آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

برطانیہ: ایسٹر کے بعد سے کیئر ہومز میں 4343 ہلاکتیں ریکارڈ ہوئیں

دنیا بھر میں کورونا کے مصدقہ مریضوں کی تعداد 30 لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے جبکہ ہلاک ہونے والوں کی تعداد دو لاکھ سے زیادہ ہے۔ دوسری جانب روس میں ایک دن میں چھ ہزار چار سو سے زیادہ افراد میں کورونا کی تشخیص کے بعد ملک میں متاثرین کی کُل تعداد ایران سے بھی زیادہ ہو گئی ہے۔

لائیو کوریج

  1. حفاظتی معائنے میں ناکامی، سٹاک ہوم کے شراب خانے بند

    سٹاک ہوم کی سٹی کونسل نے کورونا وائرس کی حفاظت سے متعلق معائنے میں ناکامی کے بعد شہر میں پانچ شراب خانے اور ریستوران بند کردیے ہیں۔

    یہ معائنہ ان خدشات کے بعد کیا گیا ہے کہ کچھ جگہوں پر صارفین کے مابین معاشرتی فاصلے کی حوصلہ افزائی کے لیے زیادہ کوششیں نہیں کی جا رہیں۔

    ہفتے کے آخر میں ایک درجن سے زیادہ مقامات کو انسپکٹروں کی جانب سے انتباہ جاری کیا گیا تھا۔ سٹی یونیورسٹی آف لنڈ میں بھی معائنہ کیا گیا جہاں کے تمام مقامات نے اپنے معائنہ ٹیسٹ پاس کیے۔

    اس وبا کے آغاز سے ہی سویڈن نے شراب خانے، ریستوران اور کیفے کھلے رکھے ہیں لیکن گذشتہ ماہ حکومت نے ان جگہوں کے مالکان سے کہا کہ وہ صرف ان وہ گاہکوں کو خدمات فراہم دیں جن کے لیے وہ ٹیبل سروس پیش کر سکیں تاکہ شراب خانوں میں زیادہ رش نہ ہو سکے۔

  2. کورونا ویکسین کے لیے دنیا کی نظریں انڈیا پر کیوں

  3. بچوں میں کورونا وائرس سے متعلقہ سنڈروم کا خطرہ

    برطانوی ہیلتھ سروس جرنل کے مطابق، گذشتہ دو سے تین ہفتوں کے دوران کورونا وائرس سے متاثرہ کیسز کی تعداد میں اضافے کے بعد، ڈاکٹروں کو جاری کردہ ایک ’فوری انتباہ‘ میں کورونا وائرس سے متعلق ایک سنجیدہ نوعیت کا سنڈروم ابھرنے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔

    ڈاکٹروں کو بھیجے گئے مراسلے میں خبردار کیا گیا ہے کہ ’پچھلے تین ہفتوں میں، ایسے بچوں کی تعداد میں واضح طور پر اضافہ دیکھا گیا ہے جنھیں ایک سے زائد سوزش کی شکایت ہو اور انتہائی نگہداشت کی ضرورت پڑے۔‘

    مراسلے میں مزید کہا گیا ہے ’یہ بات انتہائی تشویش کا باعث ہے کہ برطانیہ کے بچوں میں کووڈ 19 سے متعلق سوزش کا سنڈروم ابھر رہا ہے یا ایسا بھی ممکن ہے کہ ان کیسز میں بیماری پھیلانے والا کوئی نامعلوم جراثیم ملوث ہو۔‘

    ابھی تک اس مسئلے کے بارے میں بہت کم معلومات ہیں، نہ ہی ابھی یہ معلوم ہے کہ یہ کتنا وسیع ہے لیکن متاثرہ بچوں کی مطلق تعداد کم ہونے کا امکان ہے۔

    سنڈروم میں کووڈ 19 کی شدید قسم کی خصوصیات موجود ہیں لیکن بچوں میں کورونا وائرس سے ہونے والے سنگین اثرات یا اموات کے نسبتاً بہت کم واقعات ہوئے ہیں۔

    کچھ بچوں کے کوڈ 19 ٹیسٹ مثبت آئے ہیں اور ایسا لگتا ہے کہ کچھ بچے ماضی میں اس وائرس سے متاثر تھے لیکن ایسے بچے بھی موجود ہیں جن میں کوئی علامات نہیں۔

    حقیقت یہ ہے کہ بالغوں کے مقابلے میں بہت کم بچوں کوورنا وائرس سے متاثر ہوئے ہیں یا ان کی ہلاکت ہوئی ہے۔

  4. کیا لیموں کے رس سے کورونا کا علاج ہو سکتا ہے؟

    کیا لیموں کے رس سے کورونا کا علاج ہو سکتا ہے؟ ایسے سوال اور ان سے جُڑی کئی افواہیں انٹرنیٹ پر گردش کر رہی ہیں۔ انٹرنیٹ پر پھیلنے والی افواہوں میں کتنی حقیقت ہے، جانیے بی بی سی کی عالیہ نازکی سے۔۔۔

  5. فارمولہ ون: شائقین کے بغیر سیزن کا آغاز آسٹریلیا سے ہو گا، فرنچ گرینڈ پری منسوخ

    فارمولہ ون کے چیئرمین اور سی ای او چیس کیری کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس کی وجہ سے تاخیر کا شکار سیزن کا آغاز رواں برس جولائی کے مہینے میں آسٹریلیا سے کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں تاہم اس ایونٹ میں شائقین شامل نہیں ہوں گے۔

    خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق ایشیا اور امریکہ میں ریسز کے بعد اس سیزن کا اختتام جنوری میں ابوظہبی میں ہوگا۔

    ریڈ بل رنگ میں پہلی ریس 3 سے 5 جولائی کو ہوگی۔

    جون میں جنوبی لی کاسٹلیٹ سرکٹ میں واقع فرنچ گرینڈ پری کو بھی منسوخ کردیا گیا ہے۔ اس طرح یہ کوورنا وائرس سے متاثر ہو کر منسوخ ہونے والی 10ویں ریس بن گئی ہے۔

  6. کورونا وائرس: نیشنل ہیلتھ سروس کے لیے 50 لاکھ پاؤنڈ جمع کرنے والے 99 سالہ فوجی سے ملیے

    ٹام مور برطانیہ سے تعلق رکھنے والے سابق فوجی ہیں۔ ان کی عمر 99 سال ہے۔ جب انھوں نے کورونا وائرس سے نمٹنے کے لیے نیشنل ہیلتھ سروس کی مدد کرنے کا ارادہ کیا تو ان کا خیال تھا کہ وہ صرف ایک ہزار پاؤنڈ چندہ اکٹھا کر پائیں گے لیکن عطیات کی رقم 50 لاکھ پاؤنڈ سے بھی تجاوز کر گئی۔

  7. بریکنگ, جانسن: ’لاک ڈاؤن جلد ختم کرکے عوام کی قربانی رائیگاں نہیں جانے دوں گا‘

    کورونا وائرس سے صحتیابی کے بعد عوام سے اپنے پہلے پیغام میں برطانوی وزیرِاعظم بورس جانسن نے خبردار کیا ہے برطانیہ کورونا وائرس کے حوالے سے ’زیادہ سے زیادہ خطرے‘ کے مقام پر ہے۔

    جانسن کا کہنا تھا کہ وہ لاک ڈاؤن پابندیوں کو ختم کرکے ’برطانوی عوام کی قربانی کو رائیگاں نہیں جانے دیں گے۔‘

    ان کا کہنا تھا ’میں جانتا ہوں کہ یہ مشکل وقت ہے۔ میں چاہتا ہوں معیشت جلد سے جلد بحال ہو۔‘

    ’لیکن میں برطانوی عوام کی قربانی کو ضائع کرنے سے انکار کرتا ہوں۔۔ میں نہیں چاہتا برطانیہ میں کورونا وائرس کی وبا دوبارہ عروج پر پہنچے۔‘

    ان کا مزید کہنا تھا کہ حکومت ابھی اس بات کی کوئی وضاحت نہیں کرسکتی ہے کہ لاک ڈاؤن پالیسی میں کتنی جلدی اور کس طرح کی تبدیلیاں لاگو ہوں گی۔ حکومت آنے والے دنوں میں ہی اس بارے میں کچھ مزید بتا سکے گی۔‘

    بورس جانسن کا کہنا تھا کہ یہ فیصلے زیادہ سے زیادہ شفافیت کے ساتھ لیے جائیں گے۔

  8. جرمنی میں ماسک پہننے کے نئے قواعد اور یورپ کی تازہ ترین صورتحال

    اب پورے جرمنی میں چہرے کے ماسک پہننا لازمی ہیں اور اٹلی نے اپنا لاک ڈاؤن کم کرنے کے منصوبوں کا اعلان کیا ہے۔ آئیے آپ کو یورپ کی تازہ ترین صورتحال بتاتے ہیں:

    • جرمنی بھر میں پبلک ٹرانسپورٹ پر سفر کرتے ہوئے ماسک پہننا لازمی ہیں، بیشتر ریاستوں میں خریداری کے وقت بھی انھیں پہننا لازم ہے۔
    • جرمن حکام لوگوں سے درخواست کر رہے ہیں کہ وہ عام ماسک پہنیں اور میڈیکل ماسک طبی عملے کے لیے چھوڑ دیں۔
    • اٹلی کے وزیر اعظم جیوسپی کونٹے نے اتوار کے روز لاک ڈاؤن پابندیوں میں نرمی کا اعلان کیا۔ 4 مئی سے لوگوں کو رشتے داروں سے ملنے، کم تعداد والے جنازے منعقد کرنے، پارکوں میں جانے اور اپنے ہی علاقے میں (لیکن باہر نہیں) سفر کرنے کی اجازت ہوگی۔
    • سوئٹزرلینڈ میں ہیئر ڈریسرز اور باغات دوبارہ کھل گئے ہیں اور طلبا 11 مئی سے سکول واپس آجائیں گے۔
    • یوروپی یونین کے سب سے چھوٹے ملک مالٹا میں اتوار کے روز پچھلے 24 گھنٹوں کے دوران وائرس کے کوئی نئے کیسز رپورٹ نہیں ہوئے۔ چھ ہفتوں میں ایسا پہلی بار ہوا ہے۔
  9. لاک ڈاؤن جلد ختم ہونے سے متعلق ابھی کوئی قیاس آرائی نہیں کی جا سکتی، برطانوی وزیر

    بی بی سی سے بات کرتے ہوئے برطانیہ کے جونیئر وزیر صحت ایڈورڈ ارگر کا کہنا تھا کہ وہ برطانیہ میں لاک ڈاؤن کے سلسلے میں لگائی گئی پابندی سے ہونے والی پریشانیوں کو سمجھتے ہیں لیکن ’سائنسی اعتبار سے ہم ایسی صورتحال میں نہیں ہیں کہ ان پابندیوں میں نرمی کر سکیں۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ 7 مئی کو ہونے والے اگلے جائزے میں کیا تبدیلیاں آسکتی ہیں، اس بارے میں ابھی کوئی قیاس آرائی نہیں کی جا سکتی۔

    کس شخص کو ماسک پہننا چاہیے اور کسے نہیں، ان کا کہنا تھا کہ اس بارے میں سائنس کی رائے مخلوط ہے۔ ابھی تک موجود طبی مشورہ یہی ہے کہ مریضوں کے آس پاس ماسک ضرور پہنیں لیکن عام زندگی گزارنے والے باقی لوگوں کے لیے ماسک پہننا اتنا اہم نہیں ہے۔۔ حالانکہ کچھ تحقیقی مقالے اس بارے میں مختلف رائے پیش کرتے ہیں۔

  10. کورونا اور محبت: سماجی دوری کے زمانے میں محبتیں کیسے بڑھ رہی ہیں؟

    کورونا وائرس کی وجہ سے جہاں زندگی کے دوسرے معاملات اب الیکٹرانک روپ اختیار کر رہے ہیں، وہیں آن لائن ڈیٹنگ کے رجحان میں بھی اضافہ ہوا ہے۔‍اس ڈیجیٹل ویڈیو میں دیکھیے کہ سماجی دوری کے زمانے میں ڈیٹنگ کے لیے نوجوان کیا طریقے اختیار کر رہے ہیں۔

  11. آسٹریلیا: لاکھوں افراد نے ٹریسنگ ایپ ڈاؤن لوڈ کر لی

    آسٹریلیا میں حکومت کے طرف سے کورونا وائرس ٹریسنگ ایپ (وائرس کا شکار شخص سے رابطے کا پتہ لگانے والی ایپ) جاری ہونے کے چند ہی گھنٹوں بعد تقریباً دس لاکھ افراد نے فوراً اسے ڈاؤن لوڈ کر لیا ہے۔

    کوویڈ سیف نامی سمارٹ فون ایپ بلوٹوتھ وائرلیس سگنل کا استعمال کرتے ہوئے 1.5 میٹر تک کسی دوسرے صارف کے ساتھ ’ڈیجیٹل ہینڈ شیک‘ کا تبادلہ کرتی ہے۔ اس کے بعد ایپ اس رابطے کو لاگ ان کرکے اسے معلومات کو خفیہ طور پر ریکارڈ کر لیتی ہے۔

    کسی بھی ایسے صارف (جس کا کووڈ-19 ٹیسٹ مثبت آیا ہو) کےساتھ 15 منٹ سے زیادہ دیر تک رابطے کی صورت میں صارفین کو مطلع کیا جائے گا۔

    جان ہاپکنز یونیورسٹی کے اعداد و شمار کے مطابق آسٹریلیا میں وائرس سے 6694 کیسز اور 80 اموات ریکارڈ کی گئیں۔

    حکومت کا کہنا ہے کہ ایپ سے حاصل کردہ ڈیٹا کو عارضی طور پر محفوظ کیا جائے گا اور صرف رابطے کا سراغ لگانے کے لیے استعمال کیا جائے گا۔ لیکن ناقدین کا کہنا ہے کہ ان تحفظات کو ابھی قانونی شکل نہیں دی گئی کیونکہ پارلیمنٹ کا اجلاس مئی کے وسط سےپہلے ہونے کی کوئی توقع نہیں ہے۔

    اسی طرح کے خدشات برطانیہ میں بھی اٹھائے جا رہے ہیں جہاں ہیلتھ سکریٹری کے مطابق کونٹیکٹ ٹریسنگ ایپ ہفتوں کے اندر استعمال کے لیے دستیاب ہوگی۔

  12. کورونا وائرس: دنیا بھر میں تقریباً 30 لاکھ افراد متاثر

    جان ہاپکنز یونیورسٹی کے ایک جائزے کے مطابق عالمی سطح پر کورونا وائرس کے تصدیق شدہ متاثرین کی تعداد 30 لاکھ کے قریب ہے۔

    اس وقت دنیا بھر میں2971831 تصدیق شدہ کیسز اور 206542 اموات ہو چکی ہیں۔

    متاثرین کی سب سے زیادہ تعداد 965910 امریکہ میں ہیں اور اس کے بعد سپین میں یہ تعداد 226629 ہے۔

    دنیا بھر میں ٹیسٹنگ کی شرح کم ہونے کے باعث متاثرین کی اصل تعداد بہت زیادہ ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

  13. کورونا وائرس: 26 اپریل کو پورے چین میں صرف تین کیس رپورٹ

    خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق 26 اپریل کو چین میں کورونا وائرس سے متاثرہ تین نئے کیسز سامنے آئے۔ ایک روز قبل نئے کیسز کی تعداد 11 تھی۔

    چین کی نیشنل ہیلتھ اتھارٹی کے مطابق کوئی نئی اموات نہیں ہوئیں ہیں۔

    اپنے یومیہ بلیٹن میں نیشنل ہیلتھ کمیشن کا کہنا تھا کہ نئے کیسز میں سے دو کا تعلق بیرونی ممالک سے آنے والوں سے ہے۔ ایک روز قبل ایسے کسیز کی تعداد پانچ تھی۔

    شمال مشرقی سرحدی صوبے ہیلونگجیانگ میں مقامی طور پر لگنے والے انفیکشن کا ایک کیس سامنے آیا ہے۔

    26 اپریل کو چین میں کورونا وائرس کا شکار 25 نئے اسمپٹومیٹک کیسز رپورٹ ہوئے، جبکہ ایک دن قبل ان کی تعداد 30 تھی۔

    چین میں اب مجموعی طور پر کورونا وائرس کا شکار کیسز کی تعداد 82830 ہے۔ 26 اپریل تک اموات کی مجموعی تعداد 4633 تھی جن میں بیجنگ میں ہونے والی ایک ہلاکت بھی شامل ہے۔

  14. گھانا: عوامی اجتماعات پر پابندی میں توسیع کردی گئی, تھومس نادی، بی بی سی نیوز۔ ایکرا

    گھانا کے صدر نانا اکوفو اڈو نے عوامی اجتماعات پر پابندی میں مزید دو ہفتوں کی توسیع کردی ہے۔

    گذشتہ ہفتے صدر نے ملک کے مختلف حصوں میں تین ہفتوں تک لگایا گیا لاک ڈاؤن ختم کرنے کا اعلان کیا تھا۔

    تاہم سکول اور سرحدیں ابھی تک بند ہیں اور صدر نے مسلمانوں سے رمضان کے مہینے میں گھر پر نماز ادا کرنے کی اپیل کی ہے۔

    ملک میں اب تک کورونا وائرس سے متاثرہ 1550 تصدیق شدہ کیسز اور 11 اموات کی اطلاعات ہیں۔ جبکہ کووڈ-19 کا شکار 155 مریض صحت یاب بھی ہوئے ہیں۔

  15. ترکمانستان: دنیا بھر کے لاک ڈاؤن کا تمسخر اڑاتی نیشنل ہارس ڈے کی تقریب

    خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ترکمانستان میں نیشنل ہارس ڈے کے موقع پر بے شمار تماشائی ایک میدان میں جمع ہوئے اور دنیا بھر میں کورونا وائرس کی وبا پر قابو پانے کے لیے لگائی جانے والی سماجی دوری کے اقدامات کا تمسخر اڑاتے نظر آئے۔

    اتوار کے روز رات گئے سرکاری ٹیلی ویژن کے ذریعے نشر کی جانے والی فوٹیج میں صدر قربان قلی بردی محمدوف کو ہارس ڈے منانے کے لیے ریس کی صدارت کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔ یہ ترکمان کیلنڈر کی ایک اہم تاریخ ہے۔

    بردی محمدوف جنھیں ترکمانستان کے آرکادگ یا ’محافظ‘ کے نام سے جانا جاتا ہے، ایک بند کمرے سے تقریب دیکھ رہے تھے جبکہ سٹیڈیم عام شائقین سے بھرا تھا جو ترکمان پرچم لہرا رہے تھے۔

    گیس کی دولت سے مالا مال ترکمانستان دنیا کے ان چند ممالک میں سے ایک ہے جہاں کووڈ-19 سے متاثرہ ایک بھی کیس سامنے نہیں آیا حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ حکومت کی روایتی رازداری اور ایران سے ملحقہ سرحد کے باعث ان دعوؤں پر یقین کرنا مشکل نظر آتا ہے۔

  16. چین میں سکول دوبارہ کھل گئے

    چین میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے لگائی گئی کئی مہینوں کی بندش کے بعد پیر کو دسیوں ہزار طلبا شنگھائی اور بیجنگ کے سکولوں کا رخ کرتے نظر آئے۔

    خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق شنگھائی میں مڈل اور ہائی سکول کے آخری سال کے طلبا کلاس رومز میں واپس آگئے ہیں تاہم بیجنگ میں صرف ہائی سکول کے سینئر طلبا کو کیمپس میں واپس آنے کی اجازت دی گئی ہے تاکہ وہ یونیورسٹی کے داخلہ امتحان کی تیاری کر سکیں۔

    چین نے مہلک بیماری کے پھیلاؤ پر بڑی حد تک قابو پالیا ہے لیکن بیرونی ممالک سے آنے والے کیسز کی بڑھتی ہوئی تعداد اور ملک کے شمال مشرق میں انفیکشن کی دوسری لہر کے خطرات کے سبب، ملک ابھی بھی ہائی الرٹ پر ہے۔

    ملک بھر میں جو سکول بند تھے یا جن میں آن لائن کلاسز چل رہی تھیں، ان میں تعلیم کا آغاز پچھلے مہینے ہوا۔ جبکہ کورونا وائرس کے مرکز ووہان میں ہائی سکول 6 مئی سے دوبارہ کھلنے کے لیے تیار ہیں۔

    چین کی وزارت تعلیم کے مطابق دارالحکومت میں طلبا کا درجہ حرارت سکول کے دروازوں پر چیک کیا جائے گا اور انھیں ایک خصوصی ایپ پر ’گرین‘ ہیلتھ کوڈ دکھانا ہوگا جو کسی شخص میں انفیکشن کے خطرے کا حساب لگاتا ہے۔

    وزارت کا کہنا تھا کہ بیجنگ میں کچھ سکولوں نے دوبارہ کھلنے کی مشق بھی کی تھی۔

  17. انڈیا کی تازہ ترین صورتحال

    امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی آج ویڈیو کانفرنس کے ذریعے بتدریج لاک ڈاؤن ختم کرنے کے بارے میں دوسرے وزرائے اعلیٰ کے ساتھ تبادلہ خیال کریں گے۔

    انڈیا میں لاک ڈاؤن کا اغاز 24 مارچ سے ہوا اور یہ 3 مئی تک نافذ رہے گا۔

    دارالحکومت دہلی میں کورونا وائرس سے متاثرہ مزید 293 کیسز کی اطلاع ہے۔ اتوار کے روز انڈیا میں کووڈ-19 کا شکار افراد کی سب سے بڑی تعداد سامنے آئی جو 1975 ہے۔

    انڈین سپریم کورٹ پھنسے ہوئے تارکین وطن کارکنوں کو وائرس کے منفی ٹیسٹ آنے پر گھر واپسی کی اجازت دینے سے متعلق درخواست کی سماعت کرے گی۔ کئی وزرائے اعلیٰ نے ریاستوں اور شہروں میں پھنسے ہوئے ان افراد کی پریشانی کو اجاگر کیا تھا۔

    مقامی میڈیا کے مطابق دہلی میں سات ہسپتالوں کا آڈٹ کیا جائے گا کیونکہ وہاں زیادہ سے زیادہ طبی کارکن کورونا وائرس سے متاثر ہوئے ہیں- گذشتہ ہفتے شہر میں کم از کم 50 طبی کارکنوں کے کوورنا ٹیسٹ مثبت آئے تھے۔

    لیکن حکام کے مطابق صورتحال بہتر ہورہی ہے- اتوار کے روز پریس بریفنگ میں وزیر صحت کا کہنا تھا کہ ’ہاٹ سپاٹ اضلاع‘ اب ’نان ہاٹ اسپاٹ اضلاع‘ بن رہے ہیں۔

    انھوں نے مزید کہا کہ لاک ڈاؤن کے اقدامات اثر کر رہے ہیں۔ ملک میں مجموعی طور پر 25000 سے زیادہ انفیکشن اور 872 اموات کی تصدیق ہوئی ہے۔

    اور دوسرے ممالک کی طرح انڈیا نے بھی اپنے لاک ڈاؤن قوانین میں کچھ نرمی کردی ہے۔ ہفتے کے آخر میں چھوٹے دکانداروں کو ایک ماہ سے زیادہ کے بعد دوبارہ کھولنے کی اجازت دی گئی تھی۔

  18. کووڈ 19 کے مردوں اور عورتوں پر اثرات مختلف کیوں؟

    کورونا وائرس لوگوں کی صحت پر ہی نہیں بلکہ کئی اعتبار سے ہر شخص میں مختلف اثرات مرتب کرتا ہے۔

    مردوں اور عورتوں پر اس کے اثرات یکسر مختلف ہیں لیکن یہ کیسے ممکن ہے کہ ایک وائرس جو بلا تفریق ہر شخص کو متاثر کر رہا ہے، مردوں اور خواتین پر اتنے مختلف طریقوں سے اثر انداز ہو؟

  19. جرمنی: کورونا وائرس کے تصدیق شدہ کیسز کی تعداد میں مزید 1018 کا اضافہ

    خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق جرمنی میں کورونا وائرس کے تصدیق شدہ کیسز کی تعداد میں مزید 1018 افراد کا اضافہ ہوا ہے اور اس طرح مجموعی تعداد 155193 ہوگئی ہے۔

    اس اعداد و شمار کا اعلان پیر کے روز متعدی بیماریوں سے متعلق رابرٹ کوچ انسٹی ٹیوٹ نے کیا۔

    نئے اعدادوشمار کے مطابق کوورنا وائرس سے ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد میں 110 افراد کا اضافہ ہوا ہے اور کل تعداد بڑھ کر 5750 ہوگئی ہے۔

  20. اپنے فرائض دوبارہ سنبھالنے کے لیے بورس جانسن ڈاؤننگ سٹریٹ لوٹ آئے

    برطانیہ کے وزیرِ اعظم بورس جانسن کورونا سے صحتیاب ہونے کے بعد کووڈ-19 سے نمٹنے کے لیے برطانیہ کی حکمتِ عملی کا چارج سنبھالنے ڈاؤننگ سٹریٹ لوٹ آئے ہیں۔

    وزیر اعظم، سینئر وزرا اور عہدیداروں کے ساتھ بات چیت سے قبل، کووڈ-19 سے متعلقہ امور پر صبح کابینہ کے باقاعدہ اجلاس کی صدارت کریں گے۔

    وزیرِاعظم کی غیرموجودگی میں ان کی ذمہ داریاں سنبھالے والے سکریٹری خارجہ ڈومینک راب کا کہنا تھا کہ بورس جانسن کام پر لوٹنے کے لیے پُرجوش ہیں۔

    بورس جانسن اتوار کی شام 10 بجے ڈاؤننگ سٹریٹ واپس پہنچے۔

    وزیرِاعظم میں کورونا وائرس کی تشخیص کو ایک مہینہ ہو چکا ہے۔

    وہ 5 اپریل سے وسطی لندن کے سینٹ تھامس ہسپتال میں زیرِ علاج تھے۔ وزیرِاعظم کو تین راتوں تک انتہائی نگہداشت کے یونٹ میں رکھا گیا تھا۔

    اگرچہ سینئر وزرا سے ملاقات کے علاوہ جانسن نے گذشتہ ہفتے ملکہ اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ٹیلیفون پر بات کی تھی، لیکن اس دوران وہ کوئی سرکاری امور سرانجام نہیں دے رہے تھے۔

    آج سے وہ کل وقتی فرائض دوبارہ سنبھالیں گے۔ تاہم ابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ آیا وہ پریس بریفنگ کی قیادت کریں گے یا نہیں۔