پاکستان میں عید الاضحیٰ کے موقع پر جانوروں کی قربانی کے لیے ترجیح مویشی منڈی سے جانور کی خرید کو دی جاتی ہے۔ لیکن اس بار کورونا وائرس کے باعث آن لائن خریداری اور بکنگ بھی دیکنھے کو مل رہی ہے۔
اس میں خاندان کی سطح پر یا محلے اور علاقے میں مدارس یا مساجد کی ٹیموں کے ہمراہ مل کر اجتماعی قربانی تو ماضی میں بھی ہوتی رہی ہے لیکن آن لائن بکروں اور بڑے جانور کی خرید و فروخت شاید اس بار زیادہ دکھائی دے۔
دارالحکومت اسلام آباد میں ابھی جانوروں کی منڈی لگی تو نہیں لیکن انتظامیہ کا موقف کہ کورونا کی وبا کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے حفاظتی تدابیر کو اپنا لازم ہوگا۔
ظہیر الدین کا دارالحکومت میں ہی ایک فارم ہاؤس ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ اس بار جانور تو زیادہ ہے لیکن بیوپاری کم۔
وہ کہتے ہیں کہ کورونا کی وبا کی وجہ سے گذشتہ 4 ماہ میں گوشت کے استعمال میں کمی کی وجہ شادیوں اور دیگر تقریبات کا نہ ہونا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ خریدار چاہتے ہیں کہ ایک بکرا 25 سے 30 ہزار میں مل جائے لیکن اس بار اوسط قیمت 40 کے قریب ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ اس بار ہم زیادہ تر آن لائن یعنی واٹس ایپ گروپس اور فیس بک کے ذریعے اپنے جانوروں کے ریٹ اور تصاویر اور ویڈیوز شیئر کر رہے ہیں۔
آن لائن سسٹم میں جانور کے گلے میں نمبر بھی ڈال دیا جاتا ہے تاکہ خریدار کے لیے شناخت آسان رہے لیکن ظہیر کہتے ہیں کہ بہت سے لوگ آن لائن خرید سے اس لیے بھی کتراتے ہیں کیونکہ اگر وہ جنور کے بجائے گوشت موصول کرتے ہیں تو انھیں یہ معلوم نہیں ہو سکتا کہ جانور کی عمر قربانی کی شرائط کو پوری کر رہی ہے یا نہیں۔