پاکستان کے صوبہ پنجاب کے
دارالخلافہ اور کورونا وائرس سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے شہر لاہور میں سرکاری
اعداد و شمار کے مطابق ہسپتالوں میں انتہائی نگہداشت کے بستروں پر جگہ کم ہو رہی ہے
تاہم ہائی ڈیپینڈینسی یونٹس میں آدھے تقریباً خالی ہیں۔
کوروناوائرس ایکسپرٹ ایڈوائزری گروپ اور ٹیکنیکل
ورکنگ گروپ کی میڈیا بریفنگمیں بتایا گیا کہ ہائی ڈیپنڈنسی یونٹ میں کل 514 میں سے 245 پر مریض ہیں جبکہ 269 خالی
ہیں جبکہ ICUمیں 175 بیڈ ہیں
جہاں 127 پر مریض اور 48خالی موجود ہیں
ڈاکٹراسد اسلم خان کے مطابق 19 پرائیویٹ ہسپتالوں میں سے کل 1374 میں سے آیسولیشن وارڈز میں 679 موجود
ہیں جن میں سے ہائی ڈیپنڈنسی یونٹس میں 235 پر مریض موجود ہیں جبکہ 459 خالی ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ لاہور میں 2892بیڈ آئسولیشن
وارڈزمیں موجود ہیں جن میں سے 903 پر مریض جبکہ 1989 اس وقت خالی ہے اور نئے آنے
والے مریضوں کے لیے دستیاب ہیں۔
ڈاکٹر اسد اسلم خانکا کہنا تھا کہ لاہور میں وینٹی
لیٹر کی کل تعداد 483 ہے جس میں سے 295 خالی ہیں۔
ان کے بقول پنجاب کے کل 63 ہسپتالوں میں سے
1115 بیڈ موجود ہیں ہائی ڈیپنڈنسی یونٹ میں 721 بیڈز مختص کیے ہیں جن میں سے 463 خالی
موجود ہیں۔
انھوں نے مزید بتایا کہ لاہور میں ہائی ڈیپنڈنسی یونٹس میں 861 بیڈز موجود ہیں جن میں سے 445خالی ہیں۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ ہر طرح کی ممکنہ صورتحال سے نمٹنے کیلئے ٹیسٹنگ کی صلاحیت اور بیڈز کی تعداد میں مستقل اضافہ کیا جارہا ہے۔
213کل وینٹی لیٹرز میں سے 24وینٹی لیٹرز پر مریض جو کہ کورونا کے علاوہ ہیں جبکہ 56وینٹی لیٹرز پر کورونا کے مریض ہیں۔ پبلک اور پرائیویٹ میں 400 بیڈز پرائیوٹ اور پبلک دونوں میں موجود ہیں۔
وائرس کی دوبارہ منتقلی کی جانچ
اس موقع پر ڈاکٹر محمود شوکت نے بتایا کہ صحت یاب مریضوں میں وائرس کی دوبارہ منتقلی کے متعلق جانچ کے لیے ماہر وائرالوجسٹس اور کلینیکل ایکسپرٹس پر مشتمل ٹیم تشکیل دی گئی ہے۔
ڈاکٹر ثاقب سعید کے بقول اب تک کی گئی تحقیقات کے مطابق کسی شخص کو وائرس کے دوبارہ ہونے کے دورانیے کا اندازہ لگانا مشکل ہے۔ اہم انھوں نے کہا کہ صحت یاب ہونے والے مریضوں کو تمام احتیاطی تدابیر پر عمل جاری رکھنا ہو گا۔