کورونا: امریکی سیاستدان ’اپنی ناکامی چھپانے کے لیے‘ چین پر الزامات لگا رہے ہیں

دنیا میں کورونا کے مصدقہ مریضوں کی تعداد 35 لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے جبکہ ہلاکتوں کی مجموعی تعداد دو لاکھ 51 ہزار سے زیادہ ہے۔ عالمی ادارہ صحتنے کہا ہے کہ امریکی حکومت نے ان دعووں کے کوئی شواہد پیش نہیں کیے ہیں کہ وائرس کا وجود وہان کی ایک لیبارٹری میں عمل میں آیا جبکہ چینی میڈیا نے ان دعووں کو 'پاگل پن' اور 'مضحکہ خیز' قرار دیا ہے۔

لائیو کوریج

  1. جمہوریہ چیک کے سینما گھروں میں پوپ کارن کی اجازت نہیں ہو گی

    جمہوریہ چیک

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق جمہوریہ چیک نے 11 مئی سے سینما گھر، حجام کی دکانیں اور دوسرے کاروبار کھولنے کا اعلان کیا ہے تاہم سینما گھروں میں کھانے پینے کی اجازت نہیں ہو گی اور حجام کے لیے ماسک اور دستانے پہنا لازمی ہو گا۔

    ملک کے وزیر صحت کے مطابق فلم کے دوران بھی ماسک پہننا لازم ہو گا جس کا مطلب ہے کہ پوپ کارن کھانے کی اجازت نہیں۔

    سنیما گھروں میں لوگوں کو ایک صف خالی چھوڑنا ہو گی تاہم جوڑوں کو ایک ساتھ بیٹھنے کی اجازت ہو گی لیکن انھیں دوسروں سے ایک نشست چھوڑ کر بیٹھنا ہو گا۔

    جمہوریہ چیک میں اب تک کورونا وائرس سے 237 افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ مریضوں کی تعداد 7689 ہے۔

  2. جاپان: ملک میں ایمرجنسی کو بڑھانے پر غور

    جاپان کے وزیرِ اعظم شینزو ایبے

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    جاپان کے وزیرِ اعظم شینزو ایبے نے کہا ہے کہ ہو سکتا ہے کہ وہ ملک میں ہنگامی حالت کو مزید ایک مہینے کے لیے بڑھا دیں۔

    انھوں نے کہا کہ وہ اپنا حتمی فیصلہ ماہرین کے پینل کے مشورے سے کریں گے، جو کہہ رہے ہیں کہ اگرچہ ملک میں کورونا وائرس کے متاثرین کی تعداد میں کمی ہو رہی ہے لیکن حالات ایسے نہیں ہیں جیسے وہ چاہتے ہیں۔ حالیہ ایمرجنسی کی مدت 6 مئی کو ختم ہو جائے گی۔ شینزو ایبے نے کہا کہ وہ اپنا فیصلہ پیر کو سنائیں گے۔

    انھوں نے رپورٹروں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’ہمارے شہریوں کی کوششوں کی وجہ سے ہم بہت زیادہ کیسز کو روک سکیں ہیں اور ویسا نہیں ہوا جو ہم بیرون ممالک میں دیکھا گیا ہے۔

    ’لیکن طبی حالت ابھی بھی مشکل رہے گی اور ہمیں قوم کے زیادہ تعاون کی ضرورت ہے۔‘

    جانز ہاپکنز یونیورسٹی کے مطابق 126 ملین کی آبادی والے ملک میں کووڈ۔19 کے 14 ہزار کیسز سامنے آئے ہیں اور اس سے 430 اموات ہوئی ہیں۔

  3. کیا یہ چین کے ساتھ لڑائی لینے کا مناسب وقت ہے؟, جوناتھن مارکس، نامہ نگار سفارتی اور دفاعی امور

    ٹرمپ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا چین کے خلاف حملہ بہت حد تک اندرونی سیاست اور ان کی الیکشن مہم کے بارے میں ہے۔

    لیکن اس سے بیجنگ کے خلاف سرد جنگ کی ذہنیت کے بڑھنے کا خطرہ ہے جو آئندہ آنے والے مہینوں اور برسوں میں سفارت کاری پر حاوی ہو سکتا ہے۔

    یقینی طور کووڈ 19 پھیلنے کے ابتدائی مراحل سے نمٹنے سے متعلق چین پر تنقید کرنے کے لیے بہت کچھ ہے۔ اور اس نے بے شرمی سے اس بحران سے سیاسی سرمایہ بنانے کی کوشش کی ہے۔ یہاں تک کہ صدر ٹرمپ کے ڈیموکریٹک مخالف جو بائیڈن بھی بیجنگ پر دباؤ ڈال رہے ہیں۔

    لیکن بہت سے تجزیہ کار سوال کرتے ہیں کہ کیا یہ لڑائی کا صحیح وقت ہے۔

    چین کا عروج مغرب کی امید کے مطابق ختم نہیں ہوا۔ اپنے خطے میں چین ایک فوجی سپر پاور ہے جو کہ طاقتور امریکہ کا ایک مقابل ہے۔

    سٹریٹجک علاقوں میں اس کی فائیو جی اور مصنوعی ذہانت جیسی تکنیکی صلاحیتیں متاثر کن ہیں۔

    اور اس کا وسیع اثرورسوخ جو کہ تجارتی اور مالی تعلقات کے ذریعے قائم کیا گیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ چین کو ایک ایسی طاقت کے طور پر تسلیم کیا جائے جو کھیل کے بین الاقوامی قواعد پر تیزی سے اثر انداز ہو سکتا ہے۔

    بیجنگ کے بڑھتے ہوئے کردار کا مقابلہ کرنا اگلے امریکی صدر کی مرکزی خارجہ پالیسی کے لیے چیلینج ہو گا جبکہ چین کے ساتھ موسمیاتی تبدیلی جیسے معاملات پر کام کرنے کے راستے تلاش کرنے کی کوشش بھی کی جائے گی۔

  4. برطانیہ میں لاک ڈاؤن کے باوجود سرگرمیوں میں اضافہ

    برطانیہ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    گوگل کا کہنا ہے کہ اس حقیقت کے باوجود کہ برطانیہ میں جاری لاک ڈاؤن میں نرمی نہیں کی گئی، ملک میں واضح طور پر سرگرمیوں میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔

    گوگل کی گذشتہ ویک اینڈ کی تازہ موبلٹی رپورٹ سے ملک بھر میں سرگرمیوں میں نمایاں اضافہ ظاہر ہوتا ہے۔

    رپورٹ کے مطابق پارکس میں جانا معمول سے صرف 10 فیصد کم ہے جبکہ لاک ڈاؤن کے آغاز میں یہ تقریباً 50 فیصد کم تھا۔

  5. کووڈ-19: کیا اس بات کا کوئی ثبوت ہے کہ وائرس لیبارٹری سے نکلا؟

  6. فرانس نے لاک ڈاؤن میں نرمی کی حکمت عملی کا نقشہ جاری کر دیا

    فرانس میں حکومت نے لاک ڈاؤن میں نرمی کی اپنی حکمت عملی کا نقشہ جاری کر دیا ہے۔

    اس نقشے میں دیکھا جا سکتا ہے کہ کون سے علاقے کورونا وائرس سے زیادہ متاثر ہیں جبکہ کن ہسپتالوں پر زیادہ دباؤ ہے۔

    علاقوں کو سرخ، پیلے اور سبز رنگ میں تقسیم کیا گیا ہے اور سبز رنگ میں موجود علاقوں سے چند پابندیوں کو ختم کیا جا سکتا ہے۔

    فرانس میں اب تک کورونا وائرس سے 24410 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

    فرانس

    ،تصویر کا ذریعہMinistère des Solidarités et de la Santé

  7. صدر ٹرمپ کورونا وائرس کے معاملے میں اپنے انٹیلجنس ادارے سے متفق نہیں

  8. کورونا وائرس: شراب سے کورونا کا علاج صرف ایک افواہ ہے, ریالٹی چیک

    انڈیا میں ایک سیاستدان نے کورونا وائرس کا ’مقابلہ‘ کرنے کے لیے شراب بیچنے والی دکانوں کو فوری طور پر کھولنے کا مطالبہ کیا ہے۔

    اس سے قبل عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے خاص طور پر خبردار کیا تھا کہ کورونا وائرس کی وبا کا علاج شراب پینا نہیں ہے۔

    حزبِ اختلاف کی جماعت کانگرس پارٹی کے راجستھان کی ریاست سے تعلق رکھنے والے ایک سینیئر رکن بھارت سنگھ نے کہا کہ ’جب کورونا وائرس الکوہل سے ہاتھ دھونے سے ختم کیا جا سکتا ہے، تو الکوہل پینے سے یہ وائرس یقیناً گلے سے ختم ہو جائے گا۔‘

    انھوں نے ریاست کے وزیرِ اعلیٰ کو لکھے گئے ایک خط میں شراب بیچنے والی دکانوں کو کھولنے کا مطالبہ کیا ہے، اگرچہ اس وقت انڈیا میں کم از کم 4 مئی تک مکمل لاک ڈاؤن ہے۔

    ڈبلیو ایچ او نے کہا ہے کہ الکوہل کوئی تحفظ فراہم نہیں کرتی اور اس سے صحت کے دوسرے مسائل کا خطرہ ہے۔

    ہاتھوں کی صفائی کے لیے ایسے سینیٹائزرز استعمال کرنے کے لیے کہا گیا ہے جن میں الکوہل بھی استعمال ہوتی ہے اور ان کے مؤثر ہونے کے لیے ان میں کم از کم 60 فیصد الکوہل ہونا ضروری ہے۔

  9. کورونا وائرس: لاک ڈاؤن اور پابندیوں میں یوم مزدور کی ریلیاں

    یونان

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    ،تصویر کا کیپشنیونان کے دارالحکومت ایتھنز میں مظاہرین لیبر ڈے کی ریلی میں ماسک اور دستانے پہنے شریک ہوئے
    ترکی

    ،تصویر کا ذریعہAFP

    ،تصویر کا کیپشنادھر ترکی کے شہر استنبول میں مظاہرین اور پولیس کے درمیان ہاتھا پائی ہوئی
    ڈنمارک

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    ،تصویر کا کیپشنڈنمارک کی وزیر اعظم نے کوپن ہیگن کے ورکرز میوزیم سے بذریعہ فیس بک اپنا خطاب کیا
    جنوبی کوریا

    ،تصویر کا ذریعہAFP

    ،تصویر کا کیپشنجنوبی کوریا کے شہر سیوئل میں لوگوں نے یوم مزدور کی ریلی کے دوران رسیوں کی مدد سے ایک دوسرے سے فاصلہ برقرار رکھا
  10. بریکنگ, روس میں کورونا وائرس کے کیسز میں ریکارڈ اضافہ

    روس

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران روس میں کورونا وائرس کے 7933 نئے کیس ریکارڈ کیے گئے ہیں جس کے بعد ملک میں متاثرین کی کل تعداد 114431 ہو گئی ہے۔

    اس وبا کے پھوٹنے کے بعد روس میں ایک دن کے دوران کورونا وائرس کے نئے کیسز میں یہ ریکارڈ اضافہ ہے۔

    ماسکو میں کورونا وائرس ہیڈ کوارٹر کے مطابق گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 85 علاقوں سے 7933 نئے کیس ریکارڈ کیے گئے ہیں جبکہ 96 اموات بھی ہوئی ہیں۔

    روس میں اب تک کورونا وائرس سے 1169 افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ 13220 مریض صحت یاب بھی ہوئے ہیں۔

  11. انڈیا: مزدوروں کو گھر پہنچانے والی پہلی ٹرین جنوبی ریاست تلنگانہ سے روانہ

    انڈیا

    ،تصویر کا ذریعہANI

    انڈیا میں لاک ڈاؤن کی وجہ سے دوسرے شہروں میں پھنسے مزدوروں کو ان کے گھروں تک پہنچانے کے لیے پہلی ٹرین جنوبی ریاست تلنگانہ سے روانہ ہو گئی ہے۔

    جھارکھنڈ جانے والی اس نان سٹاپ ٹرین میں 1200 مزدور سوار ہیں اور ہر بوگی میں 54 مسافر ہیں۔

    واضح رہے کہ اس ہفتے کے آغاز میں حکومت نے کہا تھا کہ وہ دوسرے شروں میں پھنسے لوگوں کی ان کے گھروں میں واپسی کا انتظام کرے گی۔

    ٹرین کی روانگی سے پہلے مسافروں میں بخار اور دوسری علامات کی جانچ کے لیے سکریننگ کی گئی۔

    انڈیا کی جانب سے 25 مارچ کو لاک ڈاؤن کے اچانک فیصلے سے لاکھوں مزدور اپنے گھروں سے دور شہروں میں پھنس گئے تھے۔ ان میں سے کئی نے پیدل ہی اپنے گھروں کی جانب سفر شروع کر دیا تھا، جس دوران کئی اپنی جانیں بھی گنوا بیٹھے تھے۔

  12. بریکنگ, ایران میں کورونا وائرس سے متاثرین کی تعداد 95 ہزار سے زیادہ، 6091 ہلاکتیں

    ایران میں حکام نے یکم مئی کو 1006 نئے کیسز کی تصدیق کی ہے۔ اس کے بعد ملک میں کل متاثرین کی تعداد 95646 ہوگئی ہے۔ گۓشتہ 24 گھنٹوں میں 63 مریضوں کی ہلاکت کے بعد ملک میں کورونا وائرس کی وجہ سے ہونے والی اموات کی تعداد 6091 ہوگئی ہےگ

    حکام کا کہنا ہے کہ 76 ہزار سے زیادہ افراد صحت یاب ھبی ہو چکے ہیں جبکہ 2899 مرئص کی حالت قدرے خطرے میں ہے۔

  13. کورونا وائرس کی ویکسین کب تک بن جائے گی؟

  14. ٹینس کی واپسی، کورونا کی عالمی وبا کے بعد ٹی وی پر نشر ہونے والا پہلا ٹورنامنٹ جرمنی میں

    کورونا کی عالمی وبا کے منظرِ عام پر آنے کے بعد سے کھیلوں کی دنیا کے متعدد ٹورنامنٹ منسوخ یا ملتوی کیے گئے ہیں۔ تاہم عالمی وبا کے اس دور میں جو پہلا پیشہ وارانہ ٹورنامنٹ ٹی وی پر نشر کیا جانے لگا ہے وہ جرمنی میں جمعے کے روز شروع ہو رہا ہے۔

    چار روزہ ٹیسٹ پوائنٹ سیریز کوبلنز میں منعقد ہوگا۔

    اس میں لائن ججز، بال گرل یا بال بوائز نہیں ہوں گے۔ کھلاڑی ایک دوسرے سے ہاتھ نہیں ملائیں گے اور نیٹ کے دو مختلف اطراف بیٹھیں گے۔

    Tennis

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

  15. تانیہ آئدروس: پاکستان ایک اور بڑا لاک ڈاؤن نہیں سہہ سکے گا

  16. ”سیاہ فام برطانوی شہریوں میں کورونا وائرس سے ہلاکتوں کی شرح تین گیا زیادہ ہے‘‘

    ایک نئی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ انگلینڈ اور ویلز میں سیاہ فام افریقی نژاد برطانوی شہریوں میں کورونا وائرس سے ہلاک ہونے کی شرح سفید فام برطانوی شہریوں سے تین گیا زیادہ ہے۔

    انسٹیٹیوٹ آف فسکل سٹڈیز کی تحقیق کے مطابق کووڈ19 کی بیماری ان علاقوں میں زیاہد پھیلی ہے جہاں نسلی اقلیتوں کے لوگ زیادہ رہتے ہیں۔

    UK

    ،تصویر کا ذریعہEPA

  17. بریکنگ, سپین میں کورونا وائرس سے ہلاکتیں بڑھنے لگی

    Spain

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    سپین میں کورونا وائرس سے ہلاکتوں کی کل تعداد 24824 ہوگئی ہے۔ گذشتہ روز ملک میں 281 نئی اموات واقع ہوئی ہیں۔

    اس سے ایک روز قبل بھی 268 لوگ ہلاک ہوئے تھے۔

    اس کے علاوہ ملک میں اس وائرس سے متاثرہ لوگوں کی تعداد ایک دن میں تقریباً دو ہزار نئے مریضوں کے ساتھ 215216 ہوگئی ہے۔

    سپین اس عالمی وبا سے بدترین متاثرہ ممالک میں سے ایک ہے اور ہسپانوی حکومت نے چار مرحلوں میں اپنا سخت لاک ڈاؤن ختم کرنا ہے اور جون تک حالات نارمل ہونے کی توقع ہے۔

  18. کن ممالک میں سب سے زیادہ لوگ صحت یاب ہویے ہیں؟

    Corona Virus

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق عالمی سطح پر کورونا وائرس ے دس لاکھ متاثرین صحت یاب ہو چکے ہیں۔

    امریکہ میں جانز ہاپکنز یونیورسٹی کے مطابق مندرجہ ڈیل ممالک میں سب سے زیادہ لوگ صحت یاب ہوئے ہیں۔ امریکی اس فہرست میں سب سے اوپر ہے مگر امریکہ میں متاثرین کی تعداد بھی سب سے زیادہ ہے۔

    مگر ان اعداد و شمار میں کچھ اہم نکات ہیں۔

    پہلے تو یہ کہ اصل میں متاثرہ لوگوں کی حقیقی تعداد کا اندازہ قدرے کم لگایا جا رہا ہے۔ بہت سے متاثرہ لوگ ٹیسٹ نہ ہونے کی وجہ سے ریکارڈ ہی نہیں ہوتے۔

    دوسرا، مختلف ممالک کا مریضوں اور صحت یاب ہونے والوں کو گننے کے معیار مختلف ہیں۔

    اس کے علاوہ صحت یابی میں مختلف لوگوں میں مختلف وقت لگتا ہے تو یہ اعداد و شمار تیزی سے بدل سکتے ہیں۔

    Corona Recoveries
  19. سپین کی معیشت کو گذشتہ دہائی کے سب سے بڑے بحران کا سامنا

    سپین کی حکومت کا کہنا ہے کہ ملک کی معیشت اس سال بڑے پیمانے پر اپنا حجم کھوئے گی۔ حکومتی اندازوں کے مطابق سپین کی معیشت 2020 میں 9.2 فیصد سکڑے گی تاہم توقع کی جا رہی ہے کہ آئندہ سال اس میں کافی بہتری آئے گی۔

    ادھر یورو زون کی مجموعی معیشت سال کی پہلی سہہ مائی میں تاریخ کی تیز ترین تیزی سے سکڑی ہے۔ جنوری سے مارچ تک کے خطے کا جی ڈی پی 3.8 فیصد تک سکڑ گیا ہے جو کہ 2008 کے عالمی مالیاتی بحران سے کہیں بھی زیادہ شدید ہے۔

    Spain
  20. افغانستان میں بچے خوراک کی قلت کا شکار ہو رہے ہیں, لیس ڈوسیٹ، چیف انٹرنیشنل نامہ نگار

    Afghanistan

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ایک بین الاقوامی فلاحی تنظیم نے خبردار کیا ہے کہ کورونا وائرس کی وجہ سے خوراک کی بڑھتی قیمتوں کے پیشِ نظر افغانستان میں 70 لاکھ بچوں کو خوراک کی قلت کا شکار ہونے کا خطرہ ہے۔

    تنظیم سیو دی چلڈرن کا کہنا ہے کہ افغانستان بچوں کے لیے خطرناک ترین ممالک میں سے ایک ہے جہاں بچوں نے صرف جنگ، دشوار اور بھوک دیکھی ہے۔

    تنظیم کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس کی وبا پھیلنے کے ساتھ ہی ملک میں خوراک کی قیمت بڑھنے لگی ہے۔ گندم کے آٹے اور کھانا پکانے کے تیل جیسی بنیادی چیزوں کی قیمتوں میں 23 فیصد تک اضافہ ہو گیا ہے۔

    اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ لاک ڈاؤن کی وجہ سے ملک کی سرحدیں بھی بند رہی ہیں اور اشیائے خورد و نوش کی رسد بھی غیر مستحکم رہی ہے۔

    دارالحکومت کابل میں زیاہد تر دکانیں بند ہیں، ہزاروں بچے جو اپنے خاندانوں کا مرکزی ذریعےِ معاش ہیں، سڑکوں پر بھیک مانگتے نظر آتے ہیں۔ کام کرنے والے بچوں اور دیہازی دار مزدوروں کے لیے کام نہ ہونے کا مطلب کھانا نہ ہونا ہے۔