے والی تقریب حلف برداری میں شرکت نہیں کروں
گا۔‘
ٹرمپ کے حمایتیوں نے ’ورچوئل تقریب حلف برداری‘ کا انتظام کیا
ہے جو کہ اسی دن اور اسی وقت ہو گی جب جو بائیڈن اپنا حلف اٹھا رہے ہوں گے۔
فیس بک پر منعقد ہونے والے اس ایونٹ میں شرکت کرنے کے لیے
68 ہزار سے زیادہ افراد اپنی رضا مندی دکھا چکے ہیں۔
چار برس قبل جب صدر ٹرمپ حلف اٹھا رہے تھے تو اس تقریب میں
اپنی مدت پوری کرنے والے براک اوبامہ اور صدارتی انتخاب میں ٹرمپ سے شکست کھانے والی
ہلیری کلنٹن نے اپنے خاوند اور سابق صدر بل کلنٹن کے ساتھ شرکت کی تھی۔
،تصویر کا ذریعہre
مجموعی طور پر صرف تین صدور، جان ایڈمز، جان کوئنسی اور اینڈریو جانسن نے اپنے بعد منتخب ہونے والے صدر کی تقریب حلف برداری میں شرکت سے انکار کیا ہے۔
تاہم ٹرمپ کے انتہائی وفادار تصور کیے جانے والے نائب صدر مائیک پینس نے کہا ہے کہ وہ اس تقریب میں شرکت کریں گے۔
سکیورٹی کے انتظامات کیا ہوں گے؟
،تصویر کا ذریعہReuters
صدارتی حلف برداری کی تقریب میں بہت جامع سکیورٹی منصوبے بنائے
جاتے ہیں لیکن اس بار چھ جنوری کو ہونے والے واقعات کے بعد ان پر اور بھی زیادہ توجہ
دی جا رہی ہے۔
یاد رہے کہ چھ جنوری کو ڈونلڈ ٹرمپ کے حامی پرتشدد مظاہرین
نے امریکی کانگریس کی عمارت ’یو ایس کیپیٹل ہل‘ پر حملہ کر دیا تھا اور ان کی وجہ سے سینیٹ
کی کارروائی ملتوی ہوگئی تھی۔
مظاہرین نے اس موقع پر عمارت کے اندر توڑ پھوڑ کی اور کم از
کم پانچ افراد اس پورے واقعے میں ہلاک بھی ہوئے۔
چنانچہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے کی پیشِ نظر اس سال کی تقریب
کے لیے 25 ہزار سے زیادہ نیشنل گارڈز کو طلب
کر لیا گیا ہے جکہ اس کے علاوہ ہزاروں پولیس اہلکاروں کو بھی تعینات کیا جائے گا۔
،تصویر کا ذریعہReuters
جب جو بائیڈن اپنا حلف اٹھائیں گے تو اس دن واشنگٹن میں ایمرجنسی نافذ ہو گی، جو کہ چھ جنوری کے واقعات کے بعد شہر کے میئر نے نافذ کر دی تھی۔
سیکرٹ سروس کی جانب سے سکیورٹی انتظامات کرنے والے ایجنٹ میٹ ملر نے جمعے کے روز صحافیوں کو بتایا کہ اس تقریب کی منصوبہ بندی ایک سال سے جاری ہے۔
جبکہ جو بائیڈن نے روایت کے مطابق دفتر سے باہر حلف اٹھانے پر اصرار کیا ہے تو اس تقریب میں شرکا کی تعداد کو اور بھی کم کیا جائے گا۔
حلف برداری کی تقریب کیا ہے؟
،تصویر کا ذریعہget
،تصویر کا کیپشنسنہ 2009 میں جو بائیڈن بطور نائب صدر کا حلف لیتے ہوئے
امریکی صدر کے دور صدارت کا باضابطہ آغاز حلف برداری کی تقریب
سے ہوتا ہے جو کہ ملک کے دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی میں منعقد ہوتی ہے۔
اس تقریب کا لازمی عنصر صرف ایک ہوتا ہے، اور وہ ہے حلف جس
کے الفاظ کچھ یوں ہیں: ’میں حلفیہ کہتا ہوں کہ میں ایمانداری سے اپنے امریکی صدر کے
عہدے کی ذمہ داریاں نبھاؤں گا اور اپنی ہر ممکن صلاحیت کو بروئے کار لاتے ہوئے امریکی
آئین کو تحفظ دوں گا اور دفاع کروں گا۔‘
ان الفاظ کو ادا کرتے ہی جو بائیڈن 46 ویں امریکی صدر بن جائیں
گے اور حلف برداری کی تقریب کا سب سے اہم جُزو مکمل ہو جائے گا۔
جو بائیڈن کے حلف اٹھانے کے بعد کملا ہیرس نائب صدر بن جائیں
گی لیکن وہ اپنا حلف جو بائیڈن سے پہلے لیں گی۔
امریکی قانون کے تحت حلف برداری کی تاریخ 20 جنوری متعین ہے۔
پاکستان کے مقامی وقت کے مطابق یہ تقریب آج رات 9 بجے شروع ہوگی۔
اس دن حلف برداری کے بعد جو بائیڈن وائٹ ہاؤس منتقل ہو جائیں
گے جو بطور صدر ان کا اگلے چار سال تک گھر رہے گا۔
جو بائیڈن کی تقریب حلف برداری: بی بی سی اردو کے لائیو پیج پر خوش آمدید
،تصویر کا ذریعہreu
آج امریکہ کے نئے صدر کی تقریب حلف برداری کی کوریج کے لیے بی
بی سی اردو کے اس لائیو پیج میں خوش آمدید جہاں آپ آج کی اس تقریب سے مسلسل باخبر رہ
سکیں گے۔
امریکہ کے 46 ویں صدر جو بائیڈن آج ملک کی تاریخ کی پہلی خاتون
نائب صدر کملا ہیرس کے ہمراہ اپنے عہدے کا حلف اٹھائیں گے۔
اس لائیو پیج پر ہم آپ کو آج کی حلف برداری کی تقریب، کورونا
وائرس کے باعث کیے گئے اقدامات، اور تقریباً دو ہفتے قبل امریکی کیپیٹل پر ڈونلڈ ٹرمپ
کے حامیوں کے حملے کے باعث خصوصی سکیورٹی صورتحال سے بھی آگاہ رکھیں گے۔
اُس کے علاوہ ہم آپ کو یہ بھی بتائیں گے کہ امریکی صدر کی حلف
برداری میں روایتی طور پر کیا ہوتا ہے اور اس مرتبہ کیا مختلف ہے۔
اس سب کے ساتھ شامل ہیں اُن عام سوالات کے جواب جو آپ کے ذہن
میں ضرور آئے ہوں گے۔