آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

برطانیہ: ایسٹر کے بعد سے کیئر ہومز میں 4343 ہلاکتیں ریکارڈ ہوئیں

دنیا بھر میں کورونا کے مصدقہ مریضوں کی تعداد 30 لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے جبکہ ہلاک ہونے والوں کی تعداد دو لاکھ سے زیادہ ہے۔ دوسری جانب روس میں ایک دن میں چھ ہزار چار سو سے زیادہ افراد میں کورونا کی تشخیص کے بعد ملک میں متاثرین کی کُل تعداد ایران سے بھی زیادہ ہو گئی ہے۔

لائیو کوریج

  1. کورونا وائرس: تھائی لینڈ میں سات نئے کیسز، دو اموات کی اطلاع

    خبر رساں دارے روئٹرز کے مطابق تھائی لینڈ میں منگل کو کورونا وائرس کے مزید سات کیسز رپورٹ ہوئے جبکہ دو نئی اموات کی بھی اطلاع ملی ہے۔

    جنوری سے اب تک متاثرین کی کل تعداد 2938 اور 54 اموات ہوچکی ہے۔

    کووڈ 19 سے نمٹنے کے لیے بنائے گئے حکومتی مرکز کے ترجمان تویسین وسانیوتین کا کہنا تھا کہ نئے رپورٹ ہونے والے کیسز میں سے پانچ افراد کا تعلق پہلے تصدیق ہوئے کیسز سے ملتا ہے، ایک شخص کا کسی پرانے کیس سے کوئی رابطہ نہیں تھا اور آخری شخص کے متعلق تفتیش جاری ہے۔

    تھائی لینڈ میں کورونا وائرس کی وبا شروع ہونے کے بعد سے اب تک 2652 مریض صحتیاب ہو کر گھروں کو لوٹ ہیں۔

  2. کووڈ 19: انڈونیشیا میں ہزاروں اموات کے ریکارڈ غائب

    دنیا کے بہت سے ترقی پذیر ممالک میں سرکاری سطح پر انفیکشن کی شرح یا اموات کی تعداد کم ہے۔ لیکن ماہرین کا خیال ہے کہ اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے۔

    انڈونیشیا کی مثال ہی لے لیجیے۔ خبر رساں ادارے روئٹرز کی تحقیق کے مطابق ملک میں 2200 سے زیادہ افراد کورونا وائرس کی علامات سے مر چکے ہیں لیکن سرکاری اعداد و شمار میں ان کا کوئی شمار نہیں کیا جاتا۔

    انڈونیشیا میں سرکاری اعدادوشمار کے مطابق کوورنا وائرس کے 10000 سے کم تصدیق شدہ کیسز اور اموات کی تعداد 765 ہے۔

    ملک میں ٹیسٹنگ کی انتہائی کم شرح کے باعث ماہرین کو خدشات ہیں کہ انڈونیشیا میں کووڈ 19 کا شکار افراد کی تعداد کہیں زیادہ ہے۔

  3. ذخیروں میں گنجائش بھرنے کے ساتھ تیل کی قیمتیں ایک بار پھر گر گئیں

    خام تیل ذخیرہ کرنے کی محدود گنجائش کے بارے میں تشویش کے سبب، تیل کی قیمتیں ایک بار پھر کم ہوگئیں ہیں۔

    پیر کو یو ایس ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) کی قیمت میں 16 فیصد تک کمی آئی۔ برینٹ کروڈ کی قیمتیں بھی کم ہوئیں لیکن اتنا زیادہ نہیں۔

    عالمی اقتصادی سرگرمیوں میں کمی کے باعث تاجروں کو تشویش لاحق ہے کہ ان کے پاس سارا تیل ذخیرہ کرنے کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے۔

  4. کورونا وائرس کی علامات کیا ہیں اور اس سے کیسے محفوظ رہا جائے؟

    دنیا بھر میں کورونا وائرس کا پھیلاؤ جاری ہے اور اب تک مصدقہ متاثرین کی تعداد 30 لاکھ کے قریب اور ہلاکتوں کی تعداد دو لاکھ سے زیادہ ہے۔ پاکستان پر نظر ڈالیں تو وہاں کورونا سے متاثر ہونے والے افراد کی تعداد ساڑھے 13 ہزار سے زیادہ ہے جبکہ 285 سے زیادہ افراد اس وبا کے نتیجے میں ہلاک ہوئے ہیں۔

    محققین کے مطابق دنیا میں کورونا سے متاثر ہونے والے 80 فیصد افراد میں اس کی معمولی علامات ہی دکھائی دی ہیں اور ایسے لوگ جن میں یہ علامات شدت سے پائی گئیں اقلیت میں ہیں۔

    سو سوال یہ ہے آپ اسے کیسے شناخت کر سکتے ہیں۔ مزید پڑھیے بی بی سی کی اس رپورٹ میں۔

  5. کورونا وائرس: انڈیا میں تازہ ترین صورتحال کیا ہے؟

    • پیر کو انڈیا کی کئی ریاستوں کے وزرائے اعلیٰ نے وزیرِ اعظم نریندر مودی کو بتایا کہ وہ اپنی ریاستوں میں 3 مئی کے بعد بھی کسی حد تک لاک ڈاؤن جاری رکھنا چاہیں گے
    • انڈیا کی حکومت نے اپنی کئی ریاستوں سے کہا ہے کہ وہ دو چینی کمپنیوں سے حاصل کی گئی تیز رفتار اینٹی باڈی ٹیسٹنگ کٹس سپلائرز کو واپس کر دیں۔ انڈین حکومت کا دعویٰ ہے کہ ان کٹس سے حاصل ہونے والے نتائج قابلِ اعتبار نہیں
    • کئی ریاستیں دوسرے شہروں میں پھنسے تارکین وطن مزدوروں کی واپسی کے لیے کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ اودیشہ اور راجستھان نے بھی اس بارے میں ہدایات جاری کرنے کا اعلان کیا ہے
    • دارالحکومت دہلی میں پیر کو 190 نئے انفیکشن دیکھنے میں آئے جس سے کل تعداد 3000 سے تجاوز کرگئی ہے۔ وزارت صحت کے اعداد و شمار کے مطابق انڈیا میں اب تقریباً 28000 کیسز اور 934 اموات کی اطلاع ہے
    • پیر کو حکام نے بتایا کہ 20 سے زائد ریاستوں کے کل 85 اضلاع میں پچھلے دو ہفتوں میں کسی بھی قسم کے نئے انفیکشن کی اطلاع نہیں ہے۔ حکومت نے یہ بھی کہا ہے کہ انڈیا کے شمال مشرق کی آٹھ میں سے پانچ ریاستوں میں کووڈ 19 کا ایک کیس بھی رپورٹ نہیں ہوا
  6. کورونا وائرس: 1000 برس پہلے ویکسین کا خیال کہاں سے آیا تھا؟

    کھرنڈ پیس کر مریضوں کی ناک میں چڑھانا یا زخم کی پس تندرست فرد کو لگانا سننے میں تو بہت عجیب لگتا ہے لیکن ویکسین کی تیاری کی تاریخ میں ان دونوں اعمال کا بہت اہم کردار ہے۔جانیے ویکسین کی ایک ہزار سال قدیم تاریخ بی بی سی کی اس ڈیجیٹل ویڈیو میں۔

  7. دنیا کی مدد کرنے والے چینی ارب پتی کو کس سے خطرہ ہے؟

  8. نیوزی لینڈ: لاک ڈاؤن میں نرمی کر دی گئی

    نیوزی لینڈ نے کورونا وائرس کی روک تھام کے لیے لگائے گئے سخت لاک ڈاؤن میں منگل کے روز سے آہستہ آہستہ نرمی کرنی شروع کی ہے۔

    نیوزی لینڈ کی جانب سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ وہ ملک میں کورونا وائرس کی مقامی منتقلی روکنے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔

    الرٹ کی سطح کو چار سے تین تک کم کرنے کا مطلب یہ ہے کہ آج صبح سے کاروبار، صحت و دیکھ بھال مراکز اور سکول کھول دیے گئے ہیں۔

    ملک میں لگ بھگ 400000 افراد اپنے کام پر واپس چلے گئے ہیں، کچھ سکولوں اور بچوں کی دیکھ بھال کی سہولیات کھلی ہیں اور لوگوں کو باہر سے کھانے پینے کی اجازت دی گئی ہے۔

    نیوزی لینڈ میں کورونا وائرس کے 1500 سے کم تصدیق شدہ یا ممکنہ کیسز اور 19 اموات رپورٹ ہوئیں ہیں۔

  9. کورونا وائرس: سب سے زیادہ متاثرین کن ممالک میں ہیں؟

    دنیا بھر میں کورونا وائرس کے تصدیق شدہ متاثرین کی تعداد 30 لاکھ سے تجاوز کرچکی ہے۔

    آئیے آپ کو بتاتے ہیں ان متاثرین کی زیادہ تعداد کن ممالک میں ہے (یہاں یہ یاد رکھنا ضروری ہے کہ زیادہ تعداد میں تصدیق شدہ کیسز، ان ممالک میں وسیع پیمانے پر ٹیسٹنگ کے عکاس ہیں):

    • امریکہ 988189
    • سپین 229422
    • اٹلی 199414
    • فرانس 165963
    • جرمنی 158758
  10. کورونا وائرس کا ٹیسٹ کیسے ہوتا ہے اور کیوں ضروری ہے؟

    دنیا بھر کی حکومتوں نے کورونا وائرس کے خلاف مختلف طریقوں سے اپنا ردِعمل ظاہر کیا ہے اور اس سلسلے میں سب سے واضح نظر آنے والا مختلف پہلو، اس بیماری کی ٹیسٹنگ یا جانچ کا طریقہِ کار ہے۔

  11. آسٹریلیا کا چین کو جواب: ’دباؤ برداشت نہیں کریں گے‘

    گذشتہ ہفتے آسٹریلیا کی جانب سے کورونا وائرس کے بارے میں بیجنگ کے ردعمل کی بین الاقوامی تحقیقات کے مطالبے کے بعد، چین اور آسٹریلیا کے مابین تناؤ میں دن بدن اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔

    گذشتہ روز آسٹریلیا میں بیجنگ کے سفیر کا کہنا تھا کہ آسٹریلیا کے مطالبات کے ردِ عمل میں اسے چینی صارفین، طلبا اور سیاحوں کے طرف سے بائیکاٹ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

    چین، آسٹریلیا کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ملک ہے۔ اس تناظر میں دیکھا جائے تو چین کے ایسے تبصروں کو ایک خطرہ سمجھا جا رہا ہے اور اس سے آسٹریلیائی عوام کے غصے میں اضافہ ہوا ہے۔

    وزیر تجارت سائمن برمنگھم نے آج صبح میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ’کسی بھی دوسری قوم کی طرف سے زبردستی کرنے کے خدشات کے پیش نظر، ہم عوامی صحت کی صورتحال کے ایسے سنگین معاملے پر اپنی پالیسی میں کوئی تبدیلیاں نہیں کریں گے۔‘

  12. لاک ڈاؤن کے باوجود قریبی دوستوں سے ملنے کی اجازت ہونی چاہیے؟

  13. کورونا وائرس: کووِڈ 19 کے علاج کے لیے ویکسین کب تک بن جائے گی؟

    اگرچہ دنیا بھر میں دو لاکھ کے قریب لوگ کووڈ 19 کی وجہ سے ہلاک ہو چکے ہیں مگر ابھی تک ایسی کوئی دوا سامنے نہیں آئی ہے جو اس بیماری کا علاج کرنے میں ڈاکٹروں کی مدد کر سکے۔

    تو فی الحال ہم کورونا وائرس کے علاج کی دوا کی تیاری سے کتنا دور ہیں؟

  14. بیلجیئم: آلو کے کاشتکاروں کی شہریوں سے زیادہ سے زیادہ چپس کھانے کی درخواست

    بیلجیئم میں لوگوں کو چپس بہت پسند ہیں اور وہ اس حوالے سے مشہور بھی ہیں اور عام طور پر وہ انھیں مایونیز کے ساتھ کھاتے ہیں۔ تاہم مشکلات کا شکار آلو کے کاشتکار اب ان سے درخواست کر رہے ہیں کہ وہ ہفتے میں دو مرتبہ چپس کھائیں۔

    آلو کے کاشتکاروں کی یونین بیلجاپوم کے رکن رومین کولز نے اس درخواست کو اپنی بقا کے لیے اہم قرار دیا ہے کیونکہ کورونا وائرس کے باعث برآمدات کے شعبے کو شدید نقصان پہنچا ہے۔

    اس وقت تقریباً ساڑھے سات لاکھ ٹن آلو بیلجیئم میں ویئر ہاؤسز میں پڑے ہیں کیونکہ لاک ڈاؤن کے باعث ان کی مانگ میں کمی واقع ہوئی ہے۔

    مارچ کے وسط سے بیلجیئم میں متعدد ریستوران اور دوسری مارکیٹیں بند ہیں۔ اس کے علاوہ ملک میں موسمِ بہار اور گرما کی مناسبت سے متعدد فیسٹیولز کی منسوخی کے باعث آن کی مشکلات میں مزید اضافہ ہوا ہے۔

    اس کے علاوہ آلو کی بین الاقوامی برآمدات پر بھی اثر پڑا ہے۔ بیلجیئم دنیا بھر میں 15 لاکھ ٹن کے قریب آلو 100 سے زائد ممالک کو پیچتا ہے۔

  15. ہم چین سے خوش نہیں ہیں: ٹرمپ

    امریکی صدر ڈانلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ان کی انتظامیہ نے چین کے کورونا وائرس کے خلاف ابتدائی ردِعمل پر ’انتہائی سنجید تحقیقات‘ کا آغاز کر دیا ہے۔

    انھوں نے روزانہ کی بنیاد پر ہونے والی پریس بریفنگ میں کہا کہ ’ہم چین سے خوش نہیں ہیں، ہم اس ساری صورتحال سے خوش نہیں ہیں کیونکہ ہمیں یقین ہے کہ اس وائرس کو ابتدا میں ہی روکا جا سکتا تھا۔ اسے بہت جلد روکا جا سکتا تھا تاکہ یہ دنیا بھر میں نہیں پھیلتا۔

    ماضی میں بھی ڈانلڈ ٹرمپ کی جانب سے چین پر تنقید کی گئی ہے اور انھوں نے چین کے لیے اپنی سرحدیں بند کرنے کے اقدام کے حوالے سے بارہا بات کی ہے۔ طبی ماہرین کے مطابق ٹرمپ کے اس اقدام کے باعث امریکہ کو اس عالمی وبا سے نمٹنے کے لیے وقت ملا لیکن ٹرمپ انتظامیہ پر یہ بھی الزام لگایا جاتا ہے کہ انھوں نے اس موقعے سے فائدہ نہیں اٹھایا۔

    ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ’جو کچھ ہوا اس کی ذمہ داری صرف ایک ملک پر عائد کی جا سکتی ہے۔

    ’ہم کسی پر الزام نہیں لگا رہے لیکن ایک گروہ کو اس وائرس کو آغاز میں ہی روک دینا چاہیے تھا۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’امریکہ ایسے لوگوں کو کبھی نہیں بھلائے گا جو کسی اور کی نا اہلی یا دوسری وجوہات کی وجہ سے ہلاک ہوئے۔‘

    انھوں نے چین کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ پوری دنیا کو اس سے محفوظ رکھ سکتے تھے، صرف ہمیں نہیں، پوری دنیا کو۔‘

  16. فضائی آلودگی اور کورونا وائرس سے ہلاکتوں کی شرح کے درمیان تعلق

    امریکہ میں ہارورڈ یونیورسٹی کی ایک تحقیق کے مطابق امریکہ کے اُن علاقوں میں کورونا وائرس سے مرنے والوں کی شرح زیادہ ہے جہاں فضا میں پی ایم 2.5 نامی ذرات کی بڑی مقدار موجود ہے۔

    عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے حکام کا کہنا ہے کہ فضا میں آلودگی کی بڑھی ہوئی سطح ایسے افراد کے لیے ایک اضافی خطرہ بن سکتا ہے جو کووڈ 19 سے بری طرح متاثر ہو رہے ہوں۔

  17. نائجیریا میں کورونا وائرس کے خلاف جنگ میں اہم موڑ, شی شی ازندو، نامہ نگار نائجیریا

    نائجیریا میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے خدشے کے باعث 28 روزہ لاک ڈاؤن آج رات ختم ہونا تھا تاہم صدر بہاری نے قوم سے خطاب میں اعلان کیا ہے کہ لاک ڈاؤن میں ایک ہفتے کی توسیع کی جاتی ہے۔

    اپنے خطاب میں ان کا کہنا تھا کہ اگلے پیر سے پابندیوں میں مرحلہ وار نرمی لائی جائے گی جس سے معیشت اور کاروباری سرگرمیوں کی بحالی ممکن ہو سکے گی۔

    تاہم یہ نرمی ملک بھر میں چند حفاظتی تدابیر سے مشروط ہوں گی۔

    اب ملک بھر میں باہر نکلتے وقت ماسک پہننا لازم قرار دیا جا چکا ہے جبکہ رات آٹھ بجے سے صبح چھ بجے تک ملک بھر میں کرفیو لگایا جائے گا اور اس دوران صرف انتہائی ضروری سہولیات ہی شہریوں کو میسر ہوں گی۔

    صدر کا مزید کہنا تھا کہ بین الریاستی آمد و رفت کو بھی غیر معینہ مدت تک معطل کر دیا گیا ہے جبکہ مذہبی اور سماجی اجتماعات پر تاحال پابندی عائد رہے گی۔

    انھوں نے ملک کی شمالی ریاست کانو میں پراسرا اموات پر تشویش کا اظہار کیا۔ انھوں نے کہا کہ ایک حکومتی ٹیم فوری طور پر اس حوالے سے تفتیش کر رہی ہے جبکہ ریاست میں دو ہفتے تک مکمل لاک ڈاؤن کا اعلان وہ پہلے ہی کر چکے ہیں۔

  18. کیلی فورنیا کے گورنر شہریوں پر برہم: ’اگر ساحل پر خوبصورت موسم ہو تو وائرس گھر نہیں جاتا‘

    امریکی ریاست کیلی فورنیا کے ساحلوں پر لوگوں کی بڑی تعداد کی تصاویر سامنے آنے کے بعد گورنر گیون نیوسوم نے کہا ہے کہ وہ کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے کیے جانے والے اقدامات میں اضافہ کریں گے۔

    پوری ریاست میں لوگوں کو گھروں تک محدود رکھنے کے احکامات کا اجرا گذشتہ ماہ کیا گیا تھا تاہم چند کاؤنٹیز نے ساحل دوبارہ کھولے جس کے بعد ہزاروں افراد نے ان کا رخ کیا۔

    پیر کے روز گورنر نے کہا کہ ’وائرس چھٹی نہیں کرتا۔ اگر ساحلی علاقوں میں خوبصورت موسم ہو تو یہ گھر واپس نہیں چلا جاتا۔‘

    چار کروڑ کی آبادی والی یہ ریاست اب تک ملک میں کورونا وائرس سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والی ریاستوں میں شامل ہے۔

  19. نیوزی لینڈ میں منگل سے لاک ڈاؤن میں نرمی کرنے کا اعلان

    نیوزی لینڈ میں حکومت نے جہاں کورونا وائرس کی مقامی منتقلی ختم کرنے کا دعویٰ کیا ہے وہیں شہریوں کو خبردار بھی کیا ہے کہ لاپرواہی برتنے سے اس کے دوبارہ پھیلنے کے امکانات بھی بڑھ سکتے ہیں۔

    تاہم منگل سے ملک میں لاک ڈاؤن میں نرمی اور ’معیشت کھولنے‘ کا اعلان بھی کیا گیا ہے۔

    نیوزی لینڈ کے ڈائریکٹر جنرل صحت ہیلتھ ایشلی بلومفیلڈ نے کہا کہ حالیہ دنوں میں کورونا وائرس کیسز کی انتہائی کم تعداد ہمیں اعتماد دیتی ہے کہ ہم نے اپنا مقصد پورا کر دیا ہے۔

    انھوں نے کہا کہ اس خاتمے کا مطلب یہ نہیں کہ نئے مصدقہ مریض سامنے نہیں آئیں گے، بلکہ یہ ہے کہ ہمیں یہ معلوم ہے کہ متاثرین کس جگہ موجود ہیں۔‘

    ادھر وزیرِ اعظم جسنڈا آرڈرن کا کہنا تھا کہ ملک میں اس وقت ’بڑے پیمانے پر وائرس کی ایسی مقامی منتقلی نہیں ہو رہی جس کے بارے میں ہمیں معلوم نہیں ہے۔ ہم نے یہ جنگ جیت لی ہے۔‘

    ان کا مزید کہنا تھا کہ ہمیں اس حوالے سے چوکنا رہنا ہو گا اگر ہم چاہتے ہیں کہ صورتحال ایسی ہی رہے۔‘

  20. بریکنگ, نیوزی لینڈ کا کورونا وائرس کی مقامی منتقلی روکنے کا دعویٰ

    نیوزی لینڈ کی جانب سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ وہ ملک میں کورونا وائرس کی مقامی منتقلی روکنے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔

    نیوزی لینڈ کی وزیرِ اعظم جسنڈا آرڈرن نے یہ بات ایک پریس بریفنگ کے دوران بتائی اور ساتھ ہی چند کاروبار، صحت عامہ کا نظام اور تعلیمی ادارے منگل سے کھولنے کا اعلان بھی کیا ہے۔

    انھوں نے کہا کہ ہم ’فی الحال‘ اس وائرس کو ملک سے ختم کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں تاہم حکام نے خبردار کیا ہے کہ اب بھی لاپرواہی نہیں برتی جانی چاہیے اور اس کا مطلب یہ نہیں ہے ہے کہ کورونا وائرس کا مکمل خاتمہ کیا جا چکا ہے۔

    وزیرِ اعظم جسنڈا آرڈرن نے کہا کہ ہم معیشت کو کھولنے جا رہے ہیں لیکن لوگوں کی سماجی زندگیاں تاحال محدود رہیں گی۔

    آکلینڈ سے ایک ڈاکٹر جن رسل نے ورلڈ سروس ریڈیو کے پروگرام بی بی سی او ایس سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ لاک ڈاؤن کا پانچواں ہفتہ ہے جو میں نے اپنے شوہر اور دو چھوٹے بچوں کے ساتھ گھر پر گزارا ہے۔ مجھے اپنے ملک پر بہت فخر ہے۔ ہم سب نے ایک دوسری کی بقا کے لیے اتنا مضبوط قدم اٹھایا ہے۔‘

    خیال رہے کہ نیوزی لینڈ میں اب تک 1500 سے بھی کم کیس رپورٹ ہوئے ہیں جبکہ 19 اموات سامنے آئی ہیں۔