رواں سال 11 جنوری کو جب چین کے شہر ووہان میں کورونا وائرس کے سبب پہلی ہلاکت کی اطلاع موصول ہوئی، تو اس کے بعد ایک لاکھ افراد کی ہلاکت میں 90 روز لگے۔
لیکن صرف 16 دن کے بعد ہی یہ تعداد دو لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے۔
اس وقت امریکہ اس مرض سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والا ملک ہے جہاں 53 ہزار 900 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
کئی ہفتوں تک اٹلی یورپ میں اس وبا کا مرکز رہا اور وہاں اب تک 26 ہزار 384 لوگ ہلاک ہو چکے ہیں اور اب یہ 'دوسرے مرحلے' کی بات کر رہا ہے جس میں معاشرے کو بتدریج دوبارہ کھولا جا سکے۔
سپین، فرانس اور برطانیہ وہ دیگر ممالک ہیں جہاں اموات کی تعداد 20 ہزار سے اوپر ہے۔
سپین میں 14 سال سے کم عمر کے بچوں کو چھ ہفتوں میں پہلی مرتبہ آج باہر جانے کی اجازت دی گئی ہے۔
فرانس کے وزیرِ اعظم ایڈورڈ فلیپے نے کہا ہے کہ وہ منگل کو لاک ڈاؤن میں نرمی کرنے کے منصوبے کا اعلان کریں گے۔
بیلجیئم سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک میں یوں شامل ہے کہ وہاں ہر ایک لاکھ میں سے چھ افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ یہ تعداد سپین میں 4.9 اور امریکہ میں 1.6 ہے۔
مگر کئی ممالک کے برعکس بیلجیئم نے کیئر ہومز میں مبینہ طور پر کورونا وائرس کے سبب ہونے والی ہلاکتوں کو بھی ریکارڈ کیا ہے جبکہ کئی ممالک نے کافی بعد ان کی اطلاع دی۔
ایشیائی ممالک میں اب تک سات ہزار سے زائد ہلاکتیں ہو چکی ہیں اور لاطینی امریکہ میں بھی تعداد اس کے لگ بھگ ہے۔ مشرقِ وسطیٰ میں 8800 سے زائد افراد اس مرض سے ہلاک ہوچکے ہیں جبکہ افریقہ میں یہ تعداد ابھی 1350 کے قریب ہے۔