عالمی ادارہ صحت: موسم تبدیل ہونے سے کورونا وائرس ختم نہیں ہو جائے گا

کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد ایک کروڑ 65 لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے جبکہ پاکستان میں متاثرین کی تعداد دو لاکھ 76 ہزار ہے۔ دوسری جانب عالمی ادارہ صحت نے خبردار کیا ہے کہ اس موسم گرما میں شمالی نصف کرہ میں کورونا وائرس کے انفیکشن کے بارے میں غفلت برتنے سے گریز کیا جائے۔

لائیو کوریج

  1. برطانیہ: ہیتھرو ایئرپورٹ پر جراثیم کش روبوٹس نے کام شروع کر دیا

    heathrow

    برطانیہ کے ہیتھرو ایئرپورٹ پر عملے اور مسافروں کو کورونا وائرس کے خطرے سے بچانے کے لیے 'ڈس انفیکشن روبوٹس¬ لگا دیے گئے ہیں۔

    اس سے قبل اس کام کے لیے ہسپتال والی مشینیں یہاں لگائی گئی تھیں۔ انفیکشن سے نمٹنے کے لیے استعمال ہونے والی یہ مشینیں ائیرپورٹ کے ٹرمینلز کے ذریعہ حرکت کرتی ہیں جس میں غسل خانے اور لفٹوں جیسے زیادہ خطرے والی جگہوں کو جراثیم سے پاک کرتی ہیں۔

    یہ روبوٹس انتہائی تیز روشنی (الٹرا وائلٹ) کے ذریعے وائرس کو ہلاک کر دیتے ہیں اور پھر انھیں دوبارہ پیدا ہونے سے روکتے ہیں۔

  2. کورونا اور عیدالاضحیٰ: خریداروں کو کیا احتیاطی تدابیر اختیار کرنی چاہییں؟

    ہر سال کی طرح اِس سال بھی عیدالاضحیٰ سے قبل مویشی منڈیوں میں جانوروں کی خریداری کی جا رہی ہے۔ پاکستان میں کورونا وائرس متاثرین کی تعداد دو لاکھ 64 ہزار سے زیادہ ہوچکی ہے اور حکام کی جانب سے بیوپاریوں اور خریداروں پر احتیاط کرنے کے لیے زور ڈالا جا رہا ہے۔

    کورونا کی وبا کے زمانے میں خریداروں کو منڈیوں میں کیا احتیاطی تدابیر اختیار کرنی چاہییں، جانیے ہمارے ساتھی کریم الاسلام کی اِس ڈیجیٹل ویڈیو میں۔

    YouTube پوسٹ نظرانداز کریں
    Google YouTube کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو Google YouTube کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے Google YouTube ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔ YouTube کے مواد میں اشتہارات ہو سکتے ہیں۔

    YouTube پوسٹ کا اختتام

  3. برطانوی یونیورسٹیوں میں طلبا کی واپسی شروع

    برطانیہ

    برطانیہ کی یونیورسٹیوں میں طلبا کی واپسی کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے تاہم انھیں کچھ شرائط پر عمل کرنا ہوگا۔ یونیورسٹی میں بارز بند رہیں گی اور ماسک کی پابندی لازمی کرنا ہو گی۔

    زیادہ تر طالبعلم خزاں تک یونیورسٹی نہیں آنا چاہتے مگر ناٹنگھم یونیورسٹی کے ویٹرنری کے شعبے کے طالبعلموں نے ابھی سے دوباہ آنا شروع کر دیا ہے۔

    کورونا وائرس کے بعد اب برطانیہ میں تعلیمی ادارے کھل رہے ہیں اور یہ یونیورسٹی آنے والے اولین طالبعلم بن چکے ہیں۔

    یونیورسٹی کے رجسٹرار پال گریٹریکس کا کہنا ہے کہ ان طالبعلموں کا سماجی میل جول بہت محدود ہو جائے گا مگر یہ ایک بات غیر معمولی قسم کی صورتحال ہے۔

    ناٹنگھم یونیورسٹی میں ابھی 150 طالبعلم واپس آئے ہیں اور ان کی پڑھائی کے لیے انتظامیہ نے ببل سسٹم متعارف کرایا ہے یعنی وہ چھوٹے چھونے گروپس میں رہیں اور ایک ساتھ پڑھیں گے۔

    تاہم یونیورسٹی وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے اس نظام کو ببل کے بجائے گھریلو نظام قرار دیتی ہے۔

    اس طریقہ کار کے مطابق تین سے دس طالبعلم ایک ساتھ رہیں گے اور ان کے لیے سماجی فاصلہ رکھنے کی ضرورت نہیں ہو گی۔ ان کے لیے ماسک پہننے پر بھی پابندی عائد نہیں ہو گی۔ لیکن جب یہ دوسرے گروپس کے ساتھ ملیں گے تو پھر سماجی فاصلہ برقرار رکھنا لازمی ہو گا۔

  4. کورونا وائرس اگر چمگادڑوں میں رہتا ہے تو وہ بیمار کیوں نہیں ہوتیں؟

    Bat

    ،تصویر کا ذریعہOLIVIER FARCY

    سائنسدانوں نے دنیا کی چھ چمگادڑوں کے جینیاتی بلیو پرنٹ کی تشریح کی ہے جس سے ان کی ’غیر معمولی قوت مدافعت‘ کے اشارے ملتے ہیں اور یہ نظام ہی انھیں مہلک وائرس سے بچانے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔

    محققین کو ان معلومات کے ذریعے ان رازوں سے پردہ اٹھانے کی توقع ہے کہ چمگادڑ کیسے بیمار ہوئے بغیر کورونا وائرس رکھتی ہیں۔

    محققین کا کہنا ہے کہ اس سے موجودہ اور مستقبل کے وبائی امراض کے دوران انسانی صحت کی مدد کے لیے حل فراہم کیے جا سکتے ہیں۔

    یونیورسٹی کالج ڈبلن کی پروفیسر ایما تیلنگ کا کہنا ہے کہ ’شاندار‘ جنیاتی ترتیب سے پتا چلتا ہے کہ چمگادڑوں کا ’مدافعتی نظام بہت انوکھا‘ ہوتا ہے۔

    اور یہ سمجھنا کہ کس طرح چمگادڑ بیمار ہوئے بغیر وائرس کو برداشت کر سکتی ہیں، کووڈ۔19 جیسے وائرس کا علاج دریافت کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔

  5. انڈیا: بہار میں کورونا وائرس کے مریضوں میں تیزی سے اضافہ

    بہار

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ماہرین صحت کے مطابق اعدادوشمار یہ ظاہر کرتے ہیں کہ انڈیا کی ریاست بہار میں تیزی سے کورونا وائرس پھیل رہا ہے۔ بہار ریاست میں ملک بھر کے مقابلے میں ٹیسٹنگ کی شرح کم ہے۔

    انڈین ریاست بہار کے زیادہ تر اضلاع میں کورونا وائرس کے مریضوں کے علاج کے لیے وینٹیلیٹرز تک دستیاب نہیں ہیں۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ بہار کے ہسپتالوں میں ایسے ڈاکٹر کی شدید کمی ہے جو وینٹیلیٹرز کو استعمال کرنے کی مہارت رکھتے ہیں۔ یہ بہت اہم ضرورت ہے اور ریاست کے اس کے بارے میں سوچنا چائیے۔

    bihar

    ریاست کی حکومت اپنی ناکامی کو تسلیم کرنے کو تیار نہیں ہے اور ان کا یہ کہنا ہے کہ وہ جلدی سے اضافی صحت کی سہولیات کا انتظام کر رہی ہے۔

    ریاست بہار کا پرائمری ہیلتھ کیئر نظام بہت کمزور ہے اور کئی دہائیوں سے یہ نظر انداز کیا جاتا رہا ہے۔

    اس ریاست میں اعلی درجے کے چند ہی سرکاری اور نجی ہسپتال موجود ہیں جو مریضوں کا بروقت اور صیحح علاج کر سکتے ہیں۔ دلی اور ممبئی جیسے شہروں میں بھی تاخیر سے مریضوں کے داخلے کی وجہ سے اموات ہوئی ہیں لیکن ماہرین کو یہ خدشتہ ہے کہ بہار میں ایسی صورتحال میں اموات کئی گنا زیادہ ہو سکتی ہیں۔

    اس صورتحال میں مزید خرابی اس وقت پیدا ہوئی جب بہار کے کئی علاقوں میں سیلاب آنا شروع ہو گیا ہے۔

  6. بی بی سی اردو کی لائیو کوریج جاری ہے!

    بی بی سی اردو کے تازہ لائیو پیج میں خوش آمدید۔ یہاں آپ کو پاسکتان سمیت دنیا بھر سے کورونا وایرس کے حوالے سے تازہ ترین خبریں، معلومات اور تجزیے ملیں گے۔

    گذشتہ ہفتے دنیا میں کیا ہوا؟ جاننے کے لیے کلک کیجیے۔

  7. کورونا ٹیلی تھون: وزیر اعظم کی احساس ٹرانسمیشن میں مولانا طارق جمیل اور جاوید میانداد کے بیانات پر سوشل میڈیا پر بحث