کووڈ۔19 کی کئی دوسری کہانیوں کی طرح یہ بھی خشک کھانسی سے شروع ہوئی۔
اس کے بعد مارچ کے اوائل میں سنجھے بھارت کو بخار ہوا، منہ کا ذائقہ جاتا رہا اور چھاتی میں درد شروع ہو گیا۔
بھارت جو جنوبی فلوریڈا کے ایک ہسپتال میں نرس ہیں، کہتے ہیں کہ انھیں وائرس ایک مریض سے ان دنوں لگا جب ہسپتال میں داخلے کے لیے کووڈ۔19 کی سکریننگ کا طریقہ اتنا سخت نہیں تھا۔ دو دن کے بعد انھیں کہا گیا کہ خود ساختہ تنہائی اختیار کر لیں۔
34 سال بھارت اس گروہ میں تو نہیں آتے جو وائرس سے غیر محفوظ ہے۔ لیکن پہلے رابطے کے 14 دن بعد ان کی کھانسی میں خون آیا اور وہ ہسپتال داخل ہو گئے۔
دو دن کے بعد ان کے گلے میں نالی لگ چکی تھی۔
گذشتہ ہفتے سے روزانہ کی بنیادوں پر فلوریڈا میں اوسطً 10 ہزار کے قریب نئے متاثرین رپورٹ ہو رہے ہیں۔ 12 جولائی کو ریاست نے 15 ہزار 300 متاثرین کے ساتھ انفیکشنز کا قومی ریکارڈ توڑا۔
ٹیکساس اور ایریزونا کے ساتھ، سن سائن سٹیٹ بھی تیزی سے ملک کی ان ریاستوں میں شامل ہو گئی ہے جہاں کووڈ۔19 کی انفیکشنز میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔
جیسے ہی متاثرین میں اضافہ ہونا شروع ہوا، ریاست کے گورنر ڈی سینٹیز نے جون میں بارز کھولنے کا فیصلہ واپس لے لیا۔ لیکن انھوں نے ریاست میں ماسک پہننے کی پابندی نہیں لگائی، اگرچہ میامی جیسی جگہوں پر مقامی رہنماؤں نے ایسا کیا۔ گورنر نے صدر ٹرمپ کی تقلید کرتے ہوئے معیشت کے کھلنے کی اہمیت پر زور دیا۔