آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

کورونا وائرس: بیماریوں سے بچاؤ کے لیے بچے ویکسین تک رسائی سے محروم

دنیا میں اس وقت کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد ایک کروڑ 31 لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے جبکہ پاکستان میں متاثرین کی کل تعداد دو لاکھ 55 ہزار سے بڑھ گئی ہے۔ دوسری جانب حکومتِ پنجاب نے صوبے میں کورونا وائرس کے حوالے سے پابندیوں میں مزید 15 روز کی توسیع کر دی ہے۔

لائیو کوریج

  1. بریکنگ, پاکستان: 13 جولائی کو کورونا سے 50 اموات، 1,979 نئے متاثرین

    پاکستان کے نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) کے مطابق ملک میں کورونا وائرس کے کل متاثرین کی تعداد 253,604 ہوگئی ہے جبکہ اب تک 5,320 اموات ہوئی ہیں۔

    13 جولائی کو پاکستان میں اس عالمی وبا سے 50 اموات ہوئیں۔ جبکہ 1,979 افراد میں کووڈ 19 ٹیسٹ کے نتائج مثبت آئے۔

    فی الحال کورونا سے 170,656 افراد صحتیاب ہوچکے ہیں اور 77,628 مریض زیر علاج ہیں۔ 13 جولائی کو کل 21,020 ٹیسٹ کیے گئے۔

    پاکستان میں اس وقت سب سے زیادہ 106622 متاثرین سندھ میں ہیں جبکہ سب سے زیادہ 2026 اموات پنجاب میں ہوئی ہیں۔

    362 مریض وینٹیلیٹر پر زیر علاج ہیں۔

  2. سعودی عرب میں نمازِ عید کی ادائیگی کی اجازت، لیکن صرف کچھ مساجد میں

    سعودی حکومت نے پیر کو اعلان کیا کہ شہریوں کو رواں سال کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے خدشات کے باوجود عید الاضحیٰ کی نماز کی ادائیگی کی اجازت دی جائے گی۔

    عرب نیوز کے مطابق سعودی عرب میں صرف کچھ مساجد میں عید کی نماز ادا کی جائے گی۔ تمام مساجد اور شہریوں پر لازم ہوگا کہ حکومت کی طے کردہ احتیاطی تدابیر پر عملدرآمد کریں۔

    حکومت کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لیے مہم میں تیزی لائی جارہی ہے۔ کھلے میدانوں میں نماز عید کی ادائیگی سے منع کیا گیا ہے۔

  3. کووڈ 19 کی بیماری دماغ پر کیا اثرات مرتب کرتی ہے؟

    فالج، ہذیانی کیفیت، اضطراب، پریشانی، تھکن، اور اس جیسی ایک طویل فہرست۔ اگر آپ کو لگتا ہے کہ کووڈ 19 نظام تنفس کی بیماری ہے تو دوبارہ سوچیے۔۔۔

    جیسے جیسے دن گزرتے جا رہے ہیں، یہ واضح ہوتا جا رہا ہے کہ کورونا وائرس مختلف نوعیت کی دماغی بیماریوں کا موجب ہے۔

    ایسے کئی لوگ جو اس بیماری سے متاثر ہوئے انھوں نے مجھ سے بعد میں رابطہ کیا اور بتایا کہ انھیں شدید نوعیت کا مرض نہیں ہوا تھا مگر اس کے باوجود کئی دن گزر جانے کے باوجود انھیں محسوس ہوتا ہے کہ ان کی یادداشت متاثر ہوئی ہے، وہ ہر وقت تھکن محسوس کرتے ہیں اور توجہ ایک جگہ مرکوز کرنے سے قاصر رہتے ہیں۔

    لیکن وہ جو اس بیماری سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں، ان کے ساتھ ہونے والے واقعات زیادہ باعث پریشانی ہیں۔

  4. کیلیفورنیا میں ریستوران، شراب خانے میں کاروبار کا آغاز ہونے کے بعد دوبارہ بند کرنے کا حکم

    امریکی ریاست کیلیفورنیا میں گورنر گیون نیوزوم نے ریاست میں تمام شراب خانوں، ریستوران، سنیما اور عجائب گھروں کو ’انڈور‘ آپریشن یعنی وہ جو چار دیواری کے اندر کاروبار چلا رہے ہوں، انھیں فوری طور پر بند کرنے کا حکم دیا ہے۔

    واضح رہے کہ کیلیفورنیا نے صرف حال ہی میں کاروباری سلسلہ کو بحال کیا تھا۔

    ان پابندیوں کے علاوہ ریاست کی 30 کاؤنٹیوں میں حکم صادر کیا گیا ہے کہ وہاں عبادت گاہیں، جمنازیم، حجام کی دکانیں ور شاپنگ سینٹرز وغیرہ اپنے انڈور آپریشن معطل کر دیں۔

    کیلیفورنیا میں کورونا وائرس بہت تیزی سے پھیل رہا ہے اور گذشتہ ایک ہفتے کے دوران اوسطاً 8211 متاثرین ہر روز سامنے آئے ہیں۔

    ریاست میں کورونا وائرس مثبت آنے کی شرح جو چند ہفتے قبل 6.1 فیصد تھی، اب بڑھ کر 7.4 فیصد ہو گئی ہے۔

    یہ ایک ایسے وقت ہوا ہے جب امریکہ میں مجموعی متاثرین کی تعداد 33 لاکھ سے زیادہ ہو گئی ہے اور اب تک 135000 امریکی وائرس سے ہلاک ہو چکے ہیں۔

  5. پاکستان میں 133 لیبز میں ٹیسٹنگ کی سہولت، 71 ہزار یومیہ ٹیسٹ کرنے کی صلاحیت

    پاکستان میں کورونا وائرس سے نمٹنے والے مرکزی ادارے نیشنل کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر کی جانب سے یومیہ رپورٹ کے مطابق پاکستان میں کورون وائرس کا ٹیسٹ کرنے کے لیے 133 لیبز مختص کی گئی ہیں جہاں یومیہ 71 ہزار سے زیادہ ٹیسٹس ہو سکتے ہیں۔

    تاہم اگر اعداد و شمار کو دیکھا جائے تو نظر آتا ہے کہ جہاں ایک جانب 20 جون سے ملک میں یومیہ صلاحیت 71 ہزار سے اوپر گئی، اس کے بعد سے پاکستان میں ٹیسٹنگ کی تعداد میں صرف کمی نظر آئی ہے۔

    پاکستان نے اگلے 23 دنوں میں 23 ہزار یومیہ کی اوسط سے ٹیسٹ کیے ہیں جس میں سب سے زیادہ ٹیسٹ 21 جون کو 30 ہزار اور 29 جون کو 20 ہزار تھے۔

  6. پاکستان میں یومیہ متاثرین کی تعداد میں بتدریج کمی کا رحجان: عالمی ادارہ صحت کی یومیہ رپورٹ

    عالمی ادارہ صحت کی پاکستان میں کورونا وائرس کے حوالے سے جاری کردی یومیہ رپورٹ کے مطابق ملک میں پہلی مئی سے 12 جولائی تک کے اعداد و شمار کی روشنی میں یہ نظر آ رہا ہے کہ بیماری کے پھیلاؤ میں کمی دیکھنے میں آ رہی ہے اور جون کے پہلے تین ہفتوں میں جو تیزی نظر آئی تھی، اب وہ بتدریج کم ہوتی جا رہی ہے۔

    اسی رپورٹ میں دیکھا جائے تو نظر آتا ہے کہ اموات میں کمی ضرور آئی ہے لیکن اس میں اتنی تیز رفتاری نہیں ہے۔

    اگر صرف جولائی کی بات کی جائے تو پاکستان میں اب تک اس ماہ 800 سے زیادہ اموات واقع ہوئی ہیں اور ملک میں شرح اموات ابھی بھی 2.28 کے قریب ہے۔

  7. پنجاب میں تقریباً چھ ہزار افراد مزید صحتیاب، گذشتہ 24 گھنٹوں میں 13 اموات

    پاکستان کے صوبے پنجاب میں جہاں ایک جانب نئے مریضوں کی تشخیص میں کمی آئی ہے، وہیں خاص بات صوبے میں صحتیاب افراد کی تعداد میں اضافہ ہے اور صرف اس مہینے کے 13 دنوں میں پنجاب میں 36 ہزار افراد صحتیاب ہو چکے ہیں اور اب صوبے میں کل صحتیاب ہونے والے افراد کا تناسب 70 فیصد سے زیادہ ہو چکا ہے۔

    اس کے علاوہ گذشتہ 24 گھنٹوں میں 13 افراد کی ہلاکت رپورٹ ہوئی جبکہ نئے متاثرین کی تعداد 449 رپورٹ ہوئی۔

    دوسری جانب گلگت بلتستان میں بھی 26 نئے مریض سامنے آئے اور کوئی ہلاکت نہیں ہوئی۔

  8. امریکی فوج میں انفیکشن کی شرح عام عوام سے دو گنا زیادہ

    اخبار ملٹری ٹائمز کے ایک تجزیے کے مطابق امریکی فوج میں کووڈ 19 انفیکشن کی شرح عام عوام کی نسبت دو گنا تیزی سے بڑھ رہی ہے۔

    اخبار نے رپورٹ کیا ہے کہ یکم جولائی سے 4,100 امریکی فوجیوں اور میرینز کے ٹیسٹ مثبت آئے ہیں، جو کہ 10 دنوں میں 33 فیصد اضافہ ہے۔

    اسی دوران امریکہ میں کووڈ 19 کی شرح 16 فیصد ریکارڈ کی گئی ہے۔

    وبا سے صرف امریکہ میں ہی فوجی متاثر نہیں ہوئے بلکہ دنیا میں کئی مقامات پر تعینات کی گئی امریکی فورسز اس کا شکار ہوئی ہیں۔

    صرف جاپان کے شہر اوکیناوا میں ایک امریکی فوجی اڈے پر 95 امریکی فوجیوں کا کورونا ٹسیٹ مثبت آیا ہے۔

  9. کورونا وائرس کو سمجھنے کے لیے ’R‘ نمبر کی اتنی اہمیت کیوں ہے؟

    کورورنا وائرس کے خطرے کو سمجھنے کے لیے ایک سادہ لیکن نہایت اہم چیز ریپروڈکشن نمبر ہے جسے عرف عام میں اس کے مخفف ’آر‘ سے شناخت کیا جاتا ہے۔

    یہ نمبر دنیا بھر میں حکومتوں کی رہنمائی کر رہا ہے کہ وبا کے دوران انسانی جانیں بچانے کے لیے انھیں کیا کرنا چاہیے اور یہ ہمیں ایسے اشارے دینے کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے کہ کس حد تک لاک ڈاؤن اٹھایا جا سکتا ہے۔

    آر (R) کیا ہے؟

    ریپروڈکشن نمبر وہ طریقہ ہے جس کے ذریعے بیماری کی پھیلنے کی صلاحیت کی درجہ بندی کی جاتی ہے۔

    یہ ان افراد کی ایک اوسط تعداد ہے جن کو ایک متاثرہ شخص وائرس منتقل کرے گا۔ اس میں یہ قیاس کیا جاتا ہے کہ وائرس کے خلاف کسی میں مدافعت نہیں ہے اور بیماری سے بچنے کے لیے لوگ اپنا رویہ نہیں بدل رہے ہیں۔

    اس وقت تک خسرے کا ریپروڈکشن نمبر سب سے زیادہ ریکارڈ کیا گیا ہے جو کہ 15 ہے۔ یہ خوفناک وبا پھیلا سکتا ہے۔

    نئے کورونا وائرس جسے سارس۔کوو۔2 کے نام سے پکارا جاتا ہے، کا ریپروڈکشن نمبر 3 ہے لیکن اس کے متعلق اندازے بدلتے رہتے ہیں۔ مزید پڑھیے

  10. جرمنی: جزیرے میورکا پر پارٹیاں کرنے والے سیاحوں کو تنبیہ, جینی ہل، بی بی سی برلن

    جرمنی کے وزیر صحت نے اس ہفتے کے آخر میں سینکڑوں جرمن سیاحوں کی ہسپانوی جزیرے میورکا پر معاشرتی فاصلے کے قوانین کی خلاف ورزی کرنے والی تصاویر سامنے آنے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

    جینس سپن نے جرمن سیاحوں کو تنبیہ کرتے ہوئے کہا کہ کورونا وائرس کا وبائی مرض ختم نہیں ہوا ہے۔

    تصاویر میں جرمن سیاحوں کے ہجوم کو بنا ماسک پہنے میورکا کی گلیوں اور شراب خانوں میں پارٹی کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔ ان تصاویر نے جرمنی اور سپین کے حکام کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔

    یہ جزیرہ جرمن اور برطانوی سیاحوں کی پسندیدہ جگہ ہے۔ چند ہفتوں پہلے سفری پابندیوں اور لاک ڈاؤن کے خاتمے کے بعد بہت سے جرمن باشندوں نے تعطیلات منانے کے لیے جزیرے کا رخ کیا۔

    جینس سپن نے کہا کہ جزیرے کو دوسرا ایشگل نہیں بننا چاہیے، وہ آسٹریا کے اس ریزورٹ کا حوالہ دے رہے تھے جو کورونا وائرس کا مرکز بن گیا تھا اور اور جرمنی میں آنے والے پہلے متاثرین کا تعلق بھی اسی ریزورٹ سے تھا۔

    ملک میں سیاحت کے شعبے کو دوبارہ شروع کرنے میں مدد کے لیے پائلٹ سکیم کے ایک حصے کے طور پر گذشتہ ماہ جرمنی کے باشندوں کو سپین کے بیلاری جزیرے جانے کی اجازت دی گئی تھی۔

  11. ہانگ کانگ کا ڈزنی لینڈ پھر سے بند کیا جا رہا ہے

    ہانگ کانگ میں کورونا وائرس متاثرین میں اضافے کے بعد والٹ ڈزنی نے اعلان کیا ہے کہ وہ 15 جولائی کو ہانگ کانگ کے تھیم پارک کو ایک بار پھر عارضی طور پر بند کردے گا۔

    ڈزنی لینڈ ہانگ کانگ جنوری سے بند تھا لیکن ایک ماہ سے بھی کم وقت پہلے اسے دوبارہ کھولا گیا تھا۔

    ہانگ کانگ اب تک دوسرے ممالک کے مقابلے میں انفیکشن کو روکنے میں کامیاب رہا ہے۔ جنوری کے آخر سے لے کر اب تک ہانگ کانگ میں تقریباً 1500 متاثرین کی تصدیق ہوئی ہے۔

    لیکن پیر کے روز ہانگ کانگ میں 52 متاثرین رپورٹ ہوئے جس کے نتیجے میں حکام معاشرتی فاصلے کے قوانین کو سخت کرنے پر مجبور ہو گئے۔

    ڈزنی نے پیر کو ایک بیان میں کہا ’حکومت اور صحت کے حکام کی ہدایات کے مدِنظر ہانگ کانگ کا ڈزنی لینڈ پارک عارضی طور پر 15 جولائی سے بند ہو جائے گا تاکہ وائرس پر قابو پایا جا سکے۔‘

    ریزورٹ میں موجود ہوٹل حفاظتی اقدامات میں اضافے کے ساتھ کھلے رہیں گے۔

    یہ بندش امریکی ریاست فلوریڈا میں ڈزنی کے سب سے بڑے ریزورٹ والٹ ڈزنی ورلڈ کے دوبارہ کھولنے کے چند ہی دن بعد سامنے آئی ہے۔ فلوریڈا میں اتوار کے روز کورونا وائرس کے 15000 متاثرین سامنے آئے تھے۔

  12. ہوائی سفر کرتے ہوئے کن چیزوں کا خیال رکھیں؟

    ہوائی جہاز پر سفر کرنا اور چھٹیوں پر جانا اب اُس سے بالکل مختلف محسوس ہوگاجتنا دو ہزار بیس کے آغاز میں تھا۔ ہوائی اڈے اور ایئر لائنز دونوں ہی دوبارہ سفر شروع کرنے کے طریقوں میں تبدیلیاں کر رہے ہیں۔

    ان میں وہ اقدامات شامل ہیں جو کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے امکانات کو کم کرنے اور سماجی فاصلے کو یقینی بنانے میں مدد گار ثابت ہونگے۔

    دنیا بھر میں اپنائے جانے والے یہ نئے طریقہ کار کیا ہیں اور پاکستان میں ہوائی سفر کے بعد ملک میں داخل ہونے والوں کے لئے حکومت کی جانب سے کیا اصول وضح کئے گئے ہیں جانیے اس پوڈکاسٹ میں۔

  13. برطانیہ میں کورونا وائرس سے مزید 11 ہلاکتیں

    برطانیہ کے ڈیپارٹمنٹ آف ہیلتھ اینڈ سوشل کیئر کے مطابق ملک میں کورونا وائرس کا ٹیسٹ مثبت آنے والے مزید 11 افراد کی موت واقع ہو گئی ہے۔

    خیال ہے کہ جب سے لاک ڈاؤن کا اعلان ہوا ہے یہ ہلاک ہونے والوں کی سب سے کم تعداد ہے۔ تاہم سوموار کو ویسے بھی ہلاک ہونے والوں کی کم ہی تعداد ہوتی ہے کیونکہ اختتامِ ہفتہ پر کم ہلاکتیں رپورٹ کی جاتی ہیں۔

    اس کا یہ مطلب ہے کہ ڈی ایچ ایس سی کو گزشتہ 24 گھنٹوں میں 11 اموات رپورٹ کی گئیں، لیکن ہو سکتا ہے کہ کچھ افراد کئی دن پہلے ہلاک ہوئے تھے۔

    برطانیہ کی انفرادی قومیں مختلف طریقے سے ڈی ایچ ایس سی کو اموات رپورٹ کرتی ہیں، اسی لیے ان کے اعداد و شمار برطانیہ کے ٹوٹل سے مختلف ہوتے ہیں۔

  14. بلوچستان میں اپریل کے بعد کورونا وائرس متاثرین کی سب سے کم تعداد رپورٹ

    پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں کورونا وائرس کے سات نئے متاثرین سامنے آئے ہیں جس کے بعد متاثرین کی مجموعی تعداد 11192 ہوگئی ہے۔

    کورونا سے ہلاک ہونے والے افراد کی مصدقہ تعداد 126 ہے۔

    محکمہ صحت حکومت بلوچستان کے ترجمان ڈاکٹر وسیم بیگ کے مطابق 13جولائی کو کورونا کے 204 ٹیسٹ کیے گئے جن میں سے سات پازیٹو آئے۔

    بلوچستان میں اپریل کے وسط کے بعد کورونا کے متاثرین کی یہ سب سے کم تعداد رپورٹ ہوئی ہے۔

    بلوچستان میں اب تک کورونا کے مجموعی طور پر53864 ٹیسٹ کیے گئے ہیں جن میں سے 42672 کے نتائج منفی آئے۔

    بلوچستان میں مجموعی طور پر117559 افراد کی سکریننگ کی گئی ہے۔ کورونا وائرس سے اب تک 7812 افراد صحتیاب ہوئے ہیں۔

  15. خیبر پختونخوا میں کورونا وائرس کے 261 نئے مریض، مزید سات اموات

    پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کورونا کے 261 نئے متاثرین سامنے آئے ہیں جس کے بعد صوبے میں متاثرین کی تعداد 30747 ہوگئی ہے۔

    گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مزید سات افراد دم توڑ گئے ہیں جس کے بعد صوبے میں وائرس سے ہونے والی اموات کی تعداد 1106 ہو گئی ہے۔

    صوبے میں 154 مزید مریض صحتیاب ہوئے جس کے بعد اب تک صحتیاب ہونے والوں کی مجموعی تعداد 21312 ہو گئی ہے۔

  16. ’الیکٹریکل دوری‘: برطانوی پب نے برقی باڑ لگا دی

    ایک برطانوی پب مالک نے سماجی دوری کو یقینی بنانے کے لیے بار اور گاہکوں کے درمیان برقی تار لگا دیے ہیں۔

    کورن وال کے علاقے سینٹ جسٹ کے سٹار ان پب کے مالک جان مکفیڈن نے کہا کہ ان کے چپوٹے پب میں محدود جگہ تھی اور انھیں کچھ گاہکوں کو سماجی دوری کا پیغام سمجھانے میں بڑی دشواری ہو رہی تھی۔

    انھوں نے کہا کہ یہ رکاوٹ ’ایک عام سی برقی باڑ ہے جو آپ کو کھیتوں میں بھی نظر آتی ہے۔‘

    جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا اسے ’آن‘ کیا جاتا ہے تو مکفیڈن نے کہا: ’آئیں اور پتہ کریں، یہاں ایک خوف کا عنصر ہے جو کام کرتا ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ باڑ باز رکھنے کے لیے ایک اچھی چیز ہے کیونکہ گاہک ’یہ جاننے کے لیے اسے چھونا نہیں چاہتے کہ یہ آن ہے یا نہیں۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ ’لوگ اس سے دور رہتے ہیں، لوگ بھیڑوں کی طرح ہیں۔‘

  17. کورونا وائرس: کورونا انسانی جسم پر کیسے حملہ آور ہوتا ہے؟

    چین سے شروع ہو کر دنیا کے بیشتر ممالک میں پھیلنے والے کورونا وائرس کے انفیکشن سے لڑنے والے ڈاکٹروں کی لڑائی ایسی ہے جیسے وہ کسی نامعلوم دشمن کے خلاف لڑ رہے ہوں۔

    یہ آپ کے جسم پر کیسے حملہ آور ہوتا ہے؟ انفیکشن کے بعد انسانی جسم میں کس قسم کی علامات پیداہوتی ہیں؟

    کن لوگوں کے لیے شدید بیمار ہونے یا مرنے کے خدشات زیادہ ہوتے ہیں؟ اور آپ اس کا علاج کس طرح کریں گے؟

    چین کے شہر ووہان کے جنینٹان ہسپتال میں اس وبائی مرض کا علاج کرنے والی ڈاکٹروں کی ٹیم نے اب ان سوالات کے جوابات دینا شروع کردیئے ہیں۔

    کورونا وائرس سے متاثر ہونے والے پہلے 99 مریضوں کے علاج سے متعلق مفصل رپورٹ لانسیٹ میڈیکل جرنل میں شائع ہوئی ہے۔ مزید پڑھیے

  18. ’بہت سارے ممالک غلط سمت کی جانب گامزن ہیں‘ عالمی ادارہ صحت کا انتباہ

    عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے سربراہ نے متنبہ کیا ہے کہ اگر بعض حکومتیں کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے فیصلہ کن اقدام نہیں اٹھاتیں تو صورتحال مزید خراب اور خراب تر ہونے والی ہے۔

    ڈاکٹر ٹیڈروس ایڈہانوم گریبیسس نے کہا کہ ہم ان ممالک میں ’متاثرین میں خطرناک اضافہ‘ دیکھ رہے ہیں جہاں ’خطرے کو کم کرنے کے لیے ثابت شدہ اقدامات پر عمل درآمد نہیں ہو رہا۔‘

    ڈاکٹر ٹیڈروس نے پیر کو جنیوا میں ایک بریفنگ میں کہا ’مجھے دو ٹوک الفاظ میں کہنے دیں کہ بہت سارے ممالک غلط سمت کی طرف جا رہے ہیں۔‘

    ’وائرس عوام دشمنی میں نمبر ایک ہے ، لیکن بہت ساری حکومتوں اور لوگوں کے اقدامات سے اس کی عکاسی نہیں ہوتی۔‘

    ڈاکٹر ٹیڈروس نے کہا کہ ’رہنماؤں کے ملے جلے پیغامات‘ وبائی مرض کو قابو میں کرنے کی کوششوں پر پانی پھر رہے ہیں۔

    اگرچہ ڈاکٹر ٹیڈروس نے ان رہنماؤں کا نام لے کر تذکرہ نہیں کیا ، لیکن کچھ لوگوں کا ماننا ہے کہ ان کا اشارہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور دیگر ایسے رہنماؤں کی جانب تھا جن پر وبائی مرض سے نمٹنے کے لیے وسیع پیمانے پر تنقید کی گئی ہے۔

    ڈاکٹر ٹیڈروس نے مزید کہا ’اگر بنیادی باتوں پر عمل نہیں کیا جاتا ہے تو صرف ایک ہی راستہ باقی ہے۔‘

    ’صورتحال خراب سے خراب ترین ہو جائے گی۔‘

  19. پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر: مزید 56 افراد میں کورونا وائرس کی تصدیق, ایم اے جرال، صحافی

    پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں گذشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران 337 مشتبہ افراد کا ٹیسٹ لیا گیا جس میں 20 خواتین سمیت 56 افراد میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی ہے جس کے بعد اس خطے میں کورونا وائرس سے متاثر ہونے والے افراد کی تعداد 1655 ہوگئی ہے۔

    پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں محکمہ صحت کے فوکل پرسن ڈاکٹر ندیم کے مطابق کورونا وائرس سے مظفرآباد میں ایک مریض ہلاک ہوا ہے جبکہ اس وقت تک خطے میں کورونا سے ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد 45 ہوگئی ہے۔

    ان کے مطابق کورونا وائرس سے متاثر ہونے والوں میں ایک ڈاکٹر سمیت 6 پیرا میڈیکس اہلکار بھی شامل ہیں۔

    ڈاکٹر ندیم کے مطابق کورونا وائرس سے متاثر ہونے والے ایک شخص کا تعلق مظفرآباد، 5 کا نیلم، 4 خواتین کا راولاکوٹ ، ایک خاتون سمیت 4 افراد کا باغ، 14 خواتین سمیت 32 افراد کا میرپور، ایک خاتون سمیت 8 کا بھمبر جبکہ 2 کا کوٹلی سے تعلق ہے۔

    ان کے مطابق کورونا وائرس سے 51 مریض صحتیاب ہوئے ہیں جس کے بعد اس خطے میں صحتیاب مریضوں کی تعداد 1029 ہوگئی ہے۔

    ڈاکٹر ندیم کے مطابق اب تک اس خطے میں 20306 مشتبہ افراد کے ٹیسٹ لیے گئے ہیں۔

  20. چین کا شہر ووہان لاک ڈاؤن سے کیسے نکلا؟

    وسطی چین کا بڑا شہر ووہان سے کورونا کی وبا کا آغاز ہوا اور پھر شہر 76 دن تک لاک ڈاؤن میں رہا۔ لاک ڈاؤن ختم ہونے کے دو ماہ بعد وہاں زندگی کیسی ہے؟