آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

امریکہ میں ہلاکتیں ایک لاکھ 40 ہزار سے زیادہ، میکسیکو میں 5311 نئے متاثرین

امریکہ میں ہر ہفتے تقریباً پانچ ہزار لوگ وائرس سے ہلاک ہو رہے ہیں اور سب سے زیادہ متاثرہ امریکی شہروں میں حکام کے پاس مردہ خانوں میں جگہ ختم ہونے کے باعث لاشیں رکھنے کی جگہ باقی نہیں بچی ہے۔ پاکستان میں اس مرض سے اب تک دو لاکھ 64 ہزار سے زیادہ لوگ متاثر جبکہ دو لاکھ پانچ ہزار سے زیادہ صحتیاب ہو چکے ہیں۔

لائیو کوریج

  1. کورونا وائرس سے بچنے کے لیے خلائی لباس پہننے والا برازیلین جوڑا

    وہ کیا طریقہ ہو، جس سے آپ خود کو کووڈ 19 سے محفوظ بھی رکھ سکیں اور باہر نکل کر چہل قدمی بھی کر سکیں؟ اسی مشکل کا ایک دلچسپ حل ڈھونڈا ہے برازیل کے ایک جوڑے نے۔۔ حفاظتی سوٹ پہنے چہل قدمی کرتے انھیں دیکھ کر گمان تو یہ ہوتا ہے کہ آپ زمین کا نہیں بلکہ خلا کا نظارہ کر رہے ہیں۔

  2. بریکنگ, ایران میں کورونا وائرس کے بڑھتے کیسز: ترکی نے ایران کے لیے پروازیں معطل کر دیں

    ایران کی سرکاری خبررساں ایجنسی آئی آر این اے کے مطابق ایران کی سول ایوی ایشن کے ترجمان نے بتایا ہے کہ ایران میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے پیشِ نظر ترکی نے ایران کے لیے پروازیں معطل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    انھوں نے کہا کہ پروازوں کی معطلی کا آغاز سنیچر سے کر دیا گیا تھا۔ خبررساں ایجنسی آئی ایس این اے کے مطابق اس اعلان کے باعث 20 کے قریب یورپی سیاح بھی بازرگان میں ایران ترکی سرحد پر پھنس گئے ہیں کیونکہ ترکی انھیں ملک میں داخل ہونے کی اجازت نےیں دے رہا۔

    ان سیاحوں کا تعلق سویڈن، سپین، فرانس اور جرمنی سے ہے اور ان کے ساتھ ان فیملیز بھی ہیں جن میں چھوٹے بچے بھی شامل ہیں اور یہ بذریعہ ایران کیمپر ٹریلرز اور وینز میں سفر کر کے آئے تھے۔

    ایران میں سیاحت کے ڈپٹی چیف ولی تیموری نے آئی ایس این اے کو بتایا کہ ’ترکی ان سیاحوں کو کورونا وائرس کے باعث لگائی گئی پابندیوں کی وجہ سے ملک میں داخل نہیں ہونے دے رہا۔

    انھوں نے کہا کہ ان میں سے اکثر سیاح 20 دن سے سرحد پر پھنسے ہوئے ہیں اور دو ہفتوں سے ہم ترکی میں اپنے سفارت خانے کے ذریعے ان سے مذاکرات کرنے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن کوئی مثبت نتائج سامنے نہیں آ رہے۔

  3. بریکنگ, صوبہ خیبرپختونخوا میں 196 نئے مریض، مزید تین اموات

    پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کی وزارتِ صحت کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق صوبے میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مزید 196 مریض سامنے آئے ہیں جبکہ تین اموات بھی ہوئی ہیں۔

    اب تک صوبے میں کل 32086 افراد کی وائرس سے متاثر ہو چکے ہیں جبکہ 1142 ہلاک بھی ہوئے ہیں ۔

    اب تک صوبے 25006 افراد کورونا وائرس سے صحتیاب بھی ہو چکے ہیں۔

  4. بریکنگ, ایران میں مزید 209 اموات، 2182 نئے مریض

    گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ایران میں مزید 209 اموات ہوئی ہیں جبکہ 2182 نئے مریض بھی سامنے آئے ہیں۔

    وزارتِ صحت کے ترجمان کے مطابق جن افراد کے کورونا وائرس ٹیسٹ مثبت آئے ہیں ان میں سے 1324 کو ہسپتال متنقل کر دیا گیا ہے۔

    لوگوں کو بڑے اجتماعات میں شریک ہونے سے اجتناب کرنے کا کہا گیا ہے اور سماجی فاصلہ برقرار رکھنے اور ماسک پہننے کی بھی ہدایت کی گئی ہے۔

    اس کے ساتھ ہی ایران میں ہلاکتیں 14 ہزار سے تجاوز کر گئی ہیں۔

  5. کیا کورونا وائرس آپ کو دوبارہ بھی متاثر کر سکتا ہے؟

    کیا آپ کورونا وائرس سے دوبارہ متاثر ہوسکتے ہیں؟ آپ کا نظام مدافعت کسی بھی وائرس سے بچاؤ میں کیا کردار ادا کرتا ہے اور اینٹی باڈیز کیسے متاثرہ جسم کو آئندہ اس بیماری سے بچا سکتی ہیں۔ جانیے اس ڈیجیٹل ویڈیو میں۔

  6. برطانیہ کے لیے روسی سفیر کی ہیکنگ الزامات کی تردید

    برطانیہ کے لیے روسی سفیر نے برطانوی اٹیلی جنس سروسز کی جانب سے روس پر لگائے جانے والے والے ہیکنگ الزامات کی تردید کر دی ہے۔

    رواں ہفتے برطانوی انٹیلی جنس سروسز کی جانب سے دعویٰ کیا گیا تھا کہ کورونا وائرس ویکسین کے حوالے سے تحقیق کرنے والے ادارے روسی ہیکرز کے نشانے پر ہیں اور یہ ’تقریباً یقینی طور پر‘ ہیکرز ’روسی انٹیلی جنس سروسز کے طور پر کام کر رہے تھے۔

    سفیر آندری کیلن نے بی بی سی کے اینڈریو مار شو میں بتایا کہ ’میں اس کہانی پر یقین نہیں کرتا۔ یہ بے بنیاد ہے۔‘

  7. بیجنگ: ایمرجنسی رسپانس لیول کو تیسرے سے دوسرے درجے پر لے آئیں گے

    بیجنگ میں حکام کی جانب سے اتوار کو بتایا گیا کہ وہ کورونا وائرس ایمرجنسی رسپانس لیول کو تیسرے سے دوسرے درجے پر لے کر آئیں گے۔

    چینی دارالحکومت میں گذشتہ 13 روز میں کوئی بھی نیا کورونا وائرس کا کیس رپورٹ نہیں ہوا۔

    لیکن پھر بھی کچھ پابندیاں برقرار رہیں گی۔

    دی گلوبل ٹائمز کے مطابق عجائب خانوں ، لائبریریوں اور جم خانوں میں 50 فیصد افراد ہی جا سکیں گے۔

    اسی طرح کھیلوں اور نمائشوں سمیت دیگر تقریبات آہستہ آہستہ دوبارہ معمول کے مطابق منعقد کیے جانے کی اجازت مل سکے گی۔

    دیگر ممالک سے آنے والوں کو ٹیسٹ کے علاوہ طبّی معائنہ کروانا ہوگا اور اور قرنطینہ میں جانا ہو گا۔

    اتوار کو سنکیانگ صوبے میں کورونا کے 13 کیسز سامنے آئے۔

    سنیچر کو ارمچی کے ایک عہدے دار نے کہا تھا کہ پورا شہر حالت جنگ میں ہے اور تمام گروہی سرگرمیاں ملتوی کر دی جائیں گی۔

  8. خاموشیوں کا شہر: وُوہان میں سوالات کے جوابات کی تلاش جہاں سے کورونا وائرس کی وبا کا آغاز ہوا, جان سڈورتھ بی بی سی نیوز

    یہ چین کاوہ شہر ہے جہاں سب سے پہلے وائرس کا پتہ چلا تھا اور اسی شہر میں اس پر سب سے پہلے قابو پایا گیا تھا۔ اور اسی شہر سے ہی اس وائرس کے آغاز کی اصل جگہ ڈھونڈنی چاہیے۔ اس وقت امریکہ اور چین کے درمیان بڑھتیہوئیپروپیگنڈا جنگ میں اصل سوالیہہےکہ: کیا کورونا وائرس قدرتی ذریعے سے آیا ہے جیسا کہ کئی سائنسدان کہہ رہے ہیں، یا یہ کسی لیبارٹری میں تیار ہوا تھا جہاں سے اس کا اخراج ہوا؟

    وُوہان شہر کے مضافات میں ایک گاؤں کے گھر کے چھوٹے سے کمرے میں میز پر ایک بزرگ خاتون ہاتھوں سے کھٹ کھٹ آواز میں بجاتے ہوئے کچھ گا رہی ہیں۔ اُن کے سامنے ایک اور عورت ہلکی آواز میں سسکیاں لیتی ہوئی رو رہی ہے۔ اس برس فروری کے اوائل میں ان کے 44 برس کے بھائی کورونا وائرس کی وجہ سے ہلاک ہو گئے تھے، اور وہ اس وجہ سے اپنے آپ کو معاف نہ کر پائیں۔

  9. گذشتہ ہفتے کا پاکستان تصاویر میں

  10. میلبرن میں ماسک پہننا لازمی قرار دے دیا گیا

    وکٹوریا سٹیٹ میں مزید 363 کیسز سامنے آئے ہیں۔ اس وقت میلبرن اور اس کے کچھ نواحی علاقوں میں لاک ڈاؤن ہے۔

    وزیراعظم نے اپنے پیغام میں کہا ہے کہ آپ اپنے گھروں سے ماسک کے بغیر نہیں نکل سکتے۔ اسے وہاں پہن لیں جہاں یہ وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے ضروری ہے۔

    جو لوگ اس حکم پر عمل نہیں کریں گے انھیں 200 ڈالر جرمانہ ادا کرنا پڑے گا۔

    ماسک کا استعمال میلبرن اور مچل شائر میں بدھ کی شب سے ضروری ہو گا۔

    خیال رہے کہ آسٹریلیا میں اب تک کورونا وائرس کے 12000 کیسز سامنے آ چکے ہیں اور 122 اموات کی تصدیق ہوئی ہے۔

  11. قومی سطح پر پھر سے لاک ڈاؤن نہیں کرنا چاہتے: بورس جانسن

    برطانوی وزیراعظم بورس جانسن کا کہنا ہے کہ وہ کورونا وائرس کی ایک اور لہر کے نتیجے میں ملگیر سطح پر دوسرا لاک ڈاؤن نہیں نافذ کرنا چاہتے۔

    سنڈے ٹیلی گراف سے گفتگو میں انھوں نے کہا کہ ملک میں ایک اور شٹ ڈاؤن 'جوہری روک تھام' جیسے آپشن جیسا ہو گا۔

    وہ کہتے ہیں کہ وہ سمجھتے ہیں کہ ملک ویسی حالت میں چلا جائے گا۔

    لیکن دوسری جانب ملک میں چیف سائنس دان کا کہنا ہے کہ اس خطرہ ہے اور سردیوں کی آمد کے بعد ایسے اقدامات کرنے پڑ سکتے ہیں۔

  12. ہانگ کانگ: ایک دن میں 100 سے زیادہ مریض، 'صورتحال واقعی تشویشناک ہے'

    ہانگ کانگ کی لیڈر کیری لیم نے کہا ہے کہ ابھی یہاں وائرس کنٹرول میں نہیں۔ ان کا یہ بیان اتوار کو 100 نئے کیسز سامنے آنے کے بعد آیا ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ میں سمجھتی ہوں کہ صورتحال واقعی تشویشناک ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ جن سرکاری ملازمین کا دفتر جانا ضروری نہیں وہ پیر سے گھر سے ہی کام کریں گے۔

    انھوں نے بتایا کہ شہر میں ایک لاکھ 80 ہزار سے زیادہ سرکاری ملازمین ہیں۔

    مزید ایک ہفتے کے لیے جم، تفریحی پارک اور دیگر جگہوں کو بند کر دیا گیا ہے۔

    اب تک ہانگ کانگ میں 12 ہلاکتیں اور کورونا وائرس کے 2000 کیسز سامنے آ چکے ہیں۔

  13. بریکنگ, متحدہ عرب امارات: تجرباتی ویکسین کے لیے ہزاروں رضا کار رجسٹرڈ

    متحدہ عرب امارات میں ہزاروں افراد نے کورونا وائرس کے خاتمے کے لیے تجرباتی ویکسین لگوانے کے لیے اپنا نام رجسٹر کروایا ہے۔

    18 جولائی کو ابوظہبی میں محکمہ صحت کی جانب سے بتایا گیا کہ دوبئی اور العین کے تقریباً 5000 رہائشیوں نے اماراتی ویب سائٹ پر کووڈ ویکسین کے حوالے سے رجسٹریشن اوپن ہونے کے بعد 24 گھنٹوں کے دوران رجسٹریشن کروائی۔

    بتایا گیا ہے کہ رضا کارانہ طور پر اس تجرباتی ویکسن کو لگوانے کے لیے رجسٹر ہونے والوں کو پہلی ڈوز دے دی گئی ہے۔

    ویب سائٹ کے مطابق ابو ظہبی اور العین عالمی ادارہ صحت کی جانب سے بنائی جانے والی پہلی ویکسین کے تیسرے مرحلے میں شامل ہیں۔ یہ ویکسین کو عام لوگوں کے لیے استعمال کی اجازت کی جانب آخری قدم ہے۔

    اس تجرباتی مرحلے میں 15000 رضاکاروں کو شامل کیے جانے کا امکان ہے۔

    حکام کے مطابق عرب امارات میں اب تک 337 ہلاکتیں ہو چکی ہیں اور کورونا وائرس سے متاثر ہونے والوں کی تعداد 56422 ہے۔

  14. ’میرے شوہر کی موت کورونا سے ہوئی اور مجھے ان کی لاش چار ماہ بعد ملی'

  15. بریکنگ, صوبہ پنجاب: مزید 12 ہلاکتیں اور 328 نئے کیسز

    پاکستان کے صوبہ پنجاب میں کورونا وائرس کے 328 نئے کیسز سامنے آنے کے بعد

    تعداد 89,793 ہو گئی۔

    ترجمان پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کیئر لاہور کی جانب سے اتوار کو جاری کیے جانے والے اعداد و شمار میں بتایا گیا ہے کہ صوبے میں وائرس کے نتیجے میں مزید 12 افراد ہلاک ہوئے ہیں جس کے بعد مجموعی ہلاکتوں کی کل تعداد2079 ہو گئی ہے۔

    ترجمان کے مطابق اب تک644,077 ٹیسٹ کیے جا چکے ہیں اور کورونا وائرس کو شکست دینے والوں کی تعداد 65,436 ہو چکی ہے۔

    مختلف علاقوں کی صورتحال:

    لاہور 133، ننکانہ 3، قصور 3، شیخوپورہ 1، راولپنڈی 12، جہلم 3، چکوال 1اورگوجرانوالہ میں 19، سیالکوٹ 8، نارووال 1، گجرات 31، حافظ آباد 1، منڈی بہاؤالدین1، ملتان 18، خانیوال 1، فیصل آباد 26 ، ٹوبہ 2 ، جھنگ 5 اور رحیم یار خان میں 4، سرگودھا 2، میانوالی 4، خوشاب 5، بھکر 2 ، بہاولنگر 2، بہاولپور11، ڈی جی خان3، مظفرگڑھ 6، راجن پور 2، ساہیوال 5، اوکاڑہ 9 اور پاکپتن میں 4 کیسز رپورٹ ہوئے۔

  16. بریکنگ, افغانستان میں مزید 60 کورونا کیسز کی تصدیق

    افغان محکمہ صحت نے ملک میں مزید 60 کورونا کیسز کی تصدیق اور بتایا ہے کہ 24 گھنٹوں میں 17 مزید ہلاک ہوئے ہیں۔

    اطلاعات کے مطابق جمعے کو سامنے آنے والے اعداد و شمار میں بتایا گیا ہے مجموعی طور پر 35,269 افراد کورونا سے متاثر ہوئے ہیں اور ہلاکتوں کی تعداد 1164 ہو چکی ہے۔

    تاہم ابھی وزارت صحت کی جانب سے تازہ ترین رپورٹ جاری نہیں کی گئی۔

  17. قربانی کے لیے آن لائن خرید و فروخت

    پاکستان میں عید الاضحیٰ کے موقع پر جانوروں کی قربانی کے لیے ترجیح مویشی منڈی سے جانور کی خرید کو دی جاتی ہے۔ لیکن اس بار کورونا وائرس کے باعث آن لائن خریداری اور بکنگ بھی دیکنھے کو مل رہی ہے۔

    اس میں خاندان کی سطح پر یا محلے اور علاقے میں مدارس یا مساجد کی ٹیموں کے ہمراہ مل کر اجتماعی قربانی تو ماضی میں بھی ہوتی رہی ہے لیکن آن لائن بکروں اور بڑے جانور کی خرید و فروخت شاید اس بار زیادہ دکھائی دے۔

    دارالحکومت اسلام آباد میں ابھی جانوروں کی منڈی لگی تو نہیں لیکن انتظامیہ کا موقف کہ کورونا کی وبا کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے حفاظتی تدابیر کو اپنا لازم ہوگا۔

    ظہیر الدین کا دارالحکومت میں ہی ایک فارم ہاؤس ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ اس بار جانور تو زیادہ ہے لیکن بیوپاری کم۔

    وہ کہتے ہیں کہ کورونا کی وبا کی وجہ سے گذشتہ 4 ماہ میں گوشت کے استعمال میں کمی کی وجہ شادیوں اور دیگر تقریبات کا نہ ہونا ہے۔

    ان کا کہنا ہے کہ خریدار چاہتے ہیں کہ ایک بکرا 25 سے 30 ہزار میں مل جائے لیکن اس بار اوسط قیمت 40 کے قریب ہے۔

    ان کا کہنا ہے کہ اس بار ہم زیادہ تر آن لائن یعنی واٹس ایپ گروپس اور فیس بک کے ذریعے اپنے جانوروں کے ریٹ اور تصاویر اور ویڈیوز شیئر کر رہے ہیں۔

    آن لائن سسٹم میں جانور کے گلے میں نمبر بھی ڈال دیا جاتا ہے تاکہ خریدار کے لیے شناخت آسان رہے لیکن ظہیر کہتے ہیں کہ بہت سے لوگ آن لائن خرید سے اس لیے بھی کتراتے ہیں کیونکہ اگر وہ جنور کے بجائے گوشت موصول کرتے ہیں تو انھیں یہ معلوم نہیں ہو سکتا کہ جانور کی عمر قربانی کی شرائط کو پوری کر رہی ہے یا نہیں۔

  18. پاکستان میں سیاحت کی اجازت نہیں مگر سیاحتی مقامات پر رش بڑھ رہا ہے

    اگرچہ پاکستان میں صوبہ خیبر پختونخوا کی حکومت نے باضابطہ طورہر سیاحت کی اجازت نہیں دی۔ تاہم دیکھا یہ جا رہا ہے کہ شمالی علاقہ جات میں سیاحوں کا رش بڑھتا جا رہا ہے۔

    یہ جھیل سیف الملوک کا منظر ہے جہاں اس وقت درجنوں سیاح موجود ہیں۔

    بی بی سی سے گفتگو میں انھیں میں وہاں موجود ایک سیاح طاہر محمود نے بتایا کہ ہمیں وہاں تک پہنچنے میں کوئی مشکل نہیں ہوئی کوئی چیکنگ نہیں کی جا رہی نہ روک ٹوک ہے۔

    وہ کہتے ہیں کہ یہاں لوگوں کی بڑی تعداد موجود ہے اور زیادہ تر صوبہ پنجاب کے لوگ دیکھنے کو ملے۔

  19. کورونا وائرس: کیا ماسک پہننے سے وائرس کی منتقلی سے بچا جا سکتا ہے؟

    کسی بھی وائرس کے پھیلنے کے بعد سب سے زیادہ نظر آنے والی تصاویر ڈاکٹروں والے ماسک پہنے لوگوں کی دکھائی دیتی ہیں۔

    انفیکشن سے بچنے کے لیے ایسے نقاب یا ماسک کا استعمال دنیا کے بہت سے ممالک میں مقبول ہے۔ خاص طور پر چین میں کورونا وائرس کے حالیہ پھیلاؤ کے دوران ان کا استعمال بڑھ گیا ہے جبکہ ایسے ہی ماسک چین میں بڑے پیمانے پر پائی جانے والی فضائی آلودگی سے بچنے کے لیے بھی پہنے جاتے ہیں۔

    تاہم ماہرین فضا سے پھیلنے والے وائرس سے بچاؤ میں ماسک کے پراثر ہونے کو شک کی نظر سے دیکھتے ہیں۔

    لیکن کچھ ایسے شواہد ہیں جن سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ ماسک وائرس کی ہاتھوں سے منہ تک منتقلی روکنے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔

  20. لاک ڈاؤن کے بعد انڈیا کے مسلمان مزدوروں کے لیے زندگی کیسے مشکل ہو گی؟