ہمیں اس خانہ جنگی کا خاتمہ کرنا ہوگا جو لال اور نیلے کو آپس میں لڑواتی ہے: جو بائیڈن

جو بائیڈن حلف لے کر امریکہ کے 46ویں صدر منتخب ہو گئے ہیں۔ اس سے قبل کملا ہیرس حلف اٹھا کر امریکہ کی پہلی خاتون نائب صدر بن گئیں۔ حلف اٹھانے کے بعد جو بائیڈن نے خطاب میں کہا کہ ان کا کام امریکہ کے مستقبل کو بچانا ہے اور اس کے لیے محض الفاظ نہیں بلکہ اقدامات درکار ہوں گے۔ انھوں نے چھ جنوری کو ہونے والے واقعات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ’ہمیں اس خانہ جنگی کا خاتمہ کرنا ہوگا جو لال اور نیلے کو آپس میں لڑواتی ہے۔

لائیو کوریج

  1. حلف برداری کی تقریب سے ٹرمپ غیر حاضر، مائیک پینس موجود

    usa

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    1869 کے بعد یعنی تقریباً 150 برس بعد یہ پہلا موقع ہوگا جب کوئی جانے والا امریکی صدر نو منتخب امریکی صدر کی تقریب حلف برداری میں غیر حاضر ہوگا۔

    حلف برداری کی تقریب کی روایات کے مطابق تمام زندہ صدور تقریب میں شرکت کرتے ہیں۔ 1976 سے 1980 تک صدر رہنے والے جمی کارٹر 96 برس کے ہیں اور وہ اپنی صحت کی وجہ سے شرکت نہ کر سکے لیکن ان کی جو بائیڈن سے فون پر بات ہوئی۔

    دوسری جانب ڈونلڈ ٹرمپ کے نائب صدر مائیک پینس اور صدر ٹرمپ کے قریبی سمجھے جانے والے سینیٹر ٹیڈ کروز بھی تقریب میں شرکت کر رہے ہیں۔

  2. حلف برداری کی تقریب ایک گھنٹے میں متوقع

    usa

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    ہم توقع کر سکتے ہیں کہ کملا ہیرس امریکی تاریخ کی پہلی خاتون نائب صدر کا حلف اگلے ایک گھنٹے میں اٹھا لیں گی۔

    ان سے عہدے کا حلف امریکی سپریم کورٹ کی جج سونیا سوٹومیئر لیں گی اور یہ بہت ہی تاریخ ساز لمحہ ہوگا۔

    کملا ہیرس کے والد جمیکا سے تھے جبکہ ان کی والدہ انڈیا سے ہیں، اور وہ امریکہ سپریم کورٹ کی پہلی لاطینی جج سے حلف اٹھائیں گی۔

    خبروں کے مطابق کملا ہیرس نے خود سونیا سوٹومیئر کے لیے درخواست کی تھی۔

    اس حلف برداری کے لیے وہ انجیل کی دوکاپیں استعمال کریں گی، جن میں سے ایک امریکہ کے پہلے سیاہ فام جج تھرگڈ مارشل کی ہوگی۔

    جو بائیڈن کا حلف روایات اور قواعد کے مطابق سپریم کورٹ کے چیف جسٹس جان رابرٹس لیں گے۔

  3. حلف میں غلطی کے دلچسپ واقعات

    اوبامہ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    آئین کے مطابق عہدہ سنبھالنے سے پہلے صدر کو حلف اٹھانا پڑتا ہے۔

    فرینکلن ڈی روزویلٹ نے چار مرتبہ انتخاب جیت کر چار مرتبہ حلف اٹھایا تھا۔

    سنہ 2009 میں پہلی مدتِ صدارت کا حلف اٹھاتے ہوئے اوبامہ نے حلف لینے والے چیف جسٹس جان رابرٹس کی غلطی کی وجہ سے ایک سطر غلط دہرائی۔ اس لیے اوبامہ نے اگلے دن ایک مرتبہ پھر حلف اٹھایا۔

    سنہ 2013 میں دوسری حلف برداری کم ڈرامائی تھی۔ چونکہ اُس سال 20 جنوری اتوار کے دن تھی، اس لیے اوبامہ نے وائٹ ہاؤس میں ایک نجی تقریب میں حلف اٹھایا اور اس کے بعد عوام کے سامنے اگلے دن حلف کے الفاظ دہرائے۔

    مگر وہ اس میں غلطی کرنے والے پہلے صدر نہیں ہیں۔ ان سے پہلے پانچ دیگر صدور بھی ایسا ہی کر چکے ہیں مگر اوبامہ واحد صدر ہیں جنھوں نے تصحیح کر کے دوبارہ حلف اٹھایا۔

    اس سے قبل سنہ 1929 میں ہربرٹ ہوور کے حلف میں ایک 13 سالہ بچی نے غلطی پکڑی تھی۔

    ہیلن ٹرویلیگر نے حلف کے الفاظ یاد کر رکھے تھے اور وہ اسے ریڈیو پر سُن رہی تھیں۔ انھوں نے بعد میں اس کے بارے میں چیف جسٹس ولیم ٹافٹ کو لکھا جنھوں نے اپنی غلطی تسلیم کی مگر اصرار کیا کہ اس سے ہوور کی صدارت پر فرق نہیں پڑے گا۔

  4. بریکنگ, جو بائیڈن، کملا ہیرس یو ایس کیپٹل پہنچ گئے، مہمانوں کی بھی آمد شروع

    US

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    نو منتخب صدر جو بائیڈن اپنی اہلیہ، اور نو منتخب نائب صدر کملا ہیرس اپنے خاوند کے ہمراہ یو ایس کیپٹل پہنچ گئے ہیں جبکہ دیگر مہمانوں کی بھی آمد جاری ہے۔

    US

    ،تصویر کا ذریعہAFP

    US

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    US

    ،تصویر کا ذریعہAFP

    US

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

  5. میری ٹرمپ: ’وہ اب بھی تفریق پھیلانے کی کوشش کرتے رہیں گے‘

    ٹرمپ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ڈونلڈ ٹرمپ کی بھتیجی میری ٹرمپ نے اُن کے دورِ صدارت کے خاتمے پر خوشی کا اظہار کیا ہے۔

    اُنھوں نے صدر ٹرمپ کے بارے میں کئی ’انکشافات‘ پر مبنی کتاب گذشتہ سال شائع کی تھی۔

    مصنفہ نے بی بی سی نیوز چینل سے بات کرتے ہوئے کہا: ’وہ کبھی بھی گذشتہ دو ماہ میں ہونے والے واقعات کو قبول نہیں کر پائیں گے۔ ہم نے یہ اُن کی مزاحمت میں، انتخابات کی قانونی حیثیت کے بارے میں ان کے جھوٹ کے ذریعے دیکھا ہے، اور یہ بھی حقیقت ہے کہ انھوں نے آج تک اپنی ہار قبول نہیں کی ہے اور نہ وہ ایسا کریں گے۔‘

    میری ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ’ابھی بھی ساڑھے تین گھنٹے باقی ہیں اس لیے جب تک بائیڈن حلف نہیں اٹھا لیتے تب تک مجھے چین نہیں آئے گا، مگر مجھے لگتا ہے کہ ہم نے کسی گولی سے خود کو بچایا ہے۔‘

    اُن کے دورِ صدارت کو یاد کرتے ہوئے صدر ٹرمپ کی بھتیجی نے انھیں ’دفتر کے لیے ان فِٹ‘ اور ’ملک کی قیادت کے لیے درکار ہنر‘ سے خالی قرار دیا۔

    وہ کہتی ہیں: ’چونکہ انھوں نے اب تک اپنی شکست تسلیم نہیں کی ہے، اس لیے وہ اب بھی تفریق پھیلانے کی کوشش کریں گے اور مجھے لگتا ہے کہ جب انھوں نے کہا کہ ان کی تحریک ابھی شروع ہی ہوئی ہے، تو یہ ایک دھمکی تھی۔ ہمیں اب بھی محتاط رہنا ہوگا کیونکہ بدقسمتی سے وہ اب بھی یہیں ہیں۔‘

    میری ٹرمپ کی کتاب کے متعلق تفصیلات ہماری جولائی 2020 کی خبر میں ملاحظہ کریں۔

  6. بریکنگ, براک اوبامہ کا جو بائیڈن کے لیے پیغام: ’یہ آپ کا وقت ہے‘

    امریکہ کے سابق صدر براک اوبامہ نے ٹویٹ میں جو بائیڈن کو مبارک باد دی اور کہا: ’یہ آپ کا وقت ہے۔‘جو بائیڈن 2009 سے 2017 تک اوبامہ کے نائب صدر رہ چکے ہیں۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  7. آج کے دن مزید کیا کیا ہوگا؟

    usa

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    حلف برداری کی تقریب میں اب تقریباً ایک گھنٹے سے کچھ زیادہ کا وقت رہ گیا ہے اور نو منتخب صدر اور نو منتخب نائب صدر کا دن مصروف سے مصروف تر ہونے والا ہے۔

    ان کا بقیہ دن کا شیڈول کچھ اس طرح ہے۔ (تمام درج اوقات مقامی وقت کے مطابق ہیں۔)

    10.30: نو منتخب صدر اور نو منتخب نائب صدر یو ایس کیپٹل پہنچیں گے جہاں ٹھیک دو ہفتے قبل صدر ٹرمپ کے حامیوں نے حملہ کر دیا تھا۔

    11.15: تقریب حلف برداری کا آغاز ہوگا اور اس کے بعد جو بائیڈن تقریر کریں گے۔

    13.40: نئے صدر اور نائب صدر فوجی دستے کا معائنہ کریں گے۔

    14.45: دونوں رہنما اس کے بعد آرلنگٹن کے فوجی قبرستان جائیں گے اور وہاں پر سابق صدور اور نامعلوم فوجیوں کی قبر پر گلدستے رکھیں گے اور اس کے بعد انھیں وائٹ ہاؤس لے جایا جائے گا۔

    17.15: صدر جو بائیڈن پھر متعدد ایگزیکیٹو آرڈرز پر دستخط کریں گے اور اپنی کابینہ کے چند افراد کے سے حلف لیں گے۔

    بعد میں مقامی وقت کے مطابق رات 20.30 پر معروف اداکار ٹام ہینکس کی میزبانی میں ایک پروگرام ہوگا جس میں متعدد فنکار اپنے فن کا مظاہرہ کریں گے۔

  8. پاکستان کے سفیر برائے امریکہ بھی حلف برداری کی تقریب میں موجود

    پاکستان کی سفیر برائے امریکہ اسد خان بھی حلف برداری کی تقریب میں موجود ہوں گے اور انھوں نے یو ایس کیپٹل کے باہر سے ٹویٹ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ وہ بہت فخر محسوس کر رہے ہیں کہ وہ نو منتخب صدر جو بائیڈن اور کملا ہیرس کی حلف برداری کی تقریب میں موجود ہیں۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  9. بائیڈن کی دعائیہ تقریب میں شرکت، رپبلکن سیاست دان بھی ہمراہ

    جو بائیڈن اور اُن کی اہلیہ جل بائیڈن نے اب سے کچھ دیر قبل واشنگٹن میں ایک کیتھولک چرچ میں دعائیہ تقریب میں شرکت کی۔

    اُن کے ساتھ کملا ہیرس اور اُن کے شوہر ڈگ ایمہوف، سینیٹ میں رپبلکن پارٹی کے قائد مچ میکونل، ایوانِ نمائندگان میں رپبلکن پارٹی کے قائد کیون میکارتھی اور ایوانِ نمائندگان کی سپیکر نینسی پیلوسی بھی موجود تھیں۔

    بائیڈن

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    بائیڈن

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    بائیڈن

    ،تصویر کا ذریعہReuters

  10. ڈونلڈ ٹرمپ کے حامی واشنگٹن میں جمع ہونے سے گریزاں, تارا میک کیلوی ، بی بی سی نیوز، واشنگٹن

    usa

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    جہاں ایک جانب ڈیموکریٹس امریکی دارالحکومت میں جو بائیڈن کے حق میں جشن منا رہے ہیںت وہیں دوسری جانب جانے والے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حامی وہاں آنے سے گریز کر رہے ہیں۔ جو بائیڈن کی حلف برداری کے موقع پر ٹرمپ حامیوں نے اپنا احتجاج بھی منسوخ کر دیا ہے۔

    ٹرمپ حامیوں کا ایک گروپ ’پبلک ایڈوکیٹ‘ نے منسوخی کی وجہ بیان کرتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن ڈی سی میں ایمرجنسی نافذ کی گئی ہے اس لیے احتجاج منسوخ کیا جا رہا ہے۔

    ٹرمپ حمایتیوں کے دیگر گروپ کے افراد میں سے چند نے مجھ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ شہر نہیں جائیں گے۔

    ’وہاں کوئی بھی نہیں ہوگا۔ سوائے ممبران کانگریس اور 60 ہزار نیشنل گارڈ والوں کے۔‘

    حقیقت یہ ہے کہ شہر میں تقریباً 25 ہزار کے قریب نیشنل گارڈز کو متعین کیا گیا ہے لیکن اس شخص کا مطلب صاف ظاہر تھا۔ آج واشنگٹن ٹرمپ کے حامیوں کے لیے کافی سرد ماحول والا شہر ہوگا۔

  11. پہلے کورونا کیس کو ایک سال مکمل ہونے پر بائیڈن کی حلف برداری, اینجلیکا کاساز، بی بی سی نیوز، ٹیکساس

    کورونا

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکی سرزمین پر کورونا وائرس کا پہلا کیس سامنے آنے کو اب ایک سال گزر چکا ہے۔ اور جب جو بائیڈن دفتر سنبھالنے والے ہیں تو امریکہ میں کورونا وائرس کے کیسز کی تعداد اپنی بلند ترین سطح پر ہے اور اموات چار لاکھ سے زیادہ ہو چکی ہیں۔

    بائیڈن نے منگل کو وبا سے متاثر ہونے والے افراد کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا: ’آئیں اُن لوگوں کو یاد کریں جنھیں ہم نے کھو دیا ہے۔‘ میں نے گذشتہ پورا سال وائرس اور اس کے اقتصادی اثرات سے متاثر ہونے والے خاندانوں سے بات کرتے ہوئے گزارا ہے۔

    جہاں کچھ لوگ امریکہ میں کووڈ کی بدترین صورتحال کا ذمہ دار ٹرمپ کو ٹھہراتے ہیں، وہیں کچھ لوگوں کی توجہ بائیڈن پر ہے کہ وہ اس کے خاتمے کے لیے کیا کریں گے۔

    نئے صدر نے 19 کھرب ڈالر کے ایک امدادی منصوبے کا اعلان کیا ہے جس میں وسیع پیمانے پر ویکسین کی فراہمی اور ٹیسٹنگ، سرکاری طبی شعبے میں ایک لاکھ نوکریوں کا اضافہ اور امریکی خاندانوں کو براہِ راست اقتصادی ریلیف پہنچانا شامل ہے۔

  12. بریکنگ, جو بائیڈن کی تقریر کے لیے سٹیج تیار

    US

    نو منتخب صدر جو بائیڈن کی حلف برداری کے بعد پہلی تقریر کچھ گھنٹوں بعد متوقع ہے اور یو ایس کیپٹل میں کام کرنے والے عملے نے تیاریاں مکمل کر لی ہیں۔

    بی بی سی کے پروڈیوسر ران براؤن اس وقت کیپٹل میں موجود ہیں جہاں پر اس وقت سخت سردی ہے۔

    توقع ہے کہ جو بائیڈن کی تقریر 20 منٹ تک جاری رہے گی۔ اگر موازنہ کریں تو ابراہم لنکن کی یادگار تقریر جو کہ امریکی خانہ جنگی کے ایک میدان میں دی گئی تھی، اس کا دورانیہ صرف تین منٹ تھا۔

  13. ’اتنے فوجی ایک ساتھ کبھی نہیں دیکھے‘, سمانتھا گرین ول، بی بی سی نیوز

    میں نہیں جانتی کہ صدارتی حلف برداری کی تقریب جنوری میں رکھنے کا منصوبہ کس کا تھا کیونکہ یہاں بہت زیادہ ٹھنڈ ہے اور تیز ہوا کی وجہ سے بات کرنا اور سننا مشکل ہے۔

    عام طور پر نیشنل مال کی جگہ سیاحوں سے بھری ہوئی ہوتی ہے جو نئے صدر کو خوش آمدید کہتے ہیں مگر اس کے بجائے میں نے پہلی مرتبہ اتنے فوجیوں کو ایک ساتھ دیکھا ہے۔

    نہ صرف یہ کہ 20 منٹ کا راستہ طے کرنے میں ہمیں ڈھائی گھنٹے لگے، بلکہ ہمیں کئی ناکوں سے بھی گزرنا پڑا جیسے کہ ہم کسی جنگ زدہ علاقے میں رہ رہے ہوں۔

    کیپیٹل ہل کے سامنے نیشنل مال کی جگہ بالکل خاموش ہے اور یہاں تقریباً دو لاکھ پرچم لگائے گئے ہیں۔ یہاں عمومی طور پر اتنے لوگ حلف برداری دیکھنے کے لیے آتے ہیں۔

    بی بی سی کے ٹینٹ میں ہم آٹھ لوگ ہیں اور اپنے فونز چارج کر رہے ہیں، اور امید کر رہے ہیں کہ تقریب کی شروعات سے پہلے موسم کچھ تو گرم ہوجائے۔

  14. ’میں جو بائیڈن کے ساتھ کام کرنے کی منتظر ہوں‘

    یورپی کمیشن کی صدر ارسلا وان ڈر لئین نے بدھ کو اپنی ٹویٹ میں نو منتخب امریکی صدر جو بائیڈن کی تقریب حلف برداری کے موقع پر انھیں خوش آمدید کرتے ہوئے لکھا:

    ’امریکہ واپس آ گیا ہے، اور یورپ اس کے لیے تیار ہے۔ اپنے پرانے اور اعتماد والے ساتھی سے دوبارہ رابطہ قائم کرنے، اور ہمارے بیش قیمت اتحاد میں نئی روح پھونکنے کے لیے۔ میں جو بائیڈن کے ساتھ کام کرنے کی منتظر ہوں۔‘

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  15. بریکنگ, ڈونلڈ ٹرمپ کا اینڈریوز ائیر بیس پر الواداعی خطاب: ’ہم جلد آپ سے دوبارہ ملیں گے‘

    usa

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    ڈونلڈ ٹرمپ نے اینڈریوز ائیر بیس پر مختصر الوداعی خطاب میں اپنے خاندان والوں کا شکریہ ادا کیا اور ساتھ ساتھ آنے والی نئی انتظامیہ کے لیے نیک خواہشات کا اظہار بھی کیا لیکن نو منتخب صدر جو بائیڈن اور نائب صدر کملا ہیرس کا نام نہیں لیا۔

    وہاں پر موجود حامیوں کے لیے جہاز پر جانے سے پہلے ان کے آخری کلمات تھے کہ ’اچھی زندگی گزاریں، ہم آپ سے جلد دوبارہ ملیں گے۔‘

    usa

    ،تصویر کا ذریعہre

  16. بی بی سی اردو کی خصوصی نشریات آج رات

    ٹرمپ

    جو بائیڈن اور کملا ہیرس آج امریکہ کے صدر اور نائب صدر کے طور پر حلف اٹھائیں گے۔ اس سلسلے میں بی بی سی اردو کی خصوصی نشریات دیکھیں براہ راست ہمارے فیس بک پیج اور یوٹیوب چینل پر، پاکستان کے وقت کے مطابق آج رات نو بج کر 20 منٹ پر۔

  17. وائٹ ہاؤس عظیم ترین گھر تھا: ڈونلڈ ٹرمپ

    usa

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    وائٹ ہاؤس سے روانگی سے قبل ڈونلڈ ٹرمپ نے مختصر خطاب میں کہا کہ ’وائٹ ہاؤس عظیم ترین گھر تھا۔‘

    کورونا وائرس کے بارے میں بات کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ہم نے ایک طبی معجزہ کر دکھایا جو کہ وائرس کی ویکسین ہے۔

    کورونا وائرس کو ’چائنا وائرس‘ کہتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’ یہ بہت ہی برا تھا‘۔

    خوشگوار موڈ میں دکھنے والے ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے حمایتیوں کے سامنے خطاب کرتے ہوئے کہا ’ہم نے اپنا سب کچھ میدان میں چھوڑ دیا۔‘

  18. ڈونلڈ ٹرمپ کی وائٹ ہاؤس سے روانگی کے مناظر

    ٹرمپ

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    ٹرمپ

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    ٹرمپ

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    ٹرمپ

    ،تصویر کا ذریعہReuters

  19. دنیا کے سب سے طاقتور ملک کے دارالحکومت میں میدان جنگ کا منظر, ونیت کھرے، نمائندہ بی بی سی

    usa

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    ٹرمپ کے حامیوں کی جانب سے کیپیٹل ہل پر ہونے والی ہنگامہ آرائی جیسا واقعہ حلف برداری کی تقریب کے موقع پر دوبارہ پیش آنے کے خدشات نے بہت سے لوگوں کو پریشان کر دیا ہے۔

    کیپیٹل ہل جانے والے راستوں پر آہنی باڑیں لگائی گئی ہیں اور ہزاروں سکیورٹی اہلکار گلیوں میں گشت کر رہے ہیں۔ شہر کے مرکز میں روڈ بلاکس لگا دیے گئے ہیں۔

    چہرے ڈھانپے مسلح اہلکاروں کو گلیوں میں تعینات کر دیا گیا ہے جو گاڑیوں کو چیک کر رہے ہیں اور ٹریفک کی روانی کو یقینی بنائے ہوئے ہیں۔

    دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی میں نیشنل گارڈز کے 25 ہزار اہلکاروں کو تعینات کیا گیا ہے۔

    usa

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    حکام کو کچھ اس نوعیت کی اطلاعات موصول ہوئی تھیں کہ کیپیٹل ہل میں ہنگامہ آرائی کرنے والوں کو اندر سے مدد حاصل تھی۔

    اسی نوعیت کی اطلاعات کے بعد وہاں تعینات سکیورٹی اہلکاروں کے بنیاد پرست عناصر سے ممکنہ روابط کے پیش نظر ان کی سکریننگ بھی کی جا رہی ہے۔ سڑکوں پر پولیس کی گاڑیاں ہیں جبکہ شہر کی ہیلی کاپٹرز کی مدد سے بھی نگرانی کی جا رہی ہے۔

    میں نے گلیوں میں سفید ٹینٹ دیکھے جو بظاہر سکیورٹی اہلکاروں کی رہائش کے لیے لگائے گئے ہیں۔ متعدد میٹرو سٹیشن بند کر دیے گئے ہیں۔ امریکی کیپیٹل کا کمپلیکس عام عوام کے لیے بند ہے اور آج کے روز یعنی 20 جنوری کو عوام کو کیپیٹل گراؤنڈز تک رسائی حاصل نہیں ہو گی۔

    کیپیٹل پولیس کے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ’کوئی بھی شخص جس نے دیوار پھلانگ کر یا کسی اور غیر قانونی طریقے سے کیپیٹل گراؤنڈز میں داخل ہونے کی کوشش کی، اس کے خلاف طاقت کا استعمال کر کے اسے گرفتار کیا جائے گا۔‘

    usa

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

  20. ڈونلڈ ٹرمپ کا الوداعی خطاب: ’فخر ہے کہ کوئی نئی جنگ شروع نہیں کی‘

    usa

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    جہاں ایک طرف جو بائیڈن اگلے چار سال کے لیے اپنا حلف اٹھانے والے ہیں، وہیں ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنا الوداعی بیان جاری کر دیا ہے۔

    یوٹیوب پر پوسٹ کی گئی اپنی ایک ویڈیو میں اُنھوں نے کہا: ’ہم نے وہی کیا جو ہم کرنے آئے تھے۔ میں نے مشکل اور سب سے سخت ترین لڑائیوں کا انتخاب کیا کیونکہ آپ نے مجھے اسی لیے منتخب کیا تھا۔‘

    اُنھوں نے مزید کہا کہ ’مجھے فخر ہے کہ میں دہائیوں میں وہ پہلا صدر ہوں جس نے کوئی نئی جنگیں شروع نہیں کیں۔‘

    اپنے پیغام میں امریکی معیشت پر بات کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ان کی انتظامیہ نے ’دنیا کی تاریخ کی سب سے بڑی معیشت کو تعمیر کیا۔‘

    usa

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    انھوں نے مزید کہا کہ ان کا ایجنڈا رپبلکن یا ڈیموکریٹکس کے بارے میں نہیں بلکہ قوم کی بہتری کے لیے تھا۔

    چھ جنوری کو امریکی کانگریس کی جانب سے نومنتخب صدر جو بائیڈن کی الیکٹورل کالج میں فتح کی باقاعدہ توثیق کے عمل کے دوران صدر ٹرمپ کے حامی تمام رکاوٹیں عبور کر کے امریکی ریاست کے سیاسی مرکز کیپیٹل ہل کے اندر داخل ہو گئے تھے۔

    ہنگامہ آرائی اور پولیس سے جھڑپوں میں متعدد افراد ہلاک بھی ہوئے۔

    اس واقعے کا ذکر کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا ’سیاسی تشدد ہر اس چیز پر حملہ ہے جس کو ہم بحیثیت امریکی سراہتے ہیں۔ اسے کبھی برداشت نہیں کیا جا سکتا۔‘