آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

کورونا وائرس: دنیا بھر میں ہلاکتیں پانچ لاکھ سے تجاوز کر گئیں

دنیا میں کورونا کے مصدقہ متاثرین کی تعداد ایک کروڑ سے زیادہ ہو گئی ہے جبکہ ہلاکتوں کی تعداد پانچ لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے۔ پاکستان میں وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد دو لاکھ سے زائد جبکہ 4162 اموات ہو چکی ہیں۔ امریکہ میں نئے متاثرین کی تعداد میں اضافے کے بعد کئی ریاستوں نے لاک ڈاؤن میں نرمی نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

لائیو کوریج

  1. چین میں کورونا وائرس کے دوبارہ پھیلاؤ کا مرکز ’اشیائے خورد و نوش کی مارکیٹ‘

    چینی حکومت نے بیجنگ کے قریب ایک مقام پر مکمل لاک ڈاؤن نافذ کر دیا ہے۔ یہ اقدام کورونا وائرس کے نئے متاثرین کی نشاندہی کے پیش نظر اٹھایا گیا ہے۔

    تقریباً پانچ لاکھ کی آبادی اب ہوبائی صوبے کی ایک کاؤنٹی میں اندر جاسکتی ہے نہ باہر آسکتی ہے۔

    چینی ذرائع ابلاغ کے مطابق وائرس کے نئے پھیلاؤ کا مرکز اشیائے خورد و نوش کی ایک مارکیٹ ہے۔

    حکام نے اتوار کو بتایا کہ انھوں نے ٹیسٹنگ کی رفتار بڑھا دی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ: ’اہم جگہوں اور آبادیوں میں بڑے پیمانے پر ٹیسٹنگ کی جائے گی۔‘

    ’ہم نے ان تمام لوگوں کی ٹیسٹنگ کر لی ہے جن کی ٹیسٹنگ ضروری تھی۔‘

    بیجنگ میں وائرس کے پھیلاؤ کی نئی لہر 11 جون کو سامنے آئی جب نئے متاثرہ افراد کی تصدیق ہوئی۔ اس کے بعد سے اب تک 300 سے زیادہ افراد کے کورونا ٹیسٹ کے نتائج مثبت آچکے ہیں۔

  2. کورونا وائرس کی علامات ظاہر ہونے پر ایبوپروفن اور پیراسیٹامول کا استعمال خطرناک یا کارآمد؟

    انٹرنیٹ پر ایسی خبریں شیئر کی جا رہی ہیں کہ اگر کورونا وائرس کا شکار ایک شخص ایبوپروفن کا استعمال کرتا ہے تو یہ خطرناک ثابت ہوسکتا ہے۔ اس سلسلے میں صحت سے متعلق بعض تدابیر کارآمد ثابت ہوسکتی ہیں لیکن کئی مرتبہ ایسی غلط معلومات بھی سامنے آتی ہے جس میں حقیقت کو توڑ مروڑ کر پیش کیا جاتا ہے۔

    بی بی سی سے بات کرتے ہوئے صحت کے ماہرین نے کہا ہے کہ کورونا وائرس کی علامات کا مقابلہ کرنے کے لیے ایبوپروفن تجویز نہیں کی جاتی۔ وہ لوگ جو کسی اور وجہ سے ایبوپروفن کا استعمال کرتے ہیں ان کے لیے ضروری ہے کہ وہ ایسا کرنے سے پہلے کسی ڈاکٹر سے رجوع کریں۔

  3. برطانیہ میں کورونا سے مزید 36 اموات

    برطانیہ کے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق مزید 36 افراد کی ہلاکت کووڈ 19 کی وجہ سے ہوئی ہے جس سے کل اموات 43,550 ہوگئی ہیں۔

    تفصیلات کے مطابق:

    • ویلز میں دو مزید اموات، کل اموات 1504 ہوگئیں
    • شمالی آئرلینڈ میں ایک ہلاکت، کل تعداد 50
    • انگلینڈ میں 18 اموات، کل تعداد 28,6534

    تین مسلسل دنوں سے سکاٹ لینڈ میں وائرس کی وجہ سے کوئی ہلاکت نہیں ہوئی۔ اب تک علاقے میں 2,482 افراد کورونا سے ہلاک ہوئے ہیں۔

  4. ڈاکٹرز کی حکمتِ عملی کیا ہونی چاہیے؟

    کورونا کو لے کر ہم سب کے ذہن میں بہت سے سوالات ہیں۔ خاص طور پر پاکستان میں ٹائیفائیڈ اور کورونا کے بیچ تشخیص کرنے کے حولے سے کیا اقدام لیے جانے چاہئے؟

    ایسے ہی کئی سوال ہم نے وبائی امراض کے ماہر ڈاکٹر فہیم یونس سے پوچھے۔ ان کے جواب جاننے کے لیے محمد ابراہیم کی یہ ویڈیو ملاحظہ کریں۔۔۔

  5. کورونا وائرس: کورونا انسانی جسم پر کیسے حملہ آور ہوتا ہے

    چین سے شروع ہو کر دنیا کے بیشتر ممالک میں پھیلنے والے کورونا وائرس کے انفیکشن سے لڑنے والے ڈاکٹروں کی لڑائی ایسی ہے جیسے وہ کسی نامعلوم دشمن کے خلاف لڑ رہے ہوں۔

    یہ آپ کے جسم پر کیسے حملہ آور ہوتا ہے؟ انفیکشن کے بعد انسانی جسم میں کس قسم کی علامات پیداہوتی ہیں؟

    کن لوگوں کے لیے شدید بیمار ہونے یا مرنے کے خدشات زیادہ ہوتے ہیں؟ اور آپ اس کا علاج کس طرح کریں گے؟

  6. دلی میں کووڈ 19 کے بڑھتے کیسز، صحت کا نظام مفلوج

    انڈیا کے دارالحکومت نئی دہلی کے وزیرِ اعلیٰ نے کہا ہے کہ جس رفتار سے کورونا وائرس کے پھیلاؤ میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے اس کے باعث صحت کا نظام بری طرح متاثر ہوا ہے۔

    اروند کیجریوال نے کہا کہ جون کے آغاز میں کیسز میں اضافے کے باعث ہسپتالوں میں بستروں کی کمی دیکھنے میں آئی ہے جبکہ ہلاکتوں میں بھی اضافہ ہوا ہے۔

    نئی دہلی اب ملک کا سب سے زیادہ متاثرہ علاقہ بن گیا ہے اور یہاں 73 ہزار سے زائد افراد اس وائرس سے متاثر ہو چکے ہیں جبکہ ڈھائی ہزار اموات بھی ہوئی ہیں۔

    تاہم وزیرِ اعظم نریندر مودی کا کہنا ہے کہ انڈیا میں ’دوسرے ممالک کے مقابلے میں وائرس سے نمٹنے کے لیے حالات بہتر ہیں۔‘

  7. یورپ سے تازہ خبریں

    • فرانس میں بلدیاتی انتخابات کے دوران شہری ماسک پہن کر اپنے ووٹ ڈالنے پولنگ سٹیشنز پہنچ گئے ہیں۔ لیکن اب تک ووٹر ٹرن آؤٹ کم رہا ہے۔ دن کے وسط تک پیرس میں صرف 15 فیصد لوگوں نے ووٹ ڈالے۔ مارچ میں عالمی وبا کی وجہ سے انتخابات موخر کیے گئے تھے۔
    • جرمنی کے ایک شہر میں گوشت کی پراسسنگ کی ایک فیکٹر سے وائرس پھیلنے سے حکام پریشان ہیں۔ علاقے میں دو ہزار سے زیادہ لوگ کووڈ 19 سے متاثر ہوئے ہیں۔ حکام کے مطابق اب ان لوگوں میں بھی وائرس پھیل رہا ہے جن کا فیکٹری سے کوئی تعلق نہیں۔
    • جرمنی میں ڈاکٹروں کا شکریہ ادا کرنے کے لیے کوس نامی جزیرے پر ان کے ایک سیاحتی دورے کے انتظامات کیے گئے پیں۔ وزارت سیاحت کا کہنا ہے کہ ’یہ وائرس سے مقابلے کے لیے ان کی مدد کے ردعمل میں کیا جارہا ہے۔‘
    • جمہوریہ چیک میں کووڈ 19 کے متاثرین میں اچانک اضافہ دیکھا گیا ہے۔ سنیچر کو 260 متاثرین سامنے آئے تھے جو کئی ہفتوں بعد سب سے بڑی تعداد ہے۔
  8. اسلام آباد: ’سمارٹ لاک ڈاؤن سے متاثرین میں کمی آئی ہے‘

    اسلا آباد کے ڈی سی حمزہ شفقات کے مطابق سیکٹر آئی ایٹ تھری، آئی ایٹ فور، آئی ٹین ون اور آئی ٹین ٹو میں 14 روزہ سمارٹ لاک ڈاؤن کا اختتام ہوچکا ہے اور جلد ان سیکٹرز کو کھول دیا جائے گا۔

    ان کا کہنا تھا کہ سمارٹ لاک ڈاؤن کی پالیسی سے مرض مکمل طور پر ختم نہیں ہوتا لیکن اس سے نئے متاثرین میں کمی آئی ہے۔

  9. یورپی یونین کی ’محفوظ ممالک‘ کی مجوزہ فہرست میں امریکہ شامل نہیں, کیٹیا ایڈلر، بی بی سی، یورپ ایڈیٹر

    یورپی یونین کے اکثر رکن ممالک نے ’محفوظ‘ غیر یورپی ممالک کی ایک فہرست تیار کی ہے۔ 1 جولائی کو شائع ہونے والی اس فہرست کے شہریوں کو یورپی یونین کے ممالک میں داخلے کی اجازت کی ہدایت ہوگی۔

    امریکہ اس فہرست میں شامل نہیں لیکن آسٹریلیا اور کینیڈا اس میں موجود ہیں۔ چین اسی صورت اس فہرست میں شامل ہوگا اگر یہ یورپی یونین کے شہریوں کو اپنے ملک داخل ہونے دے گا۔ جبکہ برطانیہ کی شمولیت تاحال غیر واضح ہے۔

    اس فہرست کو متاثرین کی بڑھتی تعداد کے اعتبار سے تشکیل دیا جائے گا اور یہ بھی دیکھا جائے گا کہ کونٹیکٹ ٹریسنگ کے کیا انتظامات کیے گئے اور سرکاری اعداد و شمار کتنے پُر اعتمار ہیں۔

    اس فہرست کی حیثیت صرف ہدایت کی حد تک ہوگی۔ کیونکہ سرحدی امور پر ہر ملک کی حکومت اپنے فیصلے خود کر سکتی ہے۔

    یہ توقع کی جائے گی کہ یورپی یونین کے ممالک اس فہرست میں موجود ملکوں کے شہریوں کو داخلے کی اجازت ہر صورت دیں گے۔

  10. ’کاش میں اپنے عزیز کو ہسپتال نہ بھیجتی‘

    پاکستان میں اس وقت کورونا کے مریضوں کے لیے ہسپتالوں میں بستروں، ادویات، طبی آلات اور وینٹیلیٹر کا حصول دن بہ دن مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ اس بات کا اندازہ ہماری ساتھی ترہب اصغر کو اس وقت ہوا جب انھیں خود اپنے ایک عزیز کو ہسپتال میں داخل کروانے کے لیے بہت سے اعلیٰ حکام سے التجائیں کرنی پڑیں۔

    اس دن کی کہانی سنیے ترہب اصغر کی ہی زبانی، اس پوڈکاسٹ میں۔۔۔

  11. سری لنکا میں آج سے لاک ڈاؤن ختم

    سری لنکا کے صدر کے مطابق انھوں نے 28 جون سے لاک ڈاؤن ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ملک میں کورونا کے بڑھتے متاثرین کے پیش نظر گذشتہ ماہ کرفیو لگایا گیا تھا۔

    ملک میں 20 مارچ کو کرفیو نافذ کیا گیا تھا اور آہستہ آہستہ اگلے دو ماہ کے دوران اس میں نرمی کی گئی جبکہ رات کو کرفیو نافذ رکھا گیا تھا۔

    حکام کے مطابق 30 اپریل کے بعد مشرق وسطیٰ سے واپس آنے والے شہریوں میں وائرس کی تصدیق ہوئی تھی اور انھیں قرنطینہ منتقل کر دیا گیا تھا۔

    سری لنکا میں عالمی وبا کے دوران پارلیمانی انتخابات اگست کے اوائل تک موخر کر دیے گئے تھے۔

    اب تک یہاں سرکاری اعداد و شمار کے مطابق دو ہزار کے قریب متاثرین اور 11 اموات کی تصدیق ہوئی ہے۔

  12. ایران میں ڈھکی ہوئی جگہوں پر ماسک پہننا لازم

    ایران مشرق وسطیٰ میں کورونا وائرس سے سب سے زیادہ متاثرہ ملک ہے۔ یہاں اگلے اتوار سے ماسک پہننا لازم ہوجائے گا۔

    سرکاری ٹی وی چینل پر بات کرتے ہوئے صدر حسن روحانی کا کہنا تھا کہ ڈھکی ہوئی جگہوں پر ماسک پہننا لازم ہوگا۔ تاہم انھوں نے خلاف ورزی کرنے والوں کے لیے کوئی سزا نہیں بتائی۔

    صحت کے نائب وزیر نے کہا ہے کہ سرکاری اداروں اور شاپنگ مالز میں ماسک نہ پہننے والوں کو سہولیات فراہم نہیں کی جائیں گی۔

    صدر روحانی نے کہا ہے کہ مقامی انتظامیہ زیادہ خطرے والے مقامات میں دوبارہ سختی کر سکتی ہیں۔

    ایران میں اب تک کورونا کے کل 222,669 متاثرین اور 10,508 اموات سامنے آئی ہیں۔

  13. ایشیا سے اہم خبریں

    • چین نے بیجنگ کے قریب سخت لاک ڈاؤن نافذ کر دیا ہے تاکہ وائرس کی دوسری لہر سے بچا جاسکے۔ تقریباً پانچ لاکھ لوگوں کو انسن کاؤنٹی کے اندر یا باہر جانے کی اجازت نہیں ہوگی۔
    • جنوبی کوریا میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران درجنوں متاثرین سامنے آئے ہیں۔ حکام وائرس کے پھیلاؤ کے اس نئے مقام کی نشاندہی کر رہے ہیں۔ گذشتہ ماہ ساجی فاصلے کی ہدایات میں نرمی کے بعد سے نئے متاثرین سامنے آئے ہیں۔
    • جاپان کے دارلحکومت ٹوکیو میں اتوار کو 60 نئے متاثرین سامنے آئے۔ گذشتہ ماہ ایمرجنسی ہٹائے جانے کے بعد سے یہ تعداد سب سے زیادہ ہے۔
    • انڈیا میں دلی ملک کا سب سے زیادہ متاثرہ علاقہ بن گیا ہے جہاں تقریباً 73 ہزار متاثرین ہیں۔ بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق کونٹیک ٹریسنگ نہ ہونے، بیوروکریسی کی پیچیدگیوں اور سیاسی مشکلات کی وجہ سے یہ تعداد بڑھی ہے۔
  14. کیا چمگادڑ کووڈ 19 پھیلاتے ہیں؟

  15. بریکنگ, سندھ میں گذشتہ روز کورونا کے 2179 نئے متاثرین، 26 اموات کی تصدیق

    پاکستان کے صوبہ سندھ کے حکام کے مطابق گذشتہ 24 گھنٹوں میں کورونا وائرس کے 2179 نئے مصدقہ متاثرین اور 26 اموات سامنے آئی ہیں۔

    اب تک صوبے میں 80,446 متاثرین اور 1,269 اموات کی تصدیق ہوچکی ہے جبکہ اس وائرس سے 44,523 افراد صحتیاب ہوچکے ہیں۔

    وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کے مطابق گذشتہ 24 گھنٹوں میں کراچی میں 1406 نئے کیسز سامنے آئے ہیں۔

    صوبے میں اس وقت کورونا کے 94 مریض وینٹی لیٹرز پر ہیں، 655 مریضوں کی حالت تشویشناک ہے۔ 34,654 مریض زیرعلاج ہیں۔

    ’گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوراں 9244 نئے ٹیسٹ کیے گئے۔‘

  16. برطانیہ ’غیر یقینی صورتحال‘ کا شکار ہے

    برطانیہ میں سائنس کے ایک سرکاری معاون نے متنبہ کیا ہے کہ ملک وائرس سے مقابلے میں ’غیر یقینی صورتحال‘ کا شکار ہے اور آنے والے چند ماہ ’بے حد اہم‘ ہوں گے۔

    ویلکم ٹرسٹ کے ڈائریکٹر سر جیرمی فرار نے کہا ہے کہ برطانیہ، خاص کر کے انگلینڈ، خدشات کی صورتحال سے دوچار ہے۔ ان کا امکان ہے کہ آنے والے وقت میں کورونا کے متاثرین بڑھ سکتے ہیں۔

    انھوں نے لوگوں کو متنبہ کیا ہے کہ اِن ڈور تقریبات میں احتیاط برتیں۔ آئندے ہفتے کے دوران انگلینڈ میں پبز اور ریستوران کھلنے جا رہے ہیں۔

    ’وائرس غائب نہیں ہوا اور اگلے تین ماہ کافی اہم ہوں گے۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ سردیوں سے قبل کم متاثرین ایک خوش آئند بات ہوگی جس کے بعد مقامی سطح پر لاک ڈاؤن کی مدد سے مارچ اور اپریل جیسے قومی بحران سے بچا جا سکے گا۔

  17. کورونا وائرس کی نئی لہر: برطانیہ کا لیسٹر میں لاک ڈاؤن پر غور

    سنڈے ٹائمز نے حکومتی ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ کورونا وائرس کے متاثرین میں تیزی سے اضافے کے بعد برطانوی حکومت نے لیسٹر شہر میں لاک ڈاؤن کا فیصلہ کیا ہے۔

    اخبار نے خبر رساں ادارے روئٹرز کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا ہے کہ برطانیہ کے وزیر صحت میٹ ہینکاک لیسٹر میں لاک ڈاؤن کے نفاذ سے متعلق قانون سازی پر غور کر رہے ہیں۔

    لیسٹر تین لاکھ اور پچاس ہزار سے زائد آبادی والا شہر ہے جہاں جون 16 تک دو ہفتوں کے اندر 650 سے زائد کورونا وائرس متاثرین کی تصدیق ہوئی ہے۔

    رپورٹ کے مطابق وزیر صحت مقامی طور پر لاک ڈاؤن جیسے آپشن پر بھی غور کر رہے ہیں۔

    اتوار کے دن تک برطانیہ میں 312،000 متاثرین ہو چکے تھے جبکہ اس وائرس سے مرنے والوں کی تعداد 43،600 ہو گئی ہے۔

  18. آئرلینڈ: برطانوی شہریوں پر 14 دن قرنطینہ کی شرط برقرار رکھے گا

    آئرلینڈ اگرچہ جولائی سے کچھ ممالک کے لیے پابندیوں میں نرمی لا رہا مگر برطانوی شہریوں پر 14 دن تک قرنطینہ میں رہنے کی پابندی برقرار رکھے گا۔

    خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق اس کے بہت کم امکان ہیں کہ برطانیہ ان ممالک کی فہرست میں شامل کیا جائے جنھیں محفوظ ملک قرار دیا جا سکے۔

    آئرلینڈ کی حکومت نے اس سے قبل یہ اعلان کیا تھا کہ جو ممالک اس وائرس کو شکست دینے میں کامیاب ہوئے ہیں ان پر نو جولائی سے قرنطینہ میں 14 دن رہنے کی شرط ختم کر دے گا۔

  19. سوئٹزرلینڈ نے 300 افراد کو قرنطینہ میں رہنے کی ہدایت کر دی

    زیورخ میں ایک نائٹ کلب سے کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے بعد سوئٹزرلینڈ کے حکام کا کہنا ہے کہ انھوں نے تین سو لوگوں کو قرنطینہ میں رہنے کا حکم دیا ہے۔

    زیورخ کے حکام کا کہنا ہے کہ فلیمنگو نامی کلب میں جانے والے ایک شخص اور اس کے ساتھ کلب جانے والے پانچ ساتھیوں میں بھی جمعرات کو کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے۔

  20. جنوبی کوریا میں کورونا وائرس متاثرین میں اضافہ

    جنوبی کوریا نے جیسے جیسے سماجی فاصلے کے اصولوں میں نرمی پیدا کی تواس کے بعد نئے متاثرین سامنے آئے ہیں اور 24 گھنٹوں میں کورونا وائرس کے 62 نئے مریض رپورٹ ہوئے ہیں۔

    اتوار کو نئے متاثرین کے بعد اس وائرس سے متاثرین کی کل تعداد 12،715 ہو گئی ہے جبکہ 282 اموات ہو چکی ہیں۔

    کوریا سینڈرز فار ڈزیز کنٹرول اینڈ پریونشن کے مطابق نئے متاثرین میں سے 40 میں مقامی طور پر وائرس کی منتقلی ہوئی ہے جبکہ 22 متاثرین باہر کے ممالک سے آئے ہیں۔

    بیماریوں کے روک تھام کے ادارے کے مطابق 40 میں سے 22 متاثرین کا تعلق ملک کے گنجان آباد دارالحکومت سیول سے ہے۔

    جنوبی کوریا نے مئی میں سماجی فاصلے سے متعلق اصولوں میں نرمی لائی تھی جس کے بعد سے نئے متاثرین کی تعداد میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ نئے متاثرین کی وجہ نائٹ کلبز، چرچ سروسز، ای کامرس وئیر ہاوسز اور کم اجرت پر کام کرنے والے مزدوروں کو بتایا جاتا ہے۔