امریکی حکام کے مطابق اس حوالے سے ’واضح‘ ثبوت موجود ہیں کہ ریمڈیسیور نامی دوا کووڈ 19 سے متاثرہ افراد کو صحتیاب ہونے میں مدد دے سکتی ہے۔
دنیا بھر میں ہسپتالوں میں ہونے والے کلینکل ٹرائلز کے مطابق ریمڈیسیور کورونا وائرس کی علامات کے دورانیے کو 15 سے 11 دنوں تک محدود کر دیتی ہے۔
اس حوالے سے اب تک مکمل تفصیلات تو شائع نہیں کی گئیں تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر اس کی تصدیق ہو جائے تو یہ ایک ’خوش آئند نتیجہ‘ ضرور ہو گا لیکن یہ بیماری پر ’جادوئی‘ اثر نہیں ڈالے گی۔
اس دوا سے بہرحال جانیں بچانے، ہسپتالوں سے دباؤ کم کرنے اور لاک ڈاؤن میں نرمی کرنے جیسے فائدے حاصل کیے جا سکتے ہیں۔
یہ دوا دراصل ایبولا وائرس کے علاج کے لیے بنائی گئی تھی۔ یہ ایک اینٹی وائرل دوا ہے جو اس اینزائم پر حملہ کرتی ہے جس کے ذریعے وائرس کو خلیوں میں تیزی سے تعداد میں اضافے میں مدد ملتی ہے۔
اس حوالے سے کی جانے والی آزمائش امریکہ کے قومی ادارہ برائے الرجی اور متعدی امراض میں کی گئی جس 1063 افراد نے حصہ لیا۔ کچھ مریضوں کو یہ دوا دی گئی جبکہ کچھ پلاسیبو یعنی بے ضرر دوا دی گئی۔
ڈاکٹر اینتھونی فاؤچی جو اس ادارے کے سربراہ ہیں کا کہنا تھا کہ ’اعداد و شمار کے مطابق ریمڈیسیور کا مریض کے صحتیاب ہونے کے وقت میں کمی میں واضح، اہم اور مثبت اثر ہے۔
انھوں نے کہا کہ نتائج اس بات کا ثبوت ہیں کہ ’ایک دوا اس وائرس کو روک سکتی ہے‘ اور یہ مریضوں کے علاج کے لیے ہماری صلاحیت میں اضافے کے لیے راہ ہموار کرے گی۔‘
تاہم ابھی اس دوا کا اموات پر اثر واضح نہیں ہے۔ وہ افراد جنھیں ریمیڈریسور دی گئی ان میں اموات کی شرح آٹھ فیصد تھی جبکہ جن لوگوں کو ایک بے ضرر دوا دی گئی ان میں اموات کی شرح 11 اعشاریہ چھ فیصد تھی۔