یورپی ملک سپین نے اعلان کیا ہے کہ وہ چار مرحلوں میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے کیے جانے والے لاک ڈاؤن کو ہٹا دے گا اور جون کے آخر تک وہاں زندگی ’معمول‘ پر آ جائے گی۔
سپین کے وزیرِ اعظم پیڈرو سانچیز کا کہنا ہے کہ ملک کے مختلف خطوں میں وائرس کے پھیلاؤ کی مناسبت سے پابندیاں مختلف انداز میں ختم کی جائیں گی۔
سپین کے چار جزیروں پر لاک ڈاؤن میں نرمی کا آغاز چار مئی سے ہو گا جس کے بعد ملک کے دیگر حصوں میں بھی ایسا ہی جائے گا۔
اب تک ملک میں کورونا وائرس سے تقریباً 24000 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
ملک میں 14 مارچ کے بعد سے دنیا کی سب سے سخت پابدیاں لگائی گئی تھیں تاکہ لوگوں کو گھروں تک محدود کیا جا سکے۔ ان پابندیوں میں بچوں کے گھروں سے نکلنے پر چھ ہفتوں کی پابندی عائد کی گئی تھی۔
یہ اس بات کی نشاندہی ہے کہ سپین میں وائرس کا پھیلاؤ کم ہو رہا ہے تاہم منگل کے روز سپین کے محکمہ صحت کے مطابق ملک میں 301 اموات سامنے آئیں جو کہ گذشتہ ماہ کے اوائل میں 950 بھی ہوا کرتی تھیں۔
نئے مریضوں کی تعداد 1308 تپی جو کہ 14 مارچ کے بعد سے سب سے کم ہے۔