عراق میں وائرس کے پھیلاؤ کی وجہ سے ہزاروں غیر ملکی ملازمین یہاں بغیر کسی آمدن کے پھنس چکے ہیں اور ان کے پاس گھر واپس جانے کا بھی کوئی راستہ نہیں ہے۔ وہ اپنے سامنے معیشت کو تباہ ہوتا دیکھ رہے ہیں۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق کووڈ 19 کے پھیلاؤ سے عالمی معیشت کو کافی نقصان پہنچا ہے۔ عراق تیل برآمد کرنے والے ممالک کی تنظیم اوپیک میں تیل کی پیداوار کے حوالے سے دوسرا سب سے بڑا ملک ہے۔ یہاں تیل کی قیمتوں میں کمی سے معاشی بحران نے زور پکڑ لیا ہے۔
نفیس عباس 32 سالہ پاکستانی درزی ہیں جو بغداد میں رہائش پذیر ہیں۔ وہ تقریباً چار ماہ تک جاری لاک ڈاؤن کے بعد گذشتہ ہفتے کام پر واپس گئے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ: ’میں گھر واپس جانا چاہتا ہوں لیکن میرے پاس پیسے نہیں ہیں۔ اگر میں ابھی پاکستان جاتا ہوں تو مجھے 700 ڈالر ادا کرنا ہوں گے جو کہ میرے پاس نہیں ہیں۔ میرے پاس 1000 عراقی دینار بھی نہیں (جس کی قدر ایک امریکی ڈالر سے بھی کم ہے)۔‘
ان ہزاروں ملازمین میں سے اکثر کا تعلق جنوبی ایشیا کے ممالک سے ہے۔ یہ عراق میں کئی شعبوں میں نوکریاں کرتے ہیں۔
بغداد میں بنگلہ دیشی سفارتخانے کے ایک اہلکار کے مطابق ان میں دو لاکھ 50 ہزار بنگلہ دیشی ملازمین بھی شامل ہیں۔