بلوچستان میں اگرچہ کورونا کے نئے متاثرین میں کمی آرہی ہے لیکن دوسری جانب حکام نے اس بات پر تشویش کا اظہار کیا ہے کہ لوگوں کی ٹیسٹنگ میں کمی آئی ہے۔
کوئٹہ میں صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے حکومت بلوچستان کے ترجمان لیاقت شاہوانی نے کہا کہ یہ خوشی کی بات ہے کہ بلوچستان کے لوگ کورونا کو کسی حد تک شکست دینے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ جون کے مقابلے جولائی میں کورونا کے کیسز میں پچاس فیصد کمی آئی ہے۔
تاہم انھوں نے بتایا کہ حکومت بلوچستان کو اس بات کی تشویش ہے کہ جون کے مقابلے میں ٹیسٹ کی تعداد میں 60 فیصد کمی آئی ہے۔
انھوں نے بتایا کہ پہلے لوگ یہ شکایت کرتے تھے کہ ہم ٹیسٹ کے لیے جاتے ہیں تو وہاں ٹیسٹ نہیں ہوتا لیکن ’اب ہمارے پاس روزانہ 15 سو ٹیسٹ کی صلاحیت موجود ہے جبکہ کوئٹہ شہر میں مختلف مقامات پر ٹیسٹ کے لیے پوائنٹس بھی بنائے گئے ہیں۔‘
ان کا کہنا تھا اب ٹیسٹ کی صلاحیت بہت زیادہ ہے لیکن لوگ ٹیسٹ دینے کے لیے نہیں آرہے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ ’شاید لوگ یہ سمجھ رہے ہیں کہ کورونا کا مکمل خطرہ ٹل گیا ہے یا کورونا کوئی مسئلہ ہی نہیں رہا۔ لیکن ایسی بات نہیں ہے کیونکہ کورونا کے کیسز اب بھی سامنے آرہے ہیں اور یہ ہمارے ارد گرد موجود ہے۔‘
انھوں نے لوگوں سے اپیل کی کہ وہ زیادہ سے زیادہ ٹیسٹ دینے کے لیے آئیں۔
’بلوچستان میں جہاں کورونا کے کیسز میں کمی آئی ہے وہاں بلوچستان میں کورونا سے متاثرہ لوگوں کی صحتیابی کی شرح 85 فیصد ہوگئی ہے۔‘
حکومت بلوچستان کے ترجمان نے بتایا کہ بلوچستان میں صحتیابی کی شرح ملک کے دوسرے حصوں کے مقابلے سب سے زیادہ ہے۔