پشاور کے سب سے بڑے ہسپتال لیڈی ریڈنگ ہسپتال نے اپنے افسران سے کہا ہے کہ آئندہ دنوں میں کورونا وائرس کے مریضوں میں بے پناہ اضافہ ہو سکتا ہے اس لیے تمام میڈیکل سٹاف کو کسی بھی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیار رہنے کا حکم دیا جائے اور انھیں کسی بھی وقت مختصر نوٹس پرڈیوٹی کے لیے طلب کیا جا سکتا ہے۔
یہ خط لیڈی ریڈنگ ہسپتال کے میڈیکل ڈائریکٹر کی جانب سے تمام ڈویژنل چیفز کو لکھا گیا ہے۔
اس خط میں کہا گیا ہے کہ آئندہ ہفتوں میں کورونا وائرس کے مریضوں میں بے پناہ اضافے کا خدشہ ہے اور اس کے لیے ہسپتال میں کام کرنے والے افراد کی ضرورت ہوگی۔
اس خط میں متعلقہ حکام سے کہا گیا ہے کہ وہ اپنے متعلقہ شعبہ جات میں تمام میڈیکل سٹاف کو جس میں کنسلٹینٹس، درمیانی درجے اور جونیئر ڈاکٹرز شامل ہیں انھیں ایمر جنسی کی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیار رہنے کا حکم دیا جائے۔
اس خط میں کہا گیا ہے کہ کورونا وائرس کے بڑھتے ہوئے واقعات کی وجہ سے آئندہ دنوں میں ان مریضوں میں بے پناہ اضافے کا خدشہ ہے اس لیے میڈیکل سٹاف کو کسی بھی وقت مختصر نوٹس پر ڈیوٹی کے لیے طلب کیا جا سکتا ہے۔
اس خط میں مذید کہا گیا ہے کہ وہ اپنے سٹاف کی ڈیوٹیاں ضرورت کے مطابق ترتیب دے دیں تاکہ اس وبا اور ایمرجنسی کی صورتحال پر قابو پایا جا سکے۔
محکمہ صحت کے حکام نے بتایا ہے کہ اس وقت یہی صورتحال دیگر ہسپتالوں میں بھی پائی جاتی ہے ۔ لیڈی ریڈنگ ہسپتال میں میڈیکل سٹاف کی ڈیوٹیاں کورونا وائرس کے شروع کے دنوں میں جو ترتیب دی گئی تھیں وہ اب تک جاری تھیں اس لیے اب اس میں تبدیلی کی ضرورت ہے۔
زرائع نے بتایا ہے کہ اس وقت بڑے ہسپتالوں میں میڈیکل سٹاف کی ڈیوٹیوں کا مسئلہ پایا جاتا ہے جسے ہسپتال کی انتظامیہ سمجھانے کی کوششیں کر رہی ہے۔
خیبر پختونخوا میں کورونا وائرس کے مریضوں میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے اور گزشتہ روز جاری کیے گئے اعدا دو شمار کے مطابق صوبے میں 24 گھنٹوں میں 18 اموات ہوئئ ہیں جبکہ کل 773 افراد کورونا وائرس سے وفات پا چکے ہیں۔
صوبے میں کورونا وائرس کے کل مریضوں کی تعداد 20182 تک پہنچ چکی ہے۔
خیبر پختونخوا کے مشیر تعلیم اجمل وزیر نے آج میڈیا سے کہا ہے کہ صوبے میں کورونا مریضوں کے لیے جدید طبی سہولیات سے آراستہ مزید 176 بستروں کا انتظام کیا ہے جس سے کورونا وائرس سے متاثر شدید بیمار مریضوں کو سہولت میسر آئے گی۔
گذشتہ 10 دنوں کے دوران صوبے کی مختلف ہسپتالوں میں کورونا مریضوں کے علاج معالجے کے لیے 32 آئی سی یو جبکہ 144 ہائی ڈیپنڈنسی یونٹس بیڈز کا اضافہ کیا گیا۔
ہسپتال زرائع نے بتایا کہ چونکہ آئی سی یو اور ایچ ڈی یو بیڈز میں اضافہ کر دیا گیا ہے اس لیے بھی انھیں سٹاف کی زیادہ ضرورت ہے جہاں مریضوں کا خیال رکھا جا سکے۔