آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

کورونا: امریکہ میں کیلیفورنیا کے بعد فلوریڈا سب سے زیادہ متاثرہ ریاست بن گئی

کورونا وائرس سے دنیا بھر میں متاثرہ افراد کی تعداد ایک کروڑ 60 لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے. فلوریڈا میں مزید 9300 متاثرین کی تصدیق ہوئی ہے۔ کیلیفورنیا کے بعد یہ امریکہ کی سب سے زیادہ متاثرہ ریاست بن گئی ہے۔

لائیو کوریج

  1. پاکستان میں کورونا کے نئے متاثرین میں کمی کیوں نظر آرہی ہے؟

    پاکستان میں گذشتہ چند دنوں سے کورونا وائرس کے نئے کیسز کی تعداد میں کمی دیکھنے میں آئی ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ یومیہ ٹیسٹنگ کی تعداد بھی کم ہوئی ہے۔ کیا پاکستان میں واقعی کورونا وائرس کے کیسز میں کمی آئی ہے؟ کیا یہ سب حکومتی اقدامات اور سمارٹ لاک ڈاؤن کا نتیجہ ہے؟ اس سب پر نظر ڈال رہے ہیں ہمارے ساتھی عابد حسین، محمد ابراہیم کی اس ویڈیو میں۔۔۔

  2. ’کووڈ 19 کے متاثرین میں کمی کو برقرار رکھنے کے لیے مزید چوکنا رہنا ہوگا‘

    پاکستان کے مشیر صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے ایک ٹویٹ میں کہا ہے کہ کووڈ 19 کی ٹیسٹنگ کو بڑھانے کے لیے ایک بہتر حکمت عملی اپنائی گئی ہے جس کے تحت محکمہ صحت کی ٹیم نے اسلام آباد میں جانوروں کی ایک منڈی میں کورونا وائرس کے ٹیسٹ کیے ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ عید الاضحیٰ سے قبل منڈیوں میں کیمپ لگائے جائیں گے تاکہ تاجر اور خریدار محفوظ وائرس سے محفوظ رہ سکیں۔

    ’ہمیں کووڈ 19 کے متاثرین میں کمی کو برقرار رکھنے کے لیے مزید چوکنا رہنا ہوگا۔‘

  3. کووڈ 19 کی ویکسین کے آزمائشی تجربے سے میں نے کیا سیکھا؟, رچرڈ فِشر، بی بی سی فیوچر

    آکسفورڈ یونیورسٹی کی تیار کی گئی کووِڈ 19 کی ویکیسن نے اب تک بہت ہی زبردست اور حوصلہ افزا نتائج ظاہر کیے ہیں۔ رچرڈ فِشر بتاتے ہیں کہ اُن کا اس ویکسین کے آزمائشی تجربات میں بطور رضاکار شرکت کرنا کیسا تجربہ تھا۔

    میں ایک ہسپتال کے استقبالیے پر بیٹھا ہوا ہوں اور میرے سانس لینے کی وجہ سے میری عینک کے شیشے دُھندلا رہے ہیں۔ چند منٹ پہلے میں گلیوں کی مرطوب گرمی سے گزر رہا تھا۔ مجھے ڈاکٹر کے پاس اپنے طے شدہ وقت پر پہنچنے میں تاخیر ہو رہی تھی۔

    اس وقت میرے پاس سے ڈاکٹر اور نرسیں اُسی ہسپتال کی جانب آرام سے پیدل جا رہے تھے، مجھے معلوم تھا کہ میری صحت بہتر دکھائی نہیں دے رہی تھی۔ اس سے پہلے آخری مرتبہ مجھے جنوبی لندن کے ہسپتال سینٹ جارجز میں جانے کا اتفاق اُس وقت ہوا تھا جب میری بیٹی پیدا ہوئی تھی۔

    لیکن آج مجھے کافی تکلیف محسوس ہو رہی تھی۔

  4. تھرپارکر میں آن لائن کلاسز کے لیے طلبا کی جدوجہد

    پاکستان میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ کی وجہ سے جامعات میں آن لائن کلاسز جاری ہیں لیکن پاکستان کے پسماندہ علاقے کے طالب علموں کو مشکلات کا سامنا ہے، صحرائے تھر کے نوجوان کس طرح تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔

    دیکھیے ریاض سہیل اور محمد نبیل کی رپورٹ۔۔۔

  5. امریکہ میں لگاتار چار روز سے 1000 سے زیادہ اموات

    امریکہ میں جمعے کے روز بھی 1000 سے زیادہ اموات کورونا وائرس کی وجہ سے ہوئیں۔ یہ لگاتار چوتھا روز ہے جب ایک ہزار سے زیادہ اموات پیش آئی ہیں۔

    گذشتہ روز امریکہ میں کم از کم 1019 افراد کورونا سے ہلاک ہوئے۔ جمعرات کو 1140، بدھ کو 1135 اور منگل کو 1141 اموات کی تصدیق ہوئی تھی۔

    جمعے کو امریکہ میں 68800 افراد میں کووڈ 19 کی تشخیص ہوئی جبکہ مجموعی تعداد اب 40 لاکھ سے بڑھ گئی ہے۔ ایریزونا، فلوریڈا، کیلیفورنیا اور ٹیکساس میں نئے متاثرین میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔

    وائٹ ہاؤس میں ایک مشیر نے کہا ہے کہ انھیں ایسے اشارے ملے ہیں جن کے مطابق مغربی اور جنوبی ریاستوں میں بُرا وقت اب گزر چکا ہے۔

  6. بلوچستان میں کورونا کے 28 نئے متاثرین کی تصدیق

    بلوچستان میں کورونا وائرس کے 28 نئے متاثرین کے اضافے کے بعد مجموعی کیسز کی تعداد 11578 ہوگئی ہے۔ کووڈ 19 سے ہلاک ہونے والے افراد کی مصدقہ تعداد 136 ہے۔

    محکمہ صحت حکومت بلوچستان کے ترجمان ڈاکٹر وسیم بیگ کے مطابق 25 جولائی 2020 کو کورونا کے صرف 494 ٹیسٹ کیے گئے جن میں سے 28 مثبت آئے۔

    بلوچستان میں اب تک کورونا کے مجموعی طور پر 56896 ٹیسٹ کیے گئے ہیں جن میں سے 45318 کے نتائج منفی آئے ہیں۔

    بلوچستان میں مجموعی طو پر 131608 افراد کی سکریننگ کی گئی ہے۔

    صوبے میں کورونا سے اب تک 9901 افراد صحتیاب ہوئے ہیں۔

  7. کورونا اگر چمگادڑوں میں رہتا ہے تو وہ بیمار کیوں نہیں ہوتیں؟

  8. موٹاپا کووِڈ-19 کے خطرات کو بڑھا دیتا ہے

  9. کیا آپ کورونا سے دوبارہ متاثر ہوسکتے ہیں؟

    کیا آپ کورونا وائرس سے دوبارہ متاثر ہوسکتے ہیں؟ آپ کا نظام مدافعت کسی بھی وائرس سے بچاؤ میں کیا کردار ادا کرتا ہے اور اینٹی باڈیز کیسے متاثرہ جسم کو آئندہ اس بیماری سے بچا سکتی ہیں۔

    جانیے اس ڈیجیٹل ویڈیو میں۔۔۔

  10. کورونا میں ’علامات کی کم شدت بھی طویل مدتی اثرات چھوڑ سکتی ہیں‘

    امریکی محققین نے کہا ہے کہ کورونا وائرس کے ایسے مریض جن میں علامات کی شدت کم ہے، انھیں بھی مکمل صحتیاب ہونے میں کئی ہفتے لگ سکتے ہیں۔ ان میں ایسے نوجوان افراد بھی شامل ہیں جنھیں کوئی دوسری بیماری نہیں۔

    امریکہ میں بیماری کی روک تھام کے ادارے نے کہا ہے کہ 35 سال سے کم عمر افراد کا پانچواں حصہ کورونا کی تشخیص کے بعد 21 دن تک مکمل طور پر صحتیاب نہیں ہوسکا تھا۔

    ادارے نے کہا کہ بعض سرکاری پیغامات میں ایسا ظاہر کیا جاتا ہے جیسے کووڈ 19 سنجیدہ مرض نہیں۔

    ٹیلی فونک سروے کے مطابق 13 ریاستوں میں 35 فیصد افراد نے علامات کی کم شدت ہونے کی وجہ سے دو سے تین ہفتے بعد اپنی صحت کے بارے میں آگاہ کیا۔

    رپورٹ میں کہا گیا کہ متاثرین کو کئی ہفتے بعد بھی کھانسی اور سانس پھولنے کی شکایات رہیں۔

  11. فٹبال کے کھلاڑی ژاوی ہرنینڈس میں کورونا کی تشخیص

    سپین اور بارسیلونا کے فٹبال کے سابق کھلاڑی ژاوی ہرنینڈس میں کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے۔

    40 سالہ ژاوی ہرنینڈس اس وقت قطر کے ایک فٹبال کلب کے کوچ ہیں۔

    انھوں نے سنیچر کو انسٹاگرام پر اپنے مداحوں سے یہ خبر شیئر کی۔

    ’خوش قسمتی سے میری طبیعت ٹھیک ہے۔ جب تک سب صحیح نہیں ہوتا میں آئسولیشن میں رہوں گا۔

    ’جب سب ٹھیک ہوجائے گا تو امید ہے میں واپس معمول کے مطابق کام کر سکوں گا۔‘

  12. خیبر پختونخوا میں کورونا کے 149 نئے متاثرین، چھ اموات

    پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا میں کورونا وائرس کے مزید 149 نئے متاثرین اور چھ اموات کی تصدیق ہوئی ہے۔

    اب صوبے میں متاثرین کی مجموعی تعداد 33220 ہوگئی ہے۔ اب تک یہاں کووڈ 19 سے 1176 اموات ہوئی ہیں۔

    خیبر پختونخوا میں اب تک 202703 افراد کے کورونا کے ٹیسٹ ہوئے ہیں۔ اب تک 27017 افراد کورونا سے صحتیاب ہوئے ہیں۔

  13. کورونا وارڈ میں خصوصی دستاویزی فلم کیسے بنائی گئی؟

    بی بی سی اردو کی فرحت جاوید اور موسی یاوری نے پمز ہسپتال کے کورونا وائرس کے آئی سی یو سے خصوصی دستاویزی فلم پیش کی۔ اس فلم کی تیاری کے دوران انھیں کیا احتیاطی تدابیر اپنانی پڑیں، یہ دیکھیے اس ڈیجیٹل ویڈیو میں۔

  14. انڈیا میں گذشتہ دو روز کے دوران تقریباً ایک لاکھ نئے متاثرین

    انڈیا میں کورونا وائرس کے نئے متاثرین میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ گذشتہ دو روز کے دوران تقریباً ایک لاکھ نئے متاثرین کی تصدیق ہوئی ہے۔

    عالمی وبا کے آغاز سے اب تک انڈیا میں 13 لاکھ متاثرین کی تصدیق ہوچکی ہے۔ یہ دنیا میں تیسرے نمبر پر کووڈ 19 سے سب سے زیادہ متاثرہ ملک ہے۔

    مادھیا پردیش کے وزیر اعلیٰ بھی کورونا وائرس سے متاثر ہو چکے ہیں۔

    انھوں نے زور دیا کہ لوگوں کو اپنا خیال رکھنا ہوگا اور علامات ظاہر ہونے پر فوراً ڈاکٹر سے رجوع کرنا ہوگا۔

    اب تک انڈیا میں کووڈ 19 سے 31 ہزار سے زیادہ اموات ہوچکی ہیں۔ اموات کے اعتبار سے یہ دنیا میں ساتویں نمبر پر ہے۔ تاہم ماہرین کا خیال ہے کہ تاحال یہ وائرس کی انتہا نہیں۔

  15. افریقہ میں طبی عملے کے 10 ہزار سے زیادہ افراد کورونا وائرس سے متاثر

    عالمی ادارہ صحت کے مطابق عالمی وبا کے دوران افریقہ میں طبی عملے کے 10 ہزار سے زیادہ افراد میں کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے۔

    ڈبلیو ایچ او کے ڈاکٹر ایمبروز ٹلیسونا نے کہا ہے کہ صورتحال تشویشناک ہے۔ انھوں نے ملکوں اور تنظیموں سے مطالبہ کیا ہے کہ طبی عملے کے کام کرنے کے لیے ایک دوسرے کے ساتھ مل کر حالات بہتر بنائیں۔

    ان کا کہنا ہے کہ عالمی ادارہ صحت نے وائرس کی روک تھام کے لیے ہدایات تجویز کی ہیں اور طبی عملے کے 50 ہزار افراد کو ٹریننگ دی ہے۔

    انھوں نے کہا ہے کہ انفرادی سطح پر ملکوں کو طبی عملے کے لیے حفاظتی اقدامات کرنا ہوں گے اور حفاظتی لباس کو دستیاب بنانا ہوگا تاکہ صحت کے نظام پر بوجھ پیدا نہ ہو۔

  16. برازیل کے صدر کورونا وائرس سے صحتیاب ہوگئے

    برازیل کے صدر جیئر بولسونارو نے اعلان کیا ہے کہ ان کا کورونا وائرس کا حالیہ ٹیسٹ منفی آیا ہے۔

    فیس بک پر ان کا کہنا تھا کہ ’امید ہے آپ سب کا دن اچھا گزرے گا۔‘

    انھوں نے 7 جولائی کو اعلان کیا تھا کہ وہ کورونا وائرس سے متاثر ہوگئے ہیں۔ انھوں نے وائرس کی تشخیص کے لیے تین ٹیسٹ کرائے تھے جنھوں نے کورونا کی تصدیق کی تھی۔

    ماضی میں انھوں نے کورونا کے خدشات کو رد کرتے ہوئے کہا تھا کہ وائرس کا ان پر اثر کم ہوا کیونکہ وہ ’ایتھلیٹ ہوا کرتے تھے۔‘

    برازیل اس عالمی وبا سے دوسرے نمبر پر سب سے زیادہ متاثرہ ملک ہے۔ یہاں اب تک 23 لاکھ سے زیادہ متاثرین کی تصدیق ہوئی ہے۔

  17. ’سمارٹ ہیلمٹ‘ جو کورونا کے متاثرین کی شناخت کرتی ہے

    انڈیا کے شہر ممبئی کے حکام کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی سکریننگ کے لیے "سمارٹ ہیلمٹ" کا سہارا لے رہے ہیں۔ انڈیا میں ممبئی کورونا وائرس سے سب سے متاثرہ شہر ہے اوروہاں کورونا کے نئے کیسز کا جلد سے جلد پتہ لگانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ اس ہیلمٹ کو بنانے والوں کا دعوی ہے کہ اس کی مدد سے طبی عملہ تین گھنٹوں کے اندراندر تقریبا چھ ہزار افراد کا بالکل درست درجہ حرارت چیک کرسکتا ہے۔ لیکن یہ سستا نہیں ہے۔ اس ایک ہیلمٹ کی قیمت تقریبا آٹھ ہزار ڈالر ہے۔ تفصیل دیکھیے اس ڈیجیٹل ویڈیو میں

  18. کیا تھوک کی جانچ سے کورونا کی وبا کا خاتمہ ہو سکتا ہے

  19. 100 دن میں پہلے متاثرہ شخص کی تصدیق کے بعد ویتنام میں ’ریڈ الرٹ‘

    سنیچر کو ویتنام میں اس وقت ’ریڈ الرٹ‘ جاری کیا گیا جب حکام نے ملک میں تین ماہ سے زیادہ عرصے بعد پہلے شخص میں کورونا وائرس کی تشخیص کرلی۔

    ملک میں سخت ہدایات نافذ کر دی گئی ہیں اور عالمی وبا کے دوران ٹیسٹنگ میں تیزی لائی گئی ہے۔ اس کے باوجود اب تک صرف 417 افراد میں وائرس کی تشخیص ہوئی ہے جبکہ اب تک کوئی ہلاکت نہیں ہوئی۔

    محکمہ صحت کے مطابق ایک 57 سالہ شخص میں سیاحتی مقام پر وائرس کی تشخیص ہوئی۔

    مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق متاثرہ شخص کی حالت تشویشناک ہے۔ ان 50 افراد کو قرنطینہ منتقل کر دیا گیا ہے جو اس شخص کے رابطے میں تھے۔

  20. ’بلوچستان میں صحتیابی کی شرح سب سے زیادہ‘, محمد کاظم، بی بی سی اردو، کوئٹہ

    بلوچستان میں اگرچہ کورونا کے نئے متاثرین میں کمی آرہی ہے لیکن دوسری جانب حکام نے اس بات پر تشویش کا اظہار کیا ہے کہ لوگوں کی ٹیسٹنگ میں کمی آئی ہے۔

    کوئٹہ میں صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے حکومت بلوچستان کے ترجمان لیاقت شاہوانی نے کہا کہ یہ خوشی کی بات ہے کہ بلوچستان کے لوگ کورونا کو کسی حد تک شکست دینے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ جون کے مقابلے جولائی میں کورونا کے کیسز میں پچاس فیصد کمی آئی ہے۔ تاہم انھوں نے بتایا کہ حکومت بلوچستان کو اس بات کی تشویش ہے کہ جون کے مقابلے میں ٹیسٹ کی تعداد میں 60 فیصد کمی آئی ہے۔

    انھوں نے بتایا کہ پہلے لوگ یہ شکایت کرتے تھے کہ ہم ٹیسٹ کے لیے جاتے ہیں تو وہاں ٹیسٹ نہیں ہوتا لیکن ’اب ہمارے پاس روزانہ 15 سو ٹیسٹ کی صلاحیت موجود ہے جبکہ کوئٹہ شہر میں مختلف مقامات پر ٹیسٹ کے لیے پوائنٹس بھی بنائے گئے ہیں۔‘

    ان کا کہنا تھا اب ٹیسٹ کی صلاحیت بہت زیادہ ہے لیکن لوگ ٹیسٹ دینے کے لیے نہیں آرہے ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ ’شاید لوگ یہ سمجھ رہے ہیں کہ کورونا کا مکمل خطرہ ٹل گیا ہے یا کورونا کوئی مسئلہ ہی نہیں رہا۔ لیکن ایسی بات نہیں ہے کیونکہ کورونا کے کیسز اب بھی سامنے آرہے ہیں اور یہ ہمارے ارد گرد موجود ہے۔‘

    انھوں نے لوگوں سے اپیل کی کہ وہ زیادہ سے زیادہ ٹیسٹ دینے کے لیے آئیں۔ ’بلوچستان میں جہاں کورونا کے کیسز میں کمی آئی ہے وہاں بلوچستان میں کورونا سے متاثرہ لوگوں کی صحتیابی کی شرح 85 فیصد ہوگئی ہے۔‘

    حکومت بلوچستان کے ترجمان نے بتایا کہ بلوچستان میں صحتیابی کی شرح ملک کے دوسرے حصوں کے مقابلے سب سے زیادہ ہے۔