آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

کورونا وائرس: بیماریوں سے بچاؤ کے لیے بچے ویکسین تک رسائی سے محروم

دنیا میں اس وقت کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد ایک کروڑ 31 لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے جبکہ پاکستان میں متاثرین کی کل تعداد دو لاکھ 55 ہزار سے بڑھ گئی ہے۔ دوسری جانب حکومتِ پنجاب نے صوبے میں کورونا وائرس کے حوالے سے پابندیوں میں مزید 15 روز کی توسیع کر دی ہے۔

لائیو کوریج

  1. بریکنگ, صوبہ سندھ میں 37 مریض ہلاک اور 1151 نئے کیسز

    پاکستان کے صوبہ سندھ کے حکام کے مطابق گذشتہ 24 گھنٹوں میں کورونا وائرس میں مبتلا 37 افراد ہلاک ہو گئے، 9972 ٹیسٹ کئے گئے ہیں جس کے نتیجے میں 1151 نئے کیسز سامنے آئے۔

    وزیراعلیٰ سندھ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کے دفتر سے جاری تحریری بیان میں بتایا گیا ہے کہ صوبے میں اب تک 593668 ٹیسٹ کئے گئے ہیں اور مجموعی کیسز کی تعداد 107773 کیسز ہوچکے ہیں۔

    وزیراعلیٰ سندھ کے مطابق ہلاک ہونے والوں کی مجموعی تعداد 1863 ہوگئی ہے جبکہ اس وقت 40490 مریض زیر علاج ہیں۔

    ان کا کہنا ہے کہ 38917 مریض گھروں میں آئسولیشن میں ہیں، 412 مریض آئسولیشن سینٹرز پر ہیں اور1161 مریض مختلف اسپتالوں میں زیر علاج ہیں۔

    بیان میں وزیراعلیٰ سندھ نے بتایا ہے کہ 843 مریضوں کی حالت تشویشناک ہے،121 مریض اس وقت وینٹی لیٹرز پر ہیں اور مزید1591 مریض صحتیاب ہوگئے ہیں۔

    سندھ میں اب تک صحتیاب ہونے والے مریضوں کی تعداد 65420 ہوگئی ہے۔

    تفصیلات:

    24 گھنٹوں میں صرف کراچی میں مزید 455 نئے کیسز سامنے آئے۔

    ضلع جنوبی 113، ضلع شرقی 111 اور ضلع کورنگی 75، ضلع وسطی 71، ضلع ملیر 59، ضلع غربی 26 ، جیکب آباد 64، حیدرآباد 62، خیرپور اور لاڑکانہ 57-57 نئے کیسز ،عمرکوٹ 55، شہید بینظیرآباد 50، دادو 32، شکارپور 28 ، سانگھڑ 24، میرپورخاص 23،قمبر 21، گھوٹکی 20، سکھر اور بدین14-14، کشمور 13، جامشورو اور ٹنڈوالہیار 11-11 کیسز ظاہر، مٹیاری 7، ٹنڈو محمد خان 5، ٹھٹہ 4 اور نوشہروفیروز میں 1 کیس رپورٹ ہوا۔

  2. لندن کے عجائب گھر اگست میں کھل جائیں گے

    برطانیہ کے دارالحکومت لندن میں نیشنل ہسٹری میوزیم، وکٹویا اینڈ ایلبرٹ میوزیم اور سائنس میوزیم اگست میں کھول دیے جائیں گے۔

    لندن کے جنوب کینسنگٹن میں واقع ان عجائب گھروں کو مارچ سے بند رکھا گیا ہے۔

    تین اداروں نے مل کر ایک ورچوئل تقریب کے دوران اپنے ان منصوبوں کا اعلان کیا۔

    نیشنل ہسٹری میوزیم 5 اگست کو کھلے گا جبکہ وکٹویا اینڈ ایلبرٹ میوزیم 6 اگست کو اور سائنس میوزیم 19 اگست کو کھل جائے گا۔

  3. برازیل کے جوڑے نے وائرس سے بچنے کے لیے ’سپیس سوٹ‘ پہن لیا

    عالمی سطح پر برازیل کورونا وائرس سے سب سے زیادہ متاثرہ ممالک میں سے ایک ہے۔ یہاں دوسرے نمبر پر سب سے زیادہ اموات ہوئی ہیں۔

    ایک جوڑے نے برازیل میں وائرس سے بچنے کے لیے انوکھا طریقہ اپنایا ہے۔

    66 سالہ اکاؤنٹینٹ ٹرسیو گالڈینو پھیپھڑوں کی سنگین بیماری میں مبتلا ہیں۔ اس کا مطلب ہے انھیں ہر صورت کورونا وائرس سے بچنا ہوگا۔ اس لیے وہ اور ان کی اہلیہ ریو ڈی جنیرو میں خصوصی لباس پہن کر پھرتے ہیں۔

    انھوں نے یہ سپیس سوٹ خریدے اور خلا بازوں جیسی ہیلمٹ خود بھی بنا لی۔

    اعلیٰ طبی حفاظت کے ساتھ یہ سوٹ پہن کر ٹرسیو خلا کے ساتھ اپنی محبت کا اظہار بھی کرلیتے ہیں۔

  4. چین کا شہر ووہان لاک ڈاؤن سے کیسے نکلا؟

    وسطی چین کا بڑا شہر ووہان سے کورونا کی وبا کا آغاز ہوا اور پھر شہر 76 دن تک لاک ڈاؤن میں رہا۔ لاک ڈاؤن ختم ہونے کے دو ماہ بعد وہاں زندگی کیسی ہے؟

  5. ایران: تہران میں ایک ہفتے کے لیے اکثر عوامی مقامات بند رکھنے کا اعلان

    ایرانی حکومت نے دارالحکومت تہران میں کورونا وائرس کی دوسری لہر کے خدشے کے پیش نظر دوبارہ سختیاں نافذ کر دی ہیں۔

    ضلعی انتظامیہ نے پیر کی شب اعلان کیا کہ یونیورسٹیاں، سکول، مدارس، کتب خانے، شادی ہال، بیوٹی سیلون، مساجد، سینما، تھیٹر اور عجائب گھر ایک ہفتے کے لیے بند رکھے جائیں گے۔

    سماجی، ثقافتی اور مذہبی تقریبات پر بھی عارضی طور پر پابندی لگائی گئی ہے۔

    مشرق وسطیٰ میں ایران کورونا وائرس سے سب سے زیادہ متاثرہ ملک ہے۔

    مئی کے بعد سے اموات اور نئے متاثرین میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ حکومت نے اس دوران کاروبار، تعلیمی اور عبادت گاہیں کھول دی تھیں۔

    13 جولائی کو ایران میں 203 مزید اموات ہوئی اور اب کل ہلاکتوں کی تعداد 13032 ہوگئی ہے۔ 2349 افراد میں کورونا کی تشخیص ہوئی۔

  6. ایشیا کے ’چمکتے ستارے‘ کی معیشت کو بد ترین دھچکا

    کورونا وائرس سے بچاؤ کے لیے کیے گئے اقدامات کی بدولت عالمی معیشت کو کافی نقصان ہوا ہے۔ ہمیں ابتدائی علامات سے معلوم ہوا ہے کہ یہ نقصان کتنا سنگین ہے۔

    نئے اعداد و شمار کے مطابق سنگاپور کی معیشت کو آخری تین ماہ میں شدید بحران کا سامنا رہا ہے۔

    پچھلے تین ماہ میں معاشی پیداوار گذشتہ سال اسی دوران کے مقابلے 41.2 فیصد گِر گئی۔ یہ ملک کے لیے بدترین گراوٹ ثابت ہوئی ہے۔

    حکام نے پیشگوئی کی ہے کہ سنہ 1965 میں برطانیہ سے آزادی کے بعد سے سنگاپور بدترین بحران کی طرف جا رہا ہے۔

  7. انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کو سیاحت کے لیے کھولنے کا فیصلہ

    انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں حکام کا کہنا ہے کہ منگل سے جموں و کشمیر کو سیاحت کے لیے کھول دیا جائے گا۔

    حفاظتی ہدایات کے مطابق صرف پروازوں کے ذریعے آنے والے سیاحوں کو داخلے کی اجازت دی جائے گی اور وہ بھی تب اگر انھوں نے کسی ہوٹل میں بکنگ کرائی ہوگی اور ان کے پاس واپسی کی ٹکٹ بھی موجود ہوگی۔ مسافروں کی آمد پر ان کے ٹیسٹ کیے جائیں گے۔

    وائرس کے پھیلاؤ نے دنیا بھر میں سیاحت کی صنعت کو متاثر کیا ہے۔ لیکن کشمیر میں سیاحت عالمی وبا سے قبل بھی متاثر ہو رہی تھی۔

    اگست 2019 میں انڈیا نے آئین میں اپنے زیر انتظام کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کر دی تھی۔ اس کے بعد وادی میں لاکھوں فوجیوں کو تعینات کیا گیا اور ذرائع ابلاغ کو معطل کر دیا گیا۔ جبکہ مقامی سیاستدانوں کو نظر بند کیا گیا تھا۔

    اگرچہ اب ٹیلی فون اور انٹرنیٹ سروسز کو بحال کر دیا گیا ہے، اس کے باوجود ان سروسز کی دستیابی اور رفتار کچھ خاص بہتر نہیں جو کہ انڈیا میں ایک عام بات بن چکی ہے۔

    صورتحال خراب ہونے سے کشمیر میں سیاحت کی صنعت کافی متاثر ہوئی جو یہاں ہزاروں افراد کی آمدن کا ذریعہ ہے۔

    سیاحوں کو وادی میں داخلے کی اجازت ہوگی لیکن سری نگر میں کورونا کے متاثرین کے اضافے کے بعد پیر سے دوبارہ لاک ڈاؤن نافذ کیا گیا ہے۔

    حکام کے مطابق وادی میں 10500 افراد میں کورونا کی تشخیص ہوچکی ہے۔

  8. آخر عالمی وبا ہوتی کیا ہے؟

    کووِڈ 19 چین کے شہر ووہان سے شروع ہوا۔ یہ محلق وائرس اب دنیا کے مختلف ممالک تک پھیل چکا ہے اور خدشہ ہے کہ اسے عالمی وبا قرار دے دیا جائے گا۔ پینڈیمک یا عالمی وبا کی صورتحال اس وقت پیدا ہوتی ہے جب ایک وائرس نیا ہو اور وہ ایک انسان سے دوسرے انسان میں باآسانی منتقل ہو جاتا ہو۔ لیکن آخر عالمی وبا ہوتی کیا ہے؟

  9. انڈیا میں کورونا وائرس کے مریضوں کو زندہ رکھنے کی جدوجہد

    انڈیا کی ریاست مہاراشٹرا میں انفیکشن بڑھ رہے تھے، اس ریاست میں ناگپور شہر سے تقریباً 50 میل جنوب میں سیوگرام گاؤں میں 934 بستروں والا کستوربا ہسپتال واقع ہے۔ منافع کے لیے نہ کام کرنے والا یہ ہسپتال پہلے ہی ہر سال دس لاکھ مریضوں سے نمٹ رہا تھا۔

    کووڈ 19 کے مریضوں کے لیے ان میں بیشتر بستروں پر (بشمول انتہائی نگہداشت والے 30 بستروں کے) پائپ کے ذریعے آکسیجن کی فراہمی کی ضرورت تھی۔ اگلے چند ہفتوں میں ہسپتال میں سلینڈر بینک کے ایک ذخیرے کو تانبے کے پائپوں کا استعمال کرتے ہوئے نئے بستروں سے جوڑنے کے لیے 40 ہزار ڈالر خرچ ہوئے۔

    ہسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر ایس پی کلانتری بتاتے ہیں ’یہ ایک بہت بڑا چیلنج تھا۔ پائپ کے ذریعے آکسیجن کی فراہمی والے اضافی بستروں کے لیے آپ کو بہترین منصوبہ بندی اور عمل درآمد کی ضرورت ہے۔ کورونا وائرس کے مریضوں کی بقا کا انحصار آکسیجن پر ہے۔‘

    عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے مطابق کووڈ 19 کے مریضوں میں 15 فیصد کے پھیپھڑے کام کرنا چھوڑ دیتے ہیں اور انھیں سانس لینے میں مدد کی ضرورت ہوتی ہے۔ کچھ مریضوں میں سانس کی تکلیف واضح طور پر ظاہر نہیں ہوتی لیکن ان میں آکسیجن کی سطح خطرناک طور پر کم پائی جاتی ہے۔ یہ حالت خاموش ہائپوکسیا کہلاتی ہے۔ اس بیماری سے شدید بیمار مریضوں کے لیے وینٹیلیٹر کی ضرورت پڑتی ہے۔

  10. فرانس میں طبی عملے کی تنخواہوں میں تاریخی اضافہ

    فرانس کی حکومت نے ہیلتھ ورکرز یا طبی عملے کی تنخواہوں میں تاریخی اضافہ کے لیے نو ارب ڈالر کی منظوری دی ہے۔ حکومت نے کورونا وائرس سے نمٹنے پر ان کی خدمات کو سراہا ہے۔

    پیر کو کئی ہفتوں کے مزاکرات کے بعد تجارتی یونین کے ساتھ معاہدہ طے پایا۔ اس اضافے سے تنخواہوں میں اوسطاً 183 یورو کا اضافہ ہوگا۔

    حکومتی اور عوامی سطح پر طبی عملے کی خدمات کو سراہا جا رہا تھا تاہم انھوں نے تنخواہوں میں اضافے اور ہسپتالوں کے لیے امداد کے مطالبے پر مظاہروں کا عندیہ دیا تھا۔

    فرانس میں اس وقت دو لاکھ سے زیادہ افراد کورونا سے متاثر ہوئے ہیں جبکہ 30 ہزار اموات ہوئی ہیں۔ فرانس یورپ کے سب سے زیادہ متاثرہ ممالک میں سے ایک ہے۔

  11. برطانوی ماہرین: سردیوں میں کورونا کی لہر مزید خطرناک ثابت ہو سکتی ہے

    سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ برطانیہ میں سردیوں میں کورونا وائرس کی دوسری مگر پہلی سے زیادہ خطرناک لہر آ سکتی ہے جس سے ملک میں 120000 سے زائد ہلاکتیں ہو سکتی ہیں۔

    جب ان سائنسی ماہرین سے کہا گیا کہ اس وائرس سے ہونے والی ہلاکتوں کی کوئی قابل فہم صورت بتائیں تو ان کے اندازے کے مطابق اس وائرس سے جنوری اور فروری میں برطانیہ کے ہسپتالوں میں 24500 سے 251000 ہلاکتیں ہو سکتی ہیں۔

    ابھی تک برطانیہ میں اس وائرس سے 44830 ہلاکتیں ہوئی ہیں۔ جولائی میں ماہانہ اموات کی تعداد کم ہو کر 1100 ہو گئی۔ اس اندازے میں لاک ڈاؤن، علاج یا ویکسین کو مد نظر نہیں رکھا گیا ہے۔

    سائنسدان سے بات سے متفق ہیں کہ اگر وقت پر ضروری احتیاطی تدابیر اختیار کی گئیں تو پھر اس خطرناک صورتحال میں کمی لائی جا سکتی ہے۔ تحقیق کے مطابق سرد موسم میں یہ وائرس زیادہ پھیلتا ہے۔ ماہرین کی رائے میں سردیوں میں برطانیہ کا صحت کا نظام زیادہ دباؤ میں رہے گا۔

  12. اینٹی باڈی ٹیسٹ کیا ہوتا ہے

    پاکستان میں کئی لیبارٹریاں کورونا وائرس کے لیے اینٹی باڈی ٹیسٹ کر رہی ہیں۔ برطانوی ادارے پبلک ہیلتھ انگلینڈ نے بھی کورونا وائرس کے لیے ایک نیا اینٹی باڈی ٹیسٹ منظور کرلیا ہے۔ آئیے آپ کو بتاتے ہیں کہ اینٹی باڈی ٹیسٹ کیا ہوتا ہے اور اس کی اہمیت کیوں زیادہ ہے۔

  13. پنجاب میں کورونا سے سب سے زیادہ متاثرہ شہروں کی فہرست

    پاکستان کے صوبہ پنجاب میں اس وقت صوبائی دارالحکومت لاہور کورونا وائرس سے سب سے زیادہ متاثرہ شہر ہے۔ یہاں 45238 افراد میں کووڈ 19 کی تشخیص ہوئی ہے۔

    صوبے میں 63,977 افراد کورونا سے صحتیاب جبکہ 2026 ہلاک ہوئے ہیں۔

    اب تک 87,492 متاثرین کی تصدیق ہوئی ہے۔

  14. امریکی ریاست کیلیفورنیا میں نئی پابندیوں کا اطلاق

    امریکی ریاست کیلیفورنیا نے کورونا وائرس کے پھیلاؤ پر قابو پانے کے لیے کاروابر اور عوامی مقامات کے لیے نئی پابندیوں کا اطلاق کیا ہے۔

    امریکہ کی سب سے زیادہ آبادی والی ریاست کے گورنر گیون نیوسم نے فوری طور پر ریستوران، انٹرٹینمنٹ کی جگہروں، چڑیا گھروں اور میوزیم کے اندر کسی بھی قسم کی سرگرمیاں روکنے کا حکم دیا ہے۔

    زیادہ متاثرہ علاقوں میں چرچز، جمز اور حجام کی دکانیں بند رہیں گی۔

    گذشتہ دو ہفتوں میں 20 فیصد زیادہ لوگوں میں اس وائرس کی تشخیص کے بعد ان نئی پابندیوں کا اعلان کیا گیا۔

    کیلیفورنیا جس کی آبادی 40 ملین ہے میں 330،000 سے زائد افراد اس وائرس سے متاثر ہوئے ہیں جبکہ 7،000 سے زائد افراد اس وائرس سے ہلاک ہوچکے ہیں۔

  15. انڈیا کے شہر بنگلور میں ایک مرتبہ پھر لاک ڈاؤن

    انڈیا کے جنوبی شہر بنگلور میں ایک ہفتے کے لیے دوبارہ لاک ڈاؤن نافذ کیا جا رہا ہے۔ 80 لاکھ سے زیادہ کی آبادی والے اس شہر میں کورونا وائرس کے نئے متاثرین بڑھ رہے ہیں۔

    ملک میں حکام نے جون سے لاک ڈاؤن میں نرمی کا فیصلہ کیا تھا۔ لیکن کئی علاقوں میں وائرس کا پھیلاؤ بڑھا ہے جس کے بعد بعض شہروں اور ریاستوں نے لاک ڈاؤن یا سختیوں کا فیصلہ کیا ہے۔

    کچھ جنوبی ریاستوں میں کووڈ 19 کے متاثرین میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ ریاست کرناٹک کے دارالحکومت بنگلور میں اب تک 40 ہزار کے قریب متاثرین کی تصدیق ہوچکی ہے۔

    منگل کو شروع ہونے والے اس لاک ڈاؤن میں پبلک ٹرانسپورٹ بند رہے گا، صرف ضروری اشیا کی دکانیں کھلی رہیں گی جبکہ تمام عبادت گاہوں کو بند رکھا جائے گا۔

    امریکہ اور برازیل کے بعد انڈیا میں متاثرین کی سب سے بڑی تعداد ہے۔

  16. دوا ’ڈیکسا میتھازون‘ کن مریضوں کو دی جائے گی؟

    ڈیکسا میتھازون دوا کن مریضوں کو اور کن حالات میں دی جائے گی ۔ اس بارے میں ہماری ساتھی عالیہ نازکی نے این ایچ ایس لندن سے وابستہ ماہر امراض تنفس ڈاکٹر سلیم انور سے بات کی ۔۔ انھوں نے کیا کہا ۔۔جانتے ہیں اس پوڈکاسٹ میں ۔۔

  17. برطانیہ: 24 جولائی سے مارکیٹوں میں ماسک پہننا لازم

    برطانیہ میں رواں ماہ کی 24 تاریخ سے دکانوں اور مارکیٹوں میں ماسک کی پابندی لازم ہوجائے گی۔

    ایسے افراد جو ماسک کی پابندی کی خلاف ورزی کریں گے انھیں 100 یورو تک جرمانے کی سزا سنائی جا سکتی ہے۔

    اگر یہ ممکن ہو جاتا تو پھر برطانیہ میں بھی سکاٹ لینڈ اور دیگر یورپی ریاستوں جیسے سپین، اٹلی اور جرمنی جیسا ضابطہ لاگو ہو جائے گا۔

    مئی کے وسط سے عوام کو یہ کہا جا رہا ہے کہ وہ عوامی مقامات پر ماسک ضرور پہنیں کیونکہ ایسی جگہوں پر وہ ایسے دیگر افراد سے وہ رابطے میں آ جاتے ہیں جن سے عام طور پر وہ نہیں ملتے۔

    پبلک ٹرانپسورٹ پر ماسک پہننے کی یہ پابندی 15 جون سے نافذ ہے۔

    اس بات کا امکان ظاہر کیا جا رہے کہ برطانیہ کے وزیر صحت میٹ ہینکاک منگل کو ماسک سے متعلق نئی احتیاطی تدابیر سے متعلق اعلان کریں گے۔

  18. کون سے ممالک کورونا سے سب سے زیادہ متاثر

    جانز ہاپکنز یونیورسٹی کے مطابق اب تک دنیا بھر میں 13,103,290 افراد میں کورونا وائرس کی تشخیص ہوچکی ہے۔

    اس عالمی وبا سے اب تک 573,042 اموات ہوئی ہیں۔

    سب سے زیادہ متاثرین ان ممالک میں ہیں:

    امریکہ 3,363,056

    برازیل 1,884,967

    انڈیا 906,752

    روس 732,547

    پیرو 330,123

    ان ممالک میں سب سے زیادہ اموات ہوئی ہیں:

    امریکہ 135,605

    برازیل 72,833

    برطانیہ 44,915

    میکسیکو 35,491

    اٹلی 34,967

    اب تک 7,257,369 افراد صحتیاب ہوچکے ہیں۔

  19. وائٹ ہاؤس نے ماہرِ وبائی امراض ڈاکٹر انتھونی فاؤچی کو ’ہدف بنا لیا‘

    امریکہ میں ٹرمپ انتظامیہ اور صحت کے ماہرین کے درمیان تناؤ بڑھ رہا ہے۔ مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق وبائی امراض کے ماہر ڈاکٹر انتھونی فاؤچی کو وائٹ وائس کی جانب سے ہدف بنایا جا رہا ہے۔

    وائٹ ہاؤس نے گذشتہ عرصے کے دوران ڈاکٹر فاؤچی پر تنقید کی ہے۔ اتوار کو حکام کا ایک ایسا پیغام منظر عام پرآیا جس میں ان کی مبینہ غلط بیانی کا ذکر ہے۔

    وائٹ ہاؤس کے پیغام میں ڈاکٹر فاؤچی کی ماسک پر بدلتی رائے اور کووڈ 19 کی سنجیدگی کا حوالہ دیا گیا ہے۔

    امریکہ میں ایک طرف کووڈ 19 کے متاثرین میں اضافہ ہو رہا ہے تو دوسری طرف بظاہر ڈاکٹر فاؤچی کو ہٹانے کی منصوبہ بندی ہو رہی ہے۔

    جانز ہاپکنز یونیورسٹی کے اعداد و شمار کے مطابق امریکہ میں کورونا کے اب تک کے کل متاثرین کی تعداد 33 لاکھ سے زیادہ ہے جبکہ ایک لاکھ 35 ہزار سے زیادہ اموات ہوچکی ہیں۔

    ڈاکٹر فاؤچی نے متعدد مرتبہ صدر ٹرمپ کے دعووں کی نفی کی ہے۔ انھوں نے کہا ہے کہ امریکی حکومت کا کاروبار کی بحالی کا فیصلہ قبل از وقت تھا اور اس کی بدولت متاثرین دوبارہ بڑھ رہے ہیں۔

    اتوار کو وائٹ ہاؤس کا ایک پیغام منظر عام پر آیا جس میں کہا گیا ہے کہ وائٹ ہاؤس کے حکام کو تشویش ہے کہ ڈاکٹر فاؤچی نے کئی بار غلط باتیں کہی ہیں۔

    وائٹ ہاؤس نے پیر کو کہا تھا کہ کام کے حوالے سے صدر ٹرمپ اور ڈاکٹر فاؤچی کے تعلقات اچھے ہیں۔ صدر ٹرمپ کے مشیر پیٹر ناوارو نے سی بی ایس کو بتایا تھا کہ ’اگر آپ مجھ سے پوچھیں کہ آیا میں ڈاکٹر فاؤچی کے مشورے سنتا ہوں تو میرا جواب ہوگا کہ ہاں لیکن احتیاط کے ساتھ۔‘

  20. کیا پاکستان میں کورونا وائرس کے اعداد و شمار قابل بھروسہ ہیں؟

    پاکستان میں ٹیسٹنگ اور متاثرہ افراد، دونوں کی تعداد میں واضح اور اچانک کمی سامنے آنے کے بعد پاکستان میں کئی نے اپنے شکوک کا اظہار کیا ہے۔

    ٹیسٹنگ اور متاثرین کی گرتی ہوئی تعداد پر کئی ناقدین نے سوال اٹھایا ہے کہ کیا پاکستان میں کووڈ 19 سے متعلق جمع کیے جانے والے اعداد و شمار میں کوئی کمی بیشی تو نہیں۔

    کیا ان میں نظر آنے والا فرق واقعتاً درست ہیں اور حکومتی اقدامات کی کامیابی کا نتیجہ ہیں، یا اس کی وجہ بدانتظامی اور دیگر وجوہات ہیں۔